شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 882
833 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني يونس بن يزيد عن بن شهاب عن عروة عن عائشة رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قالوا فلما كان من أدرك من العصر ما ذكرنا في هذه الآثار مدركا لها ثبت أن آخر وقتها هو غروب الشمس وممن قال بذلك أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد بن الحسن رحمهم الله تعالى فكان من حجة من ذهب إلى أن آخر وقتها إلى أن تتغير الشمس ما قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من نهيه عن الصلاة عند غروب الشمس فمن ذلك
عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب ان آثار میں عصر کی ایک رکعت کا وقت پانے والوں کو عصر کا مدرک قرار دے دیا گیا تو اس سے ثابت ہو گیا کہ عصر کا آخری وقت آفتاب ہے یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے اور جو لوگ عصر کا آخری وقت آفتاب کے زرد ہونے کو مانتے ہیں ان کی دلیل وہ روایات ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غروب آفتاب کے زرد ہونے کو مانتے ہیں ان کی دلیل وہ روایات ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غروب آفتاب کے وقت نماز کی ممانعت فرمائی ہے روایات یہ ہیں ۔
عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 882
