Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 27 باب الجنب يريد النوم أو الأكل أو الشرب أو الجماع ) · حديث 755

وحدثنا حسين بن نصر قال ثنا الفريابي ثم أجمعوا جميعا فقالوا عن سفيان عن عبد الله بن دينار فذكر بإسناده مثله

پھر تمام نے سفیان بواسطہ عبداللہ بن دینار ان کی سند کے ساتھ روایت نقل کی ہے ۔

عبد الله بن دينار فذكر بإسناده مثله ← سُفْيَانَ، ← الفريابي ثم أجمعوا جميعا فقالوا ← وحدثنا حسين بن نصر

Hadith 755

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 27 باب الجنب يريد النوم أو الأكل أو الشرب أو الجماع ) · حديث 756

729 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن عبد الله بن دينار فذكر مثله بإسناده وروى عن عمار بن ياسر وأبي سعيد عن النبي صلى الله عليه و سلم أيضا مثل ذلك

مالک نے عبداللہ بن دینار سے اسی طرح اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم أيضا مثل ذلك ← عمار بن ياسر وأبي سعيد ← عبد الله بن دينار فذكر مثله بإسناده وروى ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Hadith 756

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 27 باب الجنب يريد النوم أو الأكل أو الشرب أو الجماع ) · حديث 757

730 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا حماد بن سلمة عن عطاء الخراساني عن يحيى بن يعمر عن عمار بن ياسر قال رخص رسول الله صلى الله عليه و سلم للجنب إذا أراد أن ينام أو يشرب أو يأكل أن يتوضأ وضوءه للصلاة

یحییٰ بن بعمر نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنابت والے کو رخصت دی ہے کہ جب وہ سوئے یا کھائے یا پئے تو وہ نماز والا وضو کرے۔

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 757

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 27 باب الجنب يريد النوم أو الأكل أو الشرب أو الجماع ) · حديث 758

731 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا بن أبي مريم قال أنا بن لهيعة ويحيى بن أيوب ونافع بن يزيد نحو ذلك عن بن الهاد عن عبد الله بن خباب عن أبي سعيد الخدري أنه قال قلت يا رسول الله أصبت أهلي وأريد النوم قال توضأ وارقد فقد تواترت الآثار عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في الجنب إذا أراد النوم بما ذكرنا قال بذلك نفر من الصحابة من بعده منهم عائشة رضي الله عنها قد ذكرنا ذلك عنها من رأيها فيما تقدم وقد روي ذلك أيضا عن زيد بن ثابت

یحییٰ بن ایوب و نافع بن یزید نے اسی طرح ابن الھاد عن عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ میں نےعرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں کہ جنابت والا جب سونے کا ارادہ کرے (تو وضؤ کر کے سوئے) اس سلسلہ میں روایات متواتر ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی ایک جماعت نے آپ کے بعد اس کو بیان کیا ان میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں ہم نے ان کی رائے اس سلسلہ میں زید بن ثابت سے روایت کی ہے ۔

قُلْتُ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، ← بْنِ الْهَادِ ← بن لهيعة ويحيى بن أيوب ونافع بن يزيد نحو ذلك ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← ربيع الجيزي

Hadith 758

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 27 باب الجنب يريد النوم أو الأكل أو الشرب أو الجماع ) · حديث 759

732 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني بن لهيعة عن بن هبيرة عن قبيصة بن ذؤيب عن زيد بن ثابت قال إذا توضأ الجنب قبل أن ينام فقد بات طاهرا فهذا زيد بن ثابت يخبر أنه إذا توضأ قبل أن ينام ثم نام كان كمن قد اغتسل قبل أن ينام في الثواب الذي يكتب لمن بات طاهرا وقد ذكرنا حديث الحكم عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا أراد أن يأكل وهو جنب توضأ وعن أبي سعيد الخدري ما يوافق ذلك فذهب إلى هذا قوم فقالوا لا ينبغي للجنب أن يطعم حتى يتوضأ وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا بأس أن يطعم وإن لم يتوضأ وكان لهم من الحجة في ذلك

قبیصہ بن ذویب نے بیان کیا کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب جنابت والے نے نیند سےپہلے وضو کر لیا تو گویا اس نےطہارت کی حالت میں رات گزاری ۔ یہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ جب سونے سے پہلے وضو کر کے سو جائے تو وہ ثواب میں اس شخص کی طرح ہے جس نے غسل کے ساتھ طہارت کی حالت میں رات گزاری ہم نے حکم کی روایت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں کوئی چیز کھانے کا ارادہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے ۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے اس کے موافق روایت ہے ۔ا یک جماعت اسی طرف گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلا وضو جنبی کو کسی چیز کا کھانا درست نہیں دیگر علماء نے انکی اس بات میں مخالفت کرتے ہوئے کہا اگرچہ وضؤ نہ بھی کرے تب کھانے میں کچھ حرج نہیں ان کی دلیل یہ ہے جو فہد نے روایت کی ۔

إذا توضأ الجنب قبل ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ: ← بن هبيرة ← بن لهيعة ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 759

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 27 باب الجنب يريد النوم أو الأكل أو الشرب أو الجماع ) · حديث 760

733 - أن فهدا حدثنا قال أخبرني سحيم الحراني قال ثنا عيسى بن يونس قال ثنا يونس بن يزيد الأيلي عن الزهري عن عروة عن عائشة قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أراد أن يأكل وهو جنب غسل كفيه فقد روي عن عائشة ما ذكرنا وروي عنها خلاف ذلك أيضا مما روينا عنها أنه كان يتوضأ وضوءه للصلاة فلما تضاد ذلك احتمل عندنا والله أعلم أن يكون وضوءه حين كان يتوضأ في الوقت الذي قد ذكرناه في غير هذا الباب أنه كان إذا رأى الماء لم يتكلم فكان يتوضأ ليتكلم فيسمي ويأكل ثم نسخ ذلك فغسل كفيه للتنظيف وترك الوضوء وكذلك وضوءه صلى الله عليه و سلم عند النوم يحتمل أنه كان يفعله أيضا لينام على ذكر ثم نسخ ذلك فأبيح للجنب ذكر الله فارتفع المعنى الذي له توضأ وقد روينا في غير موضع عن بن عباس رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج من الخلاء فقيل له ألا تتوضأ فقال أريد الصلاة فأتوضأ فأخبر أنه لا يتوضأ إلا للصلاة ففي ذلك أيضا نفى الوضوء عن الجنب إذا أراد النوم أو الأكل أو الشرب ومما يدل على نسخ ذلك أيضا أن بن عمر رضي الله عنه قد روى ما ذكرنا عن النبي صلى الله عليه و سلم في جوابه لعمر ثم جاء عنه أنه قال بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم ما

عروہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں کھانے کا ارادہ فرماتے تو اپنے دست مبارک کو دھو لیتے ۔ جو روایت ہم نے ذکر کی یہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے اور ان سے اس کے خلاف روایت بھی وارد ہوئی ہے جس میں یہ آیاہے کہ آپ نماز والا وضو فرما لیتے ۔ اب جبکہ دونوں میں تضاد ہو گیا تو اس میں ہمارے ہاں یہ احتمال ہے واللہ اعلم بحقیقتہ الحال۔ یہ وضؤ والی بات اس زمانے کی ہے جب آپ پانی دیکھتے تو گفتگو بھی وضو کر کے فرماتے ۔ پھر بسم اللہ پڑھتے اور کھانا کھاتے پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفائی کے لیے اپنے دونوں ہاتھ دھولیتے اور وضؤ کو ترک کر دیا ۔ نیند کے وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضؤ کی یہی کیفیت تھی ۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اس لیے کرتے تھے تاکہ ذکر اللہ کے ساتھ نیند کریں ۔ پھر یہ منسوخ ہو گیا ۔ اس جنابت والے کے لیے ذکر اللہ کو مباح کیا گیا۔ پس اس سے وہ مقصد ختم ہوا جس کے لیے آپ نے وضو کیا ۔ اس کے علاوہ دوسرے مقام پر ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلا ء سے تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضؤ کریں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا : جب میں نماز کا ارادہ کروں گا تو وضؤ کرونگا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں بتلایا کہ میں نماز ہی کے لیے وضو کرتا ہوں پس اس میں جنابت والے سے وضو کے متعلق نفی ہے جبکہ وہ سونے کھانے پینے کا ارادہ کرتا ہواور اس کے نسخ پر دلالت کرنے والی ایک بات یہ بھی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جس کو ہم نے بیان کر دیا کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے جواب میں آپ نے فرمائی ۔ پھر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول اس طرح ہے ۔

Hadith 760

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 27 باب الجنب يريد النوم أو الأكل أو الشرب أو الجماع ) · حديث 761

734 - حدثنا بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن أيوب عن نافع عن بن عمر رضي الله عنه قال إذا أجنب الرجل وأراد أن يأكل أو يشرب أو ينام غسل كفيه ومضمض واستنشق وغسل وجهه وذراعيه وغسل فرجه ولم يغسل قدميه فهذا وضوء غير تام وقد علم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر في ذلك بوضوء تام فلا يكون هذا إلا وقد ثبت النسخ لذلك عنه وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في الرجل يجامع أهله ثم يريد المعاودة ما

نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب آدمی جنابت کی حالت میں ہو اور کھانے پینے کا ارادہ کر ے یا سو نا چاہے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوئے اور مضمضمہ اور استشاق کرےاور اپنے چہرے کو دھوئے اور بازو دھوئے اور شرمگاہ کو دھوئے اور پاؤں نہ دھوئے۔ یہ وضو کامل نہیں ہے حالانکہ وہ جانتے تھے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں مکمل وضو کا حکم فرمایا ہے اور یہ بات اسی وقت درست رہ سکتی ہے جب کہ ان کےہاں اس کا نسخ ثابت ہو چکا ہو حالانکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے متعلق مروی ہے جو اپنی زوجہ سے دوبارہ جماع کرنا چاہتا ہے۔ ملاحظہ ہو ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 761

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 27 باب الجنب يريد النوم أو الأكل أو الشرب أو الجماع ) · حديث 762

735 - حدثنا بحر بن نصر قال ثنا يحيى بن حسان قال ثنا أبو الأحوص عن عاصم عن أبي المتوكل عن أبي سعيد الخدري قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أتى أحدكم أهله ثم أراد أن يعود فليتوضأ

ابو التو کل نے بتلایا کہ ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سےکوئی اپنے اہل کے ساتھ قربت کرے پھر وہ بار دیگر جماع کرنا چاہتا ہو تو اسے وضو کرنا چاہیے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← عَاصِمٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← بحر بن نصر

Hadith 762

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 27 باب الجنب يريد النوم أو الأكل أو الشرب أو الجماع ) · حديث 763

736 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا يوسف بن يعقوب قال ثنا شعبة عن عاصم ثم ذكر مثله بإسناده فقد يجوز أن يكون أمر بهذا في حال ما كان الجنب لا يستطيع ذكر الله حتى يتوضأ فأمر بالوضوء ليسمى عند جماعه كما أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم في غير هذا الحديث ثم رخص لهم أن يتكلموا بذكر الله وهم جنب فارتفع ذلك وقد روى عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يجامع ثم يعود ولا يتوضأ قد ذكرنا ذلك في غير هذا الباب فهذا عندنا ناسخ لذلك فإن قال قائل فقد روي عنه أنه كان يطوف على نسائه فكان يغتسل كلما جامع واحدة منهن وذكر في ذلك

شعبہ نے عاصم سے انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ پس یہ بھی درست ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت دیا ہو جب جنابت والا بلاوضو ذکر نہ کر سکتا تھا ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضؤ کا حکم فرمایا جیسا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث کے علاوہ دوسری روایت میں یہ بات فرمائی ہے پھر ان کو ذکر اللہ زبان سے کرنے کی اجازت ملی جبکہ وہ حالت جنابت میں ہوں ۔ پس یہ حکم اٹھ گیا اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جماع کرتے پھر دوبارہ جماع کرتے اور اس کے لیے وضؤ نہ کرتے ۔ ہم نے یہ روایت اس باب کے علاوہ اور کسی مقام پر ذکر کر دی ہے ۔ پس یہ ہمارے نزدیک اس کو نسخ کرنے والی ہے اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ اپنی تمام ازواج رضی اللہ عنہم کے ہاں چکر لگاتے اور جماع کے بعد غسل کرتے اور یہ روایت اس سلسلہ میں مذکور ہے ۔

Hadith 763

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 27 باب الجنب يريد النوم أو الأكل أو الشرب أو الجماع ) · حديث 764

737 - ما حدثنا بن مرزوق قال ثنا عفان بن مسلم وأبو الوليد قالا حدثنا حماد بن سلمة ح

عفان بن مسلم اور ابو الولید دونوں نے کہا ہمیں حماد بن سلمہ نے اسی طرح روایت بیان کی ہے ۔ اسے یہ جواب دیا جائے گا۔ اس روایت میں غسل کے لازم ہونے پر دلالت کرنے والی ایک بات بھی نہیں اس لیے بھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ زیادہ پاکیزگی اور ستھرائی اور طہارت والی بات ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی روایات بھی وارد ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام بیویوں کے ہاں تشریف لے گئے اور آخر میں ایک ہی غسل فرمایا ۔

حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَأَبُو الْوَلِيدِ، ← بن مرزوق ← مَا

Hadith 764

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 27 باب الجنب يريد النوم أو الأكل أو الشرب أو الجماع ) · حديث 765

وحدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا يحيى بن حسان قال ثنا حماد عن عبد الرحمن بن أبي رافع عن عمته سلمى عن أبي رافع أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا طاف على نسائه في يوم فجعل يغتسل عند هذه وعند هذه فقيل يا رسول الله لو جعلته غسلا واحدا فقال هذا أزكى وأطهر وأطيب قيل له في هذا ما يدل على أن ذلك لم يكن على الوجوب لقوله هذا أزكى وأطيب وأطهر وقد روى عنه أنه طاف على نسائه بغسل واحد

سلمیٰ رافع رضی اللہ عنہ سے نقل کرتی ہیں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ایک دن میں اپنی تمام ازواج سے قربت فرماتے تو ہر ایک کے ہاں غسل فرماتے۔ آپ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی غسل فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ زیادہ پاکیزگی اور طہارت و ستھرائی ہے ۔

أَبِي رَافِعٍ ← عَمَّتِهِ سَلْمَی ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← حَمَّادٌ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← وحدثنا سليمان بن شعيب

Hadith 765

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 27 باب الجنب يريد النوم أو الأكل أو الشرب أو الجماع ) · حديث 766

738 - حدثنا يونس وبحر قالا حدثنا يحيى بن حسان قال ثنا عيسى بن يونس ح

عیسیٰ بن یونس نے اپنی سند سے روایت بیان کی ہے۔

عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← يونس وبحر

Hadith 766

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter