شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 25 باب الاستجمار ) · حديث 715
692 - حدثنا فهد قال ثنا جندل بن والق قال ثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم عن عبد الرحمن بن يزيد عن سليمان قال نهينا أن نكتفي بأقل من ثلاثة أحجار فذهب قوم إلي أن الاستجمار لا يجزي بأقل من ثلاثة أحجار واحتجوا في ذلك بما ذكرنا من هذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ما استجمر به منها فأنقي به الأذى ثلاثة كانت أو أكثر منها أو أقل وترا كانت أو غير وتر كان ذلك طهره وكان من الحجة لهم في ذلك أن أمر النبي صلى الله عليه و سلم في هذا بالوتر يحتمل أن يكون ذلك على الاستحباب منه للوتر لا على أن ما كان غير وتر لا يطهر ويحتمل أن يكون أراد به التوقيت الذي لا يطهر ما هو أقل منه فنظرنا في ذلك هل نجد فيه ما يدل على شيء من ذلك فإذا يونس قد
عبدالرحمان بن یزید نے کہا کہ سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہمیں اس سے منع کیا گیا کہ ہم تین سے کم ڈھیلوں پر اکتفاء کریں کچھ علماء اس طرف گئے ہیں تین پتھروں سے کم تعداد کے ساتھ استنجاء کا فی نہیں ، انہوں نے اس سلسلہ میں ان آثار سے خصوصا استدلال کیا ہے ۔ مگر علماء کی دوسری جماعت کہتی ہے کہ جس قدر پتھروں سے وہ استنجاء کرے ان سے ازالہ نجاست ہو خواہ تین ہوں یا زیادہ یا کم طاق ہو یا جفت اس سے طہارت حاصل ہو جائے گی اور اس سلسلہ میں ان کی دلیل یہ بھی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں طاق کا حکم فرمایا اور اس میں احتمال یہ ہے کہ طاق کا عدد بطور استحباب ہو یہ نہیں کہ اگر طاق عدد نہ ہوں تو اس سے طہارت حاصل نہ ہو گی پس ہم نے اس میں غور و فکر کی کہ آیا کوئی روایت ایسی موجود ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہو تو یونس رحمۃ اللہ علیہ کی یہ روایت مل گئی ملاحظہ ہو ۔
سُلَیْمَانَ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← حَفْصٌ، ← جَنْدَلُ بْنُ وَالِقٍ ← فهد
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 715
