شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 24 باب غسل يوم الجمعة ) · حديث 685
667 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا هشام بن حسان عن محمد بن سيرين عن بن عباس أن عمر رضي الله عنه بينما هو يخطب يوم الجمعة إذ أقبل رجل فدخل المسجد فقال له عمر الآن حين توضأت فقال ما زدت حين سمعت الأذان على أن توضأت ثم جئت فلما دخل أمير المؤمنين ذكرته فقلت يا أمير المؤمنين أنا سمعت ما قال قال وما قال قلت قال ما زدت على أن توضأت حين سمعت النداء ثم أقبلت فقال أما إنه قد علم أنا أمرنا بغير ذلك قلت ما هو قال الغسل قلت أنتم أيها المهاجرون الأولون أم الناس جميعا قال لا أدري
محمد بن سیرین نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے جبکہ ایک آدمی آیا وہ مسجد میں داخل ہوا تو ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس وقت تم نے وضو کیا ہے ۔ انہوں نے کہا میں نے جب اذان سنی تو صرف وضو کر کے میں آگیا جب امیر المومنین داخل ہوئے تو میں نے ان سے تذکرہ کیا میں نے کہا اے امیر المومنین میں نے اس کی بات سنی انہوں نے کہا اس نے کیا کہا ہے؟ میں نے کہا اس نے کہا ہےکہ میں نے جوں ہی اذان سنی تو وضؤ کر کے مسجد آگیا ہوں تو امیر المومنین کہنے لگے ان کو معلوم ہے کہ ہمیں اس کے علاوہ کا حکم ہے میں نے کہا وہ علاوہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا وہ غسل ہے میں نے پوچھا کیا تم مہاجرین اولین کو حکم ہےیا سب لوگوں کو انہوں نے کہا مجھے معلوم نہیں ۔
بْنِ عَبَّاسٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 685
