Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 649

633 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا شعبة قال أخبرني الحكم عن ذر عن عبد الرحمن بن أبزي عن أبيه عن عمار أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال له إنما كان يكفيك هكذا وضرب شعبة بكفيه إلى الأرض وأدناهما من فيه فنفخ فيهما ثم مسح وجهه وكفيه قال أبو جعفر هكذا قال محمد بن خزيمة في إسناد هذا الحديث عن عبد الرحمن بن أبزن عن أبيه وإنما هو عن ذر عن بن عبد الرحمن عن أبيه

عبدالرحمان بن ابزی نے حضرت عمار سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا تمہیں اس طرح کرنا کافی تھا اور شعبہ نے اپنی ہتھیلیوں سے زمین پر ضرب لگائی اور پھر ان کو منہ سے قریب کیا اور ان پر پھونک ماری اور پھر ان کو چہرے اور کفین پر پھیر لیا ۔ امام طحاویرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی سند میں محمد بن خزیمہ نے عبدالرحمن سے اور انہوں نے اپنے والد ابزی سے روایت کی ہے اور اصل میں وہ ذر کے واسطہ سے ذر نے عبدالرحمن سے اور اس نے اپنے والد سے نقل کی ہے۔

عَمَّارٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← ذَرٍّ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 649

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 650

634 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا شعبة عن سلمة قال سمعت ذرا يحدث عن بن عبد الرحمن بن أبزن عن أبيه نحوه قال سلمة لا أدري بلغ الذراعين أم لا

عبدالرحمان بن ابزی نے اسی طرح روایت نقل کی ہے سلمہ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں ذرا عین تک پہنچے یا نہ پہنچے ۔

سلمة لا أدري بلغ الذراعين أم لا ← أَبِيهِ، نَحْوَهُ ← بن عبد الرحمن بن أبزن ← ذَرًّا، ← سَلَمَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 650

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 651

635 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا محمد بن كثير قال أنا سفيان عن سلمة بن كهيل عن أبي مالك عن عبد الرحمن بن أبزن مثله وزاد فمسح بهما وجهه ويديه إلى أنصاف الذراع

ابو مالک نے عبدالرحمان بن ابزی سے اسی طرح روایت نقل کی ہے البتہ یہ اضافہ ہے ان کو اپنے چہرے اور نصف بازو تک مل لیا۔

أَبِي مَالِکٍ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← بن مرزوق

Hadith 651

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 652

636 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان فذكر بإسناده مثله فقد اضطرب علينا حديث عمار هذا غير أنهم جميعا قد نفوا أن يكون قد بلغ المنكبين والإبطين فثبت بذلك انتفاء ما روي عنه في حديث عبيد الله عن أبيه أو بن عباس رضي الله عنهما وثبت أحد القولين الآخرين فنظرنا في ذلك فإذا أبو جهيم قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه يمم وجهه وكفيه فذلك حجة لمن ذهب إلى ان التيمم إلى الكفين وروى نافع عن بن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه تيمم إلى مرفقيه وقد ذكرت هذين الحديثين جميعا في باب قراءة القرآن للحائض وقد

سفیان نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی یہ روایت مضطرب ہے البتہ سب راویوں نے کندھوں اور بغلوں تک مسح کی نفی کی ہے ۔ اس سے ثابت ہو گیا کہ ان سے عبید اللہ یا ابن عباس رضی اللہ عنہ والی روایت منتقی ہے اور آخری دو اقوال میں سے ایک قول ثابت ہو گیا ۔ اب ہم نے غور کیا تو حضرت ابو جہیم رضی اللہ عنہ کی روایت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل گئی کہ آپ نے اپنے چہرے اور بازوں پر مسح کیا ۔ پس یہ کھلی دلیل بن گئی کہ تیمم کفین تک ہے اور نافع نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہنیوں سمیت تیمم فرمایا ۔ میں نے ان دونوں روایات کو باب قراء القرآن للحائض میں ذکر کر دیا ہے ۔

Hadith 652

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 653

637 - حدثنا محمد بن الحجاج قال ثنا علي بن معبد قال ثنا أبو يوسف عن الربيع بن بدر قال حدثني أبي عن جدي عن أسلع التميمي قال كنت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في سفر فقال لي يا أسلع قم فأرحل لنا قلت يا رسول الله أصابتني بعدك جنابة فسكت عني حتى أتاه جبرائيل بآية التيمم فقال لي يا أسلع قم فتيمم صعيدا طيبا ضربتين ضربة لوجهك وضربة لذراعيك ظاهرهما وباطنهما فلما انتهينا إلى الماء قال يا أسلع قم فاغتسل فلما اختلفوا في التيمم كيف هو واختلفت هذه الروايات فيه رجعنا إلى النظر في ذلك لنستخرج به من هذه الأقاويل قولا صحيحا فاعتبرنا ذلك فوجدنا الوضوء على الأعضاء التي ذكرها الله تعالى في كتابه وكان التيمم قد أسقط عن بعضها فأسقط عن الرأس والرجلين فكان التيمم هو على بعض ماعليه الوضوء فبطل بذلك قول من قال إنه إلى المناكب لأنه لما بطل عن الرأس والرجلين وهما مما يوضأ كان أحرى أن لا يجب على ما لا يوضأ ثم اختلف في الذراعين هل ييممان أم لا فرأينا الوجه ييمم بالصعيد كما يغسل بالماء ورأينا الرأس والرجلين لا ييمم منهما شيء فكان ما سقط التيمم عن بعضه سقط عن كله وكان ما وجب فيه التيمم كان كالوضوء سواء لأنه جعل بدلا منه فلما ثبت أن بعض ما يغسل من اليدين في حال وجود الماء ييمم في حال عدم الماء ثبت بذلك أن التيمم في اليدين الى المرفقين قياسا ونظرا على ما بينا من ذلك وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد روى ذلك عن بن عمر رضي الله عنهما وجابر رضي الله عنه

حضرت اسلع تمیمی کہتے ہیں میں ایک سفر میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں تھا آپ نے مجھے فرمایا اسے اسلع اٹھو اور ہمارے کجا وہ کو باندھو میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آپ کے بعد جنابت پہنچ گئی ہے آپ تھوڑی دیر خاموش رہے یہاں تک کہ جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس تیمم کی آیت لائے تو آپ نے مجھے فرمایا اے اسلع ! اٹھو اور پاکیزہ مٹی سے تیمم کر لو جو کہ دو ضربیں ہیں ایک ضرب تمہارے چہرے کے لیے اور دوسری ضرب تمہارے بازوؤں کے لیے بازوؤں کے ظاہر و باطن دونوں طرف ہاتھ پھیرنا ہو گا۔ جب ہم پانی تک پہنچے تو فرمایا اسے اسلع اٹھو! اور غسل کرو پس جب تیمم کی کیفیت میں اختلاف ہو اور روایات مختلف ہوئیں تو ہم نے نظرو فکر کو دوڑایا تاکہ ان اقوال میں سے صحیح ترین تک راہ پاسکیں، جانچتے ہوئے ہم نے اس بات کو پایا کہ وضو ان تمام اعضاء کا ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر فرمایا البتہ تیمم نے بعض اعضاء کو ساقط کر دیا ، سر اور دونوں پاؤں کو ساقط کیا گیا ۔ پس حاصل یہ ہوا کہ اعضاء وضو میں سے بعض پر تیمم کا حکم ہوا پس اس سے ان لوگوں کی بات غلط ثابت ہو گئی جو کہ کندھوں تک تیمم کے قائل ہیں کیونکہ جب سر اور پاؤں اعضائے وضو میں سے ساقط کر دیے تو جو حصہ وضو میں بھی دھونا لازم نہیں اس کا تیمم سے ساقط ہونا بدرجہ اولیٰ ثابت ہو گیا ۔ پھر بازوؤں کے متعلق اختلاف ہوا کہ ان پر تیمم کیا جائے گا یا نہ کیا جائے گا تو ہم نے چہرے کو اس طرح پایا کہ اس پر مٹی سے تیمم کیا جاتا ہے جیسا کہ وضو میں اسے پانی سے دھوتے ہیں اور سر اور پاؤں کا تیمم نہیں کیا جاتا تیمم جو چیز کسی ایک عضو سے ساقط کر ے گا وہ تمام اعضاءسے ساقط ہو گا اور جن میں تیمم واجب ہوا تھا وضو کا حکم بھی یہی تھا کیونکہ وہ ایک دوسرے کا بدل ہیں پس جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ ہاتھوں کا بعض حصہ جو پانی ملنے کی صورت میں دھویا جا تا ہے تو پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم بھی اسی حصہ کا ہو گا جو وضو میں دھویا جاتا ہے تو اس سے ثابت ہو گیا کہ ہاتھوں کا تیمم کہنیؤں سمیت ہے قیاس و فکر یہی چاہتے ہیں یہی ہمارے امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور جابر و فکر سے بھی اسی طرح مروی ہے ۔

لي يا أسلع قم فأرحل لنا قلت ← كنت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في سفر ← أسلع التميمي ← جَدِّي، ← أَبِي ← الرَّبِيعِ بْنِ بَدْرٍ ← أَبُو يُوسُفَ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ،

Hadith 653

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 654

638 - حدثنا يونس قال ثنا علي بن معبد عن عبيد الله بن عمر وعن عبد الكريم الجزري عن نافع قال سألت بن عمر عن التيمم فضرب بيديه إلى الأرض ومسح بهما يديه ووجهه وضرب ضربة أخرى فمسح بهما ذراعيه

عبید اللہ بن عمر اور عبد الکریم الجزری نے نافع سے نقل کیا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے تیمم کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے اور ان کو اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں پر ملا اور دوسری ضرب لگائی اور اس کو اپنی دونوں کلائیوں پر مل لیا ۔

سألت بن عمر ← نَافِعٍ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← يُونُسَ

Hadith 654

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 655

639 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا محمد بن عبد الله الكناسي قال ثنا عبد العزيز بن أبي رواد عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما مثله

نافع نے بن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

بن عمر مثله ← نَافِعٍ ← عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ← محمد بن عبد الله الكناسي ← علي بن شيبة

Hadith 655

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 656

640 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا سعيد بن كثير بن عفير قال حدثني يحيى بن أيوب عن هشام بن عروة عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما مثله

ہشام بن عروہ نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔

بن عمر مثله ← نَافِعٍ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Hadith 656

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 657

641 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن نافع أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أقبل من الجرف حتى إذا كان بالمربد تيمم صعيدا طيبا فمسح بوجهه ويديه إلى المرفقين ثم صلى

مالک نے نافع سے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ جرف کے مقام سے لوٹ رہے تھے جب مرید کے پاس پہنچے تو پاکیزہ مٹی سے تیمم کیا پس اپنے چہرے پر ملا اور دونوں ہاتھوں پر کہنیوں سمیت ملا پھر نماز ادا کی ۔

بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Hadith 657

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 658

642 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا عزرة بن ثابت عن أبي الزبير عن جابر رضي الله عنه قال أتاه رجل فقال أصابتني جنابة وإني تمعكت في التراب فقال أصرت حمارا وضرب بيديه إلى الأرض فمسح وجهه ثم ضرب بيديه إلى الأرض فمسح بيديه إلى المرفقين وقال هكذا التيمم وقد روى مثل ذلك أيضا عن الحسن

حضرت ابو الزبیر جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے بتایا کہ مجھے جنابت پہنچ گئی ہے اور میں نے اپنےکو مٹی میں لت پت کر لیا ہے انہوں نے فرمایا کیا تو گدھا بن گیا پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارا اور ان کو چہرے پر مل لیا پھر دونوں ہاتھ زمین پر مارے اور ان کو کلائیوں پر کہنیوں سمیت مل لیا اور فرمایا تیمم اس طرح ہوتا ہے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Hadith 658

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 659

643 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن قتادة عن الحسن أنه قال ضربة للوجه والكفين وضربة للذراعين إلى المرفقين

حسن رحمۃ اللہ علیہ نےکہا کہ ایک ضرب تو چہرے اور ہتھیلیوں کے لیے اور دوسری ضرب بازوؤں پر کہنیوں سمیت کے لیے ۔

ضربة للوجه والكفين وضربة للذراعين إلى المرفقين ← الْحَسَنِ أَنَّهُ ← قَتَادَةَ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 659

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 660

644 - حدثنا محمد قال ثنا حجاج ثنا أبو الأشهب عن الحسن مثله ولم يقل إلى المرفقين

بوالا شہب نے حسن رحمۃ اللہ علیہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے مگر اس میں الی المرفقین کا لفظ نہیں ہے ۔

الحسن مثله ولم يقل إلى المرفقين ← أَبُو الْأَشْهَبِ ← حجاج، ← مُحَمَّدٍ

Hadith 660

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter