Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 637

621 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الوهبي قال ثنا بن إسحاق عن الزهري عن عبد الله عن عبد الله بن عباس رضي الله عنه عن عمار قال كنت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم حين نزلت آية التيمم فضربنا ضربة واحدة للوجه ثم ضربنا ضربة لليدين إلى المنكبين طهرا وبطنا

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے نقل کیا کہ حضرت عمار کہتے ہیں کہ جب آیت تیمم نازل ہوئی تو میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ہم نے ایک ضرب چہرے کے لیے لگائی پھر ایک ضرب ہاتھوں کے لیے کندھوں تک ظاہر وباطن پر پھیرنے کے لیے لگائی ۔

عَمَّارٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← بن إِسْحَاقَ، ← الوهبي ← بن أبي داود

Hadith 637

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 638

622 - حدثنا بن أبي داود ومحمد بن النعمان قالا حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الأويسي قال ثنا إبراهيم بن سعد عن صالح عن بن شهاب فذكر بإسناده مثله

شہاب نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

بن شهاب فذكر بإسناده مثله ← صَالِحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ← بن أبي داود ومحمد بن النعمان

Hadith 638

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 639

623 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عبد الله بن محمد بن أسماء قال أنا جويرية عن مالك عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله أنه أخبره عن أبيه عن عمار قال تمسحنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم بالتراب فمسحنا وجوهنا وأيدينا إلى المناكب

عبداللہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ہم نے جناب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مٹی سے مسح کیا پس ہم نے اپنے چہروں پر ملا اور ہاتھوں پر کندھوں تک تیمم کیا ۔

عَمَّارٍ ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَالِكٍ، ← جُوَيْرِيَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← بن أبي داود

Hadith 639

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 640

624 - حدثنا محمد بن علي بن داود قال ثنا سعيد بن داود قال ثنا مالك أن بن شهاب حدثه أن عبيد الله بن عبد الله أخبره عن أبيه عن عمار مثله

ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ عبید اللہ بن عبداللہ نے اپنے والد سے اور انہوں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

عَمَّارٍ مِثْلَهُ. ← أَبِيهِ ← أن عبيد الله بن عبد الله ← مالك أن بن شهاب ← سَعِيدُ بْنُ دَاوُدَ، ← محمد بن علي بن داود

Hadith 640

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 641

625 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا إبراهيم بن بشار قال ثنا سفيان بن عيينة قال ثنا عمرو بن دينار عن بن شهاب عن عبيد الله عن أبيه عن عمار قال تيممنا مع النبي صلى الله عليه و سلم إلى المناكب

عبید اللہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہم نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کندھوں تک تیمم کیا ۔

تيممنا مع النبي صلى الله عليه و سلم إلى المناكب ← عَمَّارٍ ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← بن شِهَابٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 641

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 642

626 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا بن أبي ذئب عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن عمار بن ياسر قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في سفر فهلك عقد لعائشة رضي الله عنها فطلبوه حتى أصبحوا وليس مع القوم ماء فنزلت الرخصة في التيمم بالصعيد فقام المسلمون فضربوا بأيديهم إلى الأرض فمسحوا بها وجوههم وظاهر أيديهم إلى المناكب وباطنها إلى الآباط

عن الزہری عن عبید اللہ بن عبداللہ عن عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہو گیا پس انہوں نے تلاش کیا یہاں تک کہ صبح ہو گئی لوگوں کے پاس پانی نہیں تھا پس مٹی کے ساتھ تیمم کی اجاز ت نازل ہوئی چنانچہ مسلمان اٹھے اور انہوں نے اپنےہاتھوں کو زمین پر مارکر چہروں پر مل لیا اور اپنے ہاتھوں کو ظاہر پر کندھوں تک اور باطن پر بغلوں تک مل لیا۔

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Hadith 642

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 643

627 - حدثنا محمد بن النعمان وابن أبي داود قالا ثنا الأويسي قال ثنا إبراهيم بن سعد عن صالح بن كيسان عن بن شهاب عن عبيد الله بن عبد الله عن بن عباس رضي الله عنه عن عمار بن ياسر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا فقالوا هكذا التيمم ضربة للوجه وضربة للذراعين إلى المناكب والآباط وخالفهم في ذلك آخرون فافترقوا فرقتين فقالت فرقة منهم التيمم للوجه واليدين إلى المرفقين وقالت فرقة منهم التيمم للوجه والكفين فكان من الحجة لهذين الفريقين على الفرقة الأولى أن عمار بن ياسر لم يذكر أن النبي صلى الله عليه و سلم أمرهم أن يتيمموا كذلك وإنما أخبرهم عن فعلهم فقد يحتمل أن تكون الآية لما أنزلت لم تنزل بتمامها وإنما أنزل منها فتيمموا صعيدا طيبا ولم يبين لهم كيف يتيممون فكان ذلك عندهم على كل ما فعلوا من التيمم لا وقت في ذلك وقتا ولا عضوا مقصودا به إليه بعينه حتى نزلت بعد ذلك فامسحوا بوجوهكم وأيديكم منه ومما يدل على ما قلنا من ذلك ما

عبیدہ اللہ بن عبداللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاویرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت اس طرف گئی ہےکہ تیمم اس طرح ہے کہ ایک ضرب تو چہرے کے لیے اور ایک ضرب بازوؤں ، کندھوں اور بغل تک کے لیے ہو گی۔ علماء کی دوسری جماعت نے ان کی اس سلسلہ میں مخالفت کی ہے پھر ان کی دو جماعتیں ہیں ایک گروہ کا کہنا یہ ہے کہ تیمم چہرے کےلیے دونوں ہاتھوں پر کہنیوں سمیت کیا جائے گا اور ایک گروہ کہتا ہے کہ تیمم چہرے اور دو ہتھیلیوں پر ہے ۔ ان دونوں گروہوں نے پہلے گروہ کے خلاف یہ دلیل پیش کی ہے کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح تیمم کا حکم نہیں کیا ،صرف ان کوصحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے ایک عمل کی اطلاع دے دی ہے پس اس میں یہ احتمال ہے کہ جب آیت اتری تو مکمل نہ اتری ہو اور اس میں (فیتممو صعیدا طیبا) تک اتری ہو اور ان کو یہ وضاحت نہ کی گئی کہ کس طرح انہوں نے تیمم کرنا ہے ۔چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے ہاں وہی طریقہ سامنے آیا جو انہوں نے اختیار کیا اس کے لیے نہ تو کوئی عضؤ مقرر تھا اور نہ ہی اس کے لیے کوئی وقت مقرر تھا ۔ یہاں تک کہ آیت کا یہ حصہ ( فامسحو بوجوھکم وایدیکم منہ) نازل ہوا اور اس پر دلالت کے لیے اور دوسری ضرب بازوؤں کے لیے جن کی حد بالائی جانب میں کندھے اور نچلی جانب میں بغل تک ہو گی ۔

أبو جعفر فذهب قوم الى هذا ← عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← بن شِهَابٍ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← الأُوَيْسِيُّ، ← محمد بن النعمان وابن أبي داود

Hadith 643

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 644

628 - حدثنا أحمد بن عبد الرحمن قال ثنا عمي عبد الله بن وهب عن بن لهيعة عن أبي الأسود حدثه أنه سمع عروة يخبره عن عائشة رضي الله عنها قالت أقبلنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم من غزوة له حتى إذا كنا بالمعرس قريبا من المدينة نعست من الليل وكانت علي قلادة تدعى السمط تبلغ السرة فجعلت أنعس فخرجت من عنقي فلما نزلت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم لصلاة الصبح قلت يا رسول الله خرت قلادتي من عنقي فقال أيها الناس إن أمكم قد ضلت قلادتها فابتغوها فابتغاها الناس ولم يكن معهم ماء فاشتغلوا بابتغائها إلى أن حضرتهم الصلاة ووجدوا القلادة ولم يقدروا على ماء فمنهم من تيمم إلى الكف ومنهم من تيمم إلى المنكب وبعضهم على جسده فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فأنزلت آية التيمم ففي هذا الحديث أن نزول آية التيمم كان بعدما تيمموا هذا التيمم المختلف الذي بعضه إلى المناكب فعلمنا تيممهم أنهم لم يفعلوا ذلك إلا وقد تقدم عندهم أصل التيمم وعلمنا بقولها فأنزل الله آية التيمم أن الذي نزل بعد فعلهم هو صفة التيمم فهذا وجه حديث عمار عندنا ومما يدل أيضا على أن هذه الآية تنفي ما فعلوا من ذلك أن عمار بن ياسر هو الذي روى ذلك عن النبي صلى الله عليه و سلم قد روى غيره عنه في التيمم الذي عمله بعد ذلك خلاف ذلك فمنه ما

ابو الاسود نے بیان کیا کہ میں نے عروہ کویہ خبر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے سنا کہ ہم ایک غزوہ سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں لوٹ رہے تھے جب ہم ایک منزل پر رات کے پچھلے حصہ میں آرام کے لیے اترے جو مدینہ سے قریب تھی تو رات کی وجہ سے مجھے اونگھ آگئی میرے ہاں سمط نامی ہار تھا جو گلے میں ڈالنے سے ناف تک پہنچنے والا تھا اونگھ کی شدت کی وجہ سے وہ میری گرد ن سے نکل گیا اور گر گیا جب میں نماز صبح کے لیے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اتری تو میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گردن میں میرا ہار گر پڑا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمادیا تمہاری ماں کا ہار گم ہو گیا ہے اسے تلاش کرو لوگ اس کی تلاش میں لگ گئے لوگوں کےپاس پانی نہیں تھا ادھر تلاش میں نماز کا وقت آگیا ہار مل گیا لیکن پانی میسر نہ آیا بعض نے گٹوں تک تیمم کیا اور بعض نے کندھے تک تیمم کیا اور بعض نے تمام جسم پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسکی اطلاع ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آیت تیمم اتار دی ۔ اس روایت سے یہ معلوم ہوگیا کہ آیت کا نزول اس عمل کے بعد ہوا ہے جس میں اختلاف کیا جار ہا ہے کہ بعض نےکندھوں تک تیمم کیا ۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اصل تیمم تو ان کےہاں ثابت شدہ تھا ۔ رہا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ ارشاد کہ اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل فرمائی ۔ اس سے یہ ظاہر ہو گیا کہ آیت تیمم کے بعد انہوں نے جو عمل کیا وہ تیمم کا اصل طریقہ ہے ہمارے ہاں حضرت عمارہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا یہی مطلب ہے اور اس پر دلالت کے لیے آیت ہی کو دیکھ لو کہ وہ ان کے عمل کی نفی کررہی ہے اور دوسری طرف عمار بن یاسر رضی اللہ عنہا نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے عمل کے خلاف روایت نقل کی ہے ۔

عَائِشَةَ ← عروة يخبره ← أَنَّهُ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← بن لهيعة ← عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،

Hadith 644

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 645

629 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا عبد الوهاب عن سعيد عن قتادة عن عروة عن سعيد بن عبد الرحمن بن أبزى عن أبيه أن عمار بن ياسر سأل نبي الله صلى الله عليه و سلم عن التيمم فأمره بالوجه والكفين

عبدالرحمان بن ابزی بیان کرتے ہیں کہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تیمم کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چہرے اور کفین کا حکم دیا ۔

أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← عُرْوَةَ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Hadith 645

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 646

630 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا شعبة عن الحكم قال سمعت ذر بن عبد الله يحدث عن بن عبد الرحمن بن أبزى عن أبيه أن رجلا أتي عمر رضي الله عنه فقال إني كنت في سفر فأجنبت فلم أجد الماء فقال عمر رضي الله عنه لا تصل فقال عمار يا أمير المؤمنين أما تذكر أني كنت أنا وإياك في سرية فأجنبنا فلم نجد الماء فأما أنت فلم تصل وأما أنا فتمرغت في التراب فأتينا النبي صلى الله عليه و سلم فأخبرناه فقال أما أنت فكان يكفيك وقال بيديه فضرب بهما ونفخ فيهما ومسح بهما وجهه وكفيه ففعل عمار إذ تمرغ يريد بذلك التيمم وإن كان ذلك بعد نزول الآية فإنما كان ذلك منه عندنا والله أعلم لأنه عمل على أن التيمم للجنابة غير التيمم للحدث حتى علمه رسول الله صلى الله عليه و سلم أنهما سواء

عبدالرحمان بن ابزی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں آیا اور کہنے لگا کہ میں سفر میں تھا مجھے نہانے کی حاجت ہوگئی مگر مجھے پانی نہ ملا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تو نماز مت پڑھ عمار کہنے لگے اے امیر المومنین ! کیا آپ کو یاد نہیں کہ میں اور آپ ایک سر یہ میں تھے پھر ہمیں جنابت کی حالت پیش آگئی ہم نے پانی نہ پایا آپ نے تو نماز نہ پڑھی اور میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہو کر تمام جسم پر مٹی مل لی پھر ہم جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ کو اس کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا تجھے اتنا کافی تھا کہ اپنے دنوں ہاتھوں کو زمین پر مارتے اور ان پر پھونک مارتے اور ان کو چہرے اور ہتھیلیؤں پر مل لیتے ۔ پس حضرت عمار رضی اللہ عنہ کا عمل کو وہ تیمم کا ارادہ کر کے خود مٹی میں لوٹ پوٹ ہوتے ۔ اگر اپ کا یہ عمل نزول آیت کے بعد تھا تو ہمارے ہاں انہوں نے یہ عمل اس لیے کیا کہ وہ جنابت اور حدث کو الگ الگ خیال کرتے تھے یہاں تک کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے بتلایا کہ دونوں کے لیے تیمم ایک جیسا ہے ۔

أما أنت فكان يكفيك ← فتمرغت في التراب فأتينا النبي صلى الله عليه و سلم ← وإياك في سرية فأجنبنا فلم نجد الماء فأما أنت فلم تصل وأما ← عمار يا أمير المؤمنين أما تذكر أني كنت ← عُمَرُ: لَا تُصَلِّ، ← إني كنت في سفر فأجنبت فلم أجد الماء ← أبيه أن رجلا أتى عمر ← بن عبد الرحمن بن أبزي ← ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 646

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 647

631 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا زائدة وشعبة عن حصين عن أبي مالك عن عمار أنه قال إلى المفصل ولم يرفعه

زائدہ و شعبہ نے حصین عن ابی مالک عن عمار نقل کیا کہ عماررضی اللہ عنہ نے تیمم گٹوں تک فرمایا مگر اس روایت کو مرفوع قرار نہیں دیا۔

إلى المفصل ولم يرفعه ← عَمَّارٍ، أَنَّهُ ← أَبِي مَالِکٍ ← حُصَيْنٍ ← زائدة وشعبة ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 647

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 23 باب صفة التيمم كيف هي ) · حديث 648

632 - حدثنا محمد بن الحجاج قال ثنا علي بن معبد قال ثنا عيسى بن يونس عن الأعمش عن سلمة بن كهيل عن سعيد بن عبد الرحمن بن أبزي عن أبيه عن عمار أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال له إنما يكفيك أن تقول هكذا وضرب الأعمش بيديه الأرض ثم نفخهما ومسح بهما وجهه وكفيه

عبدالرحمان بن ابزی نے حضرت عمار سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا تیرے لیے اتنا کافی تھا کہ تم اس طرح ہو (یعنی کرو) اعمش نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر ان پر پھونک لگا کر ان کو اپنے چہرے اور کفین پر مل لیا۔

عَمَّارٍ ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ،

Hadith 648

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter