شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 620
606 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج بن المنهال قال ثنا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه و سلم مثل حديث يونس عن بن وهب وحديث محمد بن علي عن سليمان بن داود غير أنه قال فإذا ذهب قدرها فاغسلي عنك الدم وتوضئي وصلي ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمرها بالوضوء مع أمره إياها بالغسل فذلك الوضوء هو الوضوء لكل صلاة فهذا معنى حديث أبي حنيفة رحمه الله تعالى وليس حماد بن سلمة عندكم في هشام بن عروة بدون مالك والليث وعمرو بن الحارث فقد ثبت بما ذكرنا صحة الرواية عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في المستحاضة أنها تتوضأ في حال استحاضتها لوقت كل صلاة إلا أنه قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما تقدم ذكرنا له في هذا الباب فأردنا أن ننظر في ذلك لنعلم ما الذي ينبغي أن يعمل به من ذلك فكان ما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مما رويناه في أول هذا الباب أنه أمر أم حبيبة رضي الله عنها بنت جحش بالغسل عند كل صلاة فقد ثبت نسخ ذلك بما قد رويناه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في الفصل الثاني من هذا الباب في حديث بن أبي داود عن الوهبي في أمر سهلة بنت سهيل فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان أمرها بالغسل لكل صلاة فلما أجهدها ذلك أمرها أن تجمع بين الظهر والعصر بغسل وبين المغرب والعشاء بغسل وتغتسل للصبح غسلا فكان ما أمرها به من ذلك ناسخا لما كان أمرها به قبل ذلك من الغسل لكل صلاة [ ص 104 ] فأردنا أن ننظر فيما روي في ذلك كيف معناه فإذا عبد الرحمن بن القاسم قد روى عن أبيه في المستحاضة التي استحيضت في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فاختلف عن عبد الرحمن في ذلك فروى الثوري عنه عن أبيه عن زينب بنت جحش أن النبي صلى الله عليه و سلم أمرها بذلك وأن تدع الصلاة أيام أقرائها ورواه بن عيينة عن عبد الرحمن أيضا عن أبيه ولم يذكر زينب إلا أنه وافق الثوري في معنى متن الحديث فكان ذلك على الجمع بين كل صلاتين بغسل في أيام الاستحاضة خاصة فثبت بذلك أن أيام الحيض كان موضعها معروفا ثم جاء شعبة فرواه عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها كما رواه الثوري وابن عيينة غير أنه لم يذكر أيام الأقراء وتابعه على ذلك محمد بن إسحاق فلما روى هذا الحديث كما ذكرنا فاختلفوا فيه كشفناه لنعلم من أين جاء الاختلاف فكان ذكر أيام الأقراء في حديث القاسم عن زينب وليس ذلك في حديثه عن عائشة فوجب أن يجعل روايته عن زينب غير روايته عن عائشة رضي الله عنها فكان حديث زينب الذي فيه ذكر الأقراء حديثا منقطعا لا يثبته أهل الخبر لأنهم لا يحتجون بالمنقطع وإنما جاء انقطاعه لأن زينب لم يدركها القاسم ولم يولد في زمنها لأنها توفيت في عهد عمر بن الخطاب رضي الله عنه وهي أول أزواج النبي صلى الله عليه و سلم وفاة بعده وكان حديث عائشة رضي الله عنها هو الذي ليس فيه ذكر الأقراء إنما فيه أن النبي صلى الله عليه و سلم أمر المستحاضة أن تجمع بين الصلاتين بغسل على ما في ذلك الحديث ولم يبين أي مستحاضة هي فقد وجدنا استحاضة قد تكون على معاني مختلفة فمنها أن يكون مستحاضة قد استمر بها الدم وأيام حيضها معروفة لها فسبيلها أن تدع الصلاة أيام حيضها ثم تغتسل وتتوضأ بعد ذلك ومنها أن يكون مستحاضة لأن دمها قد استمر بها فلا ينقطع عنها وأيام حيضها قد خفيت عليها فسبيلها أن تغتسل لكل صلاة لأنها لا يأتي عليها وقت إلا احتمل أن تكون فيه حائضا أو طاهرا من حيض أو مستحاضة فيحتاط لها فتؤمر بالغسل ومنها أن تكون مستحاضة قد خفيت عليها أيام حيضها ودمها غير مستمر بها ينقطع ساعة ويعود بعد ذلك هكذا هي في أيامها كلها فتكون قد أحاط علمها أنها في وقت انقطاع دمها إذا اغتسلت حينئذ غير طاهر من حيض طهرا يوجب عليها غسلا فلها أن تصلي في حالها تلك ما أرادت من الصلوات بذلك الغسل إن أمكنها ذلك فلما وجدنا المرأة قد تكون مستحاضة بكل وجه من هذه الوجوه التي معانيها مختلفة وأحكامها مختلفة واسم المستحاضة يجمعها ولم نجد في حديث عائشة رضي الله عنها ذلك بيان استحاضة تلك المرأة التي أمر النبي صلى الله عليه و سلم لها بما ذكرنا أي مستحاضة هي لم يجز لنا أن نحمل ذلك على وجه من هذه الوجوه دون غيره إلا بدليل يدلنا على ذلك فنظرنا في ذلك هل نجد فيه دليلا
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی جیسا یونس عن ابن واہب اور جیسا حدیث محمد بن علی عن سلیمان بن داؤد نقل کی ہے صرف اتنا الفاظ کا فرق ہے : فاذا ذھب قدرھا فاغسلی عنک الدم و توضنی وصلی۔ ہم نے جو ذکر کیا اس سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مستحاضہ کے متعلق اس روایت کی صحت ثابت ہو گئی کہ وہ استحاضہ کی حالت میں ہر نماز کے لیے وضو کر گی ۔ مگر اس باب میں جو روایات شروع میں مذکورہوئیں وہ بھی جناب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں پس ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس سے متعلق غور و فکر کے تقاضے کو سامنے لائیں تاکہ ہمارے سامنے یہ ظاہر ہو جائے کہ س پر عمل کرنا مناسب ہے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باب کی ابتداء میں جو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بنت حجش کو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ ہر نماز کے وقت غسل کرو۔ پس اسکا نسخ تو اس باب کی فصل دوم میں منقولہ روایات جو ابن ابی داؤد نے سہلہ بنت سہل رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ہر نماز کے لیے غسل کا حکم دیا جب اس بات نے ان کو تھکا دیا تو اس کو حکم دیا کہ ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو ایک ایک غسل سے اور نماز صبح کے لیے مستقل غسل کرے پس آپ نے ا س کو جو حکم فرمایا اس سے پہلے والا حکم منسوخ ہو گیایعنی ہر نماز کے لیے غسل ۔ پس ہم چاہتے ہیں کہ اس سلسلہ کی روایات پر ہم نظر ڈالیں کہ ان کا مفہوم کیا ہے ؟ چنانچہ عبدالرحمن بن قاسم نے اس مستحاضہ کے متعلق روایت نقل کی جس کو استحاضہ کی تکلیف زمانہ نبوت میں پیش آئی اور عبدالرحمان سے اس سلسلہ میں روایات مختلف ہیں۔ چنانچہ ثوری نے زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس بات کا حکم دیا کہ ایام حیض میں نماز کو چھوڑ دے ۔ اسے ابن عیینہ نے عبدالرحمن سے اپنے والد کی وساطت سے ذکر کیا اور اس نے زینب کا تذکرہ نہیں کیا ۔ البتہ مفہوم حدیث میں ثوری کی موافقت کی ہے اور وہ ایام استحاضہ میں دو نمازوں کو ایک غسل سے جمع کر کے ادا کرنا ہے پس اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ان کے ایام حیض معروف و مشہور تھے ۔ پھر شعبہ نے قاسم کی وساطت کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت کی جیسا کہ ثوری و ابن عیینہ نے کی البتہ اس نے ایام حیض کا تذکرہ نہیں کیا اور ابن اسحق نے بھی اسی طرح روایت کی۔ جب ی ہروایت اس مذکور طریق سے وارد ہے جس کا حاصل اختلاف ہے اب ہم اس کو مقام اختلاف جاننے کے لیے جانچتے ہیں ، ملاحظہ ہو قاسم نے زینب رضی اللہ عنہا سے جو روایت کی ہے اس میں ایام حیض کا تذکرہ ہے مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والی روایت میں اس کا تذکرہ نہیں ۔پس ضروری ہو گیا کہ اس کی زینب رضی اللہ عنہا والی روایت کو اس کی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا والی روایت سے الگ جانا جائے پھر زینب رضی اللہ عنہا والی روایت جس میں ایام حیض کو تذکرہ ہے تو وہ منقطع روایت ہے اسے اہل اصول ثابت نہیں مانتے کیونکہ وہ منقطع کو قابل حجت قرار نہیں دیتے اور انقطاع کا موقع یہ ہے کہ قاسم کی زینت سے ملاقات ثابت نہیں بلکہ قاسم کی ولادت بھی اسکی وفات کے بعد ہوئی کیونکہ اس کی وفات خلافت فاروقی میں ہوئی اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم میں یہ پہلی زوجہ محترمہ ہیں جنہوں نے آپ کے بعد وفات پائی اور روایت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا میں ایام حیض کا تذکرہ نہیں اس میں یہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحاضہ کو حکم فرمایا کہ وہ دو نمازوں کو ایک غسل ست جمع کر کے پڑھے اور اس روایت میں یہ واضح نہیں کہ اس سے کونسی مستحاضہ مراد ہے اس لیے کہ تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ مستحاضہ کئی قسم ہیں ۔1۔ بعض مستحاضہ ایسی ہوتی ہیں کہ ان کا خون دائمی جاری رہتا ہے اور ان کے ایام حیض معلوم و معروف ہوتے ہیں ۔ پس ان کے لیے تو مسئلہ آسان ہے کہ ایام حیض میں نماز کو ترک کر دے غسل کر لے اور پھر ہر نماز کے لیے وضو کرتی رہے ۔ 2۔ بعض مستحاضہ کا خون منقطع نہیں ہوتا بلکہ جاری رہتا ہے مگر اس کے ایام حیض اسے معلوم نہیں پس اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرے گی کیونکہ اس کے ہر وقت میں یہ احتمال ہے کہ وہ اس میں حائضہ ہو یا حیض سے پاک ہو یا مستحاضہ ہو پس اس کے متعلق احتیاط سے کام لیا جائے گا اور اسے غسل کا حکم دیا جائے گا۔ 3۔ بعض مستحاضہ وہ ہیں جن پر ان کے ایام حیض تو مخفی ہوتے ہیں مگر ان کا خون دائمی نہیں بلکہ کبھی تو منقطع ہوتا ہے اور کبھی لوٹ آتا ہے ۔ وہ تمام اوقات میں یہ اپنے طور پر جانتی ہیں کہ اس کا خون ابھی منقطع ہو گا جب وہ غسل کرتی ہیں تو اس وقت وہ حیض سے پاکیزگی والے طہر کی طرح پاک نہیں ہوتی کہ جس طہر کی بناء پر اس پر غسل کو لازم کیا جائے پس اس کی صورت یہ ہو گی کہ اسے اپنی اس حالت میں نماز ادا کرنی ہو گی ۔ اسی غسل سے جس قدر نمازیں وہ ادا کرنا چاہتی ہے اگر اسے یہ ممکن ہو ۔ جب ہم نے دیکھا عورت بعض اوقات ہر اعتبار سے مستحاضہ ہوتی ہے جبکہ ہر صورت کا حکم الگ الگ ہے اور اس کے احکام بھی مختلف ہیں اور مستحاضہ کا نام سب کو شامل ہے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں اس عورت کے استحاصہ کی وضاحت بھی نہیں کہ جس کے بارے میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ حکم دیا جس کا ہم نے تذکرہ کیا کہ وہ کونسی مستحاضہ پس ہمارے لیے یہ درست نہیں کہ ہم ان اقسام میں سے کسی ایک پر دوسرے کو چھوڑ کر اس کو محمول کر سکیں جب تک کہ ہمارےپاس اسکی کوئی دلیل نہ ہو۔ پس ہم نے اس سلسلے میں غور و فکر کی کہ آیا اس کی کوئی دلیل میسر ہے ۔ چنانچہ ہم نے یہ دلیل پالی۔ پس اس روایت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو وضو کا حکم دینے کے ساتھ غسل کا حکم فرمایا اور یہ وہی وضو ہے جو ہر نماز کے لیے اور غسل سے وہی غسل ہے جو ایام حیض کی مقدار گزرنے پر ہو گا اور ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کا بھی یہی معنی ہے اور حماد بن سلمہ کا مرتبہ تمہارے ہاں مالکرحمۃ اللہ علیہ و لیث رحمۃ اللہ علیہ و عمرو رحمۃ اللہ علیہ بن الحارث سے کم نہیں ہے ۔
فإذا ذهب قدرها فاغسلي عنك الدم وتوضئي وصلي ففي هذا الحديث ← سليمان بن داود غير أنه ← بن وهب وحديث محمد بن علي ← النبي صلى الله عليه و سلم مثل حديث يونس ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 620
