Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 620

606 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج بن المنهال قال ثنا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه و سلم مثل حديث يونس عن بن وهب وحديث محمد بن علي عن سليمان بن داود غير أنه قال فإذا ذهب قدرها فاغسلي عنك الدم وتوضئي وصلي ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمرها بالوضوء مع أمره إياها بالغسل فذلك الوضوء هو الوضوء لكل صلاة فهذا معنى حديث أبي حنيفة رحمه الله تعالى وليس حماد بن سلمة عندكم في هشام بن عروة بدون مالك والليث وعمرو بن الحارث فقد ثبت بما ذكرنا صحة الرواية عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في المستحاضة أنها تتوضأ في حال استحاضتها لوقت كل صلاة إلا أنه قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما تقدم ذكرنا له في هذا الباب فأردنا أن ننظر في ذلك لنعلم ما الذي ينبغي أن يعمل به من ذلك فكان ما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مما رويناه في أول هذا الباب أنه أمر أم حبيبة رضي الله عنها بنت جحش بالغسل عند كل صلاة فقد ثبت نسخ ذلك بما قد رويناه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في الفصل الثاني من هذا الباب في حديث بن أبي داود عن الوهبي في أمر سهلة بنت سهيل فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان أمرها بالغسل لكل صلاة فلما أجهدها ذلك أمرها أن تجمع بين الظهر والعصر بغسل وبين المغرب والعشاء بغسل وتغتسل للصبح غسلا فكان ما أمرها به من ذلك ناسخا لما كان أمرها به قبل ذلك من الغسل لكل صلاة [ ص 104 ] فأردنا أن ننظر فيما روي في ذلك كيف معناه فإذا عبد الرحمن بن القاسم قد روى عن أبيه في المستحاضة التي استحيضت في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فاختلف عن عبد الرحمن في ذلك فروى الثوري عنه عن أبيه عن زينب بنت جحش أن النبي صلى الله عليه و سلم أمرها بذلك وأن تدع الصلاة أيام أقرائها ورواه بن عيينة عن عبد الرحمن أيضا عن أبيه ولم يذكر زينب إلا أنه وافق الثوري في معنى متن الحديث فكان ذلك على الجمع بين كل صلاتين بغسل في أيام الاستحاضة خاصة فثبت بذلك أن أيام الحيض كان موضعها معروفا ثم جاء شعبة فرواه عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها كما رواه الثوري وابن عيينة غير أنه لم يذكر أيام الأقراء وتابعه على ذلك محمد بن إسحاق فلما روى هذا الحديث كما ذكرنا فاختلفوا فيه كشفناه لنعلم من أين جاء الاختلاف فكان ذكر أيام الأقراء في حديث القاسم عن زينب وليس ذلك في حديثه عن عائشة فوجب أن يجعل روايته عن زينب غير روايته عن عائشة رضي الله عنها فكان حديث زينب الذي فيه ذكر الأقراء حديثا منقطعا لا يثبته أهل الخبر لأنهم لا يحتجون بالمنقطع وإنما جاء انقطاعه لأن زينب لم يدركها القاسم ولم يولد في زمنها لأنها توفيت في عهد عمر بن الخطاب رضي الله عنه وهي أول أزواج النبي صلى الله عليه و سلم وفاة بعده وكان حديث عائشة رضي الله عنها هو الذي ليس فيه ذكر الأقراء إنما فيه أن النبي صلى الله عليه و سلم أمر المستحاضة أن تجمع بين الصلاتين بغسل على ما في ذلك الحديث ولم يبين أي مستحاضة هي فقد وجدنا استحاضة قد تكون على معاني مختلفة فمنها أن يكون مستحاضة قد استمر بها الدم وأيام حيضها معروفة لها فسبيلها أن تدع الصلاة أيام حيضها ثم تغتسل وتتوضأ بعد ذلك ومنها أن يكون مستحاضة لأن دمها قد استمر بها فلا ينقطع عنها وأيام حيضها قد خفيت عليها فسبيلها أن تغتسل لكل صلاة لأنها لا يأتي عليها وقت إلا احتمل أن تكون فيه حائضا أو طاهرا من حيض أو مستحاضة فيحتاط لها فتؤمر بالغسل ومنها أن تكون مستحاضة قد خفيت عليها أيام حيضها ودمها غير مستمر بها ينقطع ساعة ويعود بعد ذلك هكذا هي في أيامها كلها فتكون قد أحاط علمها أنها في وقت انقطاع دمها إذا اغتسلت حينئذ غير طاهر من حيض طهرا يوجب عليها غسلا فلها أن تصلي في حالها تلك ما أرادت من الصلوات بذلك الغسل إن أمكنها ذلك فلما وجدنا المرأة قد تكون مستحاضة بكل وجه من هذه الوجوه التي معانيها مختلفة وأحكامها مختلفة واسم المستحاضة يجمعها ولم نجد في حديث عائشة رضي الله عنها ذلك بيان استحاضة تلك المرأة التي أمر النبي صلى الله عليه و سلم لها بما ذكرنا أي مستحاضة هي لم يجز لنا أن نحمل ذلك على وجه من هذه الوجوه دون غيره إلا بدليل يدلنا على ذلك فنظرنا في ذلك هل نجد فيه دليلا

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی جیسا یونس عن ابن واہب اور جیسا حدیث محمد بن علی عن سلیمان بن داؤد نقل کی ہے صرف اتنا الفاظ کا فرق ہے : فاذا ذھب قدرھا فاغسلی عنک الدم و توضنی وصلی۔ ہم نے جو ذکر کیا اس سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مستحاضہ کے متعلق اس روایت کی صحت ثابت ہو گئی کہ وہ استحاضہ کی حالت میں ہر نماز کے لیے وضو کر گی ۔ مگر اس باب میں جو روایات شروع میں مذکورہوئیں وہ بھی جناب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں پس ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس سے متعلق غور و فکر کے تقاضے کو سامنے لائیں تاکہ ہمارے سامنے یہ ظاہر ہو جائے کہ س پر عمل کرنا مناسب ہے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باب کی ابتداء میں جو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بنت حجش کو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ ہر نماز کے وقت غسل کرو۔ پس اسکا نسخ تو اس باب کی فصل دوم میں منقولہ روایات جو ابن ابی داؤد نے سہلہ بنت سہل رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ہر نماز کے لیے غسل کا حکم دیا جب اس بات نے ان کو تھکا دیا تو اس کو حکم دیا کہ ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو ایک ایک غسل سے اور نماز صبح کے لیے مستقل غسل کرے پس آپ نے ا س کو جو حکم فرمایا اس سے پہلے والا حکم منسوخ ہو گیایعنی ہر نماز کے لیے غسل ۔ پس ہم چاہتے ہیں کہ اس سلسلہ کی روایات پر ہم نظر ڈالیں کہ ان کا مفہوم کیا ہے ؟ چنانچہ عبدالرحمن بن قاسم نے اس مستحاضہ کے متعلق روایت نقل کی جس کو استحاضہ کی تکلیف زمانہ نبوت میں پیش آئی اور عبدالرحمان سے اس سلسلہ میں روایات مختلف ہیں۔ چنانچہ ثوری نے زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس بات کا حکم دیا کہ ایام حیض میں نماز کو چھوڑ دے ۔ اسے ابن عیینہ نے عبدالرحمن سے اپنے والد کی وساطت سے ذکر کیا اور اس نے زینب کا تذکرہ نہیں کیا ۔ البتہ مفہوم حدیث میں ثوری کی موافقت کی ہے اور وہ ایام استحاضہ میں دو نمازوں کو ایک غسل سے جمع کر کے ادا کرنا ہے پس اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ان کے ایام حیض معروف و مشہور تھے ۔ پھر شعبہ نے قاسم کی وساطت کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت کی جیسا کہ ثوری و ابن عیینہ نے کی البتہ اس نے ایام حیض کا تذکرہ نہیں کیا اور ابن اسحق نے بھی اسی طرح روایت کی۔ جب ی ہروایت اس مذکور طریق سے وارد ہے جس کا حاصل اختلاف ہے اب ہم اس کو مقام اختلاف جاننے کے لیے جانچتے ہیں ، ملاحظہ ہو قاسم نے زینب رضی اللہ عنہا سے جو روایت کی ہے اس میں ایام حیض کا تذکرہ ہے مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والی روایت میں اس کا تذکرہ نہیں ۔پس ضروری ہو گیا کہ اس کی زینب رضی اللہ عنہا والی روایت کو اس کی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا والی روایت سے الگ جانا جائے پھر زینب رضی اللہ عنہا والی روایت جس میں ایام حیض کو تذکرہ ہے تو وہ منقطع روایت ہے اسے اہل اصول ثابت نہیں مانتے کیونکہ وہ منقطع کو قابل حجت قرار نہیں دیتے اور انقطاع کا موقع یہ ہے کہ قاسم کی زینت سے ملاقات ثابت نہیں بلکہ قاسم کی ولادت بھی اسکی وفات کے بعد ہوئی کیونکہ اس کی وفات خلافت فاروقی میں ہوئی اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم میں یہ پہلی زوجہ محترمہ ہیں جنہوں نے آپ کے بعد وفات پائی اور روایت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا میں ایام حیض کا تذکرہ نہیں اس میں یہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحاضہ کو حکم فرمایا کہ وہ دو نمازوں کو ایک غسل ست جمع کر کے پڑھے اور اس روایت میں یہ واضح نہیں کہ اس سے کونسی مستحاضہ مراد ہے اس لیے کہ تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ مستحاضہ کئی قسم ہیں ۔1۔ بعض مستحاضہ ایسی ہوتی ہیں کہ ان کا خون دائمی جاری رہتا ہے اور ان کے ایام حیض معلوم و معروف ہوتے ہیں ۔ پس ان کے لیے تو مسئلہ آسان ہے کہ ایام حیض میں نماز کو ترک کر دے غسل کر لے اور پھر ہر نماز کے لیے وضو کرتی رہے ۔ 2۔ بعض مستحاضہ کا خون منقطع نہیں ہوتا بلکہ جاری رہتا ہے مگر اس کے ایام حیض اسے معلوم نہیں پس اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرے گی کیونکہ اس کے ہر وقت میں یہ احتمال ہے کہ وہ اس میں حائضہ ہو یا حیض سے پاک ہو یا مستحاضہ ہو پس اس کے متعلق احتیاط سے کام لیا جائے گا اور اسے غسل کا حکم دیا جائے گا۔ 3۔ بعض مستحاضہ وہ ہیں جن پر ان کے ایام حیض تو مخفی ہوتے ہیں مگر ان کا خون دائمی نہیں بلکہ کبھی تو منقطع ہوتا ہے اور کبھی لوٹ آتا ہے ۔ وہ تمام اوقات میں یہ اپنے طور پر جانتی ہیں کہ اس کا خون ابھی منقطع ہو گا جب وہ غسل کرتی ہیں تو اس وقت وہ حیض سے پاکیزگی والے طہر کی طرح پاک نہیں ہوتی کہ جس طہر کی بناء پر اس پر غسل کو لازم کیا جائے پس اس کی صورت یہ ہو گی کہ اسے اپنی اس حالت میں نماز ادا کرنی ہو گی ۔ اسی غسل سے جس قدر نمازیں وہ ادا کرنا چاہتی ہے اگر اسے یہ ممکن ہو ۔ جب ہم نے دیکھا عورت بعض اوقات ہر اعتبار سے مستحاضہ ہوتی ہے جبکہ ہر صورت کا حکم الگ الگ ہے اور اس کے احکام بھی مختلف ہیں اور مستحاضہ کا نام سب کو شامل ہے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں اس عورت کے استحاصہ کی وضاحت بھی نہیں کہ جس کے بارے میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ حکم دیا جس کا ہم نے تذکرہ کیا کہ وہ کونسی مستحاضہ پس ہمارے لیے یہ درست نہیں کہ ہم ان اقسام میں سے کسی ایک پر دوسرے کو چھوڑ کر اس کو محمول کر سکیں جب تک کہ ہمارےپاس اسکی کوئی دلیل نہ ہو۔ پس ہم نے اس سلسلے میں غور و فکر کی کہ آیا اس کی کوئی دلیل میسر ہے ۔ چنانچہ ہم نے یہ دلیل پالی۔ پس اس روایت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو وضو کا حکم دینے کے ساتھ غسل کا حکم فرمایا اور یہ وہی وضو ہے جو ہر نماز کے لیے اور غسل سے وہی غسل ہے جو ایام حیض کی مقدار گزرنے پر ہو گا اور ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کا بھی یہی معنی ہے اور حماد بن سلمہ کا مرتبہ تمہارے ہاں مالکرحمۃ اللہ علیہ و لیث رحمۃ اللہ علیہ و عمرو رحمۃ اللہ علیہ بن الحارث سے کم نہیں ہے ۔

فإذا ذهب قدرها فاغسلي عنك الدم وتوضئي وصلي ففي هذا الحديث ← سليمان بن داود غير أنه ← بن وهب وحديث محمد بن علي ← النبي صلى الله عليه و سلم مثل حديث يونس ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 620

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 621

607 - فإذا بكر بن إدريس قد حدثنا قال ثنا آدم قال ثنا شعبة قال ثنا عبد الملك بن ميسرة والمجالد بن سعيد وبيان قالوا سمعنا عامر الشعبي يحدث عن قمير امرأة مسروق عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت في المستحاضة تدع الصلاة أيام حيضها ثم تغتسل غسلا واحدا وتتوضأ عند كل صلاة

عامر شعبی نے قمیر مسروق کی بیوی سے روایت کی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انہوں نے مستحاضہ کے سلسلہ میں فرمایا وہ ایام حیض میں نماز ترک کر دے پھر ایک غسل کرلے اور آئندہ ہر نماز کے لیے وضو کرتی رہے ۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← قَمِيرَ امْرَأَةِ مَسْرُوقٍ ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← عبد الملك بن ميسرة والمجالد بن سعيد وبيان ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← فإذا بكر بن إدريس قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 621

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 622

608 - حدثنا حسين بن نصر وعلي بن شيبة قالا ثنا أبو نعيم قالا ثنا سفيان عن فراس وبيان عن الشعبي فذكر بإسناده مثله فلما روي عن عائشة رضي الله عنها ما ذكرنا من قولها الذي أفتت به بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم وكان ما ذكرنا من حكم المستحاضة أنها تغتسل لكل صلاة وما ذكرنا أنها تجمع بين الصلاتين بغسل وما ذكرنا أنها تدع الصلاة أيام أقرائها ثم تغتسل وتتوضأ لكل صلاة وقد روي ذلك كله عنها ثبت بجوابها ذلك أن ذلك الحكم هو الناسخ للحكمين الآخرين لأنه لا يجوز عندنا عليها أن تدع الناسخ وتفتي بالمنسوخ ولولا ذلك لسقطت روايتها فلما ثبت أن هذا هو الناسخ لما ذكرنا وجب القول به ولم يجز خلافها هذا وجه قد يجوز أن يكون معاني هذه الآثار عليه وقد يجوز في هذا وجه آخر يجوز أن يكون ما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في فاطمة ابنة أبي حبيش لا يخالف ما روي عنه في أمر سهلة ابنة سهيل لأن فاطمة ابنة أبي حبيش كانت أيامها معروفة وسهلة كانت أيامها مجهولة إلا أن دمها ينقطع في أوقات ويعود في أوقات وهي قد أحاط علمها انها لم تخرج من الحيض بعد غسلها إلى أن صلت الصلاتين جميعا فإن كان ذلك كذلك فإنا نقول بالحديثين جميعا فنجعل حكم حديث فاطمة على ما صرفناه إليه ونجعل حكم حديث سهلة على ما صرفناه أيضا إليه وأما حديث أم حبيبة رضي الله عنها فقد روي مختلفا فبعضهم يذكر عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمرها بالغسل عند كل صلاة ولم يذكر أيام أقرائها [ ص 106 ] فقد يجوز أن يكون أمرها بذلك ليكون ذلك الماء علاجا لها لأنها تقلص الدم في الرحم فلا يسيل وبعضهم يرويه عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمرها أن تدع الصلاة أيام أقرائها ثم تغتسل لكل صلاة فإن كان ذلك كذلك فقد يجوز أن يكون أراد به العلاج وقد يجوز أن يكون أراد به ما ذكرنا في الفصل الذي قبل هذا لأن دمها سائل دائم السيلان فليست صلاة إلا يحتمل ان تكون عندها طاهرا من حيض ليس لها أن تصليها إلا بعد الاغتسال فأمرها بالغسل لذلك فإن كان هذا هو معنى حديثها فإنا كذلك نقول أيضا فيمن استمر بها الدم ولم تعرف أيامها فلما احتملت هذه الآثار ما ذكرنا وروينا عن عائشة رضي الله عنها من قولها بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم ما وصفنا ثبت أن ذلك هو حكم المستحاضة التي لا تعرف أيامها وثبت أن ما خالف ذلك مما روي عنها عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في مستحاضة استحاضتها غير استحاضة هذه أو في مستحاضة استحاضتها مثل استحاضة هذه إلا أن ذلك على أي المعاني كان فما روي في أمر فاطمة أبنة أبي حبيش أولى لأن معه الاختيار من عائشة له بعد النبي صلى الله عليه و سلم وقد علمت ما خالفه وما وافقه من قوله وكذلك أيضا ما رويناه عن علي رضي الله عنه في المستحاضة أنها تغتسل لكل صلاة وما رويناه عنه أنها تجمع بين الصلاتين بغسل وما رويناه عنه أنها تدع الصلاة أيام أقرائها ثم تغتسل وتتوضأ لكل صلاة إنما اختلفت أقواله في ذلك لاختلاف الاستحاضة التي أفتي فيها بذلك وأما ما رووا عن أم حبيبة رضي الله عنها في اغتسالها لكل صلاة فوجه ذلك عندنا أنها كانت تتعالج به فهذا حكم هذا الباب من طريق الآثار وهي التي يحتج بها فيه ثم اختلف الذين قالوا إنها تتوضأ لكل صلاة فقال بعضهم تتوضأ لوقت كل صلاة وهو قول أبي حنيفة رحمه الله وزفر وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمهم الله تعالى وقال آخرون بل تتوضأ لكل صلاة ولا يعرفون ذكر الوقت في ذلك فأردنا نحن أن نستخرج من القولين قولا صحيحا فرأيناهم قد أجمعوا أنها إذا توضأت في وقت صلاة فلم تصل حتى خرج الوقت فأرادت أن تصلي بذلك الوضوء أنه ليس ذلك لها حتى تتوضأ وضوءا جديدا ورأيناها لو توضأت في وقت صلاة فصلت ثم أرادت أن تتطوع بذلك الوضوء كان ذلك لها ما دامت في في الوقت فدل ما ذكرنا أن الذي ينقض تطهرها هو خروج الوقت وأن وضوءها يوجبه الوقت لا الصلاة وقد رأيناها لو فاتتها صلوات فأرادت أن تقضيهن كان لها أن تجمعهن في وقت صلاة واحدة بوضوء واحد فلو كان الوضوء يجب عليها لكل صلاة لكان يجب أن تتوضأ لكل صلاة من الصلوات الفائتات فلما كانت تصليهن جميعا بوضوء واحد ثبت بذلك أن الوضوء الذي يجب عليها هو لغير الصلاة وهو الوقت وحجة أخرى أنا قد رأينا الطهارات تنتقض بأحداث منها الغائط والبول وطهارات تنتقض بخروج أوقات وهي الطهارة بالمسح على الخفين ينقضها خروج وقت المسافر وخروج وقت المقيم وهذه الطهارات المتفق عليها لم نجد فيما ينقضها صلاة إنما ينقضها حدث أو خروج وقت وقد ثبت أن طهارة المستحاضة طهارة ينقضها الحدث وغير الحدث فقال قوم هذا الذي هو غير الحدث هو خروج الوقت وقال آخرون هو فراغ من صلاة ولم نجد الفراغ من الصلاة حدثا في شيء غير ذلك وقد وجدنا خروج الوقت حدثا في غيره فأولى الأشياء أن نرجع في هذا الحدث المختلف فيه فنجعله كالحدث الذي قد أجمع عليه ووجد له أصل ولا نجعله كما لم يجمع عليه ولم نجد له أصلا فثبت بذلك قول من ذهب إلى أنها تتوضأ لكل وقت صلاة وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمهم الله تعالى

سفیان نے فراس و بیان سے وہ شعبی سے اور شعبی نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے پس جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے وہ روایت وارد ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حکم مستحاضہ کے متعلق وہ یہی فتویٰ دیتی تھیں کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرے اور وہ جو ہم نے بیان کیا کہ وہ دو نمازوں کو ایک غسل کے ساتھ جمع کرے اور اسی طرح جو ہم نے بیان کی ایام حیض میں اپنی نماز چھوڑ دے ۔پھر غسل کر کے ہر نماز کے لیے وضو کرتی رہے۔ یہ تمام تر باتیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے جواب سے ثابت ہوا کہ یہ آخری حکم پہلے دو حکموں کو منسوخ کرنے والا کیونکہ ہمارے نزدیک حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے متعلق یہ کہنا جائز نہیں کہ وہ ناسخ کو چھوڑ کر منسوخ پر فتویٰ دیا کرتی تھیں ۔ اگر یہ بات تسلیم نہ کی جائے تو ان کی روایت ساقط ہو جائے گی ۔ پس جب اس بنیاد پر جو ہم نے ذکر کی اس کا ناسخ ہونا ثابت ہو گیا ۔ تو اب اس کو اختیار کرنا ضروی ہوا اور اس کی مخالفت جائز نہ رہی ۔ یہ وہ صورت ہے جس سے ان آثار کے معانی درست ہو سکتے ہیں اور اس میں ایک اور صورت بھی بن سکتی ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ فاطمہ بنت حبیش نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو روایت کی ہے وہ حضرت سہلہ کی روایت کے خلاف نہیں کیونکہ فاطمہ کے ایام حیض معروف تھے اور سہلہ کے ایام نامعلوم تھے البتہ اتنا فرق ضرور تھا کہ سہلہ کا خون کسی وقت منقطع ہو جاتا اور پھر کسی وقت جاری ہو جاتا اس لیے ان کے ذہن میں یہ بات آسکتی تھی کہ وہ غسل کے بعد بھی حیض سے فارغ نہیں ہو ئیں وہ اس سے دونمازیں پڑھیں ۔ اگر یہ بات اسی طرح ہے تو ہم ان دونوں روایات کے بارے میں یہ عرض کر سکتے ہیں کہ حضرت فاطمہ والی روایت کا حکم اسی قسم پر لگے گا کہ جس کی طرف ہم نے پہلے اشارہ کیا ۔ یعنی ایسی عورت جس کے ایام حیض معلوم ہوں اور سہلہ والی روایت کا رخ اس طرف پھیرا جائے جو ہم نے ذکر کیا یعنی جس عورت کے ایام معلوم نہ ہو سکیں ۔ اب رہی وہ روایت جس کو حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے روایت کیا ہے تو وہ روایت بھی مختلف روات نے مختلف نقل کی ہے ۔ چنانچہ بعض بعض نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام حبیبہ کو ہر نماز کے وقت غسل کا حکم دیا ۔ مگر اس میں ان کے ایام حیض کا تذکرہ موجود نہیں ۔ممکن ہے کہ آپ نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو یہ حکم پانی کے ذریعہ معالجہ کی خاطر دیا ہو کیونہ پانی رحم کے اندر خون کو روک دیتا ہے اور وہ بہنا بند ہو جاتا ہے ۔ بعض دوسرے روات حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو یہ حکم فرمایا کہ وہ اپنے ایام حیض میں نماز کو چھوڑ دے اور پھر ہر نماز کے لیے غسل کرتی رہیں۔اگر یہ روایت اسی طرح مان لی جائے تو عین ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ذریعے انکے علاج کا ارادہ فرمایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد وہی ہو جو ہم گزشتہ فصل میں ذکر کر چکے ہیں کیونکہ ان کا خون تو ہر وقت بہتا تھا ۔پس کوئی نماز بھی ایسی نہیں تھی کہ جس کے بارے میں یہ احتمال نہ ہو کہ اس میں حیض سے وہ پاک ہیں۔ پس اس کے لیے یہی مناسب تھا کہ وہ غسل کے بعد اس کو ادا کرے۔ اس لیے آپ نے اس کو غسل کا حکم فرمایا ۔ پس اگر ان کی روایت کا یہی مطلب ہو تو ہم یہی بات ان سب عورتوں کے بارے میں کہتے ہیں جن کا خؤن جاری رہتا ہو اور ان کے ایام معلوم نہ ہوں ۔ جب ان روایات میں یہ احتمالات موجود ہیں جو ہم نے بیان کر دیے اور ہم نے یہ بھی ذکر کر دیا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ فتویٰ دیا تو اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ اس مستحاضہ کا حکم یہی ہے کہ جس کے ایام معلوم نہ ہوں اور یہ بات بھی ثابت ہو گئی اس کے برعکس جو کچھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وساطت سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مستحاضہ کے بارے میں مروی ہے تو اس کے استحاضہ کی اس سے الگ صورت مراد ہے یا اس کا استحاضہ اسی استحاضہ کی طرح ہے مگر یہ کونسا معنی مراد ہے ۔ آیا جو فاطمہ بنت حبیش کے معاملے میں مروی ہے تو وہ اولی ہے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی کو اختیار فرمایا حالانکہ وہ جانتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاکونسا قول اس کے موافق یا مخالف ہے ۔ اسی طرح جو ہم نے مستحاضہ کے بارے میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرے اور وہ جو ہم نے انہی سے روایت نقل کی ہے کہ وہ نمازوں کو ایک غسل کے ساتھ جمع کرے اور وہ جو انہی سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ حیض کے دنوں میں نمازوں کو ترک کر دے پھر غسل کر کے ہر نماز کے لیے وضو کرتی رہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اقوال مستحاضہ عوتورں کے مختلف ہونے کی وجہ سے فتویٰ میں مختلف ہیں ۔ رہی وہ روایت جوحضرت ام حبیب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہر نماز کے وقت غسل کرے تو ہمارے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بطور علاج کے آپ نے فرمایا تھا ۔ یہ تو اس بات کا حکم ان آثار کو سامنے رکھ کر تھا جن کو بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے پھر اس میں دوسرا اختلاف ان لوگوں کا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ہر نماز کے لیے وضو کرے جبکہ دوسرے یہ کہتے ہیں کہ ہر نماز کے وقت کے وضو کرے اور یہی قوم ام ابو حنیفہ ، زفر، ابو یوسف اور محمد رحمۃ اللہ علیہم کا ہے ۔ علماء کی ایک اور جماعت نے یہ کہا کہ ہر نماز کےلیے وہ عورت وضو کرے اس سلسلے میں وہ وقتی ذکر کو نہیں پہنچانتے ۔ پس ہم یہ چاہتے ہیں کہ ان دونوں میں صحیح قول کو ظاہر کریں ۔ چنانچہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر اس عورت نے نماز کے وقت میں وضو کیا مگر نماز ادا نہ کی ۔ یہاں تک کہ اس وقت جاتا رہا ۔ اب اس نے اسی وضو سے نماز پڑھنا چاہی تو اس کے لیے یہ جائز نہیں جب تک وہ نیا وضو نہ کرے اور ہم یہ بات بھی پاتے ہیں کہ اگر اس نے نماز کے وقت میں وضو کر لیا پھر نماز ادا کی پھر اسی وضو سے نقفل پڑھنا چاہے تو جب تک وقت ہے اس کو نوافل کی ادائیگی جائز ہے جو کچھ ہم نے بیان کیا اس سے یہ دلالت مل گئی ہے جس چیز نے اس کی طہارت کو زائل کیا ہے وہ وقت کا نکلنا ہے اور اس کا وضو اس کو وقت لازم کرتا ہے ۔ نماز نہیں اور دوسری بات یہ کہ اگر اس کی کئی نمازیں فوت ہو جائیں اور اسکا ارادہ یہ ہوا کہ وہ ان کی قضا کرلے تو اس کو ایک نماز کے وقت میں ان تمام نمازوں کا یک وضو سے جمع کرنا جائز ہے ۔اگر اس پر ہر نماز کے لیے وضو لازم ہوتا تو پھر ضروری تھا کہ ہر فوت شدہ نماز کے لیے وہ وضو کرتی ۔ پس جب ان سب کی ادائیگی ایک وضؤ سے ہو گئی تو اس سے یہ بات خود ثابت ہو گئی کہ وہ وضو جو اس پر لازم ہوا وہ نماز کے لیے نہیں بلکہ وقت کے لیے ہے ۔ دوسری دلیل ملاحظہ ہو : ہم یہ بات بھی پاتے ہیں کہ طہارتیں حدث سے ٹوٹ جاتی ہیں اور احداث یہ ہیں : بول و برواز اور بعض طہارتیں ایسی ہیں جو وقت کے نکلنے سے ٹوٹتی ہیں وہ موزوں پر مسح کی طہارت ہے کہ مسافر یا مقیم کے لیے وقت کا نکلنا ، طہارت مسح کوباطل کر دیتا ہے ۔ ان طہارتوں کے متعلق سب کا اتفاق ہے ۔ ان طہارتوں کو توڑنے والی چیزوں میں ہم نماز کو نہیں پاتے بلکہ صرف حدث یا وقت کے نکل جانے کو پاتے ہیں اور یہ بات تو ثابت ہو چکی کہ مستحاضہ کی طہارت ایسی طہارت ہے جو حدث نہیں پاتے ۔جبکہ وقت کے نکلنے کو اور کئی چیزوں میں حدث تسلیم کیاگیا ہے ۔ پس اس میں بہتر یہی ہے کہ ہم اس حدث میں بھی اسی طرح رجوع کریں اور اس کو ایسا حدث بنائیں جس پر سب کا اتفاق ہے اور اسکی اصل پائی جاتی ہو اور اس کو ایسا حدث نہ بنائیں جس پر اتفاق نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی اصل ہے ۔ پس اس سے ان علماء کا قول ثابت ہو گیا جو یہ کہتے ہیں کہ ہر وہ وقت نماز کے لیے وضو کرے ۔یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمۃ اللہ عیہم کا قول ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 622

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter