Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 608

595 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمر قال ثنا شعبة عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها أن امرأة استحيضت على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فأمرت ثم ذكر نحوه غير أنه لم يذكر تركها الصلاة أيام أقرائها ولا أيام حيضها

قاسم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نقل کرتی ہیں کہ ایک عورت کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں استخاضہ کی تکلیف ہو گئی پس آپ نے حکم دیا پھر اسی طرح روایت نقل کی صرف ان الفاظ کا فرق ہے کہ حیض کے دنوں میں اس کے ترک نماز کا تذکرہ نہیں ہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← شُعْبَةُ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 608

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 609

596 - حدثنا فهد قال ثنا الحماني قال ثنا خالد بن عبد الله عن سهيل عن الزهري عن عروة عن أسماء ابنة عميس قالت قلت يا رسول الله إن فاطمة بنت أبي حبيش استحيضت منذ كذا وكذا فلم تصل فقال سبحان الله هذا من الشيطان لتجلس في مركن فإذا رأت صفرة فوق الماء فلتغتسل للظهر والعصر غسلا واحدا ثم تغتسل للمغرب والعشاء غسلا واحدا وتتوضأ فيما بين ذلك فقوله وتتوضأ فيما بين ذلك يحتمل أن تتوضأ لما يكون منها من الأحداث التي توجب نقض الطهارات ويحتمل أن تتوضأ للصبح فليس فيه دليل على خلاف ما تقدمه من حديث شعبة وسفيان قالوا فهذه الآثار قد رويت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم كما ذكرنا في جمع الظهر والعصر بغسل واحد وفي جمع المغرب والعشاء بغسل واحد وإفراد الصبح بغسل واحد فبهذا نأخذ وهو أولى من الآثار الأول التي فيها ذكر الأمر بالغسل لكل صلاة لأنه قد روى ما يدل على أن هذا ناسخ لذلك فذكروا ما

عروہ بیان کرتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ بنت ابی حبیش اتنے عرصہ سے استحاضہ کی تکلیف میں ہے اور اس نے نماز نہیں پڑھی آپ نے فرمایا عجیب بات ہے یہ شیطانی حرکت ہے اسے ٹب میں بیٹھنا چاہیے جب پانی پر زردی کا غلبہ پائے یعنی خون کے اثرات نہ رہیں تو ظہر و عصر کے لیے ایک غسل کر ے پھر مغرب و عشاء کے لیے ایک غسل کرے اور ان کے مابین وضو کرے ۔ اس میں احتمال یہ ہے کہ وہ ان احداث میں جو طہارت کو توڑنے والی ہیں ان سے بھی وضو کرے اور یہ بھی احتمال ہے کہ وہ صبح کے لیے وو کرے ۔ آثار متقدمہ میں جو بات گزری اس کے خلاف کچھ بھی دلیل نہیں جن کو شعبہ و سفیان نے نقل کیا ہے ۔ وہ فرماتے ہیں یہ آثار جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہیں جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ ایک غسل میں ظہر و عصر اور ایک میں مغرب و عشاء کو جمع کرے اور صبح کے لیے ایک غسل کرے ۔ ہم اس کو اختیار کرتے ہیں اوریہ قول پہلے آثار میں منقول بات سے اولیٰ ہیں جن میں ہر نماز کے لیے غسل کا حکم ہے کیونکہ یہہ روایات سے ثابت ہو چکاکہ یہ پہلی روایات کو منسوخ کرنے والی ہے ۔ ناسخ روایات ملاحظہ ہوں ۔

قُلْتُ ← أسماء ابنة عميس ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُهَيْلٍ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← الحماني ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 609

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 610

597 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الوهبي قال ثنا محمد بن إسحاق عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة رضي الله عنه قالت إنما هي سهلة ابنة سهيل بن عمرو استحيضت وأن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يأمرها بالغسل عند كل صلاة فلما أجهدها ذلك أمرها أن تجمع الظهر والعصر في غسل واحد والمغرب والعشاء في غسل واحد وتغتسل للصبح قالوا فدل ذلك على أن هذا الحكم ناسخ للحكم الذي في الآثار الأول لأنه إنما أمر به بعد ذلك فصار القول به أولى من القول بالآثار الأول قالوا وقد روى ذلك أيضا عن علي رضي الله عنه وابن عباس رضي الله عنه فذكروا ما

قاسم کہتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سھلہ بنت سہیل کو اسخاضہ کی شکایت ہوئی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ہر نماز کے لیے غسل کا حکم فرماتے رہے جب اس کو اس بات نے عاجز کر دیا تو پھر آپ ے اس کو ظہر و عصر ایک غسل سے اور مغرب و عشاء ایک غسل سے اور فجر ایک غسل سے ادا کرنے کا حکم فرمایا ۔ انہوں نے فرمایا اس سے یہ دلالت مل گئی کہ یہ حکم اس حکم کو منسوخ کرنے والا ہے جو کہ پہلےآثار میں وارد ہوا ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم اس کے بعد دیا پس یہ قول اس قول سے بہت ہوا جو پہلے آثار میں پایا جاتا ہے اور انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ بات وارد ہوئی ملاحظہ ہو۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← الوهبي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 610

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 611

598 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو معمر قال ثنا عبد الوارث قال ثنا محمد بن جحادة عن إسماعيل بن رجاء عن سعيد بن جبير عن بن عباس رضي الله عنه قال جاءته امرأة مستحاضة تسأله فلم يفتها وقال لها سلي غيري قال فأتت بن عمر رضي الله عنه فسألته فقال لها لا تصلي ما رأيت الدم فرجعت إلى بن عباس رضي الله عنه فأخبرته فقال رحمه الله إن كاد ليكفرك قال ثم سألت علي بن أبي طالب رضي الله عنه فقال تلك ركزة من الشيطان أو قرحة في الرحم اغتسلي عند كل صلاتين مرة وصل قال فلقيت بن عباس رضي الله عنه بعد فسألته فقال ما أجد لك إلا ما قال علي رضي الله عنه

سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مستحاضہ عورت آئی اور ان سے استحاضہ کے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے فرمایا میرے علاوہ اور کسی سے پوچھو وہ عورت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئی اور ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا جب تک خون دیکھو نماز نہ پڑھو وہ ابن عباس ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹی تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان پر حم کرے قریب تھا کہ وہ تمہیں کفر (ترک صلوۃ) پر آمادہ کر دیتے ۔ سعید کہتے ہیں پھر میں نے علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا یہ شیطان کی ایڑی لگنے سے ہے یا پھر رحم کے زخم سے ہر دو نمازوں کے لیے غسل کر کے نماز پڑھ لیا کرو سعید کہتے ہیں پھر میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کو ملا تو انہوں نے فرمایا میں تیرے اس سوال کا وہی جواب پاتا ہوں جو علی رضی اللہ عنہ نے کہا ۔

لها لا تصلي ما رأيت الدم فرجعت إلى بن عباس فأخبرته ← فأتت بن عمر فسألته ← لها سلي غيري ← جاءته امرأة مستحاضة تسأله فلم يفتها ← بْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 611

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 612

599 - حدثنا بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن قيس بن سعد عن مجاهد قال قيل لابن عباس رضي الله عنه إن أرضنا أرض باردة قال تؤخر الظهر وتعجل العصر وتغتسل لهما غسلا واحدا وتؤخر المغرب وتعجل العشاء وتغتسل لهما غسلا وتغتسل للفجر غسلا فذهب هؤلاء إلى هذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا تدع المستحاضة الصلاة أيام أقرائها ثم تغتسل وتتوضأ لكل صلاة وتصلي وذهبوا في ذلك إلى ما

قیس بن سعد نے کہا کہ مجاہد کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا ہمارا علاقہ ٹھنڈا ہے فرمایاظہر کو موخر اور عصر کو مقدم کر کے ان کے لیے مستحاضہ ایک غسل کرے اور مغرب کو مؤ خر اور عشاء کو جلدی کر کے ان کے لیے ایک غسل کرے اور فجر کے لیے ایک غسل کرے ۔ پس یہ علماء ان آثار کو اختیار کرنے والے ہیں ۔ علماء کی ایک اور جماعت اس میں ان کی مخالف ہے ۔ چنانچہ انہوں نے فرمایا کہ مستحاضہ عورت حیض کے ایام میں نماز ترک کرے پھر اس سے ایک غسل کرے اور آئندہ ہر نماز کے لیے وضو کر کے نماز ادا کرتی رہے ۔ چنانچہ ان آثار سے انہوں نے استدلال کیا۔

قيل لابن عباس إن أرضنا أرض باردة ← مُجَاهِدٍ ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 612

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 613

600 - حدثنا محمد بن عمرو بن يونس السوسي قال ثنا يحيى بن عيسى قال ثنا الأعمش عن حبيب بن أبي ثابت عن عروة عن عائشة رضي الله عنها أن فاطمة بنت أبي حبيش أتت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت يا رسول الله إني أستحاض فلا ينقطع عني الدم فأمرها أن تدع الصلاة أيام أقرائها ثم تغتسل وتتوضأ لكل صلاة وتصلي وإن قطر الدم على الحصير قطرا

عروہ کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے جو منقطع ہونے کا نام نہیں لیتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو ایام حیض میں نماز ترک کر دے پھر ( اس سے فراغت پر ) غسل کرے اور ہر نماز کے لیے وضو کرے خواہ خون کے قطرات نماز والی چٹائی پر ٹپکتے رہیں ۔

عُرْوَةَ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَى بْنُ عِيسَى ← محمد بن عمرو بن يونس السوسي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 613

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 614

601 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا عبد الله بن يزيد المقرىء قال ثنا أبو حنيفة رحمه الله ح

حدثنا صالح بن عبدالرحمان قال حد ثنا عبداللہ بن یزید المقری ثناء ابو حنیفہ نے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

أبو حنيفة ← عبد الله بن يزِيد المقرىء ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 614

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 615

وحدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا أبو حنيفة رحمه الله عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها أن فاطمة بنت أبي حبيش أتت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت إني أحيض الشهر والشهرين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن ذلك ليس بحيض وإنما ذلك عرق من دمك فإذا أقبل الحيض فدعي الصلاة وإذا أدبر فاغتسلي لطهرك ثم توضئي عند كل صلاة

حدثنا ابو نعیم ثنا ابو حنیفہ عن ہشام عن عروہ نے بتلایا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگیں مجھے مہینہ اور دو مہینے خون حیض آتا ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حیض نہیں وہ تیری خون رگ ہے جب حیض کے دن آجائیں تو تو نماز کو چھوڑ دے اور جب حیض ختم ہو جائے تو غسل طہارت کرو اور آئندہ ہر نماز کے لیے ایک وضو کرتی رہو۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أبو حنيفة ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 615

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 616

602 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يحيى بن يحيى قال قرأت على شريك عن أبي اليقظان

یحییٰ بن یحییٰ نے شریک بن ابی الیقظان سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

أَبِي الْيَقْظَانِ ← على شريك ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 616

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 617

ح وحدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني قال أنا شريك عن أبي اليقظان عن عدي بن ثابت عن أبيه عن جده عن النبي صلى الله عليه و سلم قال المستحاضة تدع الصلاة أيام حيضها ثم تغتسل وتتوضأ لكل صلاة وتصوم وتصلي قالوا وقد روي عن علي رضي الله عنه مثل ذلك فذكروا ما حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال أنا شريك عن أبي اليقظان عن عدي بن ثابت عن أبيه عن علي رضي الله عنه مثله يعني مثل حديثه عن أبيه عن جده عن النبي صلى الله عليه و سلم الذي ذكرناه في الفصل الذي قبل هذا قال فيما روينا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلي رضي الله عنه من هذا القول فعارضهم معارض فقال أما حديث أبي حنيفة رحمه الله تعالى الذي رواه عن هشام عن عروة فخطأ وذلك أن الحفاظ عن هشام بن عروة رووه على غير ذلك فذكروا ما

ثابت نے اپنے والد سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مستحاضہ ایام حیض میں نماز چھوڑ دے پھر غسل کرے اور ہرنماز کے لیے وضو کرے اور نماز پڑھے اور روزہ رکھے ۔ انہوں نے فرمایا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس سلسلہ میں روایت وارد ہے جس کو فہد نے اپنی سند کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عدی بن ثابت جیسی روایت نقل کی ہے جس کو فصل اول میں ہم ان روایات میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیان کر چکے ۔ ان پر ایک معترض اول نے اعتراض کیا کہ ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی اپنی سند کے ساتھ عروہ سے روایت غلط ہے کیونکہ حفاظ حدیث نے اس کو ہشام بن عروہ سے روایت کیا ہے اور اس کا متن بھی اس سے مختلف بیان کیا گیا ہے ، ملاحظہ ہو ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← أَبِي الْيَقْظَانِ ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 617

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 618

604 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني عمرو وسعيد بن عبد الرحمن ومالك والليث عن هشام بن عروة أنه أخبرهم عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها أن فاطمة ابنة أبي حبيش جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وكانت تستحاض فقالت يا رسول الله إني والله ما أطهر أفأدع الصلاة أبدا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما ذلك عرق وليست بالحيضة فإذا أقبلت الحيضة فاتركي الصلاة وإذا ذهب قدرها فاغسلي عنك الدم ثم صلي

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ فاطمہ بنت ابی حبیش جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور ان کو اتحاضہ کا مرض تھا عرض کرنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں قسم بخدا پاک ہی نہیں ہوتی کیا میں نماز ہمیشہ کے لیے چھوڑ دوں ؟ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ی ہایک رگ ہے حیض نہیں جب حیض کے دن شروع ہوں تو نماز چھوڑ دو اور جب اتنے دن ختم ہو جائیں تو غسل کر کے پھر نماز ادا کرو۔

أَبِيهِ ← هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ ← عمرو وسعيد بن عبد الرحمن ومالك والليث ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 618

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 619

605 - حدثنا محمد بن علي بن داود قال ثنا سليمان بن داود قال ثنا عبد الرحمن بن أبي الزناد عن أبيه وهشام كليهما عن عروة عن عائشة رضي الله عنها مثله فهكذا روى الحفاظ هذا الحديث عن هشام بن عروة لا كما رواه أبو حنيفة رحمه الله تعالى فكان من الحجة عليهم أن حماد بن سلمة قد روى هذا الحديث عن هشام فزاد فيه حرفا يدل على موافقته لأبي حنيفة رحمه الله تعالى

ابو الزنا د اور ہشام دونوں نے عروہ سے روایت کی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت نقل کی ہے یہ دو نمونے اس بات کے لیے کافی ہیں ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں ثم توضنی عند کل صلاۃ کے لفظ زائد اور مدرج ہیں ۔حفاظ روات نے اس کو اس طرح روایت کیا تو یہ روایت ہشام بن عروہ سے ثابت ہوئی نہ جس طرح امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کی ہے ان کے خلاف دلیل ی ہہے کہ حماد بن سلمہ نے اس روایت کو ہشام سے نقل کیا ہے ۔ پس اس نے اس میں ایک حرف زائد کر دیا جو کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی موافقت پر دلالت کرتی ہے۔

عُرْوَةَ ← أبيه وهشام كليهما ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← محمد بن علي بن داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 619

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter