شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 449
442 - حدثنا بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا أبو عوانة عن إبراهيم بن المهاجر عن مجاهد قال صلينا مع بن عمر أو صلى بنا بن عمر ثم سار ثم أناخ جمله فقلت يا أبا عبد الرحمن إنا قد صلينا فقال إن أبا عبد الرحمن قد عرف ذلك ولكني مسست ذكري قال فتوضأ وأعاد الصلاة قيل لهم أما ما رويتموه عن مصعب بن سعد بن أبي وقاص فإنه قد روى عن مصعب بن سعد عن أبيه خلاف ما رواه عنه الحكم
اسماعیل بن ابی خالد عن الزبیری بن عدی عن مصعب بن سعد نے اسی طرح روایت کی ہے البتہ یہ الفاظ مختلف ہیں ۔ قم فا غسل یدک اٹھو اور پنا ہاتھ دھو ڈالو۔ان روایات کی موافقت کے لیے مصعب کی زبیر بن عدی وای روایت کو سامنے رکھنا ہو گا مزید برآں خود حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے وضو کی نفی والی روایات مسئلہ کو صاف کر دیتی ہیں ۔ روایات ملاحظہ ہوں۔ ممکن ہے کہ وہ وضو جس کو حکم نے مصعب سے نقل کیا اس سے مراد ہاتھ کا دھونا ہو جیسا کہ اس کو زبیربن عدی نے بیان کیا تاکہ دونوں روایتوں کا تضاد نہ رہے ۔ حضرت سعد کی روایت میں ارشاد ہے کہ اس میں وضو نہیں ۔
مُجَاهِدٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← حجاج، ← بْنِ خُزَيْمَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 449
