Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 398

390 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن ضمرة بن سعيد المازني عن أبان بن عثمان رضي الله عنه أن عثمان أكل خبزا ولحما وغسل يديه ثم مسح بهما وجهه ثم صلى ولم يتوضأ

ضمرہ بن سعید المازنی نے ابان بن عثمان رضی اللہ عنہ سے اور ابان نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق نقل کیا کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے روٹی اور گوشت کھایا اور اپنےہاتھ دھوئے پھر ان کو چہرے پر مل لیا پھر نماز پڑھائی اور وضؤ نہ کیا ۔

ضَمْرَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَازِنِيُّ، ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 398

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 399

391 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أيوب بن سليمان بن بلال قال حدثني أبو بكر بن أبي أويس عن سليمان عن عتبة بن مسلم عن عبيد بن حنين قال رأيت عثمان أتي بثريد فأكل ثم تمضمض ثم غسل يده ثم قام فصلى بالناس ولم يتوضأ

عتبہ بن مسلم نے عبید بن حنین سے نقل کیا عبید کہتے ہیں میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے لیے ثرید لایا گیا اور انہوں نے اس میں سے کھایا پھر مضمضمہ کیا پھر اپنے ہاتھ کو دھویا پھر لوگوں کو نماز پڑھانے کھڑے ہوگئے اور وضو نہ کیا ۔

عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، ← عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ ← سُلَیْمَانَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ← أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 399

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 400

392 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو الوليد قال ثنا شعبة عن أبي نوفل بن أبي عقرب الكناني قال رأيت بن عباس أكل خبزا رقيقا ولحما حتى سأل الودك على أصابعه فغسل يده وصلى المغرب

ابو نوفل بن ابو عقرب الکنائی کہتے ہیں کہ میں نےابن عباس رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے چپاتی اور گوشت کھایا یہاں تک کہ چربی ان کی انگلیوں پر بہہ پڑی پھر اپنے ہاتھ دھو کر نماز مغرب ادا فرمائی ۔

أبي نوفل بن أبي عقرب الكناني ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 400

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 401

393 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا عثمان بن عمر قال ثنا إسرائيل عن طارق عن سعيد بن جبير أن بن عباس أتي بجفنة من ثريد ولحم عند العصر فأكل منها فأتي بماء فغسل أطراف أصابعه ثم صلى ولم يتوضأ

سعید بن جبیر کہتےہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گوشت کے ثرید کا ایک بڑا پیالہ لایا گی اس وقت عصر کا وقت تھا آپ نے اس میں سے کھایا پھر پانی لایا گیا تو اس سے اپنی انگلیوں کے اطراف کو دھویا پھر نماز ادا کی اور وضؤ نہ کیا ۔

طَارِقٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 401

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 402

394 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عبد الله بن رجاء قال أنا زائدة عن أبي إسحاق السبيعي عن سعيد بن جبير قال دخل قوم على بن عباس فأطعمهم طعاما ثم صلى بهم على طنفسة فوضعوا عليها وجوههم وجباههم وما توضؤوا

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ کچھ لوگ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ نے انکو کھانا کھلایا پھر ان کو اپنی چٹائی پر ان کو نماز پڑھائی انہو ں نے اسی چٹائی پر اپنے چہرے اور پیشانیاں رکھیں اور انہوں نے وضو نہ کیا ۔ ( حالانکہ جا بجا چٹائی پر کھانے کے نشان تھے )

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، ← زَائِدَۃَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 402

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 403

395 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا المسعودي عن سعيد بن أبي بردة عن أبيه قال قال بن عمر لأبي هريرة رضي الله عنه ما تقول في الوضوء مما غيرت النار قال توضأ منه قال فما تقول في الدهن والماء المسخن يتوضأ منه فقال أنت رجل من قريش وأنا رجل من دوس قال يا أبا هريرة لعلك تلتجيء إلى هذه الآية بل هم قوم خصمون

سعید بن ابی بردہ نے اپنے والد ابو بردہ سے نقل کیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےکہا آگ سے پکی چیز ( کھا لینے پر وضؤ) کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں ؟ وہ کہنے لگے تم اس سے وضؤ کرو ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے گرم تیل اور گرم پانی کے متعلق کیا کہتے ہو کیا ان سے وضو کیا جائے گا ؟ تو حضرت ابو ریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے : انت رجل من قریش و انا ر جل من دوس آپ بڑی عقل والے ہم کم سمجھ ۔ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے شاید تم اس آیت کا سہارا لے رہے ہو ۔ بل ھم قوم خصمون ( الزخرف)

رجل من دوس ← أنت رجل من قريش ← فما تقول في الدهن والماء المسخن يتوضأ منه ← توضأ منه ← بن عمر لأبي هريرة ما تقول في الوضوء مما غيرت النار ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 403

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 404

396 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا أبو الأحوص عن حصين عن مجاهد قال قال بن عمر لا تتوضأ من شيء تأكله

مجاہد کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس چیز کو کھاؤ اس سے وضؤ کرو۔

بن عمر لا تتوضأ من شيء تأكله ← مُجَاهِدٍ ← حُصَيْنٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 404

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 405

397 - حدثنا بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن أبي غالب عن أبي أمامة أنه أكل خبزا ولحما فصلى ولم يتوضأ وقال الوضوء مما يخرج وليس مما يدخل قال أبو جعفر فهؤلاء الجلة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يرون في أكل ما غيرت النار وضوءا وقد روي عن آخرين منهم مثل ذلك ممن قد روى عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه أمر بالوضوء مما غيرت النار فمن ذلك ما

حماد کہتے ہیں کہ ابو غالب نے ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے متعلق نقل کیا کہ انہوں نے روٹی اور گوشت کھایا پھر نماز پڑھی اوروضو نہ کیا اور فرمانے لگے نکلنے والی چیز ( بول ، براز ، خون سے وضؤ ہے پیٹ میں کھائی جانے والی چیز سے وضو نہیں ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر اصحاب ہیں جن کے ہاں آگ سے پکی ہوئی چیز کھا لینے کے بعد وضو نہیں ہے اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے جو انہی کے مثل ہیں انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ سے پکی ہوئی چیز کھا لینے پر وضؤ کا حکم دیا ۔یہ حضرت ابو طحہ اور حضرت ابو ایوب ہیں ، جنہوں نے آگ سے پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا اور ہم نے ان دو حضرات سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق وضو کا حکم دیا اور ہمارے نزدیک یہ تضاد ( عمل ) نہیں ہو سکتا۔ سوائے اس صورت کے جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے روایت کیا ۔ اس کا منسوخ ہونا ثابت ہو چکا ہے ۔ روایات کے لحاظ سے اس باب کی یہی صورت ہے غورو فکر کے لحاظ سے اب ملاحظہ فرمائیں کہ ہم بہت ساری چیزیں ایسی دیکھتے ہیں کہ جن کے بارے میں اختلاف ہےکہ آیا ان کے کھانے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں جبکہ وہ آگ سے پکی ہوں ؟ اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ آگ پر پکانے سے پہلے ان کے کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس بات پر غور کریں کہ کیا آگ کا کوئی ایسا حکم ہے کہ جب چیزوں تک پہنچ جائے تو وہ حکم اس چیز کی طرف منتقل ہو جاتا ہےچنانچہ ہم نے خالص پانی کو دیکھا کہ وہ پاک ہے اور اس سے فرض ادا کیے جاتے ہیں ، پھر ہم نے دیکھا کہ جب اس کو گرم کر لیا جائے اور یہان چیزوں میں شامل ہو جائے جو آگ سے پکتی ہیں تو طہارت میں اسکا حکم وہی ہے جو آگ پرپکنے سے پہلے ہو اور آگ نے اس میں کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی کہ جس سے اس کا حکم بدل کر ابتداء والے حکم سے مختلف ہو جائے۔ تو نظر کا تقاضا یہ ہے کہ وہ پاکیزہ کھانا جس کے کھانے سے آگ پر پکنے سے پہلے حدث لازم نہیں آتا تو جب اسے آگ نے چھو لیا تو آگ اس کو اسکی اپنی حالت سے نہ بدلے گی اور نہ اس کا حکم اور ہو گا بلکہ آگ کے چھونے کے بعد اس کا حکم وہی رہے گا ۔قیاس و نظر یہی چاہتے ہیں جو ہم نے عرض کر دیا ۔ ہمارے امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد بن حسن رضی اللہ عنہم کا یہی مسلک ہے ۔ بعض لوگوں نے بکری اور اونٹ کے گوشت میں فرق کیا اور اونٹ کا گوشت کھا لینے سے وضو کو لازم کیا اور بکری کے گوشت سے لازم نہیں کیا۔

«الْوُضُوءُ مِمَّا يَخْرُجُ وَلَيْسَ مِمَّا يَدْخُلُ». ← أبي أمامة أنه أكل خبزا ولحما فصلى ولم يتوضأ ← أَبِي غَالِبٍ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 405

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 406

398 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا بشر بن بكير قال ثنا الأوزاعي قال حدثني أسامة بن زيد الليثي قال حدثني عبد الرحمن بن زيد الأنصاري قال حدثني أنس بن مالك رضي الله عنه قال بينا أنا وأبو طلحة الأنصاري وأبي بن كعب أتينا بطعام سخن فأكلنا ثم قمت إلى الصلاة فتوضأت فقال أحدهما لصاحبه أعراقية ثم انتهراني فعلمت أنهما أفقه مني

عبدالرحمن بن زید انصاری کہتے ہیں مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں اور ابو طلحہ انصاری، ابی بن کعب رضی اللہ عنہم بیٹھے تھے ہمارے پاس گرم کھانا لایا گیا ہم نے اس میں سے کھایا پھر میں جب نماز کے لیے اٹھا تو میں نے وضو کیا تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کیا تو عراقی بن گیا ہے ؟ پھر انہوں نے مجھے اس پر ڈانٹا پس میں نے سمجھ لیا کہ وہ دونوں مجھ سے بڑے فقیہہ ہیں ۔

أبي بن كعب أتينا بطعام سخن فأكلنا ثم قمت إلى الصلاة فتوضأت ← وأبو طلحة الأنصاري ← بَيْنَا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْر بن بكير، ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 406

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 407

399 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا حدثه عن موسى بن عقبة عن عبد الرحمن بن زيد الأنصاري أن أنس بن مالك رضي الله عنه قدم من العراق ثم ذكر مثله وزاد فقام أبو طلحة وأبي فصليا ولم يتوضئا

عبدالرحمن بن زید انصاری کہتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ عراق سے تشریف لائے پھر اسی سابقہ روایت کی طرح روایت نقل کی ہے اور یہ اضافہ بھی ہے فقام ابو طلحہ و ابی فصلیا و لم تیو ضیا کہ وہ دونوں اٹھے اور نماز ادا کی اور انہوں نے وضو نہ کیا(یعنی تازہ وضو نہ کیا ۔ )

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 407

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 408

400 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا بن أبي مريم أنا يحيى بن أيوب قال حدثني إسماعيل بن رافع ومحمد بن النيل عن عبد الرحمن بن زيد الأنصاري عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال أكلت أنا وأبو طلحة وأبو أيوب الأنصاري طعاما قد مسته النار فقمت لأن أتوضأ فقال لي أتتوضأ من الطيبات لقد جئت بها عراقية فهذا أبو طلحة وأبو أيوب قد صليا بعد أكلهما مما غيرت النار ولم يتوضئا وقد رويا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه أمر بالوضوء من ذلك فيما قد روينا عنهما في هذا الباب فهذا لا يكون عندنا إلا وقد ثبت نسخ ما قد رويا عن النبي صلى الله عليه و سلم من ذلك عندهما فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار [ ص 70 ] وأما وجهه من طريق النظر فإنا قد رأينا هذه الأشياء التي قد اختلف في أكلها أنه ينقص الوضوء أم لا إذا مستها النار وقد أجمع أن أكلها قبل مماسة النار إياها لا ينقض الوضوء فأردنا أن ننظر هل للنار حكم يجب في الأشياء إذا مستها فينتقل به حكمها إليها فرأينا الماء القراح طاهرا تؤدى به الفروض ثم رأيناه إذا سخن فصار مما قد مسته النار أن حكمه في طهارته على ما كان عليه قبل مماسته النار إياه وأن النار لم تحدث فيه حكما ينتقل به حكمه إلى غير ما كان عليه في البدء فلما كان ما وصفنا كذلك كان في النظر أن الطعام الطاهر الذي لا يكون أكله قبل أن تمسه النار حدثا إذا مسته النار لا تنقله عن حاله ولا تغير حكمه ويكون حكمه بعد مسيس النار إياه كحكمه قبل ذلك قياسا ونظرا على ما بينا وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمهم الله تعالى وقد فرق قوم بين لحوم الغنم ولحوم الإبل فأوجبوا في أكل لحوم الإبل الوضوء ولم يوجبوا ذلك في أكل لحوم الغنم واحتجوا في ذلك بما

عبد الرحمن بن زید الا انصاری نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں اور ابو طلحہ ، ابو ایوب انصاری نے کھانا کھایا جو آگ سے پکا ہوا تھا میں وضو کرنے کھڑا ہوا تو وہ دونوں مجھے کہنے لگے کیا تم پاکیزہ چیزوں نے آگ سے پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا اور ہم نے ان دو حضرات سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ آپ نے اس کے متعلق وضو کا حکم دیا اور ہمارے نزدیک یہ تضاد( عمل ) نہیں ہو سکتا ۔ سوائے اس صورت کہ جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے روایت کیا۔ اس کا منسوخ ہونا ثابت ہو چکا ۔ روایات کے لحاظ سے اس باب کی یہی صورت ہے ۔ غور و فکر کے لحاظ سے اب ملاحظہ فرمائیں کہ ہم بہت ساری چیزیں ایسی دیکھتے ہیں کہ جن کے بارے میں اختلاف ہے کہ آیا ان کے کھانے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں جبکہ وہ آگ سے پکی ہوں؟ اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ آگ پر پکانے سے پہلے ان کے کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا تھا ۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس بات پر غور کریں کہ کیا آگ کا کوئی ایسا حکم ہے کہ جب یہ چیزوں تک پہنچ جائے تو وہ حکم اس چیز کی طرف منتقل ہو جاتا ہے ۔ چنانچہ ہم نے خالص پانی کو دیکھا کہ وہ پاک ہے اور اس سے فرض ادا کیے جاتے ہیں ، پھر ہم نے دیکھا کہ جب اس کو گرم کر لیا جائے اور یہ ان چیزوں میں شامل ہو جائے جو آگ سے پکتی ہیں تو طہارت میں اس کا حکم وہی ہے جو آگ پر پکنے سے پہلے ہو اور آگ نے اس میں کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی کہ جس سے اس کا حکم بدل کر ابتدا والے حکم سے مختلف ہوجائے ۔ تو نظر کا تقاضا یہ ہے کہ وہ پاکیزہ کھانا جس کے کھانے سے آگ پر پکنے سے پہلے حدث لازم نہیں آتا تو جب اسے آگ نے چھو لیا توآگ اس کو اس کی اپنی حالت سے نہ بدلے گی اور نہ اس کا حکم اور ہو گا بلکہ آگ کے چھونے کے بعد اس کا حکم وہی رہے گا۔ قیاس و نظر یہی چاہتے ہیں جو ہم نے عرض کر دیا ۔ ہمارے امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہم کا یہی مسلک ہے ۔ بعض لوگوں نے بکری اور اونٹ کے گوشت میں فرق کیا اور اونٹ کا گوشت کھالینے سے وضو کو لازم کیا اور بکری کے گوشت سے لازم نہیں کیا۔

قد رأينا هذه الأشياء التي قد اختلف في أكلها ← أبو أيوب قد صليا بعد أكلهما مما غيرت النار ولم يتوضئا وقد رويا ← لي أتتوضأ من الطيبات لقد جئت بها عراقية فهذا أبو طلحة ← وأبو طلحة وأبو أيوب الأنصاري طعاما قد مسته النار فقمت لأن أتوضأ ← أكلت ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← إسماعيل بن رافع ومحمد بن النيل ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 408

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 409

401 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل بن إسماعيل قال ثنا سفيان قال ثنا سماك عن جعفر بن أبي ثور عن جابر بن سمرة قال سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم أنتوضأ من لحوم الإبل قال نعم قيل أفنتوضأ من لحوم الغنم قال لا

جعفر بن ابی ثور نے جابر بن سمرہ سے روایت نقل کی ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کیا اونٹوں کے گوشت سے وضو کیا کریں ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ دوسرا سوال یہ کیا گیا کہ بکری کے گوشت سے ؟ آپ نے فرمایا نہیں ۔

لَا۔ ← نعم قيل أفنتوضأ من لحوم الغنم ← سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم أنتوضأ من لحوم الإبل ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ← سِمَاكٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 409

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter