Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 374

371 - حدثنا بن مرزوق وربيع الجيزي وصالح بن عبد الرحمن قالوا ثنا القعنبي قال ثنا فائد مولى عبيد الله بن علي عن عبيد الله عن جده قال [ ص 66 ] طبخت لرسول الله صلى الله عليه و سلم بطن شاة فأكل منها ثم صلى العشاء ولم يتوضأ

عبید اللہ بن علی کے مولیٰ فائد عبیداللہ سے بیان کرتے ہیں کہ عبید اللہ نے اپنے دادا سے نقل کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بکری کی پیٹھ کاگوشت پکایا اور اس میں سے آ پ نے تناول فرمایا پھر عشاء کی نماز پڑھائی اور وضو نہ کیا۔

جَدِّهِ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← فَائِدٌ، مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← بن مرزوق وربيع الجيزي وصالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 374

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 375

372 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا القعنبي قال ثنا عبد العزيز عن عمرو بن أبي عمرو عن المغيرة بن أبي رافع عن أبي رافع عن رسول الله صلى الله عليه و سلم نحوه ولم يذكر العشاء

مغیرہ بن ابی رافع سے نقل کیا اور ابو رافع نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مضمون کی روایت نقل کی ہےفرق یہ ہے کہ اس میں عشاء کا تذکرہ نہیں ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم نحوه ولم يذكر العشاء ← أَبِي رَافِعٍ ← المغيرة بن أبي رافع ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 375

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 376

373 - حدثنا محمد بن الحجاج قال ثنا أسد قال ثنا سعيد بن سالم عن محمد بن أبي حميد قال حدثتني هند بنت سعيد بن أبي سعيد الخدري عن عمتها قالت زارنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم أكل عندنا كتف شاة ثم قام فصلى ولم يتوضأ

ہند بنت سعید اپنی پھوپھی ( یعنی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ) سے نقل کرتی ہیں کہ ہمارے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے پھر آپ نے ہمارے ہاں بکری شانہ تناول فرمایا پھر آپ کھڑے ہوئے اور نماز اد افرمائی اور وضؤ نہ کیا ۔

عَمَّتِهَا ← حدثتني هند بنت سعيد بن أبي سعيد الخدري ← محمد بن أبي حميد ← سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، ← أسد ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 376

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 377

374 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا نصر بن عبد الجبار قال ثنا بن لهيعة عن سليمان بن زياد عن عبد الله بن الحارث الزبيدي قال أكلنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم طعاما في المسجد قد شوي ثم أقيمت الصلاة فمسحنا أيدينا بالحصباء ثم قمنا نصلي ولم نتوضأ

عبد اللہ بن الحارث زبیدی کہتے ہیں ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں کھانا کھایا جو بھنا ہوا گوشت تھا پھر جماعت کھڑی ہو گئی ہم نے اپنے ہاتھ کنکریوں سے پونجھ لیے پھراٹھ کر ہم نماز پڑھنے لگے اور ہم سے وضؤ نہ کیا ۔

عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ الزُّبَيْدِيَّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ زِيَادٍ ← بن لهيعة ← نصر بن عبد الجبار ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 377

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 378

375 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عبد العزيز بن عبد الله الأويسي قال حدثني إبراهيم بن سعد عن صالح بن كيسان عن بن شهاب قال أخبرني جعفر بن عمرو بن أمية أن أباه قال رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يأكل ذراعا يحتز منها فدعي إلى الصلاة فقام فطرح السكين فصلى ولم يتوضأ

جعفر بن عمرو کہتے ہیں کہ میرے والد عمر و بن امیہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دستی کا گوشت کھاتے دیکھا جو آپ کے کھانے سے ہل رہی تھی پھر آپ کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ فورا اٹھے اور چاقو کو پھینک دیا اور نماز پڑھائی اور وضو نہ کیا ۔

جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّ أَبَاهُ ← بن شِهَابٍ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 378

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 379

376 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد عن بشير بن يسار مولى بني حارثة أن سويد بن النعمان حدثه أنه خرج مع رسول الله صلى الله عليه و سلم عام خيبر حتى إذا كان بالصهباء وهي من أدنى خيبر نزل فصلى العصر ثم دعا بالأزواد فلم يؤت إلا بالسويق فأمر به فترى فأكل وأكلنا ثم قام إلى المغرب فمضمض ومضمضنا ثم صلى ولم يتوضأ

بنی حارثہ کے مولیٰ بشیر بن یسار کہتے ہیں کہ سوید بن النعمان رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ خیبر والے سال میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نکلا جب آپ مقام صہباء میں پہنچے یہ خیبر کے قریب جگہ ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اترے اور نماز عصر ادا فرمائی پھر آپ نے زادراہ منگوائے تو آپ کے پاس ستو لائے گئے آپ نے ان کو بنانے کاحکم دیا وہ تیار کیے گئے پس آپ نے کھائے اور ہم نے بھی کھائے پھر آپ نماز مغرب کے لیے اٹھے تو آپ نے مضمضمہ کیا اور نماز پڑھائی اور وضو نہ کیا ۔

بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَی بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 379

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 380

377 - حدثنا بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن يحيى فذكر نحوه بإسناده غير أنه لم يقل وهي من أدنى خيبر

حماد نے یحییٰ سے پھر یحییٰ نے اپنی سند سے تمام روایت بالا کی طرح نقل کی البتہ ھی من ادنی خیبر کے لفظ نہیں ہیں ۔

يحيى فذكر نحوه بإسناده غير أنه لم يقل وهي من أدنى خيبر ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 380

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 381

378 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا مكي بن إبراهيم قال ثنا الجعيد بن عبد الرحمن عن الحسن بن عبد الله بن عبيد الله أن عمرو بن عبيد الله حدثه قال رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم أكل كتفا ثم قام فصلى ولم يتوضأ

حسن بن عبداللہ کہتے ہیں کہ عمرو بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے دستی کا گوشت کھایا پھر آپ نماز پڑھانے کھڑے ہو گئے اور وضو نہ کیا ۔

الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ،أَنَّ عَمْرَو بْنَ عُبَيْدِ اللهِ ← الْجُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 381

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 382

379 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمرو قال حدثني إبراهيم بن إسماعيل عن عبد الرحمن بن ثابت وغيره من مشيخة بني عبد الأشهل عن أم عامر بن يزيد امرأة ممن بايعت رسول الله صلى الله عليه و سلم أنها جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بعرق في مسجد بني عبد الأشهل فعرقه ثم قام فصلى ولم يتوضأ ففي هذه الآثار ما ينفي أن يكون أكل ما مست النار حدثا لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يتوضأ منه وقد يجوز أن يكون ما أمر به من الوضوء في الآثار الأول هو وضوء الصلاة ويجوز أن يكون هو غسل اليد لا وضوء الصلاة إلا أنه قد ثبت عنه بما روينا أنه توضأ وأنه لم يتوضأ فأردنا أن نعلم ما الآخر من ذلك فإذا بن أبي داود وأبو أمية وأبو زرعة الدمشقي قد حدثونا قالوا

امام عامر بنت یذید رضی اللہ عنہ ان عوتوں میں سے ہیں جنہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی وہ کہتی ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہڈی والی بوٹی پیش کی جبکہ آپ مسجد بنی عبدالا شہل میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دانتوں کے ذریعہ گوشت کاٹا پھر آپ نماز پڑھانے کھڑے ہو گئے اور آپ نے وضو نہ فرمایا ۔ان آثار میں یہ بات ثابت ہوتی ہے جس سے آگ سے پکی ہوئی چیز کے ناقض وضو ہونے کی نفی ہوتی ہے کیونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو نہیں فرمایا اور عین ممکن ہے کہ پہلے آثار میں جس وضؤ کا حکم ہو وہ نماز والا حکم ہوا ور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے ہاتھوں کا دھونا مراد ہے ، نماز والا وضو نہ ہو مگر یہ کہ آپ سے یہ ثابت ہو جائے کہ آپ نے وضو کیا اور وضو نہیں بھی کیا ۔ پس ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے آخری عمل کو معلوم کر لیں ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 382

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 383

380 - حدثنا علي بن عباس قال ثنا شعيب بن أبي حمزة عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال كان آخر الأمرين من رسول الله صلى الله عليه و سلم ترك الوضوء مما مست النار

محمد بن المنکدرحضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آخری چیز آگے سے پکی چیز لینے پر وضو کا نہ کرنا تھا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبَّاسٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 383

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 384

381 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا عبد العزيز بن مسلم عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أكل ثور أقط فتوضأ ثم أكل بعده كتفا فصلى ولم يتوضأ فثبت بما ذكرنا أن آخر الأمرين من رسول الله صلى الله عليه و سلم هو ترك الوضوء مما غيرت النار وأن ما خالف ذلك فقد نسخ بالفعل الثاني هذا إن كان ما أمر به من الوضوء يريد به وضوء الصلاة وإن كان لا يريد به وضوء الصلاة فلم يثبت بالحديث الأول أن أكل ما غيرت النار حدث فثبت بما ذكرنا بتصحيح هذه الآثار أن أكل ما مست النار ليس بحدث وقد روى ذلك جماعة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا

ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ جناب رسول الہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پنیر کا ٹکڑا کھایا اور وضو کیا پھر اس کے بعد دستی کا گوشت کھایا اور نماز پڑھائی اور ( تازہ ) وضو نہ فرمایا ۔ ان مذکورہ روایات سے یہ ثابت ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل آگ سے پکی ہوئی چیز کھا لینے کے بعد وضو کرنا تھا اور جو اس کے خلاف روایات ہیں وہ اس دوسرے فعل سے منسوخ ہو گئیں یہ اس وقت ہے جبکہ وہ وضو جس کا حکم آپ نے دیا نماز والا وضو مراد لیا جائے اور اگر اس سے نماز والا وضو مراد نہ ہو جبکہ پہلی حدیث سے یہ بات ثابت نہیں کہ آگ سے پکی ہوی ناقص وضو ہے ، ہمارے ذکر کردہ آثار کی تصحیح یہی ثابت کرتی ہے کہ آگ سے پکی ہوئی چیز کا کھالینا حدث نہیں ہے اور اس کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بہت بڑی جماعت نے بیان کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 384

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 385

382 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا رباح بن أبي معروف عن عطاء عن جابر رضي الله عنه ح

عطاء کہتے ہیں کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← رَبَاحِ بْنِ أَبِي مَعْرُوفٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 385

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter