Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 362

360 - حدثنا بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن هشام بن عروة عن أبي نعيم هو وهب بن كيسان عن محمد بن عمرو بن عطاء عن بن عباس رضي الله عنه أنه قال أكل رسول الله صلى الله عليه و سلم خبزا ولحما ثم ذكر مثله

محمد بن عمرو نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روٹی اور گوشت کھایا اور پھر بقیہ اسی طرح روایت نقل کی ۔

مِثْلَہُ ← أكل رسول الله صلى الله عليه و سلم خبزا ولحما ثم ← بن عباس أنه ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← أبي نعيم هو وهب بن كيسان ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 362

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 363

361 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أبو الأسود قال ثنا بن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب عن محمد بن عمرو بن حلحلة الدولي عن محمد بن عمرو بن عطاء أنه دخل علي بن عباس رضي الله عنه يوما في بيت ميمونة فضرب على يدي وقال عجبت من ناس يتوضئون مما مست النار والله لقد جمع رسول الله صلى الله عليه و سلم عليه يوما ثيابه ثم أتي بثريد فأكل منها ثم قام فخرج إلى الصلاة ولم يتوضأ

محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا جبکہ وہ حضرت ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تھے انہوں نے میرے دونوں ہاتھوں پر ہاتھ مارا اور کہنے لگے مجھے ان لوگوں پر تعجب ہے جو آگ سے پکی چیز ( کھا لینے ) پر وضو کرتے ہیں اللہ کی قسم جناب رسول الہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن تیار ی فرمائی پھر آپ کے لیے ثرید لایا گیا آپ نے اس میں سے کھایا پھر آپ نماز کے لیے نکل کر تشریف لائے اور وضؤ نہ کیا ۔

محمد بن عمرو بن حلحلة الدؤلي ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← بن لهيعة ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 363

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 364

362 - حدثنا يونس والربيع المؤذن قالا ثنا أسد ح وحدثنا بكر بن إدريس قال ثنا آدم بن أبي إياس ح

بکر بن ادریس نے آدم ابی ایاس سے اور انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← وحدثنا بكر بن إدريس ← أسد ← يونس والربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 364

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 365

وحدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قالوا ثنا شعبة قال سمعت أبا عون محمد بن عبد الله الثقفي يقول سمعت عبد الله بن شداد بن الهاد يحدث عن أم سلمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج إلى الصلاة فنشلت له كتفا فأكل منها ثم خرج فصلى ولم يتوضأ

ابو عون محمد بن عبداللہ التقلی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن شداد بن الہاد کو ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت بیان کرتے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے جانے لگے تو میں نے آپ کی خدمت میں ایک دستی ہنڈیا میں سے نکال کر پیش کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے گئے اور وضو نہ فرمایا ۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، ← أبا عون محمد بن عبد الله الثقفي ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← وحدثنا أبو بكرة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 365

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 366

363 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل بن إسماعيل قال ثنا سفيان الثوري عن أبي عون قال سمعت عبد الله بن شداد يقول سأل مروان أبا هريرة عن الوضوء مما غيرت النار فأمره به ثم قال كيف نسأل أحدا وفينا أزواج النبي صلى الله عليه و سلم فأرسلوا إلى أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه و سلم فسألوها ثم ذكر مثل حديث شعبة

ابو عون کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن شداد کو کہتے سنا کہ مروان نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا جس کو آگ نے پکایا ہو ( اس کے استعمال سے ) وضو کا کیا حکم ہے ؟ تو انہوں نے وضؤ کا حکم دیا پھر مروان کہنے لگے ہم اور کسی سے کیوں پوچھیں ؟ جبکہ ہم میں ازواج مطہرات موجود ہوں چنانچہ سب نے بالا تفاق حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیج کران سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا پھر انہوں نے شعبہ جیسی روایت بالا نقل کی ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← أَبِي عَوْنٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 366

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 367

364 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عثمان بن عمر قال أخبرني بن جريج عن محمد بن يوسف عن سليمان بن يسار عن أم سلمة قالت قربت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم جنبا مشويا فأكل منه ولم يتوضأ

سلیمان بن یسار نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنے گوشت کا ایک ٹکڑا پیش کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کھایا اور وضو نہ کیا ۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← بن جُرَيْجٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 367

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 368

365 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود الطيالسي قال ثنا زائدة بن قدامة قال ثنا عبد الله بن محمد بن عقيل عن جابر بن عبد الله قال أتينا ومعنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بطعام فأكلنا ثم قمنا إلى الصلاة ولم يتوضأ أحد منا ثم تعشينا ببقية الشاة ثم قمنا إلى صلاة العصر ولم يمس أحد منا ماء

عبداللہ بن محمد بن عقیل حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کھانا کھانے کے لیے آئے پس ہم نے کھانا کھایا پھر نماز کے لیے اٹھ گئے اور ہم میں سے کسی نے بھی وضؤ نہ کیا پھر ہم نے بقیہ بکری سے پچھلے پہر کا کھانا کھایا پھر ہم نے نماز عصر کے لیے اٹھ گئے اور ہم نے پانی کو ہاتھ تک نہ لگایا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 368

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 369

366 - حدثنا يونس قال ثنا علي بن معبد قال ثنا عبد الله بن عمرو عن عبد الله بن محمد فذكر بإسناده مثله

عبد اللہ بن عمرو نے عبداللہ بن محمد سے روایت نقل کی اور انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

عبد الله بن محمد فذكر بإسناده مثله ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 369

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 370

367 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا محمد بن المنهال قال ثنا يزيد بن زريع قال ثنا روح بن القاسم عن محمد بن المنكدر عن جابر رضي الله عنه قال دعتنا امرأة من الأنصار فذبحت لنا شاة وذكر الحديث ورشت لنا صورا فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم بالطهور فأكلنا ثم صلى ولم يتوضأ

محمد بن المکندر حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک انصاری عورت نے ہماری دعوت کی اس نے ہمارے لیے ایک بکری ذبح کی اور اس انصاریہ نے ہمارے لیے کھجور کا گھچا بھی لاکر رکھا جناب رسول الللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضؤ کے لیے پانی نگوایا ( جو لایا گیا پھر آپ نے اس سے وضؤ فرمایا) پھر ہم نے ( کھانا تیار ہونے پر ) کھانا کھایا پھر کھانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز( ظہر ) ادا فرمائی اور وضو نہ فرمایا ۔

دعتنا امرأة من الأنصار فذبحت لنا شاة ← جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 370

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 371

368 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا عمارة بن زاذان عن محمد بن المنكدر قال دخلت على بعض أزواج النبي صلى الله عليه و سلم فقلت حدثيني في شيء مما غيرت النار فقالت قل ما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يأتينا إلا قلينا له جنة تكون بالمدينة فيأكل منها ويصلي ولا يتوضأ

محمدبن المنکدر کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے کسی کے ہاں میں داخل ہوا اور میں نے گزرش کی (اماں) مجھے آگ سے پکی چیز کا حکم بتلاؤ تو فرمانے لگیں بہت کم ایسا ہوتا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لاتے اور مدینہ میں خاص اگنے والا دانہ آپ کے لیے نہ اُبالتے تو آپ ہمارے ساتھ تناول فرماتے اور نماز ادا فرماتے اور وضؤ نہ کرتے۔

مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← عُمَارَةِ بْنِ زَاذَانَ ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 371

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 372

369 - حدثنا بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا عمارة بن زاذان عن محمد بن المنكدر قال دخلت على فلانة بعض أزواج النبي صلى الله عليه و سلم قد سماها ونسيت قالت دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم وعندي بطن معلق فقال لو طبخت لنا من هذا البطن كذا وكذا قالت فصنعناه فأكل ولم يتوضأ

محمد بن المنکدر کہتے ہیں کہ میں فلاں زوجہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا عمارہ کہتے ہیں محمد نے مجھے نام بتلایا تھا مگر مجھے بھول گیا اور پھر بقیہ روایت اسی طرح نقل کی ہے کہ میرے پاس جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے میرے پاس بطن کا گوشت لٹکا ہوا تھا آپ نے فرمایا اگر تم اس میں سے ہمارے لیے اس طرح اس طرح پکاتیں تو مناسب تھا ۔ ام المومنین کہتی ہیں ہم نے پکایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تناول فرمایا اور وضو نہ کیا۔

مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← عُمَارَةِ بْنِ زَاذَانَ ← حجاج، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 372

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 373

370 - حدثنا بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن عمار بن أبي عمار عن أم حكيم قالت دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم فأكل كتفا فأذنه بلال بالأذان فصلى ولم يتوضأ

عمارہ بن ابی عمار نے ام حکیم سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور کندھے کا گوشت استعمال فرمایا پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کی اطلاع دی تو آپ نے نما زپڑھائی اور وضؤ نہ فرمایا ۔

أم حكيم ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 373

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter