Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 329

327 - حدثنا يزيد قال ثنا عبد الرحمن بن مهدي قال ثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم عن عبد الله في الرجل يجامع فلا ينزل قال إذا بلغت ذلك اغتسلت

ابراہیم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے متعلق جو جماع کرے مگر انزال نہ ہو سوال کیا تو فرمایا جب تم ایساکرو تو غسل کرو۔

إذا بلغت ذلك اغتسلت ← عبد الله في الرجل يجامع فلا ينزل ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← يَزِيدُ:

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 329

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 330

328 - حدثنا يزيد قال ثنا عبد الرحمن قال ثنا سفيان عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله مثله

ابراہیم نے علقمہ سے اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کا قول نقل کیا ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← يَزِيدُ:

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 330

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 331

329 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن نافع عن بن عمر رضي الله عنه قال إذا خلف الختان الختان فقد وجب الغسل

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا جب ختان ختان کی طرف تجاوز کر جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے ۔

إذا خلف الختان الختان فقد وجب الغسل ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 331

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 332

330 - حدثنا روح قال ثنا بن بكير قال ثنا حماد بن زيد عن الصقعب بن زهير عن عبد الله بن الأسود قال كان أبي يبعثني إلى عائشة رضي الله عنها قبل أن أحتلم فلما احتلمت جئت فناديت فقلت ما يوجب الغسل فقالت إذا التقت المواسي

عبداللہ بن الاسود کہتے ہیں مجھے ابی رضی اللہ عنہ بلوغت کی عمر سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجتے جب میں بالغ ہو گیا تو ان کی خدمت میں آیا اور ( دروازے کے باہر سے ) آواز دی کون سی چیز غسل کو واجب کرتی ہے تو انہوں نے فرمایا جب مواسی مل جائیں ۔ ( یہ دونوں ختان کے باہمی ملنے سے کنایہ ہے )

كان أبي يبعثني إلى عائشة قبل ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← الصَّقْعَبَ بْنَ زُهَيْرٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← بن بكير ← رَوْحٌ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 332

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 333

331 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن أبي النضر عن أبي سلمة قال سألت عائشة رضي الله عنها ما يوجب الغسل فقالت إذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل

ابو سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ کون سی چیز غسل کو لازم کرتی ہے ؟ تو فرمانے لگیں جب ختان ختان کی طرف تجاوز کر جائے تو غسل لازم ہو جاتا ہے ۔

إذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ. ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ، مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ؟ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← أَبِي النَّضْرِ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 333

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 334

332 - حدثنا يونس قال ثنا علي بن معبد قال ثنا عبيد الله عن عبد الكريم عن ميمون بن مهران عن عائشة رضي الله عنها قال إذا التقى الختانان فقد وجب الغسل

میمون بن مہران نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جب ختان آپس میں مل جائیں تو غسل فرض ہو جاتا ہے ۔

إذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ. ← عَائِشَةَ ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 334

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 335

333 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا عبد الله بن محمد بن أسماء قال ثنا جويرية عن نافع عن عبد الله قال إذا خلف الختان الختان فقد وجب الغسل

نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی جب ختان ،ختان سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتاہے ۔

إذا خلف الختان الختان فقد وجب الغسل ← عَبْدُ اللَّهِ ← نَافِعٍ ← جُوَيْرِيَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 335

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 336

334 - حدثنا أحمد قال ثنا مسدد قال ثنا حماد بن زيد عن عاصم عن زر عن علي رضي الله عنه مثله قال أبو جعفر فقد ثبت بهذه الآثار التي رويناها صحة قول من ذهب إلى وجوب الغسل بالتقاء الختانين فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار وأما وجهه من طريق النظر فإنا رأيناهم لم يختلفوا أن الجماع في الفرج الذي لا إنزال معه حدث فقال قوم هو أغلظ الأحداث فأوجبوا فيه أغلظ الطهارات وهو الغسل وقال قوم هو كأخف الأحداث فأوجبوا فيه أخف الطهارات وهو الوضوء [ ص 61 ] فأردنا أن ننظر إلى التقاء الختانين هل هو أغلظ الأشياء فنوجب فيه أغلظ ما يجب في ذلك فوجدنا أشياء يوجبها الجماع وهو فساد الصيام والحج فكان ذلك بالتقاء الختانين وإن لم يكن معه إنزال ويوجب ذلك في الحج الدم وقضاء الحج ويوجب في الصيام القضاء والكفارة في قول من يوجبها ولو كان جامع فيما دون الفرج وجب عليه في الحج دم فقط ولم يجب عليه في الصيام شيء إلا أن ينزل وكل ذلك محرم عليه في حجه وصيامه وكان من زنى بامرأة حد وإن لم ينزل ولو فعل ذلك على وجه شبهة فسقط بها الحد عنه وجب عليه المهر وكان لو جامعها فيما دون الفرج لم يجب عليه في ذلك حد ولا مهر ولكنه يعزر إذا لم تكن هناك شبهة وكان الرجل إذا تزوج المرأة فجامعها جماعا لا خلوة معه في الفرج ثم طلقها كان عليه المهر أنزل أو لم ينزل ووجبت عليها العدة وأحلها ذلك لزوجها الأول ولو جامعها فيما دون الفرج لم يجب في ذلك عليه شيء وكان عليه في الطلاق نصف المهر إن كان سمي لها مهرا أو المتعة إذا لم يكن سمي لها مهرا فكان يجب في هذه الأشياء التي وصفنا التي لا إنزال معها أغلظ ما يجب في الجماع الذي معه الإنزال من الحدود والمهور وغير ذلك فالنظر على ذلك أن يكون كذلك هو في حكم الأحداث أغلظ الأحداث ويجب فيه أغلظ ما يجب في الأحداث وهو الغسل وحجة أخرى في ذلك أنا رأينا هذه الأشياء التي وجبت بالتقاء الختانين فإذا كان بعدها الإنزال لم يجب بالإنزال حكم ثان وإنما الحكم لالتقاء الختانين ألا ترى أن رجلا لو جامع امرأة جماع زناء فالتقى ختاناهما وجب الحد عليهما بذلك ولو أقام عليهما حتى أنزل لم يجب بذلك عليه عقوبة غير الحد الذي وجب عليه بالتقاء الختانين ولو كان ذلك الجماع على وجه شبهة فوجب عليه المهر بالتقاء الختانين ثم أقام عليها حتى أنزل لم يجب عليه في ذلك الإنزال شيء بعد ما وجب بالتقاء الختانين وكان ما يحكم به في هذه الأشياء على من جامع فأنزل هو ما يحكم به عليه إذا جامع ولم ينزل وكان الحكم في ذلك هو لالتقاء الختانين لا للإنزال الذي يكون بعده فالنظر على ذلك أن يكون الغسل الذي يجب على من جامع وأنزل هو بالتقاء الختانين لا بالإنزال الذي يكون بعده فثبت بذلك قول الذين قالوا إن الجماع يوجب الغسل كان معه إنزال أو لم يكن وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد وعامة العلماء رحمهم الله تعالى وحجة أخرى في ذلك

زر نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت جو ہم نے ذکر کیں یہ ان لوگوں کے قول کو درست ثابت کرتی ہیں جو دو شرم گاہوں کے ملنے سے غسل کو واجب کہتے ہیں ۔ روایات کے لحاظ سے اس باب کی یہی صورت ہے ۔ نظر و فکر کے لحاظ سے جو صورت ہے وہ عرض کرتے ہیں ، ہم نے دیکھا کہ اس بارے میں کسی کا بھی اختلاف نہیں کہ شرمگاہ میں جماع جس میں انزال نہ ہو حدث شمار ہوتا ہےبعض لوگوں نے اس کو حدث غلیظہ قرار دیا اور بڑی طہارت کو لازم قرار دیا اور وہ وضؤ ہے ۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ ہم دو شرمگاہوں کے ملنے پر غور کریں کہ آیا وہ ان سخت اشیاء میں سے ہے کہ جس سے بڑی طہارت کو لازم کیا جا ئے۔ پس جب ہم نے ان چیزوں کو دیکھا جو جماع سے لازم ہوتی ہیں اور وہ روزے اور حج کا فاسد ہو جانا ہے اور اسکا سبب دو شرمگاہوں کا ملنا ہی ہےخواہ اس کے ساتھ انزال نہ ہو اورحج میں اس سے دم بھی لازم ہو جاتا ہے اور حج کی قضا بھی لازم ہوجاتی ہے اور روزے میں قضا اور کفارہ ان لوگوں کے قول میں جو اسکو لازم قرار دیتے ہیں اور اگر اس نے فرج کے علاوہ جماع کیا تو حج میں فقط اس پر دم لازم آتا ہےاور روزہ میں اس پر کویئ چیز لازم نہیں آتی سوائے اس صورت میں کہ اس کو انزال ہو جائے اور یہ دونوں ہی چیزیں حج اور روزے میں اس کے لیے حرام ہیں اور وہ شخص جس نے کسی عورت کے ساتھ زنا کیا اس پر حد لگے گی اگرچہ انزال نہ ہوا ہو اور اگر اس کے لیے حرام ہیں اور وہ شخص جس نے کسی عورت کے ساتھ زنا کیا اس پر حد لگے گی اگرچہ انزال نہ ہوا ہو ار اگر اس نے یہی فعل شبہ کے طور پر کیا تو اس سے حد ساقط ہو گی اور اس پر مہر لازم ہو گا ۔ اور اگر اس نے اس عورت کے ساتھ فرج کے علاوہ جماع کیا تو نہ اس پر حد لازم ہو گی اور نہ مہر اس کے ذمہ آئے گا بلکہ اس پر تعزیر آئے گی جبکہ وہ وطی شبہ والی نہ ہو اور اگر کسی شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا پھر اس سے بغیر خلوت کے شرمگاہ میں جما ع کیا ، پھر اسے طلا ق دے دی تو اس پر مہر لازم آئے گا خواہ انزال ہو یا نہ ہو اور عورت پر عدت واجب ہو گی اور پہلے خاوند کے لیے یہ عورت حلال ہو جائے گی اور اگر اس نے شرمگاہ کے علاوہ میں جماع کیا تو اپر کچھ بھی لازم نہ ہو گا اور طلاق کی صورت میں نصف مہر لازم آجائے گا اگر اس نے مہر مقرر کیا ہے اور فقط کپڑوں کا جوڑا لازم آئے گا جبکہ مہر مقرر نہ کیا ہو۔ یہ چیزیں جو ہم نے بیان کیں ان میں یہ حکم انزال کے بغیر واجب ہوتا ہے اور یہ شدید حکم ہے جو ایسے جماع کی صورت میں لازم ہوتا ہے جس کے ساتھ انزال ہو یعنی حدود و مہر وغیرہ ۔ پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ احداث کے سلسلے میں بھی اس کا یہی حکم ہو گا اور سخت ترین حدث لازم ہوگا اور ازالہ حدث کے لیے سخت ترین حکم یعنی غسل لازم ہو گا ۔۔دوسری دلیل ۔ ہم نے ان اشیاء پر غور کیا جو دو شرمگاہوں کے ملنے سے لازم آتی ہیں جبکہ اس کے بعد انزال ہو تو انزال سے اس پر کوئی نیا حکم لازم نہیں ہوتا، وہی حکم دو شرمگاہوں کے ملنے پر ہو گا۔ ذرا غور کرو ایک آدمی نے اگر ایک عورت سے زنا کیا اور انکی شرمگاہیں مل گئیں تو اس سے ان دونوں پر حد لازم ہو گئی ۔ اگر وہ اس وقت تک رکا یہاں تک کہ اس کو انزال ہو گیا تو اس پر حد کے علاوہ جو شرمگاہوں کے ملنے سے لازم ہو ی اور کویئ سذا لازم نہ ہوگی اور اگر یہ جماع وطی شبہ کے طور پر ہو تو شرمگاہوں کے ملنے سے اس پر مہر لازم ہو جائے گی ۔ پھر اگر وہ اتنی دیر رکا کہ اس کو انزال ہو گیا تو انزال کی وجہ سے اس چیز کے علاوہ جو شرمگاہوں کے ملنے سے اور کوئی چیز لازم نہ ہو گی اور اس پر وہی حکم لگے گا جو اس جماع پر لگتا ہے جس میں انزال ہوا ہو اور وہ ہی حکم ہے جو اس جماع کا ہے جو بغیر انزال کے ہو تو حکم کا دارو مداراس میں شرمگاہوں کا مل جانا ہوا نہ وہ انزال جو اس کے بعد ہوا ۔ پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ وہ غسل جو جماع بالا نزال سے ہوا لازم ہوا وہ شرمگاہوں کے ملنے کی وجہ سے ہے بعد والے انزال کی وجہ سے نہیں ۔پس اس سے ان لوگوں کی بات ثابت ہو گئی جو کہتے ہیں کہ جماع غسل کو لازم کرتا ہے ، خواہ اس کے ساتھ انزال ہو یا نہ ہو ۔ یہی قول امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد بن حسن رضی اللہ عنہم اور عام علماء کا ہے ۔

عَلِيٍّ مِثْلَهُ. ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُسَدَّدٌ ← أَحْمَدُ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 336

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 337

335 - أن فهدا حدثنا قال ثنا علي بن معبد قال ثنا عبيد الله عن زيد عن جابر هو بن يزيد عن أبي صالح قال سمعت عمر بن الخطاب رضي الله عنه يخطب فقال إن نساء الأنصار تفتين أن [ ص 62 ] الرجل إذا جامع فلم ينزل فإن على المرأة الغسل ولا غسل عليه وإنه ليس كما أفتين وإذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل قال أبو جعفر ففي هذا الأثر أن الأنصار كانوا يرون أن الماء من الماء إنما هو في الرجال المجامعين لا في النساء المجامعات وأن المخالطة توجب على النساء الغسل وإن لم يكن معها إنزال وقد رأينا الإنزال يستوي فيه حكم النساء والرجال في وجوب الغسل عليهم فالنظر على ذلك أن يكون حكم المخالطة التي لا إنزال معها يستوي فيها حكم الرجال والنساء في وجوب الغسل عليهم

ابو صالح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے سنا کہ وہ فرمارہے تھے کہ انصار کی عورتیں فتویٰ دیتی ہیں کہ مرد جب جماع کرے اور انزال نہ ہو تو عورت پر غسل لازم ہے اور مرد پر غسل نہیں حالانکہ بات اس طرح نہیں جیسا وہ کہتی ہیں بلکہ جب ختان ختان سے مل جائے تو غسل لازم ہو جاتا ہے ۔طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس اثر سے یہ بات معلوم ہوئی کہ انصار کا خیال تھا کہ الماء من الماء یعنی انزال سے غسل لازم ہوتا ہے اور یہ صرف مردوں کے سلسلہ میں کہتے تھے عورتوں کے سلسلہ میں فقط جماع کو غسل کی وجہ قرار دیتے تھے خؤاہ انزال ہو یا نہ ہو ۔ حالانکہ انزال کا حکم مردوں اور عورتوں کے سلسلہ میں یکساں ہے یکساں طور پر اس سے غسل لازم آتا ہے بنظر غائر اس جماع کا حکم جس میں انزال نہ ہو یکساں ہونا چاہیے کہ مرد و عورت دونوں پر غسل لازم ہو ۔ واللہ اعلم۔

عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← جابر هو بن يزيد ← زيد1 ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← أن فهدا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 337

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter