Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 317

316 - حدثنا أحمد بن عبد الرحمن قال ثنا عمي قال أخبرني عمرو بن الحارث قال قال بن شهاب حدثني بعض من أرضي عن سهل بن سعد الساعدي أن أبي بن كعب الأنصاري أخبره أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جعل الماء من الماء رخصة في أول الإسلام ثم نهى عن ذلك وأمر بالغسل

سہل بن سعد الساعدی کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھے بتلایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء اسلام میں انما الماء من الماء کی رخصت عنایت فرمائی پھر اس سے منع کر دیا گیا اور غسل کا حکم دیا گیا ۔

سهل بن سعد الساعدي أن أبي بن كعب الأنصاري ← بَعْضُ مَنْ أَرْضَى ← بن شِهَابٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 317

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 318

317 - حدثنا يزيد بن سنان بالفتح وابن أبي داود قالا حدثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني عقيل عن بن قال قال سهل بن سعد الساعدي قال حدثني أبي بن كعب ثم ذكر مثله قال أبو جعفر فهذا أبي يخبر أن هذا هو الناسخ لقوله الماء من الماء وقد روي عنه بعد ذلك من قوله ما يدل على هذا أيضا

سہل بن سعد الساعدی کہتے ہیں مجھے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کی روایت نقل فرمائی ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اطلاع دے رہے ہیں کہ یہ روایت الماء من الماء کو ناسخ ہے اور ان سے سے اس کے بعد بھی اسکا قول مروی ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے ۔

مِثْلَہُ ← أبي بن كعب ثم ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← بن ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← يزيد بن سنان بالفتح وابن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 318

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 319

318 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا يحيى بن سعيد عن عبد الله بن كعب عن محمود بن لبيد أنه سأل زيد بن ثابت عن الرجل يصيب أهله ثم يكسل ولا ينزل فقال زيد يغتسل فقلت له أن أبي بن كعب كان لا يرى فيه الغسل فقال زيد أن أبيا قد نزع رجع عن ذلك قبل أن يموت

محمود بن لبید کہتے ہیں کہ میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ جو آدمی اپنے اہل سے جماع کرے مگر انزال نہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے ؟ تو زید کہنے لگے وہ غسل کرے۔میں نے سوال کیا کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تو اس میں غسل کے قائل نہیں حضرت زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے موت سے پہلے اپنے اس قول سے رجوع کر لیا تھا ۔

مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 319

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 320

319 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد فذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر فهذا أبي قد قال هذا وقد روي عن النبي صلى الله عليه و سلم خلاف ذلك فلا يجوز هذا عندنا إلا وقد ثبت نسخ ذلك عنده من رسول اله صلى الله عليه و سلم

مالک نے یحییٰ بن سعید سے نقل کیا یحییٰ نے اپنی سند سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ ابی رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے یہ بات فرمائی ہے ۔ انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے خلاف قول نقل کیا ہے پس یہ ہمارے نزدیک اسی وقت درست ہو سکتا ہے جبکہ ان کے ہاں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا نسخ ثابت ہے۔

هذا وقد روي ← أبو جعفر فهذا أبي قد ← بإسناده مثله ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 320

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 321

320 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه وعثمان بن عفان رضي الله عنه وعائشة رضي الله عنها زوج النبي صلى الله عليه و سلم كانوا يقولون إذا مس الختان الختان فقد وجب الغسل فهذا عثمان أيضا يقول هذا وقد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم خلافه فلا يجوز هذا إلا وقد ثبت النسخ عنده

سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ جناب عمر رضی اللہ عنہ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ جب ختان ختان کو چھولے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہیں جو کہ یہی کہہ رہے ہیں اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے خلاف بھی مروی ہے ۔ پس یہ اسی وقت درست ثابت ہو سکتا ہے جبکہ نسخ ان کے ہاں ثابت ہو۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 321

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 322

321 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا حميد الصائغ قال ثنا حبيب بن شهاب عن أبيه قال سألت أبا هريرة ما يوجب الغسل فقال إذا غابت المدورة وقد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما قد ذكرناه عنه في هذا الباب ما يخالف ذلك فهذا أيضا دليل على نسخ ذلك

شہاب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا چیز مرد و عورت پر غسل کو واجب کرتی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا جب حشفہ غائب ہو جائے توغسل واجب ہوجاتا ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی روایت بھی وارد ہیں جو ان روایات کے مخالف ہیں جو ہم نے اس بات میں ذکر کی ہیں ۔ پس یہ بھی ان کے نسخ کی دلیل ہے۔

إذا غابت المدورة وقد روي ← سألت أبا هريرة ما يوجب الغسل ← أَبِيهِ ← حَبِيبِ بْنِ شِهَابٍ ← حميد الصائغ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 322

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 323

322 - حدثنا فهد قال ثنا علي بن معبد قال ثنا عبيد الله بن عمرو عن زيد بن أبي أنيسة عن عمرو بن مرة الجملي عن سعيد بن المسيب قال رجال من الأنصار يفتون أن الرجل إذا جامع المرأة ولم ينزل فلا غسل عليه وكان المهاجرون لا يتابعونهم على ذلك فهذا يدل على نسخ ذلك أيضا لأن عثمان والزبير هما من المهاجرين وقد سمعا من رسول الله صلى الله عليه و سلم ما قد روينا عنهما في أول هذا الباب ثم قد قالا بخلاف ذلك فلا يجوز ذلك منهما إلا وقد ثبت النسخ عندهما ثم قد كشف ذلك عمر بن الخطاب رضي الله عنه بحضرة أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم من المهاجرين والأنصار فلم يثبت ذلك عنده فحمل الناس على غيره وأمرهم بالغسل ولم يعترض عليه في ذلك أحد وسلموا ذلك له فذلك دليل على رجوعهم أيضا إلى قوله

حضرت سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ بعض انصار یہ فتویٰ دیتے تھے کہ جب مرد اپنی بیوی سے جماع کرے اور اس کو انزال نہ ہو تو اس پر غسل لازم نہیں اور مہاجرین اس سلسلہ میں ان کی اتباع نہ کرتے تھے ۔یہ بھی ان کے نسخ کی دلیل ہے کیونکہ عثمان و زبیر رضی اللہ عنہم دونوں مہاجرین سے ہیں اور انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ بات سن پای ہے جو ہم نے اس باب کی ابتداء میں نقل کی ہے ۔ پھر انہوں نے اس کے خلاف بات کہی حالانکہ یہ بات ان سے اسی وقت ہو سکتی ہے جبکہ ان کے ہاں نسخ ثابت ہو۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کو مہاجرین و انصار کے مجمع میں کھول دیا اور ان کے ہاں یہ بات ثابت و قائم نہ تھی اس لیے انہوں نے لوچگوں کو دوسری بات پر آمادہ کیا اور غسل کا حکم فرمایا اور ان پر کسی نے اعتراض نہ کیا اور اسے تسلیم کرلیا یہ ان کے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کی طرف رجوع کی دلیل ہے ۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجَمَلِيِّ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 323

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 324

323 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا أبو عبد الرحمن المقرئ قال ثنا بن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب عن معمر بن أبي حبيبة قال سمعت عبيد بن رفاعة الأنصاري يقول كنا في مجلس فيه زيد بن ثابت فتذاكرنا الغسل من الإنزال فقال زيد ما على أحدكم إذا جامع فلم ينزل إلا أن يغسل فرجه ويتوضأ وضوءه للصلاة فقام رجل من أهل المجلس فأتي عمر فأخبره بذلك فقال عمر للرجل اذهب أنت بنفسك فائتني به حتى يكون أنت الشاهد عليه فذهب فجاء به وعند عمر ناس من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فيهم علي بن أبي طالب ومعاذ بن جبل رضي الله عنه فقال عمر أنت عدو نفسك تفتي الناس بهذا فقال زيد أم والله ما ابتدعته ولكني سمعته من عماي رفاعة بن رافع ومن أبي أيوب الأنصاري فقال عمر لمن عنده من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ما تقولون فاختلفوا عليه فقال عمر ياعباد الله فمن أسأل بعدكم وأنتم أهل بدر الأخيار فقال له علي بن أبي طالب فأرسل إلى أزواج النبي صلى الله عليه و سلم فإنه إن كان شيء من ذلك ظهرت عليه فأرسل إلى حفصة فسألها فقالت لاعلم لي بذلك ثم أرسل إلى عائشة رضي الله عنها فقالت إذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل فقال عمر رضي الله عنه عند ذلك لا أعلم أحدا فعله ثم لم يغتسل إلا جعلته نكالا

عبیدبن رفاعہ انصاری کہتے ہیں کہ ہم حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے ہم نے انزال سے غسل کے سلسلہ میں باہمی مذاکرہ کیا تو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہنے لگے جب تم میں سے کوئی جماع کرے اور اسے انزال نہ ہو تو وہ اپنی شرمگاہ کو دھولے اور نماز کے لیے جس طرح وضؤ کیا جاتا ہے اسی طرح وضؤ کرے۔ اہل مجلس کا ایک شخص اٹھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو اس کی اطلاع دی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی آدمی کو کہا تم بذات خود جاؤ اور ان کو میرے پاس لے آؤ تاکہ بذات خود تو ان پر گواہ بن جائے وہ جا کر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو لے آیا اس وقت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حضر ت علی ابن ابی طالب اور معاذ جبل رضی اللہ عنہم بیٹھے تھے ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے تو اپنی جان کا دشمن ہے تو لوگوں کو یہ فتویٰ دیتا ہے ؟ زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے اللہ کی قسم میں نے اس کو خؤد نہیں گھڑا بلکہ اپنے دنوں چچار فاعبین رافع اور ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے قریب اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار فرمایا کہ تم کیا کہتے ہو انہوں نے اس سلسلہ میں اختلاف کیا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ اے اللہ کے بندو! تم ہی اہل بدر ہو میں تمہارے علاوہ اور کس سے سوال کروں ؟ تو اس پر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رائے کی امہات المومنین ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کریں اگر ان کے پاس اس سلسلہ میں کوئی چیز ہو گی تو آپ پر ظاہر ہو جائے گی حضڑت عمر نے حضر ت حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا انہوں نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا پھرحضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ہاں پیغام بھیجا تو انہوں نے کہا اذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل کہ ختان کے مل جانے سے غسل واجب ہوجاتا ہے اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اب میں جس کسی کے متعلق سنو گا کہ اس نے ایساکیا مگر غسل نہیں کیا تو اس کو سخت سزا دے کردوسروں کے لیے عبرت کا نمونہ بنا دوں گا۔

كنا في مجلس فيه زيد بن ثابت فتذاكرنا الغسل من الإنزال ← عبيد بن رفاعة الأنصاري ← مَعْمَرِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← بن لهيعة ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 324

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 325

324 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا محمد بن عبد الله بن نمير قال ثنا بن إدريس عن محمد بن إسحاق ح

اس روایت کو ابن ادریس نے اپنی سند کےساتھ محمد بن اسحاق سے بیان کیا انہوں نے اپنی سند سے روایت ذکر کی ہے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← بن إدريس، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 325

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 326

وحدثنا بن أبي داود قال ثنا عياش بن الوليد قال ثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى عن بن إسحاق عن [ ص 59 ] يزيد بن أبي حبيب عن معمر بن أبي حبيبة عن عبيد بن رفاعة عن أبيه قال إني لجالس عند عمر بن الخطاب رضي الله عنه إذ جاء رجل فقال يا أمير المؤمنين هذا زيد بن ثابت يفتي الناس في الغسل من الجنابة برأيه فقال عمر رضي الله عنه أعجل علي به فجاء زيد فقال عمر رضي الله عنه قد بلغني من أمرك أن تفتي الناس بالغسل من الجنابة برأيك في مسجد النبي صلى الله عليه و سلم فقال له زيد أم والله يا أمير المؤمنين ما أفتيت برأيي ولكني سمعت من أعمامي شيئا فقلت به فقال من أي أعمامك فقال من أبي بن كعب وأبي أيوب ورفاعة بن رافع فالتفت إلي عمر فقال ما يقول هذا الفتى قال فقلت إنا كنا لنفعله على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم لا نغتسل قال أفسألتم النبي صلى الله عليه و سلم عن ذلك فقلت لا قال علي بالناس فاتفق الناس أن الماء لا يكون إلا من الماء إلا ما كان من علي ومعاذ بن جبل فقالا إذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل فقال يا أمير المؤمنين لا أجد أحدا أعلم بهذا من أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم من أزواجه فأرسل إلى حفصة رضي الله عنه فقالت لاعلم لي فأرسل إلي عائشة رضي الله عنه فقالت إذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل فتحطم عمر وقال لئن أخبرت بأحد يفعله ثم لا يغتسل لأنهكته عقوبة أي لما لنت في عقوبته

عبید بن رفاعہ اپنے والد رفاعہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کے ہاں بیٹھا تھا اچانک ان کے ہاں ایک آدمی وارد ہوا اور کہنےلگا اے امیر المومنین ! یہ زید بن ثابت غسل جنابت کے متعلق اپنی رائے سے فتویٰ دیتےہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ان کو جلد میرے پاس لاؤ وہ ان کو جلد لے آیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا مجھے اطلاع ملی ہے کہ تم لو گوں کو غسل جنابت کے متعلق اپنی رائے سے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں فتویٰ دیتے ہو زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے سنو ! اللہ کی قسم اےا میر المومنین میں اپنی رائے سے فتویٰ نہیں دیا بلکہ میں نے اپنے چچاؤں سے جو کچھ سنا وہی کہا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا تم نے اپنے کون سے چچاوں سے سنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے ابی بن کعب ، ابو ایوب انصاری رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہم سے سنا ہے ۔ عمر رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہو کریہ نوجوان کیا کہتا ہے ؟ رفاعہ رضی اللہ عنہ میں نے کہا ہم زمانہ نبوت میں ایسے کرتے تھے پھر غسل نہ کرتے تھے ۔ عمر رضی اللہ عنہ کیا تم نے اس سلسلے میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ رفاعہ رضی اللہ عنہ میں نے کہا نہیں ۔ عمر رضی اللہ عنہ اور لوگوں کو لاؤ پس اور لوگوں نے بالا اتفاق کہا الماء لا یکون الامن الماء یعنی صرف خروج منی سے غسل ہے ۔ معاذ اور علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اذا جاورز الختان الختان فقد وجب الغسل کہ تجاویز ختان سے غسل لازم ہے ۔، وہ کہنے لگے امیر المومنی ! ازواج مطہرات کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کا اس سلسلہ میں سب سے زیادہ علم ہے انہوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا مجھے اس بات کا علم نہیں ہے ۔ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل کہ تجاوز ختان سے غسل واجب ہوجاتا ہے ۔ اس سے عمر رضی اللہ عنہ جوش میں آگئے اور فرمایا اگر مجھے کسی کے متعلق اطلاع ملی کہ جماع بلا انزال کرتا ہے اور پھر غسل نہیں کرتا تو میں اسے سزا دینے میں کسر نہ اٹھا رکھوں گا۔

إني لجالس عند عمر بن الخطاب ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، ← مَعْمَرِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← بن إِسْحَاقَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 326

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 327

325 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال حدثني الليث قال حدثني معمر بن أبي حبيبة عن عبيد الله بن عدي بن الخيار قال تذاكر أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم عند عمر بن الخطاب الغسل من الجنابة فقال بعضهم إذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل وقال بعضهم إنما الماء من الماء فقال عمر رضي الله عنه قد اختلفتم علي وأنتم أهل بدر الأخيار فكيف بالناس بعدكم فقال علي بن أبي طالب رضي الله عنه يا أمير المؤمنين إن أردت أن تعلم ذلك فأرسل إلى أزواج النبي صلى الله عليه و سلم فسلهن عن ذلك فأرسل إلى عائشة رضي الله عنها فقالت إذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل فقال عمر رضي الله عنه عند ذلك لا أسمع أحدا يقول الماء من الماء إلا جعلته نكالا فهذا عمر قد حمل الناس على هذا بحضرة أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم ينكر ذلك عليه منكر وقول رفاعة في حديث بن إسحاق فقال الناس الماء من الماء يحتمل أن يكون عمر لم يقبل ذلك لأنه قد يحتمل أن يكون على ما حملوه عليه من ذلك ويحتمل أن يكون كما قال بن عباس [ ص 60 ] رضي الله عنه فلما لم يثبتوا له ذلك ترك قولهم فصار إلى ما رآه هو وسائر أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد روي عن آخرين منهم ما يوافق ذلك أيضا

عبید اللہ بن عدی بن الخیار کہتے ہیں اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس غسل جنابت کے سلسلہ میں باہمی مذاکرہ کیا بعض نے اذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل سے غسل کو لازم کہا جبکہ دوسروں نے " انما الماء من الماء" سے عدم وجوب بتلایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے چنے ہوئے اہل بدر جب تم میرے سامنے اختلاف کر رہے تو تو تمہار ے علاوہ لوگوں کا حال کیا ہو گا اس پر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا اے امیر المومنین ! اگر آپ اس مسئلہ کی حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں پیغام بھیج کر دریافت کر لیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیج کر دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا جب ختان ختان کی طرف تجاوز کر جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے ،۔اس پر عمر نے رضی اللہ عنہ نے کہا میں جس کسی کو الماء من الماء کہتا سنوں گامیں اس کو سزا دوں گا۔پھر یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا اور ان میں سے کسی ایک نے بھی انکار نہیں کیا اور رہا رفاعہ کا قول الماء من الماء تو اس میں یہ احتمال ہے کیونکہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسکو قبول نہیں کیا کیونکہ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس کو ابن عباس رضی اللہ عنہ والی روایت پر محمول کریں جب وہ حضرات اس بات کو ثابت نہ کر سکے تو آپ نے ان کی بات کو چھوڑ دیا اور آپ نے اسی بات کو اختیار کیا جو کہ آپ کی اور باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رائے تھی اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی اس سلسلے میں آپ کی موافقت مروی ہے ۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، ← مَعْمَرِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 327

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 328

326 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال ثنا حماد بن زيد عن الحجاج عن أبي جعفر عن محمد بن علي رضي الله عنهما قال اجتمع المهاجرون أن ما أوجب عليه الحد من الجلد والرجم أوجب الغسل أبو بكر وعمر وعثمان وعلي رضي الله عنهم

ابو جعفر نے محمد بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ تمام مہاجرین اور خلفاء اربعہ ابوبکر و عمر ، عثمان و علی رضی اللہ عنہم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جس جماع سے حد رجم ، جلد ثابت ہو جاتی ہے اس سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور وہ عبونت خشفہ والا جماع ہے ۔

محمد بن علي ← أَبِي جَعْفَرٍ، ← الْحَجَّاجِ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 328

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter