Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 12 باب حكم المني هل هو طاهر أم نجس ) · حديث 277

278 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا قزعة بن سويد قال حدثني حميد الأعرج وعبد الله بن أبي نجيح عن مجاهد عن عائشة رضي الله عنها مثله

مجاہد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

عَائِشَۃَ مِثْلَہُ ← مُجَاهِدٍ ← حميد الأعرج وعبد الله بن أبي نجيح ← قزعة بن سويد ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 277

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 12 باب حكم المني هل هو طاهر أم نجس ) · حديث 278

279 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا آدم بن أبي إياس قال ثنا عيسى بن ميمون قال ثنا القاسم بن محمد عن عائشة رضي الله عنها مثله قالوا ففي هذه الآثار أنها كانت تفرك المني من ثوب الصلاة كما تفركه من ثوب النوم قال أبو جعفر وليس في هذا عندنا دليل على طهارته فقد يجوز أن يكون كانت تفعل به هذا فيطهر بذلك الثوب والمني في نفسه نجس كما قد روي فيما أصاب النعل من الأذى

قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ان حضرات کا کہنا ہے کہ یہ آثار ظاہر کررہے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نماز والے کپڑوں سے بھی منی کو اسی طرح کھرچ دیا کرتی تھیں جیسا کہ نیند والے لباس سے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ان روایات میں ہمارے نزدیک کوئی ایک روایت بھی منی کی طہارت کوثابت نہیں کرتی اس لیے کہ یہ عین ممکن ہے کہ وہ اس طرح کھرچ دیتی ہوں کہ جس سے پکڑا پاک ہو جاتا ہو ۔ رہنی منی تو وہ نجس ہے جیسا کہ جوتے کو نجاست لگنے کے سلسلہ میں مروی ہے ۔

ففي هذه الآثار ← عَائِشَۃَ مِثْلَہُ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عِيسَى بْنُ مَيْمُونَ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 278

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 12 باب حكم المني هل هو طاهر أم نجس ) · حديث 279

280 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن كثير قال ثنا الأوزاعي عن محمد بن عجلان عن سعيد المقبري عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا وطىء أحدكم الأذى بخفه أو بنعله فطهورهما التراب قال أبو جعفر فكان ذلك التراب يجزيء من غسلهما وليس في ذلك دليل على طهارة الأذى في نفسه فكذلك ما روينا في المني يحتمل أن يكون كان حكمه عندهما كذلك يطهر الثوب بإزالتهم إياه عنه بالفرك وهو في نفسه نجس كما كان الأذى يطهر النعل بإزالتهم إياه عنها وهو في نفسه نجس فالذي وقفنا عليه من هذه الآثار المروية في المني هو أن الثوب يطهر مما أصابه من ذلك بالفرك إذا كان يابسا ويجزيء ذلك من الغسل وليس في شيء من هذا دليل على حكمه هو في نفسه أطاهر هو أم نجس فذهب ذاهب إلى أنه قد روى عن عائشة رضي الله عنها ما يدل على أنه كان عندها نجسا وذكر في ذلك ما

سعید مقبری حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو موزہ یا جوتا ایذاء ( پاخناہ وغیرہ) سے ملوث ہو جائے تو مٹی ان کے لیے طہارت کا باعث ہے(مٹی سے رگڑے جانے سے پاک ہو جائیں گے) امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مٹی ان دنوں کو دھونے کی بجائے خؤد پاک کرتی ہے ۔ اس میں بذات خود نجاست کے پاک ہونے کی تو کوئی دلیل نہ نہیں ہے ۔اسی طرح جو کچھ ہم نے منی کے متعلق نقل کیا ہے ، ممکن ہے کہ ان کے ہاں اس کا حکم بھی اسی طرح ہو کہ اسے کھرچ کر دور کر دینے سے کپڑا پاک ہو جاتا ہے لیکن بذات خود وہ ناپاک ہے جس طرح جوتے سے نجاست کا ازالہ کر دیا جائے تو وہ پاک ہو جاتا ہے حالانکہ نجاست بذات نجس و ناپاک ہی ہو ۔ ہمیں ان آثار مرویہ سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ منی اگر کپڑے کو لگ جائے تو کپڑے کو اس سے پاک کرنے کا ایک طریقہ کھر چنا بھی ہے جبکہ منی خشک ہو جائے اور یہ چیز اس کے دوھنے کی بجائے کفایت کر جائے گی ۔ان میں سے کسی بھی روایت میں ذاتی لحاظ سے منی کا حکم موجود نہیں کہ وہ پاک ہے یا ناپاک ۔چنانچہ اس کی نجاست کی طرف جانے والے علماء نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایسی روایت بیان کی ہے جو ان کے ہاں اس کے نجس ہونے کو ثابت کرتی ہیں ۔ روایت ملاحظہ ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 279

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 12 باب حكم المني هل هو طاهر أم نجس ) · حديث 280

281 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا مسدد قال ثنا يحيى بن سعيد عن شعبة عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت في المني إذا أصاب الثوب إذا رأيته فاغسله وإن لم تره فانضحه

قاسم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے منی کے متعلق فرمایا جبکہ وہ کپڑے کو لگ جائے تو فرمایا جب تم دیکھو اس کو خوب دھو ڈالو اگر نظر آئے اور جب نظر نہ آئے تو دھولو۔

في المني إذا أصاب الثوب إذا رأيته فاغسله وإن لم تره فانضحه ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 280

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 12 باب حكم المني هل هو طاهر أم نجس ) · حديث 281

282 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا وهب قال ثنا شعبة فذكر بإسناده مثله

اسی طرح شعبہ نے اپنی سند ے ساتھ اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔

شعبة فذكر بإسناده مثله ← وَھْبٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 281

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 12 باب حكم المني هل هو طاهر أم نجس ) · حديث 282

283 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال حدثنا شعبة قال أنا أبو بكر بن حفص قال سمعت عمتي تحدث عن عائشة مثله

ابو بکر بن حفص نے اپنی پھوپھی سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

عَائِشَۃَ مِثْلَہُ ← عَمَّتِي تُحَدِّثُ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 282

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 12 باب حكم المني هل هو طاهر أم نجس ) · حديث 283

284 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمر قال ثنا شعبة فذكر بإسناده مثله قال فهذا قد دل على نجاسته عندها قيل له ما في ذلك دليل على ما ذكرت لأنه لو كان حكمه عندها حكم سائر النجاسات من الغائط والبول والدم لأمرت بغسل الثوب كله إذا لم يعرف موضوعه منه [ ص 52 ] ألا ترى أن ثوبا لو أصابه بول فخفي مكانه أنه لا يطهره النضح وأنه لا بد من غسله كله حتى يعلم طهوره من النجاسة فلما كان حكم المني عند عائشة رضي الله عنها إذا كان موضعه من الثوب غير معلوم النضح ثبت بذلك أن حكمه كان عندها بخلاف سائر النجاسات وقد اختلف أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك فروى عنهم في ذلك ما

شعبہ نے اپنی اسناد سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں اس سے منی کے نجس ہونے کی دلالت مل گئی، اس کے جواب میں اسے کہا جائے گا کہ جو کچ آپ ذکر کر رہے ہیں اس میں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ بقول آپ کے اگر ان کےہاں اس کا حکم پیشاب ، پاخانہ ،خون والا ہےتو وہ ضرور تمام کپڑے کو دھونے کا حکم کرتیں اس لیےکہ اس کی جگہ نامعولم تھی ۔ ذرا آپ خود غور فرمائیں کہ اگر کسی کپڑے کو پیشاب کے قطرت پہنچ جائیں اور اسکی جگہ مخفی ہو تو اس پر فقط پانی کا بہاد دینا اس کو پاک نہیں کر سکتا بلکہ پورے کپڑ ے کو ھونا ضروری ہے تاکہ نجاست سے اس کی جگہ معلوم نہ ہو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ان کے ہاں اس کا حکم تمام نجاستوں سے مختلف ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا بھی اس میں اختلاف روایات میں آیا ہے ۔ مالیکہ کہتے ہیں کہ ان روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ فی نفسہ منی ان کے ہاں ناپاک ہے ۔

بإسناده مثله ← شُعْبَةُ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 283

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 12 باب حكم المني هل هو طاهر أم نجس ) · حديث 284

285 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد قال ثنا هشيم قال أنا حصين عن مصعب بن سعد عن أبيه أنه كان يفرك الجنابة من ثوبه فهذا يحتمل أن يكون كان يفعل ذلك لأنه عنده طاهر ويحتمل أن يكون كان يفعل ذلك كما يفعل بالروث المحكوك من النعل لا لأنه عنده طاهر

مصعب اپنے والد سعد رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ اپنے کپڑے سے جنابت کو کھرچ دیتے تھے اس عمل میں یہ بھی احتمال ہے کہ وہ اپنے کپڑے سے اس کو اس لیے کھرچتے تھے اور وہ ان کے ہاں طاہر ہے اور انکے فعل میں یہ بھی احتمال ہے کہ وہ جوتے سے لگے ہوئے گوبر کو زمین پر رگڑ دینے کی طرح خیال کرتے ہیں ۔اس بناء پر نہیں کہ وہ ان کے ہاں پاک ہے ۔

مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← حُصَيْنٍ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدٌ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 284

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 12 باب حكم المني هل هو طاهر أم نجس ) · حديث 285

286 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن هشام بن عروة عن أبيه عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب أنه أعتمر مع عمر بن الخطاب رضي الله عنه في ركب فيهم عمرو بن العاص وأن عمر عرس ببعض الطريق قريبا من بعض المياه فاحتلم عمر بن الخطاب رضي الله عنه وقد كاد أن يصبح فلم يجد ماء في الركب فركب حتى جاء الماء فجعل يغسل ما رأى من الاحتلام حتى أسفر فقال له عمرو أصبحت ومعنا ثياب فدع ثوبك فقال عمر بل أغسل ما رأيت وأنضح ما لم أره

یحییٰ بن عبدالرحمان بن حاطب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ عمرہ کیا اس قافلے میں حضرت عمرو و ن العاص رحمۃ اللہ علیہ بھی تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک پانی کے قریب رات کے پچھلے حصہ میں قیام کیا حضرت عملر رضی اللہ عنہ کو احتلام ہو گیا صبح قریب ہو گئی قافلے میں پانی موجود نہ تھا پس آپ سوار ہو کر پانی کے پاس آئے پس اختلام کے اثر کو اپنے کپڑے سے دھونے لگے یہاں تک کہ سپیدا ہو گیا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے آپ نے صبح کر دی ہمارے پاس کپڑے ہیں ( وہ لے لیں) اور اپنے کپڑے کو ( فی الحال) رہنے دیں تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں احتلام کو جو اثر نظر آتا ہے اس کو دھوتا ہوں اور جو نظر نہیں آتا (محض شبہ پڑتا ہے ) وہاں پانی چھڑکتا ہوں ( تاکہ وسوسہ نہ ہو )

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 285

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 12 باب حكم المني هل هو طاهر أم نجس ) · حديث 286

287 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن هشام بن عروة عن أبيه عن زيد بن الصلت أنه قال خرجت مع عمر بن الخطاب إلي الجرف فنظر فإذا هو قد احتلم ولم يغتسل فقال والله ما أراني إلا قد احتلمت وما شعرت وصليت وما اغتسلت فاغتسل وغسل ما رأى في ثوبه ونضح ما لم يره فأما ما روى يحيى بن عبد الرحمن عن عمر فهو يدل على أن عمر فعل ما لا بد له منه لضيق وقت الصلاة ولم ينكر ذلك عليه أحد ممن كان معه فدل ذلك على متابعتهم إياه على ما رأى من ذلك وأما قوله وأنضح ما لم أره بالماء فإن ذلك يحتمل أن يكون أراد به وأنضح ما لم أر مما أتوهم أنه أصابه ولا أتيقن ذلك حتى يقطع ذلك عنه الشك فيما يستأنف ويقول هذا البلل من الماء

زید بن الصلت کہتے ہیں ہ میں حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ مقام جرف کی طرف گیا آپ نے اپنے کپڑے کو دیکھا تو احتلام کا اثر آیا حالانکہ آپ نے غسل نہ کیا تھا آپ نے فرمایا اللہ کی قسم مجھے احتلام ہو گیا ہے اور مجھے معلوم بھی نہیں ہوا اور میں نے نماز پڑھ لی حالانکہ میں نے غسل نہ کیا تھا پس آپ نے غسل کیا اور کپڑے پر یہاں احتلام کا اثر نظر آیا اس کو دھو ڈالا اور جہاں نظر نہ آیا وہاں پانی چھڑک دیا ۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے اس عمل میں یہ احتمال ہے کہ ان کا مقصد یہ تھا کہ میں اس مقام پر پانی چھڑک لیتا ہوں جہاں کوئی نجاست کا اثر نظر تو نہیں آتا لیکن پہنچنے کا وہم ہے تا کہ یہ شک جو ہے منقطع ہو جائے ۔اور دوبارہ لوٹانے کا وہم ہو تو وہ یہ سمجھیں کہ یہ پانی کی تری ہے ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 286

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 12 باب حكم المني هل هو طاهر أم نجس ) · حديث 287

288 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو الوليد قال ثنا عبد الله بن المبارك عن معمر عن الزهري عن طلحة بن عبد الله عن أبي هريرة قال في المني يصيب الثوب إن رأيته فاغسله وإلا فاغسل الثوب كله فهذا يدل على أنه قد كان يراه نجسا

طلحہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب منی کپڑے کو لگ جائے تو اسی مقام کو دھو ڈالو ورنہ تمام کپڑے کو دھو ڈالو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 287

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 12 باب حكم المني هل هو طاهر أم نجس ) · حديث 288

289 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن حبيب عن سعيد بن جبير عن بن عباس رضي الله عنه قال امسحوا بإذخر فهذا يدل على أنه قد كان يراه طاهرا

سعید بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں ( کہ وہ منی کے متعلق فرمانے لگے ) اس کو اذخر کے ساتھ پونچھ دو ۔ اس میں یہ دلالت ہے کہ وہ اس کو پاک قرار دیتے تھے ۔

امسحوا بإذخر فهذا يدل على أنه قد كان يراه طاهرا ← بْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَبِيبٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 288

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter