شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 212
215 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا سفيان عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن أبيه أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يتوضأ لكل صلاة فلما كان الفتح صلى الصلوات بوضوء واحد
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے جس دن مکہ فتح ہوا اس دن آپ نے پانچوں نمازیں ایک ہی وضو سے ادا فرمائیں ۔ پس یہ درست ہو گیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن بریدہ رضی اللہ عنہ والی روایت میں مذکورہ عمل وفضیلت کے حصول کے لیے فرمایا اس بناء پر نہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب و لازم تھا اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت بھی مذکورہ قول پر دلالت کرتی ہے۔
أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← أَبُو بَکْرَةَ
Hadith 212
