شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 3 باب سؤر الكلب ) · حديث 67
72 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب عن شعبة فذكر مثله فهذا عبد الله بن المغفل قد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه يغسل سبعا ويعفر الثامنة بالتراب وزاد على أبي هريرة والزائد أولى من الناقص فكان ينبغي لهذا المخالف لنا أن يقول لا يطهر الإناء حتى يغسل ثماني مرات السابعة بالتراب والثامنة كذلك ليأخذ بالحديثين جميعا فإن ترك حديث عبد الله بن المغفل فقد لزمه ما ألزمه خصمه في تركه السبع التي قد ذكرنا وإلا فقد بينا أن أغلظ النجاسات يطهر منها غسل الإناء ثلاث مرات فما دونها أحرى أن يطهره ذلك أيضا ولقد قال الحسن في ذلك بما روى عبد الله بن المغفل
شعبہ نے بھی عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ یہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ ہیں جوجناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سات مرتبہ دھونے والی اور آٹھویں مرتبہ مٹی کے ساتھ صاف کرنے والی روایت نقل کرتے ہیں اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں اضافہ فرماتے ہیں اور زائد روایت ناقص سے اولی ہے چنانچہ ہمارے مخالف کے لیے اولیٰ یہ ہے کہ وہ اس طرح کہے کہ برتن اس وقت تک پاک نہیں ہوتا جب تک آٹھ مرتبہ دھویا نہ جائے اور ان میں ساتویں بار مٹی اور آٹھویں بار بھی مٹی سے ہوتا کہ دونوں حدیثوں پر عمل ہو جائے اور اگر وہ حدیث عبداللہ بن مغفل کو ترک کرتے ہیں تو اس پر بھی وہی لازم ہو گا جو سات والی روایت کے چھوڑنے سے ان کے مخالف پر لازم ہو گا ۔یہ روایت ہم ذکر کر چکے اور ہم نے بیان کر دیا کہ غلیظ ترین نجاستوں سے برتن تین مرتبہ دھونے سے پاک ہو جاتا ہے تو اس سے کم درجہ نجاستیں اس بات کے زیادہ لائق ہیں کہ پانی ان کو پاک کر کر دے اور حسن بصری نے وہی بات کہی ہے جو حضرات عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔
مثله فهذا عبد الله بن المغفل قد روى ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق
Hadith 67
