Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 36

وما قد حدثناه فهد بن سليمان قال ثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني قال ثنا حفص بن غياث النخعي عن عبد الله بن سبرة الهمداني عن الشعبي قال سألناه عن الدجاجة تقع في البير فتموت فيها قال ينزح منها سبعون دلوا

عبداللہ بن سبرہ ہمدانی نے امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا کہ ہم نے ان سے سوال کیا اگر مرغی کنوئیں میں گر کر مر جائے تو کیا حکم ہے ؟ فرمایا ستر ڈول نکالے جائیں گے۔

ينزح منها سبعون دلوا ← الدجاجة تقع في البير فتموت فيها ← سَأَلْنَاهُ ← الشَّعْبِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَبْرَةَ الْهَمْدَانِيِّ ← حفص بن غياث النخعي ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← وما قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 36

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 37

38 - وما قد حدثنا صالح قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أنا مغيرة عن إبراهيم في البير يقع فيه الجرذ أو السنور فيموت قال يدلو منها أربعين دلوا قال المغيرة حتى يتغير الماء وما قد

مغیر ہ نے ابراہیم سے اس کنوئیں کے متعلق پوچھا جس میں چوہا بلی گر کر مرجائے تو کیا حکم ہے فرمایا چالیس ڈول نکالے جائیں جب تک پانی متغیر نہ ہو۔

المغيرة حتى يتغير الماء وما قد ← يدلو منها أربعين دلوا ← إبراهيم في البير يقع فيه الجرذ أو السنور فيموت ← مُغِيرَةَ، ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صَالِحٍ، ← وما قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 37

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 38

39 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا الحجاج قال ثنا أبو عوانة عن المغيرة عن إبراهيم في فأرة وقعت في بير قال ينزح منها قدر أربعين دلوا وما قد

مغیرہ نے ابراہیم رحمۃ اللہ عیہ سے اس کنوئیں سے متعلق دریافت کیا جس میں چوہا گر کر مر جائے تو انہوں نے فرمایا اس سے چالیس ڈول نکالے جائیں گے۔

ينزح منها قدر أربعين دلوا وما قد ← إبراهيم في فأرة وقعت في بير ← الْمُغِيرَةِ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← الْحَجَّاجِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 38

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 39

40 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا الفريابي قال ثنا سفيان عن المغيرة عن إبراهيم في البير تقع فيه الفأرة قال ينزح منها دلاء [ ص 18 ] وما قد

مغیرہ نے ابراہیم رحمۃ اللہ عیہ سے اس کنوئیں سے متعلق دریافت کیا جس میں چوہا گر کر مر جائے تو انہوں نے فرمایا اس سے چالیس ڈول نکالے جائیں گے۔

ينزح منها دلاء ص وما قد ← إبراهيم في البير تقع فيه الفأرة ← الْمُغِيرَةِ، ← سُفْيَانَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 39

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 40

41 - حدثنا بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد بن سلمة عن حماد بن أبي سليمان أنه قال في دجاجة وقعت في بير فماتت قال ينزح منها قدر أربعين دلوا أو خمسين ثم يتوضأ منها فهذا من روينا عنه من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم وتابعيهم قد جعلوا مياه الآبار نجسة بوقوع النجاسات فيها ولم يراعوا كثرتها ولا قلتها وراعوا دوامها وركودها وفرقوا بينها وبين ما يجري مما سواها فالى هذه الآثار مع ما تقدمها مما رويناه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ذهب أصحابنا في النجاسات التي تقع في الآبار ولم يجز لهم أن يخالفوها لأنه لم يرو عن أحد خلافها فإن قال قائل فأنتم قد جعلتم ماء البير نجسا بوقوع النجاسة فيها فكان ينبغي أن لا تطهر تلك البير أبدا لأن حيطانها قد تشربت ذلك الماء النجس واستكن فيها فكان ينبغي أن تطم قيل له لم تر العادات جرت على هذا قد فعل عبد الله بن الزبير ما ذكرنا في زمزم بحضرة أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم فلم ينكروا ذلك عليه ولا أنكره من بعدهم ولا رأى أحد منهم طمها وقد أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم في الإناء الذي قد نجس من ولوغ الكلب فيه أن يغسل ولم يأمر بأن يكسر وقد شرب من الماء النجس فكما لم يؤمر بكسر ذلك الإناء فكذلك لا يؤمر بطم تلك البير فإن قال قائل فإنا قد رأينا الإناء يغسل فلم لا كانت البير كذلك قيل له إن البير لا يستطاع غسلها لأن ما يغسل به يرجع فيها وليست كالإناء الذي يهراق منه ما يغسل به فلما كانت البير مما لا يستطاع غسلها وقد ثبت طهارتها في حال ما وكان كل من أوجب نجاستها بوقوع النجاسة فيها وقد أوجب طهارتها بنزحها وإن لم ينزح ما فيها من طين فلما كان بقاء طينها فيها لا يوجب نجاسة ما يطرأ فيها من الماء وإن كان يجري على ذلك الطين كان إذا ما بين حيطانها أحرى أن لا ينجس ولو كان ذلك مأخوذا من طريق النظر لما طهرت حتى تغسل حيطانها ويخرج طينها ويحفر فلما أجمعوا أن نزح طينها وحفرها غير واجب كان غسل حيطانها أحرى أن لا يكون واجبا وهذا كله قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

حماد بن سلمہ نے ابو سلیمان رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا اگر مرغی کنوئیں میں گر کر مر جائے تو کیا حکم ہے ؟ فرمایا چالیس ڈول یا پچاس ڈول کی مقدار پانی نکال دیں پھر اس سے وضو کر لیں ۔ یہ جن اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تابعین رحمۃ اللہ عیہم نے روایت کیا انہوں نے کنوؤں کے پانیوں کو نجاست کے پڑ جانے سے نجس قرار دیا اور اس میں قلت و کثرت کی رعایت نہیں کی بلکہ پانی کے دوام اور رکنے کی رعایت کی رعایت کی ہے اور انہوں نے چلنے والے پانی کو دیگر پانیوں سے الگ قرار دیا ہے ان روایات کی طرف ان روایات سمیت جوان سے پہلے ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں ہمارے علماء کنووں میں گرنے والی نجاستوں کے سلسلے میں اس طرف گئے ہیں ۔ ان کو ان روایات کی مخالفت بھی جائز نہیں کیونکہ کسی سے بھی ان کی مخالفت منقول نہیں ۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ تم نے کنوئیں کے پانی کو نجاست پڑنے سے نجس ( پلید) قرار دیا ہے تو اس سے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کنواں کبھی بھی پاک نہ ہو کیونکہ اس کی دیواروں میں وہ پلید پانی سرایت کر چکا اور ان میں جاگزین ہو چکا پس کنوئیں کی پاکیزگی کے لیے مناسب ہے کہ کنوئیں ہی کو پاٹ دیا جائے ۔ اسے جواب میں یہ کہا جائے گا یہ چیز عادات سے ثابت نہیں ۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اصحاب پیغمبر کی موجودگی میں وہ عمل کیا جو ہم نے پیچھے ذکر کیا ہے اور ان میں سے کسی نے بھی انکار نہیں کیا اور نہ ہی بعد والوں میں سے کسی نے انکار کیا اور نہ ان میں سے کسی نے اس کے پاٹنے کی رائے دی بلکہ خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن کو جس میں سے کتے نے پانی لیا تھا یہ حکم فرمایا ہے کہ اس و دھو دیا جائے اور آپ نے توڑنے کا حکم نہیں دیا حالانکہ پلید پانی پیالے میں سرایت کر چکا ہے تو جس طرح اس برتن کو توڑنے کا حکم نہیں اسی طرح اس کنوئیں کے پاٹنے کا حکم بھی نہ دیا جائے گا ۔ پھر اگر کوئی یہ کہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ برتنوں کو تو دھویا جاتا ہے لیکن کنووں کو آج تک دھوتے نہیں دیکھا گیا تو اسے یہ جواب دیا جائے کہ کنوئیں کا دھوناممکن نہیں کیونکہ اس میں جس پانی سے دھویا جائے گا وہ دوبارہ لوٹ کر اسی میں جائےگا ۔ وہ برتن کی طرح نہیں ہے کہ جس میں دھوئے ہوئے پانی کی بہا دیا جاتا ہے پس جب کنواں ان چیزوں میں سے ہو گیا جن کا دھونا ممکن نہیں اور اس کی طہارت جس حال میں بھی ہو وہ ثابت ہو گئی اور ہر وہ شخص جس نے نجاست کے گرجانے سے اسکی نجاست کا حکم لگایا تھا تو اس میں پانی کے نکال لیے جانے کے بعد اس کا پاک ہونا لازم ہو گیا ۔ اگرچہ اسکی مٹی کو نہیں نکالا گیا ۔ جب اس کی مٹی کا اس کی دیواروں کا نجس نہ ہونا بدرجہ اولیٰ ثابت ہو گیا ۔ اگر بطور نظر کے یہ بات مان لی جا ئے تو وہ پاک ہی نہیں ہوا چاہے اسکی دیواروں کو دھودیا جائے اور اسکی مٹی کو نکال دیا جائے اور پاٹ دیا جائے۔ پس جب اس پر سب متفق ہیں کہ اس کی مٹی اور کھدائی واجب نہیں تو اس کی دیواروں کو دھونا بدرجہ اولی واجب نہ ہو گا اور یہ سب امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد کا قول ہے۔

حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حجاج، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 40

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter