Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 24

25 - حدثنا يزيد بن سنان بن يزيد البصري قال ثنا موسى بن إسماعيل قال أنا حماد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن محمد بن جعفر عن عبيد الله بن عبد الله بن عمر عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ. ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← يزيد بن سنان بن يزيد البصري

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 24

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 25

26 - حدثنا يزيد قال ثنا موسى بن إسماعيل قال ثنا حماد بن سلمة أن عاصم بن المنذر أخبرهم قال كنا في بستان لنا أو بستان لعبيد الله بن عبد الله بن عمر فحضرت الصلاة صلاة الظهر فقام إلى بير البستان فتوضأ منه وفيه جلد بعير ميت فقلت أتتوضأ منه وهذا فيه فقال عبيد الله أخبرني أبي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إذا كان الماء قلتين لم ينجس

حماد بن سلمہ کا بیان ہے کہ ہمیں عاصم بن منذر نے بتلایا کہ ہم اپنے یا عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے باغ میں بیٹھے تھے تو نماز کا وقت آگیا اور یہ نماز ظہر تھی تو عبیداللہ باغ کے کنوئیں کی طرف گئے اور اس سے وضو کیا حالانکہ اس میں مردہ اونٹ کی کھال پڑی تھی میں نے کہا کیا اس کے ہوتے ہوئے آپ اس میں وضو کر رہے ہیں تو عبید اللہ نے جوابا فرمایا میرے والد عبداللہ نے مجھے بتلایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب پانی دو قلے ہوتو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔

حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← يَزِيدُ:

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 25

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 26

27 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا يحيى بن حسان قال ثنا حماد بن سلمة فذكر بإسناده مثله غير أنه لم يرفعه الى النبي صلى الله عليه و سلم وأوقفه على بن عمر فقال هؤلاء القوم إذا بلغ الماء هذا المقدار لم يضره ما وقعت فيه من النجاسة الا ما غلب على ريحه أو طعمه أو لونه واحتجوا في ذلك بحديث بن عمر هذا فكان من الحجة عليهم لأهل المقالة التي صححناها أن هاتين القلتين لم يبين لنا في هذه الآثار ما مقدارهما فقد يجوز أن يكون مقدارهما قلتين من قلال هجر كما ذكرتم ويحتمل أن تكونا قلتين أريد بها قلتا الرجل وهي قامته فأريد إذا كان الماء قلتين أي قامتين لم يحمل نجسا لكثرته ولأنه يكون بذلك في معنى الأنهار فإن قلتم إن الخبر عندنا على ظاهره والقلال هي قلال الحجاز المعروفة قيل لكم فإن كان الخبر على ظاهره كما ذكرتم فإنه ينبغي أن يكون الماء إذا بلغ ذلك المقدار لا يضره النجاسة وإن غيرت لونه أو طعمه أو ريحه لأن النبي صلى الله عليه و سلم لم يذكر ذلك في هذا الحديث فالحديث على ظاهره فإن قلتم فإنه وإن لم يذكر في هذا الحديث فقد ذكره في غيره فذكرتم ما حدثنا محمد بن الحجاج قال ثنا علي بن معبد قال ثنا عيسى بن يونس عن الأحوص بن حكيم عن راشد بن سعد قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الماء لا ينجسه شيء إلا ما غلب على لونه أو طعمه أو ريحه قيل لكم هذا منقطع وأنتم لا تثبتون المنقطع ولا تحتجون به فإن كنتم قد جعلتم قوله في القلتين على خاص من القلال جاز لغيركم أن يجعل الماء على خاص من المياه فيكون ذلك عنده على ما يوافق معاني الآثار الأول ولا يخالفها فإذا كانت الآثار الأول التي قد جاءت في البول في الماء الراكد وفي نجاسة الماء الذي في الإناء من ولوغ الهر فيه عاما لم يذكر مقداره وجعل على كل ماء لا يجري ثبت بذلك أن ما في حديث القلتين هو على الماء الذي يجري ولا ينظر في ذلك إلى مقدار الماء كما لم ينظر في شيء مما ذكرنا إلى مقداره حتى لا يتضاد شيء من الآثار المروية في هذا الباب وهذا المعنى الذي صححنا عليه معاني هذه الآثار هو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله وقد روى في ذلك عمن تقدمهم ما يوافق مذهبهم [ ص 17 ] فما روى في ذلك ما

حماد بن سلمہ نے پہلی روایت جیسی سند سے نقل کیا ہے مگر اس روایت کو ابن عمر سے موقوف نقل کیا ہے مرفوع نہیں کیا ۔ علماء کی اس جماعت نے یہ فرمایا جب پانی اتنی مقدار کو پہنچ جائے تو اس میں جتنی بھی نجاست پڑ جائے اسے نقصان نہیں دے گی سوائے اس کے جب نجاست کی بو ، ذائقہ یا رنگ پانی پر غالب آجائے اور انہوں نے اس سلسلے میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کی اسی روایت کو دلیل بنایا ہے ان کے خلاف پہلے قوم والے علماء کی دلیل یہ ہے کہ جس کو ہم نے صحیح قرار دیا کہ ان آثار میں ان دو قلوں کی مقدار ہمارے سامنے صحیح واضح نہیں ہوتی جیسا کہ تم نے بیان کیا دوسری طرف اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد آدمی کا قد ہو تو اس صورت میں یہ مراد لیا جائے گا کہ پانی کی مقدار آدمی کے دو قد کے برابر ہو تو وہ نجاست کو کثرک کی وجہ سے نہیں اٹھاتا اور اس لیے بھی کہ وہ نہر کے معنی میں ہو جائے گا اگر تم یوں کہتے ہو کہ یہ روایات ہمارے نزدیک ظاہر پر ہیں اور اس سے مراد حجاز کے معروف مٹکے ہیں تو اس کے جواب میں کہا جائے گا اگر تمہارے کہنے کے مطابق روایات اپنے ظاہر پر ہے تو پھر مناسب یہ ہو گا کہ جب پانی اس مقدار کو پہنچ جائے تو اس کو نجاست نقصان نہ دے اگرچہ اس کا رنگ ، ذائقہ اور بو بدل جائے کیونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں ان چیزوں کا ذکر نہیں فرمایا تو حدیث اپنے ظاہر پر ہوگی پس اگر تم یہ کہو کہ اگرچہ اس روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر نہیں فرمایا مگر اور جگہ میں تو اس کا ذکر فرمایا ہے اور تم اس روایت کو ذکر کرو کہ راشد ابن سعد نے کہا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( الماء لا ینجسہ شی ء ۔۔۔۔۔۔۔) یعنی پانی کو کوئی چیز پلید نہیں کر سکتی جو چیز اسکے رنگ ، ذائقہ اور بو کو بدل دے تو اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ یہ منقطع روایت ہے اور منقطع کو جب تم ثابت تسلیم نہیں کرتے اور نہ اس سے استدلال کو درست مانتے ہو ۔ پس اگر تم نے قلتین والی روایت میں خاص قلے مراد لیے ہیں تو تمہارے علاوہ دوسروں کو بھی حق ہے کہ پانی کو وہ خاص پانی قرار دیں پس یہ اس طرح پہلے آثار کے معافی کے موافق ہو جائے گا اور مخالف نہ رہے گا اگر پہلے آثار جو کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کے سلسلہ میں اور اس پانی کے نجس ہونے کے سلسلہ میں جو برتن میں ہو اور اس میں بلی منہ ڈال دے عام ہیں اور ان میں مقدار کا تذکرہ نہیں اور پانی کو ہر رکے ہوئے پانی کے سلسلہ میں قرار دیا جائے گا تو اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ قلتین والی روایت میں بہتا ہوا پانی مراد ہے اور اس میں بھی پانی کی مقدار کو اسی طرح پیش نظر نہ رکھیں گے جیسا کہ پہلی روایت میں پیش نظر نہیں رکھا گیا تاکہ اس باب میں آنے والی روایات آپس میں متضاد نہ ہوں ۔ یہ مفہوم وہ ہے جس سے آثار کے معانی ہمارے نزدیک صحیح رہ سکتے ہیں اور یہی امام ابو حنیفہ ابو یوسف اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے اور اس سلسلے میں پہلے ہی رواۃ سے جو ان کے مذہب کے موافق روایات گذری ہیں ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 26

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 27

29 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال ثنا منصور عن عطاء أن حبشيا وقع في زمزم فمات فأمر بن الزبير فنزح ماؤها فجعل الماء لا ينقطع فنظر فإذا عين تجري من قبل الحجر الأسود فقال بن الزبير حسبكم

عطاء بیان کرتے ہیں کہ ایک حبشی زمزم میں گر پڑا اور مر گیا تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے زمزم کے تمام پانی کو نکالنے کا حکم دیا وہ نکال دیا گیا مگر نیچے سے پانی منقطع نہیں ہو رہا تھا اچانک ان کی نگاہ پڑی تو ایک چشمہ حجرا سود گی جانب سے پھوٹ رہا تھا پس ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہیں موجود ہ پانی کا نکال دینا کافی ہو گیا۔

عَطَاءٍ، ← مَنْصُورٌ، ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 27

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 28

وما قدحدثنا حسين بن نصر ثنا الفريابي ثنا سفيان أخبرني جابر عن أبي الطفيل قال وقع غلام في زمزم فنزفت أي نزح ماؤها

جابر نے ابو الطفیل سے نقل کیا کہ زمزم میں ایک غلام گر پڑا پس اس کا تمام پانی نکالا گیا ۔

وقع غلام في زمزم فنزفت أي نزح ماؤها ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← جَابِرٍ ← سُفْيَانَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← وما قدحدثنا حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 28

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 29

31 - وما قد حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج بن المنهال قال ثنا حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن ميسرة أن عليا رضي الله عنه قال في بير وقعت فيها فأرة فماتت قال ينزح ماؤها وما قد

میسرہ بیان کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے اس کنوئیں کے متعلق جس میں چوہا گر کر مر جائے فرمایا اس کا تمام پانی نکالا جا ئے گا۔

ينزح ماؤها وما قد ← في بير وقعت فيها فأرة فماتت ← مَيْسَرَةَ، أَنَّ عَلِيًّا ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ ← وما قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 29

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 30

32 - حدثنا محمد بن حميد بن هشام الرعيني قال ثنا علي بن معبد قال ثنا موسى بن أعين عن عطاء عن ميسرة وذا ذان عن علي رضي الله عنه قال إذا سقطت الفأرة أو الدابة في البير فانزحها حتى يغلبك الماء

میسرہ اور زاذان نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب چوہا یا کوئی جانور کنوئیں میں گر پڑے تو تم اس کا تمام پانی نکال دو یہاں تک کہ پانی تم پر غالب آجائے یعنی غالب گمان ہو جائے کہ تمام پانی نکل گیا ہے ۔

إذا سقطت الفأرة أو الدابة في البير فانزحها حتى يغلبك الماء ← عَلِيٍّ، ← ميسرة وذا ذان ← عَطَاءٍ، ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← محمد بن حميد بن هشام الرعيني

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 30

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 31

33 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن أبي المهزم قال سألنا أبا هريرة عن الرجل يمر بالغدير أيبول فيه قال لا فإنه يمر به أخوه المسلم فيشرب منه ويتوضأ وإن كان جاريا فليبل فيه إن شاء وما قد

ابو المہزم کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے متعلق پوچھا جس کا گزر جوہڑ کے پاس سے ہو۔کیا وہ اس میں پیشاب کر سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں اس لیے کہ اسی جوہڑ پر اس کے مسلمان بھائی کا گزر ہو گا تو وہ اس سے ( ضرورت پڑنے پر ) پیئے گا اور وضو کرے گا( اگر اس نے پیشاب کردیا تو وہ ناپاک ہو گیا جبکہ وہ پانی جاری نہیں یا جاری کے حکم میں نہیں ) اور اگر وہ جاری ہو تو اگر وہ چاہے تو اس میں پیشاب کر سکتا ہے ( جاری پانی نجاست گرنے سے ناپاک نہیں ہوتا جب تک رنگ وغیرہ نہ بدلے )

الرجل يمر بالغدير أيبول فيه ← سألنا أبا هريرة ← أَبِي الْمُهَزِّمِ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 31

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 32

34 - حدثنا محمد قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن أيوب عن محمد عن أبي هريرة مثله

ایوب نے محمد کے واسطہ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَهُ. ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 32

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 33

35 - وما قد حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا سفيان عن زكريا عن الشعبي في الطير والسنور ونحوهما يقع في البير قال ينزح منها أربعون دلوا

زکریا نے امام شعبی نے پرندہ بلی اور ان جیسے جانوروں کے متعلق نقل کیا کہ اگر وہ کنوئیں میں گر جائیں تو چالیس ڈول نکالے جائیں گے۔

ينزح منها أربعون دلوا ← الشعبي في الطير والسنور ونحوهما يقع في البير ← زَکَرِیَّا، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← أَبُو بَکْرَةَ ← وما قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 33

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 34

36 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا الفريابي ثنا سفيان عن زكريا عن الشعبي قال ينزح منها أربعون دلوا

زکریا نے امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ( کہ جس کنوئیں میں ایسا جانور گر کر مر جائے) اس سے چالیس ڈول نکالے جائیں گے ۔

ينزح منها أربعون دلوا ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِیَّا، ← سُفْيَانَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 34

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 35

37 - وما قد حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم عن عبد الله بن سبرة الهمداني عن الشعبي قال يدلو منها سبعين دلوا

عبداللہ بن ہبرہ ہمدانی نے امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ( کہ ایسے کنوئیں سے ) ستر ڈول نکالے۔

يدلو منها سبعين دلوا ← الشَّعْبِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَبْرَةَ الْهَمْدَانِيِّ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن ← وما قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 35

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter