شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 4 باب سؤر بني آدم ) · حديث 72
77 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا الفريابي قال ثنا قيس بن الربيع عن عاصم بن سليمان عن سوادة بن عاصم أبو حاجب عن الحكم الغفاري قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن سؤر المرأة قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذه الآثار فكرهوا أن يتوضأ الرجل بفضل المرأة أو تتوضأ المرأة بفضل الرجل وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا بأس بهذا كله وكان مما احتجوا به في ذلك ما
حضرت حکم غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے جوٹھے پانی کے استعمال سے منع فرمایا ۔ ابو جعفر کہتے ہیں کہ بعض علماء ان آثار کی طرف گئےہیں اور انہوں نے عورت سے بچے ہوئے پانی سے وضو کو مرد کے بچے ہوئے پانی سے وضو کو مکروہ قرار دیا ہے دیگر علماء نے اس سلسلے میں ان کی مخالفت کی ہے اور انہوں نے کہا اس میں سے کسی میں بھی کچھ حرچ نہیں اور انہوں نے ان روایات کو دلیل بنایا ہے ۔
سؤر المرأة ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الحكم الغفاري ← سوادة بن عاصم أبو حاجب ← عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← الْفِرْيَابِيُّ، ← حسين بن نصر
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 72
