Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 26 باب الاستجمار بالعظام ) · حديث 720

697 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني يونس بن يزيد عن بن شهاب عن أبي عثمان بن سنة الخزاعي عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أن رسول الله نهى أن يستطيب أحد بعظم أو بروثة

ابو عثمان بن سنتہ الخزاعی نے کہا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی آدمی ہڈی یا گوبر سے پاکیزگی حاصل کرے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي عُثْمَانَ بْنِ سَنَّةَ الْخُزَاعِيِّ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 720

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 26 باب الاستجمار بالعظام ) · حديث 721

698 - حدثنا فهد قال ثنا جندل بن والق قال ثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم عن عبد الرحمن بن يزيد عن سلمان قال نهينا أن نستنجي بعظم أو رجيع

عبدالرحمان بن یزید نے کہا کہ سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں ہڈی اور گوبر ، انسانی غلاظت سے استنجاء کرنے سے منع کیا گیا ۔

نهينا أن نستنجي بعظم أو رجيع ← سَلْمَانَ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← حَفْصٌ، ← جَنْدَلُ بْنُ وَالِقٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 721

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 26 باب الاستجمار بالعظام ) · حديث 722

699 - حدثنا يونس قال أخبرني بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث عن موسى بن أبي إسحاق الأنصاري عن عبد الله بن عبد الرحمن عن رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه نهى أن يستطيب أحد بعظم أو روثة أو جلد

عبداللہ بن عبدالرحمان نے ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی یا گوبر یا چمڑے کے ساتھ استنجاء سے منع فرمایا ۔

رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُوسَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ الْأَنْصَارِيِّ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 722

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 26 باب الاستجمار بالعظام ) · حديث 723

700 - حدثنا حدثنا حسين بن نصر قال ثنا يحيى بن حسان قال ثنا سفيان بن عيينة عن محمد بن عجلان ح

سفیان بن عیینہ نے محمد بن عجلان سے اپنی سند کے ساتھ روایت نقل کی ہے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 723

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 26 باب الاستجمار بالعظام ) · حديث 724

وحدثنا أبو بكرة قال ثنا صفوان قال ثنا بن عجلان ح

صفوان نے کہا کہ ابن عجلان نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

بن عَجْلَانَ ← صَفْوَانُ؛ ← وحدثنا أبو بكرة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 724

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 26 باب الاستجمار بالعظام ) · حديث 725

وحدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا عفان قال ثنا وهيب قال ثنا بن عجلان عن القعقاع عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى أن يستنجي بروث أو رمة والرمة العظام

ابو صالح نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ گوبر یا بوسیدہ ہڈی سے استنجاء کیا جائے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ، ← بن عَجْلَانَ ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ، ← وحدثنا علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 725

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 26 باب الاستجمار بالعظام ) · حديث 726

701 - حدثنا محمد بن حميد وهشام الرعيني قال ثنا أصبغ بن الفرج قال ثنا بن وهب قال أخبرني حيوة بن شريح عن عياش بن عباس أن شييم بن بيتان أخبره أنه سمع رويفع بن ثابت الأنصاري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال له يا رويفع بن ثابت لعل الحياة ستطول بك فأخبر الناس أن من استنجي برجيع دابة أو عظم فإن محمدا منه بريء قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أنه لا يستنجي بالعظام وجعلوا المستنجي بها في حكم من لم يستنج واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لم ينه عن الاستنجاء بالعظم لأن الاستنجاء به ليس كالاستنجاء بالحجر وغيره ولكنه نهى عن ذلك لأنه جعل زادا للجن فأمر بنو آدم أن لا يقذروه عليهم وقد بين ذلك ما

عیاش بن عباس سے روایت ہے کہ شییم بن بیتان نے مجھے بتلایا کہ میں نے رویفع بن ثابت انصاری کو فرماتے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا اے رویفع بن ثابت ! شایدتو طویل زندگی پائے تو تم لوگوں کو اطلاع کر دو کہ جس نے گوبر سے یا ہڈی سے استنجاء کیا میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بری ہوں ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کچھ علماء کی رائے یہ ہے کہ ہڈیوں سے اتنجاء نہ کیا جائے چنانچہ انہوں نے ہڈیوں کو ان چیزوں سے قرار دیا جن سے استنجاء نہیں ہوتا اور ان روایات سے استدلال کیا ہے ۔ علماء کی دوسری جماعت کا مشرب یہ ہے کہ ہڈی کے ساتھ استنجاء کی ممانعت اس بناء پر نہیں کہ ان سے کیا جانے والا استنجاء شمار نہ ہو گا بلکہ اسکی ممانعت اس لیے ہے کہ یہ جنابت کا کھانا ہے پس آپ نے آدم کو حکم فرمایا کہ ہڈی کو نجاست کے ساتھ ملوث نہ کریں ان روایات میں یہ مضمون موجود ہے ۔

رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ ← أَنَّهُ ← عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ شُيَيْمَ بْنَ بَيْتَانَ، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← بن وَهْبٍ ← أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ← محمد بن حميد وهشام الرعيني

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 726

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 26 باب الاستجمار بالعظام ) · حديث 727

702 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا حفص بن غياث عن داود بن أبي هند عن الشعبي عن علقمة عن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تستنجوا بعظم ولا روث فإنها أزودة إخوانكم الجن

علقمہ نے عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہڈی سے استنجاء نہ کرو اور نہ ہی گوبر سے اس لیے کہ یہ تمہارے بھائی (اسلامی) جنات کا کھانا ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 727

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 26 باب الاستجمار بالعظام ) · حديث 728

703 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا عبد الوهاب بن عطاء عن داود بن أبي هند عن الشعبي عن علقمة عن بن مسعود أنه قال سألت الجن رسول الله صلى الله عليه و سلم في آخر ليلة لقيهم في بعض شعاب مكة الزاد فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم كل عظم يقع في أيديكم قد ذكر اسم الله عليه أوفر ما يكون لحما والبعر يكون علفا لدوابكم فقال إن بني آدم ينجسونه علينا فعند ذلك قال لا تستنجوا بروث دابة ولا بعظم إنه زاد إخوانكم من الجن

علقمہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نے (اسلام لانے کے بعد ) جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی رات کے آخری حصہ میں جبکہ آپ مکہ کی کسی گھاٹی میں ان سے ملے تو اپنے لیے زاد کا سوال کیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ ہڈی جو تمہارے ہاتھ آئے گی اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہوگا تو اس پر پہلے سے بڑھ کر گوشت پیدا کر دیا جائے گا اور مینگنی پر تمہارے جو پایوں کا چارا اگا دیا جائے گا انہوں نے شکایت کی کہ اولاد آدم اس کو پلید کر کے ہمارے استعمال کے قابل نہیں رہنے دیتے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے مسلمانو! تم گوبر سے استنجاء نہ کرو اور نہ ہڈی سے اس لیے کہ یہ تمہارے جن بھائیوں کا کھانا ہے ۔

بن مسعود أنه ← عَلْقَمَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 728

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 26 باب الاستجمار بالعظام ) · حديث 729

704 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أحمد بن محمد الأزرقي قال ثنا عمرو بن يحيى بن سعيد عن جده عن أبي هريرة رضي الله عنه قال اتبعت رسول الله صلى الله عليه و سلم وخرج في حاجة له وكان لا يلتفت فدنوت منه فأستأنست وتنحنحت فقال من هذا فقلت أبو هريرة فقال يا أبا هريرة ابغني أحجارا أستطيب بهن ولا تأتني بعظم ولا بروث قال فأتيته بأحجار أحملها في ملاة فوضعتها إلى جنبه ثم أعرضت عنه فلما قضى حاجته اتبعته فسألته عن الأحجار والعظم والروثة فقال إنه جاءني وفد نصيبين من الجن ونعم الجن هم فسألوني الزاد فدعوت الله لهم أن لا يمروا بعظم ولا بروث إلا وجدوا عليه طعاما

احمد بن محمد الازرقی کہتے ہیں ہمں عمرو بن یحییٰ بن سعید نے اپنے دادا سعید سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل دیا جبکہ آپ قضائے حاجت کے لیے نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے ( بلکہ سیدھے چلتے جاتے تھے ) میں نے چاہا کہ میری پہنچان ہو جائے میں نے بتکلف کھانسا۔ تو آپ نے توجہ کرتے ہوئے فرمایا تم کون ہو ؟ میں نے کہا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہوں آپ نے فرمایا اے حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ میرے لیے پتھر تلاش کر کے لاؤ تاکہ ان سے میں استنجاء کروں میرے پاس ہڈی اور گوبر مت لانا ۔ چنانچہ میں آپ کے پاس پتھر لایا جن کو میں بھر کر اٹھا لایا اور آپ کے پہلو میں رکھ کر پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک طرف ہٹ گیا جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہو چکے تو میں آپ کے پیچھے پیچھے چل دیا اور میں ے پتھروں ، ہڈی اور گوبر کے متعلق سوال کیا ( کہ پتھر سے استنجاء جائز اور ان دونوں سے کیوں کر ممنوع ہے )آپ نے فرمایا نصیبین کے جنات کا ایک وفد میرے پاس آیااور وہ بہت اچھے جنات تھے اور انہوں نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ ہمیں زاد راہ مہیا کیا جائے تو میں نے جناب باری میں دعا کی کہ ان کا گزر جس گوبر اور ہڈی پر ہو اس پر ان کا ( اور ان کے چوپایوں) کا کھانا مہیا کر دیا جا ئے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← جَدِّهِ، ← عمرو بن يحيى بن سعيد ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْرَقِيُّ، ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 729

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 26 باب الاستجمار بالعظام ) · حديث 730

705 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا سويد بن سعيد قال ثنا عمرو بن يحيى فذكر بإسناده مثله فثبت بهذه الآثار أن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما نهى عن الاستنجاء بالعظام لمكان الجن لا لأنها لا تطهر كما يطهر الحجر وجميع ما ذهبنا إليه من الاستنجاء بالعظام أنه يطهر قول حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمهم الله تعالى

سوید بن سعید کہتے ہیں ہمیں عمرو بن یحییٰ نے اپنی سند سے اسی طرح روایت بیان کی ہے ۔ ان آثار سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی کے ساتھ استنجاء کی ممانعت جنابت کی وجہ سے فرمائی ۔ اس بناء پر نہیں کہ یہ پتھروں کی طرح طہارت کا فائدہ نہیں دیتی ہڈی کے ساتھ استنجاء کے سلسلہ میں ہم نے جو کچھ بیان کیا یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف و محمد بن الحسن رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے ۔

عمرو بن يحيى فذكر بإسناده مثله فثبت بهذه الآثار ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 730

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 27 باب الجنب يريد النوم أو الأكل أو الشرب أو الجماع ) · حديث 731

706 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر قال ثنا سفيان قال حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عاصم قال ثنا سفيان عن أبي إسحاق عن الأسود عن عائشة عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان ينام وهو جنب ولا يمس الماء

اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں سو رہتے اور پانی کو بالکل نہ چھوتے ۔

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو بَکْرَةَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 731

chevron_left Previous
1…606162…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter