Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 25 باب الاستجمار ) · حديث 708

688 - حدثنا محمد بن حميد قال حدثني عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني هشام بن سعد عن أبي حازم عن مسلم بن قرط أنه سمع عروة يقول حدثتني عائشة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إذا خرج أحدكم إلى الغائط فليذهب بثلاثة أحجار يستنظف بها فأنها ستكفيه

ابو حازم نے مسلم بن قرط سے روایت کی ہے کہ انہوں نے عروہ کو فرماتے سنا کہ مجھے عائشہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم پائخانہ کی طرف جاؤ تو تین پتھر ساتھ لے جاؤ جن سے نطافت حاصل کر ووہ اس کے لیے کفایت کر جائیں گے۔

حَدَّثَتْنِي عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مسلم بن قرط أنه ← أَبِي حَازِمٍ ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 708

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 25 باب الاستجمار ) · حديث 709

689 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا سليمان بن حرب قال ثنا شعبة عن منصور ح

شعبہ نے منصور سے اپنی سند سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 709

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 25 باب الاستجمار ) · حديث 710

وحدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو الوليد قال ثنا شعبة قال قرأت على منصور ح

شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے منصور پر یہ روایت پڑھی انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

على منصور ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← وحدثنا أبو بكرة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 710

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 25 باب الاستجمار ) · حديث 711

وحدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب عن شعبة عن منصور عن هلال بن يساف عن سلمة بن قيس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال من استجمر فليوتر

ہلال بن یساف نے سلمہ بن قیس سے انہوں نے ابن قیس رضی اللہ عنہ سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح نقل کیا جو استنجاء بن یساف نے سلمہ بن قیس سے انہوں نے ابن قیس رضی اللہ عنہ سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح نقل کیا جو استنجاء کرے وہ تین ڈھیلے استعمال کرے۔

من استجمر فليوتر ← النبي صلى الله عليه و سلم ← سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← وحدثنا بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 711

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 25 باب الاستجمار ) · حديث 712

690 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا صفوان بن عيسى قال ثنا محمد بن عجلان ح

ابو بکرہ نے بتایا کہ صفوان بن عیسیٰ کہتے ہیں کہ محمد بن عجلان نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 712

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 25 باب الاستجمار ) · حديث 713

وحدثنا علي بن عبد الرحمن بن محمد بن المغيرة الكوفي قال ثنا عفان قال ثنا وهيب عن بن عجلان قال ثنا القعقاع بن حكيم عن أبي صالح عن أبي هريرة قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يأمرنا بثلاثة أحجار يعني في الاستجمار

ابو صالح نے بیان کیا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تین پتھروں کے استعمال کا حکم فرماتے یعنی استنجاء کے لیے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← بن عَجْلَانَ ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ، ← علي بن عبد الرحمن بن محمد بن المغيرة الكوفي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 713

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 25 باب الاستجمار ) · حديث 714

691 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا عبد الرحمن بن سليمان عن هشام بن عروة عن عمرو بن خزيمة عن عمارة بن خزيمة عن خزيمة بن ثابت قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم في الاستجمار بثلاثة أحجار ليس فيها رجيع

عمارہ بن خزیمہ نے بیان کیا کہ خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استنجاء کے سلسلہ میں تین ڈھیلوں کا حکم فرمایا جن میں گوبر نہ ہو۔

خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ ← عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← عَمْرِو بْنِ خُزَيْمَةَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 714

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 25 باب الاستجمار ) · حديث 715

692 - حدثنا فهد قال ثنا جندل بن والق قال ثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم عن عبد الرحمن بن يزيد عن سليمان قال نهينا أن نكتفي بأقل من ثلاثة أحجار فذهب قوم إلي أن الاستجمار لا يجزي بأقل من ثلاثة أحجار واحتجوا في ذلك بما ذكرنا من هذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ما استجمر به منها فأنقي به الأذى ثلاثة كانت أو أكثر منها أو أقل وترا كانت أو غير وتر كان ذلك طهره وكان من الحجة لهم في ذلك أن أمر النبي صلى الله عليه و سلم في هذا بالوتر يحتمل أن يكون ذلك على الاستحباب منه للوتر لا على أن ما كان غير وتر لا يطهر ويحتمل أن يكون أراد به التوقيت الذي لا يطهر ما هو أقل منه فنظرنا في ذلك هل نجد فيه ما يدل على شيء من ذلك فإذا يونس قد

عبدالرحمان بن یزید نے کہا کہ سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہمیں اس سے منع کیا گیا کہ ہم تین سے کم ڈھیلوں پر اکتفاء کریں کچھ علماء اس طرف گئے ہیں تین پتھروں سے کم تعداد کے ساتھ استنجاء کا فی نہیں ، انہوں نے اس سلسلہ میں ان آثار سے خصوصا استدلال کیا ہے ۔ مگر علماء کی دوسری جماعت کہتی ہے کہ جس قدر پتھروں سے وہ استنجاء کرے ان سے ازالہ نجاست ہو خواہ تین ہوں یا زیادہ یا کم طاق ہو یا جفت اس سے طہارت حاصل ہو جائے گی اور اس سلسلہ میں ان کی دلیل یہ بھی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں طاق کا حکم فرمایا اور اس میں احتمال یہ ہے کہ طاق کا عدد بطور استحباب ہو یہ نہیں کہ اگر طاق عدد نہ ہوں تو اس سے طہارت حاصل نہ ہو گی پس ہم نے اس میں غور و فکر کی کہ آیا کوئی روایت ایسی موجود ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہو تو یونس رحمۃ اللہ علیہ کی یہ روایت مل گئی ملاحظہ ہو ۔

سُلَیْمَانَ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← حَفْصٌ، ← جَنْدَلُ بْنُ وَالِقٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 715

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 25 باب الاستجمار ) · حديث 716

693 - حدثنا قال ثنا يحيى بن حسان قال حدثني عيسى بن يونس قال ثنا ثور بن يزيد عن حصين الحبراني عن أبي سعيد عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من اكتحل فليوتر من فعل فقد أحسن ومن لا فلا حرج ومن استجمر فليوتر من فعل فقد أحسن ومن تخلل فليلفظ ومن لاك بلسانه فليبتلع من فعل هذا فقد أحسن ومن لا فلا حرج ومن أتي الغائط فليستتر فإن لم يجد إلا كثيبا يجمعه فليستتر به فإن الشيطان يتلاعب بمقاعد بني آدم

حصین الجرانی نے ابو سعید سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو تم میں سے سرمہ لگائے وہ طاق کا لحاظ کرے جس نے طاق کا لحاظ کر لیا اس نے خوب کیا اور جس نے نہ کیا تو کوئی گناہ نہیں ( اسی طرح ) جو استناء کرے تو وہ طاق کا لحاظ رکھے جس نے ایسا کیا اس نے خؤب کام کیا اور جس نے خلال کیا وہ دانتوں سے نکلی چیز کو پھینک دے اور جس نے زبان سے کوئی چیز چاٹ کر نکالی اسے نگل لے جس نے ایسا کیا اس نے خوب کیا اور جس نے نہ کیا تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں اور شخص پائخانہ کے لیے جائے تو وہ چھپ کر کرے اگر کوئی جگہ میسر نہ آئے ریت کا چھوٹا ٹیلہ بنا کر اس کی اوٹ لے لے اس کے لیے کہ شیطان بنی آدمی کی شرمگاہوں سے کھیلتا اور مذاق اڑاتا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← حُصَيْنٍ الْحُبْرَانِيُّ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 716

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 25 باب الاستجمار ) · حديث 717

694 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن ثور بن يزيد قال ثنا حصين الحميري قال حدثني أبو سعد الخير عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله وزاد من استجمر فليوتر من فعل فقد أحسن ومن لا فلا حرج فدل ذلك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما أمر بالوتر في الآثار الأول استحبابا منه للوتر لا أن ذلك من طريق الفرض الذي لا يجزيء إلا هو وقد روي عن عبد الله بن مسعود عن النبي صلى الله عليه و سلم ما قد بين ذلك أيضا

ابو سعد الخیر نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے البتہ یہ الفاظ زائد ہیں : من استحمر فلیوتر من فعل فقد احسن ومن لا فلا حرج ۔ جو استنجاء کرے تو وہ طاق پتھر استعمال میں لائے جس نے اس طرح کیا اس نے خوب کیا اور جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ پس اس سے یہ دلالت میسر آئی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےطاق کا حکم بطور استحباب دیا بطور فرض نہیں کہ اس کے بغیر حصول طہارت ہی نہ ہو اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہماری تائید ہوتی ہے ۔ ملاحظہ کریں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَعْدٍ الْخَيْرُ ← حُصَيْنٍ الْحِمْيَرِيِّ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 717

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 25 باب الاستجمار ) · حديث 718

695 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا مسدد قال ثنا يحيى بن سعيد عن زهير قال أخبرني أبو إسحاق عن عبد الرحمن بن الأسود عن أبيه عن عبد الله بن مسعود قال كنت مع النبي صلى الله عليه و سلم فأتي الغائط فقال إيتني بثلاثة أحجار فالتمست فلم أجد إلا حجرين وروثة فألقى الروثة وأخذ الحجرين وقال إنها ركس

اسود نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ پ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے اور فرمایا مجھے تین پتھر لا دو میں نے پتھر تلاش کیے تو وہاں دو پتھر بمشکل ملے اور ایک گوبر کی مینگنی پائی ( میں وہ لے آیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینگنی کو پھینک دیا اور دونوں پتھروں کو لے لیا اور فرمایا یہ گوبر گندگی ہے ۔

كنت مع النبي صلى الله عليه و سلم فأتي الغائط ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← زُهَيْرٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 718

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 25 باب الاستجمار ) · حديث 719

696 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا زهير بن عباد قال ثنا يزيد بن عطاء عن أبي إسحاق عن علقمة والأسود قالا قال بن مسعود فذكر نحوه ففي هذا الحديث ما يدل أن النبي صلى الله عليه و سلم قعد للغائط في مكان ليس فيه أحجار لقوله لعبد الله ناولني ثلاثة أحجار ولو كان بحضرته من ذلك شيء لما احتاج إلى أن يناوله من غير ذلك المكان فلما أتاه عبد الله بحجرين وروثة فألقى الروثة وأخذ الحجرين دل ذلك على استعماله الحجرين وعلى أنه قد رأى أن الاستجمار بهما يجزيء مما منه الاستجمار بالثلاث لأنه لو كان لا يجزيء الاستجمار بما دون الثلاث لما اكتفى بالحجرين ولأمر عبد الله أن يبغية ثالثا ففي تركه ذلك دليل على اكتفائه بالحجرين فهذا وجه هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار وأما من طريق النظر فإنا رأينا الغائط والبول إذا غسلا بالماء مرة فذهب بذلك أثرهما أو ريحهما حتى لم يبق من ذلك شيء أن مكانهما قد طهر ولو لم يذهب بذلك لونهما ولا ريحهما احتيج إلى غسله ثانية فإن غسل ثانية فذهب لونها وريحهما طهر بذلك كما يطهر بالواحدة ولو لم يذهب لونهما ولا ريحهما يغسل مرتين احتيج إلى أن يغسل بعد ذلك حتى يذهب لونهما وريحهما فكان ما يراد في غسلهما هو ذهابهما بما أذهبهما من الغسل ولم يرد في ذلك مقدار من الغسل معلوم لا يجزيء ما هو أقل منه فالنظر على ذلك أن يكون كذلك الاستجمار بالحجارة لا يراد من الحجارة في ذلك مقدار معلوم لا يجزيء الاستجمار بأقل منه ولكن يجزيء من ذلك ما أذهب بالنجاسة مما قل أو كثر وهذا هو النظر وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمهم الله تعالى

اور بو سحاق نے نقل کیا کہ علقمہ واسود دونوں نے کہا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کی روایت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے ۔ اس روایت میں اس بات پر دلالت ہے کہ آپ قضائے حاجت کے لیے ایسی جگہ بیٹھے جہاں پتھر نہ تھے اس لیے کہ آپ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرمایا مجھے تین پتھر لا کر دو۔ اگر وہاں پتھر ہوتے تو دوسرے سے منگوانے کی چنداں حاجت نہ تھی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں دو پتھر اور مینگنی پیش کی ۔ آپ نے پتھر لے لیے اور مینگنی کو پھینک دیا۔ اس سے یہ دلالت میسر آگئی کہ آپ نے دو پتھر استعمال فرمائے اور دوسری یہ دلالت ملی کہ آپ ان دو پتھروں سے استنجا ء کو کافی سمجھتے تھے و تین کی جگہ کام دے جائیں ۔ اگر تین کے بغیر استنجاء درست نہ ہوتا تو آپ دو پتھروں پر اکتفاء نہ فرماتے بلکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو حکم فرماتے کہ تیسر پتھر بھی تلاش کر کے لاؤ۔ آپ کا تیسرا پتھر کو چھوڑ دینا دو پتھروں کے کافی ہونے کو ثابت کرتا ہے ۔ آثار کے معنی کو درست کرنے کی خاطر اس باب کا راستہ یہ ہے ۔غور وفکر کے انداز سے ملاحظہ کریں ۔ ہم نے بول و براز کے متعلق غور کیا کہ اگر ان کو پانی کے ساتھ دھویا جائے تو ان کا اثر اور بدبو وغیرہ دور ہو جاتی ہے یہاں تک کہ وہاں کوئی چیز نہیں رہتی تو وہ جگہ یا کپڑا پاک ہو جاتا ہے اور اگر اس سے انکا رنگ اور بو زائل نہ ہو تو دوبارہ دھونے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اگر دو مرتبہ دھو ڈالنے سے اس کی رنگت اور بدبو چلی جائے تو اس صورت میں بھی پاک ہو جائے گا جس طرح کہ ایک مرتبہ دھونے سے پاک ہو گیا تھا ۔ اور دو مرتبہ دھونے سے بھی رنگ اور بو کا ازالہ نہیں ہوتا تو پھر ایک بار پھر دوھونے کی حاجت پڑے گی تاکہ ان نجاستوں کی رنگت اور بو زائل ہو جائے ۔ گویا دوھونے سے جو چیز مقصود ہے وہ ان نجاسات کو ازالہ ہے جس قدر دھونے سے ازالہ ہو جائے دھونے کی کوئی مقدار مقرر نہیں ہے کہ اس سے کم کفایت نہ کرتا ہو ۔ (بلکہ اتنی مقدار کو پورا کرنا ضروری ہو)۔ پس نظر کا تقاضا یہی ہے کہ پتھروں سے ازالہ نجاست کے وقت بھی پتھروں کی مقررہ مقدارمعلوم نہیں کہ ان سے کم کے ساتھ استنجاء نہ ہو سکتا ہو بلکہ جس قدر پتھر کافی ہوں جن سے ازالہ نجاست ہو خواہ کم ہوں یا زیادہ ،قیاس اسی بات کو چاہتا ہے ۔ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ،محمد بن الحسن رحمۃ اللہ علیہم کا یہی قول ہے ۔

بن مسعود فذكر نحوه ففي هذا الحديث ما يدل ← عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، ← زُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 719

chevron_left Previous
1…596061…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter