Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 3 باب سؤر الكلب ) · حديث 60

وحدثنا حسين بن نصر قال ثنا الفريابي قال ثنا الأوزاعي قال حدثني بن شهاب قال ثنا سعيد بن المسيب أن أبا هريرة كان يقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا قام أحدكم من الليل فلا يدخل يده في الإناء حتى يفرغ عليه مرتين أو ثلاثا فإنه لا يدري أحدكم أين باتت يده

حضرت سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی رات کو بیدار ہوتو وہ اپنا ہاتھ برتن میں مت ڈالے جب تک کہ اس پر دو تین مرتبہ پانی نہ ڈال لے وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات کو کون کون سے جگہ لگا ہے ۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ کَانَ ← بن شِهَابٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْفِرْيَابِيُّ، ← وحدثنا حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 60

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 3 باب سؤر الكلب ) · حديث 61

65 - حدثنا بن أبي داود وفهد قالا ثنا أبو صالح قال حدثني الليث بن سعد قال حدثني عبد الرحمن بن خالد بن مسافر قال حدثني بن شهاب عن سعيد وأبي سلمة عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

سعید و ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد اسی طرح نقل کیا ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ، ← بن شِهَابٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو صَالِحٍ، ← بن أبي داود وفهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 61

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 3 باب سؤر الكلب ) · حديث 62

66 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عبد الله بن رجاء قال أنا زائدة بن قدامة عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد اسی طرح نقل کیا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 62

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 3 باب سؤر الكلب ) · حديث 63

67 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أحمد بن عبد الله بن يونس قال ثنا أبو شهاب عن الأعمش عن أبي صالح وأبي رزين عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه قال فليغسل يديه مرتين أو ثلاثا

ابو صالح اور ابو رزین نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد اسی طرح نقل کیا ہے البتہ یہ الفاظ مخلف ہیں ۔ فلیغسل یدیہ مرتین اوثلاثا کہ وہ اپنے دونوں ہاتھ دو یا تین مرتبہ دھو لے۔

فليغسل يديه مرتين أو ثلاثا ← رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ وَأَبِي رَزِينٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو شِهَابٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 63

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 3 باب سؤر الكلب ) · حديث 64

68 - حدثنا بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن محمد عن عمرو وعن أبي سلمة عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد اسی طرح نقل کیا ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عمرو وعن أبي سلمة ← مُحَمَّدٍ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 64

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 3 باب سؤر الكلب ) · حديث 65

69 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أصبغ بن الفرج قال ثنا بن وهب عن جابر بن إسماعيل عن عقيل عن بن شهاب عن سالم عن أبيه أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا قام من النوم أفرغ على يديه ثلاثا قالوا فلما روي هذا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في الطهارة من البول لأنهم كانوا يتغوطون أي يقضون حاجتهم ويبولون ولا يستنجون بالماء فأمرهم بذلك إذا قاموا من نومهم لأنهم لا يدرون أين باتت أيديهم من أبدانهم وقد يجوز أن يكون كانت في موضع قد مسحوه من البول أو الغائط فيعرقون فتنجس بذلك أيديهم فأمرهم النبي صلى الله عليه و سلم بغسلها ثلاثا وكان ذلك طهارتها من الغائط أو البول إن كان أصابها فلما كان ذلك يطهر من البول والغائط وهما أغلظ النجاسات كان أحرى أن يطهر بما دون ذلك من النجاسات [ ص 23 ] وقد دل على ما ذكرنا من هذا ما قد روي عن أبي هريرة من قوله بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم كما قد حدثنا إسماعيل بن إسحاق قال ثنا أبو نعيم قال ثنا عبد السلام بن حرب عن عبد الملك عن عطاء عن أبي هريرة في الإناء يلغ فيه الكلب أو الهر قال يغسل ثلاث مرار فلما كان أبو هريرة قد رأى ان الثلاثة يطهر الإناء من ولوغ الكلب فيه وقد روي عن النبي صلى الله عليه و سلم ما ذكرنا ثبت بذلك نسخ السبع لأنا نحسن الظن به فلا نتوهم عليه أنه يترك ما سمعه من النبي صلى الله عليه و سلم إلا إلى مثله وإلا سقطت عدالته فلم يقبل قوله ولا روايته ولو وجب أن يعمل بما روينا في السبع ولا يجعل منسوخا لكان ما روى عبد الله بن المغفل في ذلك عن النبي صلى الله عليه و سلم أولى مما روى أبو هريرة لأنه زاد عليه

سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نیند سے بیدار ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھوں پر تین مرتبہ پانی ڈالتے ۔ انہوں نے کہا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیشاب سے طہارت کرنے میں یہ روایات آئی ہیں کیونکہ وہ لوگ پاخانہ اور پیشاب کر کے استنجا نہ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم فرمایا کہ جب وہ اپنی نیند سے بیدار ہوں تو چونکہ انہیں معلوم نہیں کہ ان کا ہاتھ اس کے بدن میں کس جگہ لگا؟ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ایسی جگہ میں چھو گیا ہو جو پیشاب اور پاخانے والی ہو اور پسینہ آنے کی وجہ سے ان کے ہاتھ پلید ہو جائیں تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تین مرتبہ دھونے کا حکم دیا اور پیشاب اور پاخانے کے وقت جب وہ ہاتھ کولگ جائے تو اس کی طہارت اسی طرح ہے پس جب پیشاب اور پاخانے سے ہاتھ تین مرتبہ دھونے سے پاک ہو جاتا ہے حالانکہ یہ دونوں نجاست غلیظہ ہیں تو یہ زیادہ لائق ہے کہ جو نجاست اس سے کم درجہ ہو اس میں وہ پاک ہو اور جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس قول میں مروی ہے جو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد فرمایا کہ اسماعیل بن اسحق نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے برتن کے بارے میں نقل کیا کہ جب اس میں کتا یا بلی منہ ڈال دے تو فرمایا تین مرتبہ دھو یا جائے جب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا خیال یہ ہے کہ کتے کے پانی میں منہ ڈالنے سے برتن تین مرتبہ دھونے سے پاک ہو جاتا ہے اور دوسری طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے وہ روایت کی جو ہم نے ذکر کی ہے تو اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ یہ سات مرتبہ کا دھونا منسوخ ہو چکا کیونکہ ہم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہیں اور یہ وہم بھی نہیں کر سکتے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو چھوڑ دیا ہو سوائے اس کےجو ہم نے بیان کیا، ورنہ ان کی عدالت ساقط ہو جائے گی اور ان کا قول اور روایت قابل قبول نہ ہو گی اگر بالفرض سات والی روایت پر عمل کو واجب قرار دیا جائے اور اس کو منسوخ نہ کہا جائے تو جو روایت حضرت عبداللہ بن مغفل نے جناب بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے اولی ہے کیونکہ اس میں اس کی نسبت اضافہ ہے ۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← بن وَهْبٍ ← أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 65

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 3 باب سؤر الكلب ) · حديث 66

71 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا سعيد بن عامر ووهب بن جرير قالا ثنا شعبة عن أبي التياح عن مطرف بن عبد الله عن عبد الله بن المغفل أن النبي صلى الله عليه و سلم أمر بقتل الكلاب ثم قال مالي والكلاب ثم قال إذا ولغ الكلب في إناء أحدكم فليغسله سبع مرات وعفروا الثامنة بالتراب

مطرف بن عبداللہ حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" مالی والکلاب" مجھے کتوں سے کیا واسطہ ۔ یعنی ان کو قتل کرنا چھوڑ دو جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دوھونا چاہیے اور آٹھویں مرتبہ اسے مٹی سے مانجھو ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ1 الْمُغَفَّلِ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبِي التَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← سعيد بن عامر ووهب بن جرير ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 66

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 3 باب سؤر الكلب ) · حديث 67

72 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب عن شعبة فذكر مثله فهذا عبد الله بن المغفل قد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه يغسل سبعا ويعفر الثامنة بالتراب وزاد على أبي هريرة والزائد أولى من الناقص فكان ينبغي لهذا المخالف لنا أن يقول لا يطهر الإناء حتى يغسل ثماني مرات السابعة بالتراب والثامنة كذلك ليأخذ بالحديثين جميعا فإن ترك حديث عبد الله بن المغفل فقد لزمه ما ألزمه خصمه في تركه السبع التي قد ذكرنا وإلا فقد بينا أن أغلظ النجاسات يطهر منها غسل الإناء ثلاث مرات فما دونها أحرى أن يطهره ذلك أيضا ولقد قال الحسن في ذلك بما روى عبد الله بن المغفل

شعبہ نے بھی عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ یہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ ہیں جوجناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سات مرتبہ دھونے والی اور آٹھویں مرتبہ مٹی کے ساتھ صاف کرنے والی روایت نقل کرتے ہیں اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں اضافہ فرماتے ہیں اور زائد روایت ناقص سے اولی ہے چنانچہ ہمارے مخالف کے لیے اولیٰ یہ ہے کہ وہ اس طرح کہے کہ برتن اس وقت تک پاک نہیں ہوتا جب تک آٹھ مرتبہ دھویا نہ جائے اور ان میں ساتویں بار مٹی اور آٹھویں بار بھی مٹی سے ہوتا کہ دونوں حدیثوں پر عمل ہو جائے اور اگر وہ حدیث عبداللہ بن مغفل کو ترک کرتے ہیں تو اس پر بھی وہی لازم ہو گا جو سات والی روایت کے چھوڑنے سے ان کے مخالف پر لازم ہو گا ۔یہ روایت ہم ذکر کر چکے اور ہم نے بیان کر دیا کہ غلیظ ترین نجاستوں سے برتن تین مرتبہ دھونے سے پاک ہو جاتا ہے تو اس سے کم درجہ نجاستیں اس بات کے زیادہ لائق ہیں کہ پانی ان کو پاک کر کر دے اور حسن بصری نے وہی بات کہی ہے جو حضرات عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔

مثله فهذا عبد الله بن المغفل قد روى ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 67

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 3 باب سؤر الكلب ) · حديث 68

73 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود ثنا أبو حيوة عن الحسن قال إذا ولغ الكلب في الإناء غسل سبع مرات والثامنة بالتراب وأما النظر في ذلك فقد كفانا الكلام فيه ما بينا من حكم اللحمان في باب سؤر الهر وقد ذهب قوم في الكلب يلغ في الإناء أن الماء طاهر ويغسل الإناء سبعا وقالوا إنما ذلك تعبد تعبدنا به في الآنية خاصة فكان من الحجة عليهم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما سئل عن الحياض التي تردها السباع فقال إذا كان الماء قلتين لم يحمل خبثا [ ص 24 ] فقد دل ذلك أنه إذا كان دون القلتين حمل الخبث ولولا ذلك لما كان لذكر القلتين معني ولكان ما هو أقل منهما وما هو أكثر سواء فلما جرى الذكر على القلتين ثبت أن حكمها خلاف حكم ما هو دونهما فثبت بهذا من قول رسول الله صلى الله عليه و سلم أن ولوغ الكلب في الماء ينجس الماء وجميع ما بينا في هذا الباب هو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى الله تعالى

ابو حیوہ نقل کرتے ہیں کہ حضرت حسن سے ولوغ کلب کا مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا "جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں مرتبہ مٹی سے مانجھ دو " امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ بھی اسی طرح منقول ہے ۔ البتہ نظر و فکر کے طور پر اس سلسلے میں ہمیں وہ کلام کافی ہے جو باب " سورالہر " میں گوشتوں کے سلسلے میں بیان کیا گیا ۔ بعض لوگوں نے کتے کے متعلق جبکہ وہ برتن میں منہ ڈال دے یہ بات کہی ہے کہ پانی تو پاک ہے مگر برتن کو سات مرتبہ دوھیا جائے گا اور انہوں نے یہ کہا کہ یہ حکم تعبدی ہے جس کو ہم خاص طور پر برتنوں کے سلسلے میں بطور تعمیل حکم ادا کریں گے۔ ان کے خلاف ہمارے پاس جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بطور دلیل موجود ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان جوہڑو نے متعلق جن پر درندے آتے جاتے ہیں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب پانی دو قلوں کی مقدار کو پہنچ جائے تو وہ نجاست کو نہیں اٹھاتا تو اس ارشاد سے یہ دلالت مل گئی کہ جب وہ دو مٹکوں سے کم ہو گا تو نجاست کو اٹھائے گا اگر یہ بات تسلیم نہ کی جائے تو مٹکوں کے تذکرے کا کوئی معنی ہی نہیں بنتا اور اس صورت میں اس سے کم اور زیادہ حکم میں یکساں ہیں ۔ جب دو قلوں کا تذکرہ فرمایا تو اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ ان کا حکم ان سے کم پانی کے حکم کے خلاف ہے۔ پس اس قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو گیا کہ کتے کا پانی میں منہ ڈالنا پانی کو پلید کردیتا ہے اور اس باب میں جو کچھ ہم نے بیان کیا یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد کا قول ہے۔

الْحَسَنِ، ← أَبُو حَيْوَةَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 68

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 4 باب سؤر بني آدم ) · حديث 69

74 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا المعلى بن أسد قال ثنا عبد العزيز بن المختار عن عاصم الأحول عن عبد الله بن سرجس قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يغتسل الرجل بفضل المرأة والمرأة بفضل الرجل ولكن يشرعان جميعا

حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ مرد عورت کے اور عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل کریں لیکن یہ کہ دونوں اکٹھا شروع کریں ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ← الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 69

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 4 باب سؤر بني آدم ) · حديث 70

75 - حدثنا أحمد بن داود بن موسى قال ثنا مسدد قال ثنا أبو عوانة عن داود بن عبد الله الأودي عن حميد بن عبد الرحمن قال لقيت من صحب النبي صلى الله عليه و سلم كما صحبه أبو هريرة أربع سنين قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر مثله

حمید بن عبدالرحمان کہتے ہیں میں ایسے شخص سے ملا جس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح چار سال تک نبوت کی صحبت اٹھائی تھی ( ان سے میں نے استفار کیا تو انہوں نے ) فرمایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا اور پہلی روایت کی مثل روایت نقل کی ۔

حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُسَدَّدٌ ← أحمد بن داود بن موسى

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 70

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 4 باب سؤر بني آدم ) · حديث 71

76 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا عبد الوهاب بن عطاء عن شعبة عن عاصم الأحول قال سمعت أبا حاجب يحدث عن الحكم الغفاري قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يتوضأ الرجل بفضل المرأة أو بسؤر المرأة لا يدري أبو حاجب أيهما قال

حضرت حکم غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی عورت کے بچے ہوئے یا جوٹھے پانی سے وضو کرے ابو حاجب کو شک ہے کہ حضرت حکم رضی اللہ عنہ نے سور المراہ فرمایا یا فضل المراۃ فرمایا۔

الحكم الغفاري ← أَبَا حَاجِبٍ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 71

chevron_left Previous
1…567…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter