Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 24 باب غسل يوم الجمعة ) · حديث 684

666 - حدثنا يونس قال ثنا أنس بن عياض عن يحيى بن سعيد ح وحدثنا محمد بن الحجاج قال ثنا علي بن معبد قال ثنا عبيد الله عن يحيى قال سألت عمرة عن غسل يوم الجمعة فذكرت أنها سمعت عائشة رضي الله عنها تقول كان الناس عمال أنفسهم فيروحون بهيئاتهم فقال لو اغتسلتم فهذه عائشة رضي الله عنها تخبر بأن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما كان ندبهم إلى الغسل للعلة التي أخبر بها بن عباس رضي الله عنهما وأنه لم يجعل ذلك عليهم حتما وهي أحد من روينا عنها في الفصل الأول أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يأمر بالغسل في ذلك اليوم وقد روي عن عمر بن الخطاب ما يدل على أن ذلك لم يقع عنده موقع الفرض

عبیداللہ نے یحییٰ کہتے ہیں میں نے عمرہ سے جمعہ کے دن غسل کے سلسلہ میں سوال کیا اس نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے سنا کہ لوگ خود اپنا کام کاج کرتے تھے وہ اپنی اسی حالت میں مسجد میں آجاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو غسل کا حکم فرمایا ۔

عائشة تقول كان الناس عمال أنفسهم فيروحون بهيئاتهم ← غسل يوم الجمعة فذكرت أنها ← سَأَلْتُ عُمْرَةَ ← يَحْيَى ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 684

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 24 باب غسل يوم الجمعة ) · حديث 685

667 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا هشام بن حسان عن محمد بن سيرين عن بن عباس أن عمر رضي الله عنه بينما هو يخطب يوم الجمعة إذ أقبل رجل فدخل المسجد فقال له عمر الآن حين توضأت فقال ما زدت حين سمعت الأذان على أن توضأت ثم جئت فلما دخل أمير المؤمنين ذكرته فقلت يا أمير المؤمنين أنا سمعت ما قال قال وما قال قلت قال ما زدت على أن توضأت حين سمعت النداء ثم أقبلت فقال أما إنه قد علم أنا أمرنا بغير ذلك قلت ما هو قال الغسل قلت أنتم أيها المهاجرون الأولون أم الناس جميعا قال لا أدري

محمد بن سیرین نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے جبکہ ایک آدمی آیا وہ مسجد میں داخل ہوا تو ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس وقت تم نے وضو کیا ہے ۔ انہوں نے کہا میں نے جب اذان سنی تو صرف وضو کر کے میں آگیا جب امیر المومنین داخل ہوئے تو میں نے ان سے تذکرہ کیا میں نے کہا اے امیر المومنین میں نے اس کی بات سنی انہوں نے کہا اس نے کیا کہا ہے؟ میں نے کہا اس نے کہا ہےکہ میں نے جوں ہی اذان سنی تو وضؤ کر کے مسجد آگیا ہوں تو امیر المومنین کہنے لگے ان کو معلوم ہے کہ ہمیں اس کے علاوہ کا حکم ہے میں نے کہا وہ علاوہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا وہ غسل ہے میں نے پوچھا کیا تم مہاجرین اولین کو حکم ہےیا سب لوگوں کو انہوں نے کہا مجھے معلوم نہیں ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 685

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 24 باب غسل يوم الجمعة ) · حديث 686

668 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن سالم بن عبد الله قال دخل رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم المسجد يوم الجمعة وعمر بن الخطاب رضي الله عنه يخطب فقال عمر رضي الله عنه أية ساعة هذه فقال يا أمير المؤمنين انقلبت من السوق فسمعت النداء فما زدت على أن توضأت فقال عمر الوضوء أيضا وقد علمت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يأمر بالغسل قال مالك والرجل عثمان بن عفان رضي الله عنه

ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے اس وقت مسجد نبوی میں داخل ہوئے جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا یہ آنے کا کون سا وقت ہے ؟ انہوں نےکہا امیر المومنین ! میں بازار سے واپس لوٹا تو میں نے اذان سنی پس میں وضو کر کے مسجد میں آگیا ہوں عمر کہنے لگے وضو صرف ! تم جانتے ہو کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے غسل کا حکم فرماتے تھے مالک کہتے ہیں یہ آنے والے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 686

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 24 باب غسل يوم الجمعة ) · حديث 687

669 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عبد الله بن محمد بن أسماء قال ثنا جويرية عن مالك عن الزهري عن سالم عن أبيه مثله غير أنه لم يذكر قول مالك أنه عثمان رضي الله عنه

سالم نے اپنے والد سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے البتہ اس روایت میں مالک کا یہ قول مذکور نہیں کہ وہ عثمان رضی اللہ عنہ ہیں ۔

أبيه مثله غير أنه لم يذكر قول مالك أنه عثمان ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَالِكٍ، ← جُوَيْرِيَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 687

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 24 باب غسل يوم الجمعة ) · حديث 688

670 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا حسين بن مهدي قال ثنا عبد الرازق عن معمر عن الزهري عن سالم عن بن عمر مثله

سالم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

بن عمر مثله ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّازَّقِ ← حُسَیْنُ بْنُ مَھْدِیٍّ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 688

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 24 باب غسل يوم الجمعة ) · حديث 689

671 - حدثنا محمد بن عبد الله بن ميمون قال ثنا الوليد عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة رضي الله عنه ح

ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 689

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 24 باب غسل يوم الجمعة ) · حديث 690

وحدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا حرب بن شداد قال حدثني يحيى قال حدثني أبو سلمة قال حدثني أبو هريرة قال بينما عمر يخطب الناس إذ دخل عثمان بن عفان فعرض له عمر رضي الله عنه وقال ما بال رجال يتأخرون بعد النداء ثم ذكر مثله

یحییٰ نے بتلایا کہ ابو سلمہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے جبکہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف تعریض کرتے ہوئے فرمایا ان لوگوں کا کیاحال ہے جو اذان کے بعد تاخیر کرتے ہیں پھر اس کے بعد اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

مِثْلَہُ ← ما بال رجال يتأخرون بعد النداء ثم ← بينما عمر يخطب الناس إذ دخل عثمان بن عفان فعرض له عمر ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى ← حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 690

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 24 باب غسل يوم الجمعة ) · حديث 691

672 - وحدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا جويرية عن نافع عن بن عمر رضي الله عنه أن رجلا من المهاجرين الأولين دخل المسجد وعمر يخطب فناداه عمر أية ساعة هذه فقال ما كان إلا الوضوء ثم الإقبال فقال عمر والوضوء أيضا وقد علمت أنا كنا نؤمر بالغسل قال أبو جعفر ففي هذه الآثار غير معنى ينفي وجوب الغسل أما أحدهما فإن عثمان لم يغتسل واكتفى بالوضوء وقد قال عمر قد علمت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يأمرنا بالغسل ولم يأمره عمر أيضا بالرجوع لأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم إياه بالغسل ففي ذلك دليل على أن الغسل الذي كان أمر به لم يكن عندهما على الوجوب وإنما كان لعلة ما قال بن عباس رضي الله عنهما وعائشة رضي الله عنها أو لغير ذلك ولولا ذلك ماتركه عثمان رضي الله عنه ولما سكت عمر رضي الله عنه عن أمره إياه بالرجوع حتى يغتسل وذلك بحضرة أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم الذين قد سمعوا ذلك من النبي صلى الله عليه و سلم كما سمعه عمر وعلموا معناه الذي أراده فلم ينكروا من ذلك شيئا ولم يأمروا بخلافه ففي هذا إجماع منهم على نفي وجوب الغسل وقد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يدل على أن ذلك كان من طريق الاختيار وإصابة الفضل

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص مہاجرین اولین میں سے مسجد میں اس وقت آئے جب عمر رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے ان کو عمر رضی اللہ عنہ نے آواز دے کر کہا یہ آنے کا کیاوقت ہے؟ تو انہوں نے کہا بس میں وضو کر کے مسجد آگیا ہوں عمر کہنے لگے صرف وضو؟ جبکہ تمہیں معلوم ہے کہ ہمیں غسل کاحکم ملا تھا ۔ یہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں جو اس بات کی اطلاع دے رہی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خاص سبب کی وجہ سے غسل کا حکم فرماتے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہ روایت وارد ہوئی ہے کہ یہ فرض کی جگہ نہ تھا ۔ حضرت ابو جعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ان آثار میں اور اعتبار سے وجوب غسل کی نفی ہے ۔ ایک بات تو یہ ہے ک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے غسل نہ فرمایا اور وضو پر اکتفاء کیا حالانکہ ان کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں غسل کا حکم فرماتے تھے مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو غسل کے لیے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی وجہ سے واپسی کا حکم نہیں دیا ، اس میں اس بات کا ثبوت ہے کہ ان دونوں کے ہاں بھی یہ غسل وجوب کے لیے نہ تھا یہ ان اسباب کی بناء پر تھا جن کا تذکرہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ارشادات میں گزرا یا ان کے علاوہ اسباب کی بناء پر ۔ اگر یہ نہ ہوتا تو عثمان رضی اللہ عنہ اسے کبھی نہ چھوڑتے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو غسل کے لیے واپس لوٹنے کا حکم دینے کی بجائے خاموشی اختیار فرمائی اور یہ واقعہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں پیش آیا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح یہ بات خود سننے والے تھے اور اس کامفہوم جاننے والے تھے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مقصود تھا اس لیے انہوں نے اسکو انوکھا نہیں سمجھا اور نہ اس کی مخالفت میں کسی کا حکم دیا تو اس سے وجوب غسل پر اجماع سکوتی منعقد ہو گیا اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےبھی ارشاد مروی ہے جو اس معنی کا موید ہے کہ یہ غسل فضیلت کوپانے کے لیے مرضی پر موقوف تھا ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← جُوَيْرِيَةُ، ← أبو غسان، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 691

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 24 باب غسل يوم الجمعة ) · حديث 692

673 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا يعقوب الحضرمي قال ثنا الربيع بن صبيح عن الحسن وعن يزيد الرقاشي عن أنس رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من توضأ يوم الجمعة فبها ونعمت ومن اغتسل فالغسل حسن

حسن و یزید الرقاشی دونوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو کافی اور خوب ہے اور جس نے غسل کیا تو غسل بہت ہی عمدہ ہے ۔

أَنَسٍ، ← الحسن وعن يزيد الرقاشي ← الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ ← يَعْقُوبُ الْحَضْرَمِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 692

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 24 باب غسل يوم الجمعة ) · حديث 693

674 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا همام ح

ابن ابی داؤد نے کہا ہمیں عفان نے اور اس نے ہمام سے اس کی سند کے ساتھ مکمل روایت نقل کی ہے ۔

هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 693

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 24 باب غسل يوم الجمعة ) · حديث 694

وحدثنا فهد قال ثنا أبو الوليد قال ثنا همام عن قتادة عن الحسن عن سمرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه قال ومن اغتسل فالغسل أفضل

حسن نے حضرت سمرہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔

ومن اغتسل فالغسل أفضل ← النبي صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه ← سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← وحدثنا فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 694

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 24 باب غسل يوم الجمعة ) · حديث 695

675 - حدثنا أحمد بن خالد البغدادي قال ثنا علي بن الجعد قال أنا الربيع بن صبيح وسفيان الثوري عن يزيد الرقاشي عن أنس بن مالك عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

یزید الرقاشی نے کہا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ← الربيع بن صبيح وسفيان الثوري ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أحمد بن خالد البغدادي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 695

chevron_left Previous
1…575859…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter