شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 22 باب حكم بول ما يؤكل لحمه ) · حديث 624
610 - حدثنا عبد الله بن محمد بن خشيش قال ثنا عبد الله بن مسلمة بن قعنب قال ثنا حماد بن سلمة عن ثابت وقتادة وحميد عن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله وقال من ألبانها وأبوالها فذهب قوم إلى أن بول ما يؤكل لحمه طاهر وأن حكم ذلك كحكم لحمه وممن ذهب إلى ذلك محمد بن الحسن وقالوا لما جعل ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم دواء لما بهم ثبت أنه حلال لأنه لو كان حراما لم يداوهم به لأنه داء ليس بشفاء كما قال في حديث علقمة بن وائل بن حجر
ثابت و قتادہ وحمید نے انس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے اور من البانھا و ابوالھا کے دونوں لفظ لائے ہیں ۔ بعض علماء کا یہ مذہب ہے کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جا تا ہے ان کا پیشاب پاک ہے اور اس کا حکم ان کے گوشت والا ہے یہ امام محمد بن الحسن کا قول ہے ۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکی دوائی کے طور پر اس کو تجویز فرمایا تو اس سے اس کا حلال ہونا ثابت ہو گیا کیونکہ اگر یہ حرام ہوت تو آپ ان کے علاج کے لیے تجویز نہ فرماتے کیونکہ حرام تو بیماری ہے ، شفاء نہیں ۔ ضیسے علقمہ بن وائل کی روایت میں صارف وارد ہے ۔
أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، وَقَتَادَةَ، وَحُمَيْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ← عبد الله بن محمد بن خشيش
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 624
