شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 612
599 - حدثنا بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن قيس بن سعد عن مجاهد قال قيل لابن عباس رضي الله عنه إن أرضنا أرض باردة قال تؤخر الظهر وتعجل العصر وتغتسل لهما غسلا واحدا وتؤخر المغرب وتعجل العشاء وتغتسل لهما غسلا وتغتسل للفجر غسلا فذهب هؤلاء إلى هذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا تدع المستحاضة الصلاة أيام أقرائها ثم تغتسل وتتوضأ لكل صلاة وتصلي وذهبوا في ذلك إلى ما
قیس بن سعد نے کہا کہ مجاہد کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا ہمارا علاقہ ٹھنڈا ہے فرمایاظہر کو موخر اور عصر کو مقدم کر کے ان کے لیے مستحاضہ ایک غسل کرے اور مغرب کو مؤ خر اور عشاء کو جلدی کر کے ان کے لیے ایک غسل کرے اور فجر کے لیے ایک غسل کرے ۔ پس یہ علماء ان آثار کو اختیار کرنے والے ہیں ۔ علماء کی ایک اور جماعت اس میں ان کی مخالف ہے ۔ چنانچہ انہوں نے فرمایا کہ مستحاضہ عورت حیض کے ایام میں نماز ترک کرے پھر اس سے ایک غسل کرے اور آئندہ ہر نماز کے لیے وضو کر کے نماز ادا کرتی رہے ۔ چنانچہ ان آثار سے انہوں نے استدلال کیا۔
قيل لابن عباس إن أرضنا أرض باردة ← مُجَاهِدٍ ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← بْنِ خُزَيْمَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 612
