Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 600

587 - حدثنا يونس قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال حدثني الليث بن سعد عن بن شهاب عن عروة عن عائشة رضي الله عنها مثله قال الليث لم يذكر بن شهاب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر أم حبيبة رضي الله عنها أن تغتسل عند كل صلاة

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح سے روایت نقل کی ہے ۔ راوی لیث کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے یہ بات ذکر نہیں کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ہر نماز کے وقت غسل کرے۔

الليث لم يذكر بن شهاب ← عَائِشَۃَ مِثْلَہُ ← عُرْوَةَ ← بن شِهَابٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 600

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 601

588 - حدثنا إسماعيل بن يحيى المزني قال ثنا محمد بن إدريس قال أنا إبراهيم بن سعد سمع بن شهاب عن عمرة بنت عبد الرحمن عن عائشة رضي الله عنها مثله

ابن شہاب عن عمرۃ بنت عبدالرحمان عن عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

عَائِشَۃَ مِثْلَہُ ← عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← بن شِهَابٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ: ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى الْمُزَنِيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 601

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 602

حدثنا إسماعيل قال ثنا محمد قال ثنا سفيان عن الزهري عن عمرة عن عائشة رضي الله عنها مثله ولم يذكر قول الليث قالوا فهذه أم حبيبة رضي الله عنها قد كانت تفعل هذا في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم لأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم إياها بالغسل فكان ذلك عندها على الغسل لكل صلاة وقد قال ذلك علي رضي الله عنه وابن عباس رضي الله عنه من بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم وأفتيا بذلك

عمرہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے اور اس میں لیث کا قول مذکور نہیں فریق اول کا کہنا یہ ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا یہ عمل غسل جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے کرتیں تھیں ام حبیبہ کے ہاں اس سے ہر نماز کے لیے غسل مراد تھا اور یہی بات جناب علی رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کہی اور اسی پر فتویٰ دیا پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کے لیے یہی حکم تھا ۔

عائشة مثله ولم يذكر قول الليث ← عَمْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدٍ ← إِسْمَاعِيلُ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 602

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 603

590 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا الخصيب بن ناصح قال ثنا همام عن قتادة عن أبي حسان عن سعيد بن جبير أن امرأة أتت بن عباس رضي الله عنه بكتاب بعد ما ذهب بصره فدفعه إلى ابنه فتترتر فيه فدفعه إلى فقرأته فقال لابنه ألا هذرمته كما هذرمه الغلام المصري فإذا فيه بسم الله الرحمن الرحيم من امرأة من المسلمين أنها استحيضت فاستفتت عليا رضي الله عنه فأمرها أن تغتسل وتصلي فقال اللهم لا أعلم القول إلا ما قال علي رضي الله عنه ثلاث مرات قال قتادة وأخبرني عزرة عن سعيد أنه قيل له إن الكوفة أرض باردة وأنه يشق عليها الغسل لكل صلاة فقال لوشاء الله لابتلاها بما هو أشد منه

حسان سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس ایک خط لائی یہ اس زمانے کی بات ہے جب ان کی نگاہ جا چکی تھی انہوں نے اپنے بیٹے کو یا تو اس کی کلام میں ڈھیلا پن تھا جس سے ان کو بات سمجھ نہ آئی تو انہوں نے خط میرے حوالے کیا تو میں نے پڑھا تو انہوں نے اپنے بیٹے کو فرمایا تم نے اس کو اسطرح جلدی کیوں نہ پڑھا جیسا اس مصری لڑکے نے پڑھا ہے اس خط کا یہ مضمون تھا۔بسم اللہ الرحمان الرحیم ۔ من امراۃ من المسلمین انھا استحیضت فاستفتت علیا رضی اللہ عنہ فامر ھا ان تفتسل و تصلی۔ کہ ایک عورت کو استحاضہ کی تکلیف ہے اس نے علی رضی اللہ عنہ سے مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے غسل کر کے اسے نماز پڑھنے کا حکم دیا ۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں اس کے متعلق وہی بات جانتا ہوں جو علی رضی اللہ عنہ نے کہی ہے یہ بات تین مرتبہ دھرائی۔قتادہ نے کہا کہ مجھے عزرہ نے سعید سے نقل کیا کہ انہوں نے سوال کیا کہ حضرت کوفہ تو ٹھنڈا علاقہ ہےاور اس پر ہر نماز کے لیے غسل گراں ہو جائےگا تو آپ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس کو اس سے زیادہ سخت بیماری میں مبتلا کر دیتا ۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي حَسَّانَ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 603

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 604

591 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا الخصيب قال ثنا يزيد بن إبراهيم عن أبي الزبير عن سعيد بن جبير أن امرأة من أهل الكوفة استحيضت فكتبت إلى عبد الله بن عمر وعبد الله بن عباس وعبد الله بن الزبير تناشدهم الله وتقول إني امرأة مسلمة أصابني بلاء إنما استحضت منذ سنتين فما ترون في ذلك فكان أول من وقع الكتاب في يده بن الزبير فقال ما أعلم لها إلا أن تدع قروءها وتغتسل عند كل صلاة وتصلي فتتابعوا على ذلك

ابو ا لزبیر نے سعید بن جبیر سے نقل کیا کہ ایک عورت اہل کوفہ میں سے استحاضہ میں مبتلا ہوئی اس نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا ان کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر وہ کہہ رہی تھی میں ایک مسلمان عورت ہوں مجھ پر دو سال سے ی ہبیماری وارد ہویئ ہے کہ میں استحاضہ کا شکار ہوں اس سلسلہ میں آپ مجھے کیا فتویٰ دیتے ہیں سب سے پہلے یہ خط ابن بیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ لگا انہوں نے کہا جہاں تک میں جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ اپنے حیض کے دنوں کو چھوڑ کر بقیہ ایام میں ہر نماز کے لیے غسل کر کے نماز پڑھے سب نے اسی فتویٰ کی تصدیق و پیروی کی ۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← الخصيب ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 604

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 605

592 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن حماد عن سعيد بن جبير عن بن عباس رضي الله عنه خاصة مثله غير أنه قال تدع الصلاة أيام حيضها فجعل أهل هذه المقالة على المستحاضة أن تغتسل لكل صلاة لما ذكرناه من هذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا الذي يجب عليها أن تغتسل للظهر والعصر غسلا واحدا تصلي به الظهر في آخر وقتها والعصر في أول وقتها وتغتسل للمغرب والعشاء غسلا واحدا تصليهما به فتؤخر الأولى منهما وتقدم الآخرة كما فعلت في الظهر والعصر وتغتسل للصبح غسلا وذهبوا في ذلك إلى ما

سعید بن جبیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے خاص طور پر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے البتہ اتنی بات ہے کہ ی ہالفاظ زائد ہیں تدع الصلوۃ ایام حیضھا کہ ایام حیض میں نماز ترک کر دے ۔ جن علماء نے اس قول کو اختیار کیا انہوں نے اس کو غسل کاپابند بنایا جو کہ ہر نماز کے لیے اسے کرنا ہوگا ۔ علماء کی دوسری جماعت نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ اس پر لازم یہ ہے کہ ظہر و عصر کے لیے ایک غسل کرے اور اس سے ظہر آخری وقت میں اور عصر اول وقت میں ادا کرے اور مغرب و عشاء کو اول وقت میں ادا کرے جیسا کہ اس نے ظہر و عصر کے سلسلہ میں کیا اور فجر کے لیے مستقل غسل کرے اور انہوں نے اپنے استدلال میں ان روایات کو پیش کیا ۔

بن عباس خاصة مثله غير ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَمَّادٌ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 605

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 606

593 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا نعيم بن حماد قال ثنا بن المبارك قال أنا سفيان الثوري عن عبد الرحمن بن القاسم عن القاسم بن محمد عن زينب بنت جحش قال سألت النبي صلى الله عليه و سلم أنها مستحاضة فقال لتجلس أيام أقرائها ثم تغتسل وتؤخر الظهر وتعجل العصر وتغتسل وتصلي وتؤخر المغرب وتعجل العشاء وتغتسل وتصلي وتغتسل للفجر

قاسم بن محمد نے کہا زینت بنت حجش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اسے خون استحاضہ کی شکایت ہے تو آپ نے فرمایا ایام حیض میں نماز روزے سے رک جائے پھر (ان دنوں کے بعد) غسل کرے اور ظہر کو مؤخر اور عصر کو جلد پڑھے اور غسل کر کے دونوں نمازیں پڑھے اور مغرب میں تاخیر کرے اور عشاء کو جلدی ادا کرنے کے لیے غسل کر کے دونوں نمازیں ادا کرے اور فجر کے لیے غسل کر ے۔

سألت النبي صلى الله عليه و سلم أنها مستحاضة ← زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← بن الْمُبَارَكِ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 606

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 607

594 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه أن امرأة من المسلمين استحيضت فسألوا النبي صلى الله عليه و سلم ثم ذكر نحوه إلا أنه قال قدر أيامها

عبدالر حمان بن القاسم اپنے والد قاسم سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مسلامن عورت کو مرض استحاصہ نے آلیا چنانچہ لوگوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا پھر اسی طرح روایت ذکر کی مگر اس میں یہ الفاض زائد ہیں " قد رایا مھا" اپنے دنوں کی مقدار ۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 607

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 608

595 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمر قال ثنا شعبة عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها أن امرأة استحيضت على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فأمرت ثم ذكر نحوه غير أنه لم يذكر تركها الصلاة أيام أقرائها ولا أيام حيضها

قاسم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نقل کرتی ہیں کہ ایک عورت کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں استخاضہ کی تکلیف ہو گئی پس آپ نے حکم دیا پھر اسی طرح روایت نقل کی صرف ان الفاظ کا فرق ہے کہ حیض کے دنوں میں اس کے ترک نماز کا تذکرہ نہیں ہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← شُعْبَةُ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 608

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 609

596 - حدثنا فهد قال ثنا الحماني قال ثنا خالد بن عبد الله عن سهيل عن الزهري عن عروة عن أسماء ابنة عميس قالت قلت يا رسول الله إن فاطمة بنت أبي حبيش استحيضت منذ كذا وكذا فلم تصل فقال سبحان الله هذا من الشيطان لتجلس في مركن فإذا رأت صفرة فوق الماء فلتغتسل للظهر والعصر غسلا واحدا ثم تغتسل للمغرب والعشاء غسلا واحدا وتتوضأ فيما بين ذلك فقوله وتتوضأ فيما بين ذلك يحتمل أن تتوضأ لما يكون منها من الأحداث التي توجب نقض الطهارات ويحتمل أن تتوضأ للصبح فليس فيه دليل على خلاف ما تقدمه من حديث شعبة وسفيان قالوا فهذه الآثار قد رويت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم كما ذكرنا في جمع الظهر والعصر بغسل واحد وفي جمع المغرب والعشاء بغسل واحد وإفراد الصبح بغسل واحد فبهذا نأخذ وهو أولى من الآثار الأول التي فيها ذكر الأمر بالغسل لكل صلاة لأنه قد روى ما يدل على أن هذا ناسخ لذلك فذكروا ما

عروہ بیان کرتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ بنت ابی حبیش اتنے عرصہ سے استحاضہ کی تکلیف میں ہے اور اس نے نماز نہیں پڑھی آپ نے فرمایا عجیب بات ہے یہ شیطانی حرکت ہے اسے ٹب میں بیٹھنا چاہیے جب پانی پر زردی کا غلبہ پائے یعنی خون کے اثرات نہ رہیں تو ظہر و عصر کے لیے ایک غسل کر ے پھر مغرب و عشاء کے لیے ایک غسل کرے اور ان کے مابین وضو کرے ۔ اس میں احتمال یہ ہے کہ وہ ان احداث میں جو طہارت کو توڑنے والی ہیں ان سے بھی وضو کرے اور یہ بھی احتمال ہے کہ وہ صبح کے لیے وو کرے ۔ آثار متقدمہ میں جو بات گزری اس کے خلاف کچھ بھی دلیل نہیں جن کو شعبہ و سفیان نے نقل کیا ہے ۔ وہ فرماتے ہیں یہ آثار جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہیں جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ ایک غسل میں ظہر و عصر اور ایک میں مغرب و عشاء کو جمع کرے اور صبح کے لیے ایک غسل کرے ۔ ہم اس کو اختیار کرتے ہیں اوریہ قول پہلے آثار میں منقول بات سے اولیٰ ہیں جن میں ہر نماز کے لیے غسل کا حکم ہے کیونکہ یہہ روایات سے ثابت ہو چکاکہ یہ پہلی روایات کو منسوخ کرنے والی ہے ۔ ناسخ روایات ملاحظہ ہوں ۔

قُلْتُ ← أسماء ابنة عميس ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُهَيْلٍ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← الحماني ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 609

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 610

597 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الوهبي قال ثنا محمد بن إسحاق عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة رضي الله عنه قالت إنما هي سهلة ابنة سهيل بن عمرو استحيضت وأن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يأمرها بالغسل عند كل صلاة فلما أجهدها ذلك أمرها أن تجمع الظهر والعصر في غسل واحد والمغرب والعشاء في غسل واحد وتغتسل للصبح قالوا فدل ذلك على أن هذا الحكم ناسخ للحكم الذي في الآثار الأول لأنه إنما أمر به بعد ذلك فصار القول به أولى من القول بالآثار الأول قالوا وقد روى ذلك أيضا عن علي رضي الله عنه وابن عباس رضي الله عنه فذكروا ما

قاسم کہتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سھلہ بنت سہیل کو اسخاضہ کی شکایت ہوئی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ہر نماز کے لیے غسل کا حکم فرماتے رہے جب اس کو اس بات نے عاجز کر دیا تو پھر آپ ے اس کو ظہر و عصر ایک غسل سے اور مغرب و عشاء ایک غسل سے اور فجر ایک غسل سے ادا کرنے کا حکم فرمایا ۔ انہوں نے فرمایا اس سے یہ دلالت مل گئی کہ یہ حکم اس حکم کو منسوخ کرنے والا ہے جو کہ پہلےآثار میں وارد ہوا ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم اس کے بعد دیا پس یہ قول اس قول سے بہت ہوا جو پہلے آثار میں پایا جاتا ہے اور انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ بات وارد ہوئی ملاحظہ ہو۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← الوهبي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 610

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 611

598 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو معمر قال ثنا عبد الوارث قال ثنا محمد بن جحادة عن إسماعيل بن رجاء عن سعيد بن جبير عن بن عباس رضي الله عنه قال جاءته امرأة مستحاضة تسأله فلم يفتها وقال لها سلي غيري قال فأتت بن عمر رضي الله عنه فسألته فقال لها لا تصلي ما رأيت الدم فرجعت إلى بن عباس رضي الله عنه فأخبرته فقال رحمه الله إن كاد ليكفرك قال ثم سألت علي بن أبي طالب رضي الله عنه فقال تلك ركزة من الشيطان أو قرحة في الرحم اغتسلي عند كل صلاتين مرة وصل قال فلقيت بن عباس رضي الله عنه بعد فسألته فقال ما أجد لك إلا ما قال علي رضي الله عنه

سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مستحاضہ عورت آئی اور ان سے استحاضہ کے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے فرمایا میرے علاوہ اور کسی سے پوچھو وہ عورت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئی اور ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا جب تک خون دیکھو نماز نہ پڑھو وہ ابن عباس ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹی تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان پر حم کرے قریب تھا کہ وہ تمہیں کفر (ترک صلوۃ) پر آمادہ کر دیتے ۔ سعید کہتے ہیں پھر میں نے علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا یہ شیطان کی ایڑی لگنے سے ہے یا پھر رحم کے زخم سے ہر دو نمازوں کے لیے غسل کر کے نماز پڑھ لیا کرو سعید کہتے ہیں پھر میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کو ملا تو انہوں نے فرمایا میں تیرے اس سوال کا وہی جواب پاتا ہوں جو علی رضی اللہ عنہ نے کہا ۔

لها لا تصلي ما رأيت الدم فرجعت إلى بن عباس فأخبرته ← فأتت بن عمر فسألته ← لها سلي غيري ← جاءته امرأة مستحاضة تسأله فلم يفتها ← بْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 611

chevron_left Previous
1…505152…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter