شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 19 باب الرجل لا يجد إلا نبيذ التمر هل يتوضأ به أو يتيمم ) · حديث 588
576 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة قال ثنا داود بن أبي هند عن عامر عن علقمة عن بن مسعود رضي الله عنه هل كان مع النبي صلى الله عليه و سلم ليلة الجن أحد فقال لم يصحبه منا أحد ولكن فقدناه ذات ليلة فقلنا استطير أو اغتيل فتفرقنا في الشعاب والأودية نلتمسه وبتنا بشر ليلة بات بها قوم نقول استطير أم اغتيل فقال إنه أتاني داعي الجن فذهبت أقرئهم القرآن فأرانا آثارهم فهذا عبد الله قد أنكر أن يكون كان مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة الجن فهذا الباب إن كان يؤخذ من طريق صحة الإسناد فهذا الحديث الذي فيه الإنكار أولى لاستقامة طريقه ومتنه وثبت رواته وإن كان من طريق النظر فإنا قد رأينا الأصل المتفق عليه أنه لا يتوضأ بنبيذ الزبيب ولا بالخل فكان النظر على ذلك أن يكون نبيذ التمر أيضا كذلك وقد أجمع العلماء أن نبيذ التمر إذا كان موجودا في حال وجود الماء أنه لا يتوضأ به لأنه ليس بماء فلما كان خارجا من حكم المياه في حال وجود الماء كان كذلك هو في حال عدم الماء وحديث بن مسعود الذي فيه التوضي بنبيذ التمر إنما فيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم توضأ به وهو غير مسافر لأنه إنما خرج من مكة يريدهم فقيل إنه توضأ بنبيذ التمر في ذلك المكان وهو في حكم من هو بمكة لأنه يتم الصلاة فهو أيضا في حكم استعماله ذلك النبيذ هنالك في حكم استعماله إياه بمكة فلو ثبت هذا الأثر أن النبيذ مما يجوز التوضي به في الأمصار والبوادي ثبت أنه يجوز التوضي لأنه في حال وجود الماء وفي حال عدمه فلما أجمعوا على ترك ذلك والعمل بضده فلم يجيزوا التوضي به في الأمصار ولا فيما حكمه حكم الأمصار ثبت بذلك تركهم لذلك الحديث وخرج حكم ذلك النبيذ من حكم سائر المياه فثبت بذلك أنه لا يجوز التوضي به في حال من الأحوال وهو قول أبي يوسف وهو النظر عندنا والله أعلم
علقمہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کیا لیلۃ الجن میں کوئی آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا تو انہوں نے کہا ہم میں سے کوئی آپ کے ساتھ نہ تھا لیکن ایک رات ہم نے آپ کو گم پایا تو ہم نے کہا آپ کوجن اٹھا کر لے گئے یا دھوکہ سے شہید کر دیا گیا چنانچہ ہم وادیوں اور گھاٹیوں میں منتشر ہو کر آپ کو تلاش کرنے لگے اور ہم نے وہ رات بڑی پریشانی سے گزاری ہم کہہ رہے تھے کہ جن اٹھا کر لے گئے یا دھوکے سے قتل کر دیے گئے ( آپ واپس تشریف لائے تو فرمایا) میرے پاس جنات کا داعی آیا تو میں ان کو قرآن مجید پڑھانے گیا پھر آپ نے ان کے نشانات ہمیں دکھائے ۔ یہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں جو لیلۃ الجن میں اپنے متعلق انکار کر رہے ہیں کہ وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ تھے ۔ اگر اسناد کی درستی کالحاظ کیا جائے تو انکار والی روایت سند و متن روایت کے لحاظ سے پختہ ہے ۔ اب اگر آپ غور و فکر سے دیکھنا چاہتے ہیں تو آئیے ہم اس بات پر تمام کو متفق پاتے ہیں کہ سرکہ ، ننیذ ، کشمش سے وضؤ نہ کیا جائے گا۔ پس نطر کا تقاضا یہ ہے کہ نبیذ کھجور بھی اس سے مختلف نہ ہو ۔ علماء اس پر متفق ہیں کہ جب پانی کی موجودگی میں نبیذ تمر موجود ہو تو اس سے وضو نہ کیا جائے گا کیونکہ وہ مطلق پانی نہیں ہے پس جب وہ خالص پانی کی موجودگی میں پانیوں کی فہرست سے خارج ہے تو پانی نہ ہونے کی صورت میں بھی وہ اپنے حکم پر رہے گی۔ رہی وہ روایت جس پر نبیذ تمر سے وضو کا تذکرہ پایا جاتا ہے اس میں یہ بات ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضوفرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حالت سفر میں نہ تھے بلکہ مکہ سے صرف جنابت کی تبلیغ کرنے نکلے تھے ۔ پس اسے کہا جائے گا کہ نبیذ تمر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس موقع پر وضو کرنا وہ عین مکہ میں وضو کرنے کے حکم میں ہے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل پڑھی ۔ اگر یہ اثر ثابت ہو جائے تو نبیذ ان چیزوں سے ثابت ہو جائے گا جن سے شہروں اور وادیوں اور جنگلوں میں وضو درست ہے جبکہ پانی بھی موجود ہو ۔ پس جب اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ پانی کے ہوتے ہوئے اس پر عمل متروک ہے اور اس کی ضد پر عمل کیا جاتا ہے اور شہروں اور اس کے حکم والے علاقوں میں جب اس سے وضو جائز نہیں تو اس سے ثابت ہو گیا کہ اس نبیذ کا حکم پانیوں کے حکم سے نکل جانے کی بناء پر یہ روایت ترک کی گئی ۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ اس سے کسی حال میں بھی وضو جائز نہیں اور یہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے اور ہمارے ہاں نظر و فکر کا یہی تقاضا ہے ، واللہ اعلم ۔
عَلْقَمَةَ ← عَامِرٍ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← أسد ← ربيع المؤذن
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 588
