Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 19 باب الرجل لا يجد إلا نبيذ التمر هل يتوضأ به أو يتيمم ) · حديث 588

576 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة قال ثنا داود بن أبي هند عن عامر عن علقمة عن بن مسعود رضي الله عنه هل كان مع النبي صلى الله عليه و سلم ليلة الجن أحد فقال لم يصحبه منا أحد ولكن فقدناه ذات ليلة فقلنا استطير أو اغتيل فتفرقنا في الشعاب والأودية نلتمسه وبتنا بشر ليلة بات بها قوم نقول استطير أم اغتيل فقال إنه أتاني داعي الجن فذهبت أقرئهم القرآن فأرانا آثارهم فهذا عبد الله قد أنكر أن يكون كان مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة الجن فهذا الباب إن كان يؤخذ من طريق صحة الإسناد فهذا الحديث الذي فيه الإنكار أولى لاستقامة طريقه ومتنه وثبت رواته وإن كان من طريق النظر فإنا قد رأينا الأصل المتفق عليه أنه لا يتوضأ بنبيذ الزبيب ولا بالخل فكان النظر على ذلك أن يكون نبيذ التمر أيضا كذلك وقد أجمع العلماء أن نبيذ التمر إذا كان موجودا في حال وجود الماء أنه لا يتوضأ به لأنه ليس بماء فلما كان خارجا من حكم المياه في حال وجود الماء كان كذلك هو في حال عدم الماء وحديث بن مسعود الذي فيه التوضي بنبيذ التمر إنما فيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم توضأ به وهو غير مسافر لأنه إنما خرج من مكة يريدهم فقيل إنه توضأ بنبيذ التمر في ذلك المكان وهو في حكم من هو بمكة لأنه يتم الصلاة فهو أيضا في حكم استعماله ذلك النبيذ هنالك في حكم استعماله إياه بمكة فلو ثبت هذا الأثر أن النبيذ مما يجوز التوضي به في الأمصار والبوادي ثبت أنه يجوز التوضي لأنه في حال وجود الماء وفي حال عدمه فلما أجمعوا على ترك ذلك والعمل بضده فلم يجيزوا التوضي به في الأمصار ولا فيما حكمه حكم الأمصار ثبت بذلك تركهم لذلك الحديث وخرج حكم ذلك النبيذ من حكم سائر المياه فثبت بذلك أنه لا يجوز التوضي به في حال من الأحوال وهو قول أبي يوسف وهو النظر عندنا والله أعلم

علقمہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کیا لیلۃ الجن میں کوئی آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا تو انہوں نے کہا ہم میں سے کوئی آپ کے ساتھ نہ تھا لیکن ایک رات ہم نے آپ کو گم پایا تو ہم نے کہا آپ کوجن اٹھا کر لے گئے یا دھوکہ سے شہید کر دیا گیا چنانچہ ہم وادیوں اور گھاٹیوں میں منتشر ہو کر آپ کو تلاش کرنے لگے اور ہم نے وہ رات بڑی پریشانی سے گزاری ہم کہہ رہے تھے کہ جن اٹھا کر لے گئے یا دھوکے سے قتل کر دیے گئے ( آپ واپس تشریف لائے تو فرمایا) میرے پاس جنات کا داعی آیا تو میں ان کو قرآن مجید پڑھانے گیا پھر آپ نے ان کے نشانات ہمیں دکھائے ۔ یہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں جو لیلۃ الجن میں اپنے متعلق انکار کر رہے ہیں کہ وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ تھے ۔ اگر اسناد کی درستی کالحاظ کیا جائے تو انکار والی روایت سند و متن روایت کے لحاظ سے پختہ ہے ۔ اب اگر آپ غور و فکر سے دیکھنا چاہتے ہیں تو آئیے ہم اس بات پر تمام کو متفق پاتے ہیں کہ سرکہ ، ننیذ ، کشمش سے وضؤ نہ کیا جائے گا۔ پس نطر کا تقاضا یہ ہے کہ نبیذ کھجور بھی اس سے مختلف نہ ہو ۔ علماء اس پر متفق ہیں کہ جب پانی کی موجودگی میں نبیذ تمر موجود ہو تو اس سے وضو نہ کیا جائے گا کیونکہ وہ مطلق پانی نہیں ہے پس جب وہ خالص پانی کی موجودگی میں پانیوں کی فہرست سے خارج ہے تو پانی نہ ہونے کی صورت میں بھی وہ اپنے حکم پر رہے گی۔ رہی وہ روایت جس پر نبیذ تمر سے وضو کا تذکرہ پایا جاتا ہے اس میں یہ بات ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضوفرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حالت سفر میں نہ تھے بلکہ مکہ سے صرف جنابت کی تبلیغ کرنے نکلے تھے ۔ پس اسے کہا جائے گا کہ نبیذ تمر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس موقع پر وضو کرنا وہ عین مکہ میں وضو کرنے کے حکم میں ہے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل پڑھی ۔ اگر یہ اثر ثابت ہو جائے تو نبیذ ان چیزوں سے ثابت ہو جائے گا جن سے شہروں اور وادیوں اور جنگلوں میں وضو درست ہے جبکہ پانی بھی موجود ہو ۔ پس جب اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ پانی کے ہوتے ہوئے اس پر عمل متروک ہے اور اس کی ضد پر عمل کیا جاتا ہے اور شہروں اور اس کے حکم والے علاقوں میں جب اس سے وضو جائز نہیں تو اس سے ثابت ہو گیا کہ اس نبیذ کا حکم پانیوں کے حکم سے نکل جانے کی بناء پر یہ روایت ترک کی گئی ۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ اس سے کسی حال میں بھی وضو جائز نہیں اور یہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے اور ہمارے ہاں نظر و فکر کا یہی تقاضا ہے ، واللہ اعلم ۔

عَلْقَمَةَ ← عَامِرٍ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 588

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 20 باب المسح على النعلين ) · حديث 589

577 - حدثنا أبو بكرة وإبراهيم بن مرزوق قالا ثنا أبو داود قال ثنا حماد بن سلمة ح

ابراہیم بن مرزوق اور ابو بکرہ کہتے ہیں کہ ہمیں ابو داؤد نے اور ان کو بن سلمہ نے اپنی سند سے بیان کیا ہے۔

حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أبو بكرة وإبراهيم بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 589

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 20 باب المسح على النعلين ) · حديث 590

وحدثنا بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن يعلي بن عطاء عن أوس بن أبي أوس قال رأيت أبي توضأ ومسح على نعلين له فقلت له أتمسح على النعلين فقال رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يمسح على النعلين

اوس بن ابی اوس کہتے ہیں کہ میں نے ابو اوس رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وضو کیا اور اپنے نعلین پر مسح کیا میں نے ان سے پوچھا کیا آپ نعلین پر مسح کرتے ہیں تو کہنے لگے میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نعلین پر مسح کرتے دیکھا ہے ۔

رأيت أبي توضأ ومسح على نعلين له فقلت له أتمسح على النعلين ← أوس بن أبي أوس ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 590

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 20 باب المسح على النعلين ) · حديث 591

578 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال أنا شريك عن يعلي بن عطاء عن أوس بن أبي أوس قال كنت مع أبي في سفر ونزلنا بماء من مياه الأعراب فبال فتوضأ ومسح على نعليه فقلت له أتفعل هذا فقال ما أزيدك على ما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فعل قال أبو جعفر فذهب قوم إلى المسح على النعلين كما يمسح على الخفين وقالوا قد شد ذلك ما روي عن علي رضي الله عنه فذكروا في ذلك ما

اوس بن ابی اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ سفر میں تھا ہم ایک تالاب کے پاس اترے انہوں نے پیشاب سے فراغت حاصل کی پھر وضو کیا اور اپنے نعلین پر مسح کیا میں نے کہا کیا آپ نعلین پر مسح کرتے ہیں انہوں نے کہا میں اس فعل میں اضافہ نہیں کر رہا جس پر میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ جس طرح موزوں پر مسح کیا جاتا ہے اسی طرح جوتوں پر بھی مسح کیا جائے گااور اس کی دلیل کے طور پر انہوں نے کہا اس بات کی تائید حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مندرجہ ذیل روایت سے ہوتی ہے ۔

أوس بن أبي أوس ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 591

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 20 باب المسح على النعلين ) · حديث 592

579 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود ووهب قالا ثنا شعبة عن سلمة بن كهيل عن أبي ظبيان أنه رأى عليا رضي الله عنه بال قائما ثم دعا بماء فتوضأ ومسح على نعليه ثم دخل المسجد فخلع نعليه ثم صلى وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا نرى المسح على النعلين وكان من الحجة لهم في ذلك أنه قد يجوز أن يكون رسول الله صلى الله عليه و سلم مسح على نعلين تحتهما جوربان وكان قاصدا بمسحه ذلك إلى جوربيه لا إلى نعليه وجورباه مما لو كانا عليه بلا نعلين جاز له أن يمسح عليهما فكان مسحه ذلك مسحا أراد به الجوربين فأتي ذلك على الجوربين والنعلين فكان مسحه على الجوربين هو الذي تطهر به ومسحه على النعلين فضل وقد بين ذلك ما

سلمہ بن سہیل ابو ظہان سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا پھر پانی منگوایا اور اس سے وضو کیا اور اپنے نعلین پر مسح کیا پھر مسجد میں داخل ہوئے اور اپنے نعلین اتار کر نماز ادا فرمائی دیگر علماء نے اس سلسلہ میں ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ جوتوں پر ہرگز مسح جائز نہیں اس کی دلیل کے طور پر انہوں نے کہا ہے کہ یہ بات بالکل ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتوں پر مسح موزوں کی بناء پر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دراصل موزوں پر مسح کیا نہ کہ جوتوں پر مسح ہو سکتا ہے تو جوتوں پر مسح سے مقصود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا موزوں پر مسح کرنا تھا ۔ پس حصول طہارت کے لیے تو مسح موزوں پر تھا اور جوتوں کا مسح زائد تھا اور ہمارے قول کی شہادت مندرجہ زیل روایت دے رہی ہے ۔

سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← أبو داود ووهب ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 592

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 20 باب المسح على النعلين ) · حديث 593

580 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا المعلى بن منصور قال ثنا عيسى بن يونس عن أبي سنان عن الضحاك بن عبد الرحمن عن أبي موسى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مسح على جوربيه ونعليه

ضحاک بن عبدالرحمان نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جوربین بمع نعلین پر مسح کیا ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← الضَّحَّاکِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِي سِنَانٍ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← الْمُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 593

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 20 باب المسح على النعلين ) · حديث 594

581 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا أبو عاصم عن سفيان الثوري عن أبي قيس عن هذيل بن شرحبيل عن المغيرة بن شعبة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بمثله فأخبر أبو موسى والمغيرة عن مسح النبي صلى الله عليه و سلم على نعليه كيف كان منه وقد روي عن بن عمر في ذلك وجه آخر

ہذیل بن شرحبیل نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا۔ تو حضرت ابو موسیٰ اشعری و مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ آپ کے اپنے نعلین مبارک پر مسح کرنے کی کیا صورت تھی اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک اور درجہ بھی مروی ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 594

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 20 باب المسح على النعلين ) · حديث 595

582 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أحمد بن الحسين اللهبي قال ثنا بن أبي فديك عن بن أبي ذئب عن نافع أن بن عمر كان إذا توضأ ونعلاه في قدميه مسح على ظهور قدميه بيديه ويقول كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصنع هكذا فأخبر بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كان في وقت ما كان يمسح على نعليه يمسح على قدميه فقد يحتمل أن يكون ما مسح على قدميه هو الفرض وما مسح على نعليه كان فضلا فحديث أبي أوس يحتمل عندنا ما ذكرنا فيه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من مسحه على نعليه أن يكون كما قال أبو موسى والمغيرة أو كما قال بن عمر فإن كان كما قال أبو موسى والمغيرة فإنا نقول بذلك لأنا لا نرى بأسا بالمسح على الجوربين إذا كانا صفيقين قد قال ذلك أبو يوسف ومحمد وأما أبو حنيفة رحمه الله تعالى فإنه كان لا يرى ذلك حتى يكونا صفيقين ويكونا مجلدين فيكونان كالخفين وإن كان كما قال بن عمر فإن في ذلك إثبات المسح على القدمين فقد ثبت ذلك وما عارضه وما نسخه في باب فرض القدمين فعلى أي المعنيين كان وجه حديث أوس بن أبي أوس من معنى حديث أبي موسى والمغيرة ومن معنى حديث بن عمر فليس في ذلك ما يدل على جواز المسح على النعلين فلما احتمل حديث أوس ما ذكرنا ولم يكن فيه حجة في جواز المسح على النعلين التمسنا ذلك من طريق النظر لنعلم كيف حكمه فرأينا الخفين اللذين قد جوز المسح عليهما إذا تخرقا حتى بدت القدمان منهما أو أكثر القدمين فكل قد أجمع أنه لا يمسح عليهما فلما كان المسح على الخفين إنما يجوز إذا غيبا القدمين ويبطل ذلك إذا لم يغيبا القدمين وكانت النعلان غير مغيبين للقدمين ثبت أنهما كالخفين اللذين لا يغيبان القدمين

ابن ابی ذئب نافع رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ جب وضو کرتے اور ان کے نعل قدموں میں ہی ہوتے تو جتنا قدم کا حصہ ظاہر ہوتا اس پر مسح کر لیتے اور کہتے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو کرتے تھے اس سے یہ معلوم ہوا کہ بقول ابن عمر رضی اللہ عنہ آپ کسی وقت قد مین پر مسح کرتے نعلین پر مسح نہ کرتے تھے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اطلاع دی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قد مین پر مسح تو بقدر فرض کیا اور جوتوں پر جو مسح کیا وہ زائد تھا ۔ پس ابو اوس رضی اللہ عنہ والی روایت ہمارے ہاں وہی احتمال رکھی ہے جو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ و ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ والی روایت والا مفہوم لیا جائے تو ہم اس طرح عرض کریں گے کہ ہمارے ہاں بھی ان جرابوں پر مسح کرنے میں کچھ حرج نہیں جبکہ وہ گاڑھی موٹی ہوں اور ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے ۔ باقی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اس کو اس وقت تک جائز قرار نہیں دیتے جب تک کہ وہ دونوں موٹی اور چمڑے کے تلے والی نہ ہوں ۔ اس صورت میں وہ موزوں کی مانند ہوں گی اور اگر ابن عمر والی روایت کا مفہوم لیا جائے تو اس میں قد مین پر مسح کا اثبات ہے ۔ باب فرض القدمین میں ہم اس کے معارض اور ناسخ کو ذکر کر آئے ۔ پس اس روایت اوس بن ابی اوس کو ابو موسیٰ اور مغیرہ رضی اللہ عنہ والی روایت کے معنی میں لیں یا روایت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے معنی میں لیں کسی صورت میں جوتوں پر مسح کا جواز ثابت نہیں ہو سکتا ۔پس جب اوس رضی اللہ عنہ والی روایت محتمل ثابت ہو گئی اور جوتوں پر مسح کے جواز کی کوئی صورت نہ مل سکی تو اب اس کو غور و فکر دیکھا تا کہ اسکا حکم ظاہر ہو جائے پس غور کرنے سے معلوم ہوا کہ وہ موزے جن پر مسح کے جواز کی ثابت کیا گیا جب وہ اس قدر پھٹ جائیں کہ دونوں اقدام یا ان کا اکثر حصہ ظاہر ہو جائے تو سب کا اس پر اتفاق ہے کہ ان پر مسح نہ کیا جائے گا جب مسح موزہ میں یہ شرط ہے کہ ان پر مسح اس وقت جائز ہے جب اس میں پاؤں چھپ جائے اور جب دونوں پاؤں ظاہر ہو جائیں خواہ پھٹنے یا نکالنے کی وجہ سے توان پر مسح جائز نہ رہا تو جوتے میں تو دونوں قدم کا اکثر حصہ غائب نہیں ہوتا پس اس سے خود یہ ثابت ہو گیا کہ یہ ان موزوں کی طرح ہیں جن میں پاؤں نہیں چھپتا ( پس بالا تفاق ان پر مسح جائز نہ ہوا )

بن أَبِي ذِئْبٍ ← بن أبي فديك ← أحمد بن الحسين اللهبي، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 595

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 596

583 - حدثنا محمد بن النعمان السقطي قال ثنا الحميدي قال ثنا عبد العزيز بن أبي حازم قال حدثني بن الهادي عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن عمرة عن عائشة رضي الله عنها أن أم حبيبة رضي الله عنها بنت جحش كانت تحت عبد الرحمن بن عوف وأنها استحيضت حتى لا تطهر فذكر شأنها لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ليست بالحيضة ولكنها ركضة من الرحم لتنظر قدر قروئها التي تحيض لها فلتترك الصلاة ثم لتنظر ما بعد ذلك فلتغتسل عند كل صلاة وتصلي

عمرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بنت حجش عبدالرحمان بن عوف کی بیوی تھیں ان کو استحاضہ آتا تھا پاکیزگی نہ ہوتی تھی عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی حالت ذکر کی تو آپ نے فرمایا وہ حیض نہیں بلکہ وہ رحم کی حرکت ہے وہ اپنے حیض کے دنوں کا انتظار کرے اور ان دنوں میں نماز چھوڑ دے ( جب وہ دن ختم ہوں ) تو بعد میں دیکھے کیا کیفیت ہے ہر نماز کے لیے غسل کرے اور نماز اداکرے ۔

عَمْرَةَ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← بن الهادي ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← الْحُمَيْدِيُّ، ← محمد بن النعمان السقطي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 596

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 597

584 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الوهبي قال ثنا محمد بن إسحاق عن الزهري عن عروة عن عائشة رضي الله عنها عن أم حبيبة رضي الله عنها بنت جحش كانت استحيضت في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فأمرها رسول الله صلى الله عليه و سلم بالغسل لكل صلاة فإن كانت لتغتمس في المركن وهو مملوء ماء ثم تخرج منه وإن الدم لغالبه ثم تصلي قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن المستحاضة تدع الصلاة أيام أقرائها ثم تغتسل لكل صلاة واحتجوا في ذلك بقول رسول الله صلى الله عليه و سلم المروي في هذه الآثار وبفعل أم حبيبة رضي الله عنها بنت جحش على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم

عروہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کو ایام نبوت میں استحاضہ کی حالت ہو گئی تھی تو اس کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز کے لیے غسل کاحکم فرمایا۔ امام طحاویرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ مستحاضہ ایام حیض میں نماز چھوڑ دے پھر ہر نماز کے لیے غسل کرے۔ انہوں نے اپنی دلیل میں حضرت ام حبیبہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کے عمل اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کو پیش کیا ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← الوهبي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 597

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 598

585 - حدثنا الربيع بن سليمان الجيزي قال ثنا عبد الله بن يوسف قال ثنا الهيثم بن حميد قال أخبرني النعمان والأوزاعي وأبو معبد حفص بن غيلان عن الزهري قال أخبرني عروة وعمرة عن عائشة رضي الله عنها قالت استحيضت أم حبيبة رضي الله عنها بنت جحش فاستفتت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لها رسول الله صلى الله عليه و سلم إن هذه ليست بحيضة ولكنه عرق فتقه إبليس فإذا أدبرت الحيضة فاغتسلي وصلي وإذا أقبلت فاتركي لها الصلاة قالت عائشة رضي الله عنها فكانت أم حبيبة رضي الله عنها تغتسل لكل صلاة وكانت تغتسل أحيانا في مركن في حجرة أختها زينب وهي عند رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى إن حمرة الدم لتعلو الماء فتصلي مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فما منعها ذلك من الصلاة

عروہ و عمرہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کی کہ ام حبیبہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ پیش آیا تو اس نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےدریافت کیا آپ نے فرمایا یہ حیض نہیں بلکہ یہ رگ کا خؤن ہے جس کو ابلیس نے چیر دیا ہے جب ایام حیض گزر جائیں تو غسل کرو اور نماز ادا کرو اور پھر ایام حیض آجائیں تو نماز کو ترک کردو ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں ۔ اور کبھی کبھی ٹب میں غسل کرتیں اور اپنی بہن زینت کے حجرہ میں غسل کرتیں بعض اوقات خون کی سرخی پانی پر بلند بھی ہو جاتی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم بھی ہوتا مگر آپ اس کو نماز سے نہ روکتے ( گویا یہ آپ کا نہ روکنا خود جواز کا ثبوت ہوا)

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← النعمان والأوزاعي وأبو معبد حفص بن غيلان ← الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← الربيع بن سليمان الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 598

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 21 باب المستحاضة كيف تتطهر للصلاة ) · حديث 599

586 - حدثنا ربيع بن سليمان المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا بن أبي ذئب عن الزهري عن عروة وعمرة عن عائشة رضي الله عنها أن أم حبيبة رضي الله عنها بنت جحش استحيضت سبع سنين فسألت النبي صلى الله عليه و سلم عن ذلك فأمرها أن تغتسل وقال إن هذه عرق وليست بالحيضة فكانت هي تغتسل لكل صلاة

عروہ عمرہ کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت حجش رضی اللہ عنہا سات سال تک استحاضہ میں مبتلا رہیں انہوں نے جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں استفسار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ غسل کریں اور فرمایا یہ رگ کا خون ہے یہ حیض نہیں وہ ہر نماز کےلیے غسل کرتی تھیں۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← أسد ← ربيع بن سليمان المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 599

chevron_left Previous
1…495051…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter