Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 2 باب سؤر الهر ) · حديث 48

52 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو بكر الحنفي قال ثنا عبد الله بن نافع مولى بن عمر عن أبيه عن بن عمر أنه كان لا يتوضأ بفضل الكلب والهر وما سوى ذلك فليس به بأس

نافع رحمۃ اللہ علیہ ، ابن عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق نقل کرتے ہیں کہ وہ کتے اور بلی کے جوٹھے پانی سے وضو نہ کرتے تھے اور فرماتے ان کے علاوہ گھروں میں رہنے والے جانوروں کے جوٹھے میں کوئی حرج نہیں ۔ امام ابو جعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان آثار کی طرف ایک جماعت گئی ہے اس لیے انہوں نے بلی کے جوٹھے میں کوئی حرج قرار نہیں دیا اور جو حضرات اس طرف گئے ہیں ان میں امام ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ ہیں ۔ دوسرے علماء نے ان کی مخالفت کی ہے اور انہوں نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے ۔چنانچہ پہلے قول والے حضرات کے خلاف ان کی دلیل اسحق بن عبداللہ والی روایت ہے ( ہم ان سے یہ عرض کریں گے کہ تمہارے حق میں جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد : ( انھا من اطوافین علیکم اوالطوافات) میں اس کے نجس نہ ہونے کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ اس میں یہ بھی جائز ہے کہ اس کا گھر وں میں رہنا مراد لیا گیا ہے اور کپڑوں کو چھونا مراد ہو بقیہ برتن میں اس کا منہ مارنا یہ اس بات کی دلیل نہیں کیونکہ اس میں یہ بھی جائز ہے کہ اس کا گھر وں میں رہنا مراد لیا گیا ہوا اور کپڑوں کو چھونا مراد ہو بقیہ برتن میں اس کا منہ مارنا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس سے اسکا نجس ہونا یا نجس نہ ہونا ثابت ہو حدیث کے اندر تو حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا فعل ذکر کیا گیا ہے پس مناسب نہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے جو دو معنوں کا احتمال رکھنے والا ہے اس سے ایک طرف دلیل بنائی جائے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ کتوں کا گھر کے اندر رکھنا ناجائز نہیں اور انکا جوٹھا پلید ہے تو یہ بھی جائز ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث ابی قتادہ میں جو ارشاد آیا ہے اس کا گھروں میں شکار ، نگہبانی اور کھیتی کے لیے پالنا مراد لیا جائے۔ اس میں اس کے جوٹھے کے حکم کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے کہ آیا وہ پلید ہے یا نہیں ؟ لیکن دوسرے آثار جو عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیے ہیں ان میں اس کے جوٹھے کا مباح ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ پس ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس بات پر غور کریں کہ کیا جناب احمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مخالف کوئی بات مروی ہے چنانچہ ہم نے غور کیا تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت جناب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی سامنے آئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلی جب پانی والے برتن میں منہ ڈال دے تو اس کی پاکیزگی یہ ہے کہ اسے ایک یا دو مرتبہ دھو دیا جائے قرۃ کو ان دونوں الفاظ میں سے ایک کے بارے میں شک ہے اس حدیث کی سند متصل ہے یہ حدیث پہلے آثار میں جو کچھ ہے اس کے خلاف ہے اور انہوں نے اس روایت کو صحت سند کی وجہ سے الگ ذکر کیا ۔ اگر آپ اس بات کو سند کے لحاظ سے لیں تو یہ قول اس کے مخالف دیگر اقوال سے اولیٰ ہے اگر اس کے متعلق کوئی یہ کہے کہ اس روایت کو ہشام بن حسان نے ابن سیرین سے مرفوع نقل نہیں کیا اور انہوں نے اس میں وہ بیان کیا جو ابو بکرہ نے ہمیں وہب بن جریر کے واسطہ سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ بلی کے جوٹھے کو بہاد یا جائے اور برتن کو ایک یا دو مرتبہ دھو دیا جائے اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ قرۃ کی روایت فاسد ہے کیونکہ محمد ابن سیرین حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں اکثر ایسا کرتے رہتے ہیں کبھی اس کو موقوف بیان کرتے ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آیا یہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے تو وہ اس کو مرفوع نقل کر دیتے ہیں اس کی دلیل وہ روایت ہے و ابراہیم بن ابوداؤد کی سند سے ابن سیرین نے اس طرح ذکر کی کہ جب وہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے تو ان سے پوچھا جاتا کہ کیا یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے؟ تو وہ کہتے ہر حدیث ابو ہریرہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اور ایسا اس لیے کرتے تھے کیونکہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی روایت بیان کرتے تھے پس ابن ابی داؤد کی روایت میں ان کے اس اعلان نے اس بات سے بے نیاز کر دیا کہ وہ ہر حدیث جس کو وہ روایت کریں وہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع ہی نقل کریں ۔ پس اس سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کا اتضال ثابت ہو گیا اور اس کے ساتھ ساتھ قرۃ کا ضابط اور متقن ہونا بھی ثابت ہو گیا ۔ پھر یہ روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس سند کے علاوہ بھی موقوف مروی ہے لیکن وہ مرفوع نہیں ۔

أَبِيهِ ← عبد الله بن نافع مولى بن عمر ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 48

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 2 باب سؤر الهر ) · حديث 49

53 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الربيع بن يحيى الأشناني قال ثنا شعبة عن واقد بن محمد عن نافع عن بن عمر أنه قال لا توضؤوا من سؤر الحمار ولا الكلب ولا السنور

نافع ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہی کہ انہوں نے فرمایا گدھے ، کتے اور بلی کے جوٹھے سے وضو مت کرو۔

لا توضؤوا من سؤر الحمار ولا الكلب ولا السنور ← بن عمر أنه ← نَافِعٍ ← واقد بن محمد ← شُعْبَةُ، ← الرَّبِيعُ بْنُ يَحْيَى الْأُشْنَانِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 49

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 2 باب سؤر الهر ) · حديث 50

54 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا هشام بن أبي عبد الله عن قتادة عن سعيد قال إذا ولغ السنور في الإناء فاغسله مرتين وثلاثا

قتادہ نے سعید سے نقل کیا کہ انہو نں نے فرمایا جب بلی کسی برتن میں منہ ڈال دے تو اس کو دو مرتبہ یا تین مرتبہ دھو ڈالو۔

إذا ولغ السنور في الإناء فاغسله مرتين وثلاثا ← سَعِيدٌ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 50

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 2 باب سؤر الهر ) · حديث 51

55 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن قتادة عن الحسن وسعيد بن المسيب في السنور يلغ في الإناء قال أحدهما يغسله مرة وقال الآخر يغسله مرتين

قتادہ نے حسن بصری اور سعید بن المسیب رحمۃ اللہ علیہ سے سوال کیا اگر بلی برتن میں منہ مارے تو کیا حکم ہے تو ایک نے فرمایا ایک مرتبہ دو ڈالو اور دوسرے نے فرمایا دو مرتبہ دو ڈالو۔ ( معلوم ہوتا ہے کہ دو والا قول سعید کا ہے واللہ اعلم)

أحدهما يغسله مرة وقال الآخر يغسله مرتين ← الحسن وسعيد بن المسيب في السنور يلغ في الإناء ← قَتَادَةَ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 51

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 2 باب سؤر الهر ) · حديث 52

56 - حدثنا سليمان بن شعيب بن سليمان الكيساني قال ثنا الخصيب بن ناصح قال ثنا حماد عن قتادة قال كان سعيد بن المسيب والحسن يقولان اغسل الإناء ثلاثا يعني من سؤر الهر

قتادہ کہتے ہیں کہ حضرت سعید ابن المسیب رحمۃ اللہ عیہ اور حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ برتن کو بلی کو جوٹھے سے تین مرتبہ دھو یا جائے ۔

قَتَادَةَ ← حَمَّادٌ، ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← سليمان بن شعيب بن سليمان الكيساني

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 52

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 2 باب سؤر الهر ) · حديث 53

57 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا أبو حوة عن الحسن في هر ولغ في إناء أو شرب منه قال يصب ويغسل الإناء مرة

ابو حرہ نے حسن بصری رحمۃ اللہ عیہ سے سوال کیا کہ بلی جس برتن میں منہ ڈال دے یا اس سے پانی پی لے اس کا کیا حکم ہے ؟آ پ نے فرمایا اس پانی کو گرا دیا جائے اور برتن کو ایک مرتبہ دھویا جائے ۔

يصب ويغسل الإناء مرة ← الحسن في هر ولغ في إناء أو شرب منه ← أبو حوة ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 53

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 2 باب سؤر الهر ) · حديث 54

58 - حدثنا روح بن الفرج القطان قال ثنا سعيد بن كثير بن عفير قال حدثني يحيى بن أيوب أنه سأل يحيى بن سعيد عما لا يتوضأ بفضله من الدواب فقال الخنزير والكلب والهر وقد شد هذا القول النظر الصحيح وذلك أنا رأينا اللحمان على أربعة أوجه 1 فمنها لحم طاهر مأكول وهو لحم الإبل والبقر والغنم فسؤر ذلك كله طاهر لأنه ماس لحما طاهرا 2 ومنها لحم طاهر غير مأكول وهو لحم بني آدم وسؤرهم طاهر لأنه ماس لحما طاهرا 3 ومنها لحم حرام وهو لحم الخنزير والكلب فسؤر ذلك حرام لأنه ماس لحما حراما فكان حكم ما ماس هذه اللحمان الثلاثة كما ذكرنا يكون حكمه حكمها في الطهارة والتحريم 4 ومن اللحمان أيضا لحم قد نهي عن أكله وهو لحم الحمر الأهلية وكل ذي ناب من السباع أيضا ومن ذلك السنور وما أشبهه فكان ذلك منهيا عنه ممنوعا من أكل لحمه بالسنة وكان في النظر أيضا سؤر ذلك حكمه حكم لحمه لأنه ماس لحما مكروها فصار حكمه حكمه كما صار حكم ما ماس اللحمان الثلاث الأول حكمها فثبت بذلك كراهة سؤر السنور فبهذا نأخذ وهو قول أبي حنيفة رحمة الله عليه

یحییٰ بن ایوب کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن سعید بن المسیب سے سوال کیا کہ کن جانوروں کے جوٹھے سے وضو نہ کیا جائے تو انہوں نے فرمایا خنزیر ، کتا، بلی ۔ اس قول کو نظر صحیح نے اور پختہ کر دیا ۔ اس لیے کہ ہم نے دیکھا کہ گوشت چار قسم کے ہیں ۔ 1۔ بعض گوشت طاہر بھی ہیں اور یہ کھایا بھی جاتا ہے یہ اونٹ ،گائے ، بکری کا گوشت ہے ان سب کو جوٹھا پاک ہے کیونکہ یہ پاک گوشت کو چھونے والا ہے ۔ 2۔بعض گوشت پاک ہیں مگر کھائے نہیں جاتے اور وہ اولاد آدم کا گوشت ہے ان کا جوٹھا بھی پاک ہے کیونکہ یہ بھی پاک گوشت کو چھونے والا ہے ۔ 3۔ ایک گوشت حرام ہے اور وہ خنزیر اور کتے کا گوشت ہے پس ان کا جوٹھا بھی حرام ہے کیونکہ یہ حرام گوشت کو چھوٹے والا ہے پس ان گوشت کی تینوں اقسام کو جو چیز چھونے والی ہے اس کا حکم وہی ہے جو ہم نے بیان کر دیا چنانچہ اس طہارت اور تحریم میں اس کا حکم ایک جیسا ہوگا ۔4۔ایک گوشت وہ ہے کہ جس کے کھانے کی ممانعت فرمائی گئی ہے اور وہ گھریلو گدھے کا گوشت اور اسی طرح ہر پھاڑنے والے ، کچلی والے درندے کا گوشت ہے اور اسی سے بلی اور اس کے مشابہہ جانور بھی ہیں تو یہ ممنوع ہو گا اور اس کی کھانے کی ممانعت سنت سے ثابت ہو گی تو نظر و فکر کا تقاضا بھی یہ ہے کہ ان کے جوٹھے کا حکم ان کے گوشت جیسا ہو کیونکہ وہ مکروہ گوشت کو چھونے والا ہے۔ پس اس کے جوٹھ کا حکم اسی طرح ہوا جس طرح خود اس کے گوشت کا حکم ہے اور پہلے تین قسم کے گوشت کو چھونے والے پانی کا حکم ان کے گوشت جیسا ہوگا اس سے بلی کے جوٹھے کی کراہٹ ثابت ہو گئی اور اسی کو ہم اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے ۔

سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، ← روح بن الفرج القطان

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 54

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 3 باب سؤر الكلب ) · حديث 55

59 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا عبد الوهاب بن عطاء عن شعبة عن الأعمش عن ذكوان عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال إذا ولغ الكلب في الإناء فاغسلوه سبع مرات

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں جب برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اس برتن کو سات مرتبہ دھوؤ۔

إذا ولغ الكلب في الإناء فاغسلوه سبع مرات ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ذَكْوَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 55

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 3 باب سؤر الكلب ) · حديث 56

60 - حدثنا فهد قال ثنا عمر بن حفص بن غياث قال ثنا أبي قال ثنا الأعمش قال ثنا أبو صالح عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

ابو صالح نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد اسی طرح نقل کیا ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو صَالِحٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 56

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 3 باب سؤر الكلب ) · حديث 57

61 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا المقدمي قال ثنا المعتمر بن سليمان عن أيوب عن محمد عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله وزاد أولا هن بالتراب

محمد نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی وساطت سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد اسی طرح نقل کیا ہے اور یہ اضافہ بھی ہے اولا ھن بالتراب کہ اول مرتبہ مٹی سے مانجھنا ہے اور ایوب کی محمد بن سیرین سے روایت ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله وزاد أولا هن بالتراب ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 57

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 3 باب سؤر الكلب ) · حديث 58

62 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عاصم عن قرة قال ثنا محمد بن سيرين عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح نقل کیا ہے یہ قرہ کی محمد بن سیرین سے روایت ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← قُرَّۃَ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 58

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 3 باب سؤر الكلب ) · حديث 59

63 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا عبد الوهاب بن عطاء قال سئل سعيد عن الكلب يلغ في الإناء فأخبرنا عن قتادة عن بن سيرين عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه قال أولاها أو السابعة بالتراب شك سعيد [ ص 22 ] فذهب قوم إلى هذا الأثر فقالوا لا يطهر الإناء إذا ولغ فيه الكلب حتى يغسل سبع مرات أولاهن بالتراب كما قال النبي صلى الله عليه و سلم وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا يغسل الإناء من ذلك كما يغسل من سائر النجاسات واحتجوا في ذلك بما قد روي عن النبي صلى الله عليه و سلم فمن ذلك ما حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا بشر بن بكر قال ثنا الأوزاعي رحمه الله

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد اسی طرح نقل کیا ہے صرف ان الفاظ کا فرق ہے " اولاھا اولسابعۃ بالتراب" یہ سعید راوی کوشک ہے کہ قتادہ نے کیا لفظ ذکر کیے ۔ بعض لوگ اس اثر کی طرف گئے ہیں اور کہا کہ جب کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے تو وہ برتن تب تک پاک نہ ہو گا جب تک سات مرتبہ نہ دھویا جائے ان میں پہلی مرتبہ مٹی کے ساتھ جیسا کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوسرے علماء نے انکے اس قول کی مخالفت کی ہے اور کہا کہ برتن کو اس سے بھی اسی طرح دھویا جائے گا جیسا کہ نجاسات سے دھویا جاتا ہے اور اس سلسلے میں ان روایات کو دلیل بنا یا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں ۔ ان میں ایک وہ روایت ہے جس کو سلیمان نے اور اعی سے نقل کیا ہے ۔

أولاها أو السابعة بالتراب شك سعيد ص فذهب قوم إلى هذا الأثر ← النبي صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بن سِيرِينَ ← قَتَادَةَ ← الكلب يلغ في الإناء. ← سئل سعيد ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 59

chevron_left Previous
1…456…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter