شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 2 باب سؤر الهر ) · حديث 48
52 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو بكر الحنفي قال ثنا عبد الله بن نافع مولى بن عمر عن أبيه عن بن عمر أنه كان لا يتوضأ بفضل الكلب والهر وما سوى ذلك فليس به بأس
نافع رحمۃ اللہ علیہ ، ابن عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق نقل کرتے ہیں کہ وہ کتے اور بلی کے جوٹھے پانی سے وضو نہ کرتے تھے اور فرماتے ان کے علاوہ گھروں میں رہنے والے جانوروں کے جوٹھے میں کوئی حرج نہیں ۔ امام ابو جعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان آثار کی طرف ایک جماعت گئی ہے اس لیے انہوں نے بلی کے جوٹھے میں کوئی حرج قرار نہیں دیا اور جو حضرات اس طرف گئے ہیں ان میں امام ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ ہیں ۔ دوسرے علماء نے ان کی مخالفت کی ہے اور انہوں نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے ۔چنانچہ پہلے قول والے حضرات کے خلاف ان کی دلیل اسحق بن عبداللہ والی روایت ہے ( ہم ان سے یہ عرض کریں گے کہ تمہارے حق میں جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد : ( انھا من اطوافین علیکم اوالطوافات) میں اس کے نجس نہ ہونے کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ اس میں یہ بھی جائز ہے کہ اس کا گھر وں میں رہنا مراد لیا گیا ہے اور کپڑوں کو چھونا مراد ہو بقیہ برتن میں اس کا منہ مارنا یہ اس بات کی دلیل نہیں کیونکہ اس میں یہ بھی جائز ہے کہ اس کا گھر وں میں رہنا مراد لیا گیا ہوا اور کپڑوں کو چھونا مراد ہو بقیہ برتن میں اس کا منہ مارنا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس سے اسکا نجس ہونا یا نجس نہ ہونا ثابت ہو حدیث کے اندر تو حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا فعل ذکر کیا گیا ہے پس مناسب نہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے جو دو معنوں کا احتمال رکھنے والا ہے اس سے ایک طرف دلیل بنائی جائے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ کتوں کا گھر کے اندر رکھنا ناجائز نہیں اور انکا جوٹھا پلید ہے تو یہ بھی جائز ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث ابی قتادہ میں جو ارشاد آیا ہے اس کا گھروں میں شکار ، نگہبانی اور کھیتی کے لیے پالنا مراد لیا جائے۔ اس میں اس کے جوٹھے کے حکم کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے کہ آیا وہ پلید ہے یا نہیں ؟ لیکن دوسرے آثار جو عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیے ہیں ان میں اس کے جوٹھے کا مباح ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ پس ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس بات پر غور کریں کہ کیا جناب احمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مخالف کوئی بات مروی ہے چنانچہ ہم نے غور کیا تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت جناب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی سامنے آئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلی جب پانی والے برتن میں منہ ڈال دے تو اس کی پاکیزگی یہ ہے کہ اسے ایک یا دو مرتبہ دھو دیا جائے قرۃ کو ان دونوں الفاظ میں سے ایک کے بارے میں شک ہے اس حدیث کی سند متصل ہے یہ حدیث پہلے آثار میں جو کچھ ہے اس کے خلاف ہے اور انہوں نے اس روایت کو صحت سند کی وجہ سے الگ ذکر کیا ۔ اگر آپ اس بات کو سند کے لحاظ سے لیں تو یہ قول اس کے مخالف دیگر اقوال سے اولیٰ ہے اگر اس کے متعلق کوئی یہ کہے کہ اس روایت کو ہشام بن حسان نے ابن سیرین سے مرفوع نقل نہیں کیا اور انہوں نے اس میں وہ بیان کیا جو ابو بکرہ نے ہمیں وہب بن جریر کے واسطہ سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ بلی کے جوٹھے کو بہاد یا جائے اور برتن کو ایک یا دو مرتبہ دھو دیا جائے اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ قرۃ کی روایت فاسد ہے کیونکہ محمد ابن سیرین حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں اکثر ایسا کرتے رہتے ہیں کبھی اس کو موقوف بیان کرتے ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آیا یہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے تو وہ اس کو مرفوع نقل کر دیتے ہیں اس کی دلیل وہ روایت ہے و ابراہیم بن ابوداؤد کی سند سے ابن سیرین نے اس طرح ذکر کی کہ جب وہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے تو ان سے پوچھا جاتا کہ کیا یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے؟ تو وہ کہتے ہر حدیث ابو ہریرہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اور ایسا اس لیے کرتے تھے کیونکہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی روایت بیان کرتے تھے پس ابن ابی داؤد کی روایت میں ان کے اس اعلان نے اس بات سے بے نیاز کر دیا کہ وہ ہر حدیث جس کو وہ روایت کریں وہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع ہی نقل کریں ۔ پس اس سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کا اتضال ثابت ہو گیا اور اس کے ساتھ ساتھ قرۃ کا ضابط اور متقن ہونا بھی ثابت ہو گیا ۔ پھر یہ روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس سند کے علاوہ بھی موقوف مروی ہے لیکن وہ مرفوع نہیں ۔
أَبِيهِ ← عبد الله بن نافع مولى بن عمر ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 48
