Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 18 باب حكم بول الغلام والجارية قبل أن يأكلا الطعام ) · حديث 576

564 - حدثنا ربيع قال ثنا أسد قال ثنا محمد بن حازم فذكر بإسناده مثله

حدثنا ربیع الموذن قال حدثنا محمد بن حازم پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت بیان کی ہے ۔

محمد بن حازم فذكر بإسناده مثله ← أسد ← رَبِيعٌ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 576

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 18 باب حكم بول الغلام والجارية قبل أن يأكلا الطعام ) · حديث 577

565 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا عبدة بن سليمان عن هشام عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه و سلم أتي بصبي فبال عليه فأتبعه الماء ولم يغسله

حدثنا عبدہ بن سلیمان عن ہشام عن ابیہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بچہ لایا گیا اس نے آپ کے کپڑوں پر پیشاب کر دیا تو آپ نے اس پر پانی بہا دیا اور اس کو مل کر نہیں دھویا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 577

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 18 باب حكم بول الغلام والجارية قبل أن يأكلا الطعام ) · حديث 578

566 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن هشام فذكر بإسناده مثله غير أنه لم يقل ولم يغسله وإتباع الماء حكمه حكم الغسل ألا ترى أن رجلا لو أصاب ثوبه عذرة فأتبعها الماء حتى ذهب بها أن ثوبه قد طهر وقد روى هذا الحديث زائدة عن هشام بن عروة فقال فيه فدعا بماء فنضحه عليه وقال مالك وأبو معاوية وعبدة عن هشام بن عروة فدعا بماء فصبه عليه فدل ذلك أن النضح عندهم الصب

مالک نے ہشام سے بیان کیا اور ہشام نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی البتہ اس میں لم یغسلہ کا لفظ نہیں ہے اور پے در پے پانی بہانے کا حکم دھونے کا ہے کیا تم غور نہیں کرتے کہ اگر کسی آدمی کے کپڑے کو گندگی لگ جائے اور اس پر وہ پے در پے پانی ڈالے جس سے وہ گندگی دور ہو جائے تو اس کا کپڑا پاک ہو گیا ۔ اس روایت کو زائدہ نے ہشام سے نقل کیا ہے اور اس کے الفاظ (( فد عا بماء فتضحہ علیہ)) ہیں اور مالک رحمۃ اللہ علیہ کی ہشام سے جو روایت ہے اس میں ( فضبہ علیہ) کے الفاظ ہیں ۔ اس سے یہ ثبوت مہیا ہو گیا کہ ان کے نزدیک نضح کو صب کے معنی میں لیا جاتا ہے ۔ اس روایت کو زائد نے ہشام بن عمرو سے بھی نقل کیا اس میں یہ لفظ ہیں " قد عا بماء فنضحہ علیہ " اور مالک ، عبدہ ، ابو معاویہ عن ہشام بن عروہ میں یہ لفظ ہیں " فد عا نماء فضبہ علیہ "

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 578

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 18 باب حكم بول الغلام والجارية قبل أن يأكلا الطعام ) · حديث 579

567 - حدثنا فهد قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا بن شهاب عن بن أبي ليلى عن عيسى بن عبد الرحمن عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أبي ليلى قال كنت عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فجيء بالحسن رضي الله عنه فبال عليه فأراد القوم أن يعجلوه فقال ابني ابني فلما فرغ من بوله صب عليه الماء

عن عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے کہا کہ حضرت ابو لیلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا تھا حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو لایا گیا تو انہوں نے آپ کے کپڑوں پر پیشاب کر دیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے جلدی سے اسے پکڑنا چایا تو آپ نے فرمایا میرے بیٹے کو رہنے دو جب پیشاب کرلیا تو اس پر پانی بہا دیا گیا ( یہاں صب کا لفظ ہے )

أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عِیْسَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← بن أَبِي لَيْلَى ← بن شِهَابٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 579

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 18 باب حكم بول الغلام والجارية قبل أن يأكلا الطعام ) · حديث 580

568 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال أنا وكيع عن بن أبي ليلى فذكر مثله بإسناده

وکیع نے ابن ابی لیلیٰ سے پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

بن أبي ليلى فذكر مثله بإسناده ← وَكِيعٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 580

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 18 باب حكم بول الغلام والجارية قبل أن يأكلا الطعام ) · حديث 581

569 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا يحيى بن صالح قال ثنا زهير بن معاوية عن عبد الله بن عيسى عن جده عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أبيه قال كنت جالسا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى بطنه أو على صدره حسن أو حسين فبال عليه حتى رأيت بوله أساريع فقمنا إليه فقال دعوه فدعا بماء فصبه عليه

عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ اپنے والد ابی لیلیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا آپ کے پیٹ یا سینے پر حسن یا حسین تھے تو انہوں نے آپ کے اوپر پیشاب کر دیا یہاں تک کہ میں نے سینے پر پیشاب کے چلنے کو دیکھا ہم ا س کو اٹھانے کےلیےاٹھے تو آپ نے فرمایا اسے چھوڑ دو پھر پانی منگوایا اور سینہ پر بہاد دیا ۔ ( یہاں بھی صبہ علیہ کا لفظ ہے )

أَبِيهِ ← جده عبد الرحمن بن أبي ليلى، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 581

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 18 باب حكم بول الغلام والجارية قبل أن يأكلا الطعام ) · حديث 582

570 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا شريك عن سماك عن قابوس عن أم الفضل قالت لما ولد الحسين قلت يا رسول الله أعطنيه أو أدفعه إلي فلأكفله أو أرضعه بلبني ففعل فأتيته به فوضعه على صدره فبال عليه فأصاب إزاره فقلت له يا رسول الله أعطني إزارك أغسله قال إنما يصب على بول الغلام ويغسل بول الجارية قال أبو جعفر فهذه أم الفضل في حديثها هذا إنما يصب على بول الغلام وفي حديثها الذي ذكرناه في الفصل الأول إنما ينضح من بول الغلام فلما كان ما ذكرناه كذلك ثبت أن النضح الذي أراد به في الحديث الأول هو الصب المذكور هاهنا حتى لا يتضاد الأثران وهذا أبو ليلى فلم يختلف عنه أنه رأى النبي صلى الله عليه و سلم صب على البول الماء فثبت بهذه الآثار أن حكم بول الغلام هو الغسل إلا أن ذلك الغسل يجزيء منه الصب وأن حكم بول الجارية هو الغسل أيضا وفرق في اللفظ بينهما وإن كانا مستويين في المعنى للعلة التي ذكرنا من ضيق المخرج وسعته فهذا حكم هذا الباب من طريق الآثار وأما وجهه من طريق النظر فإنا رأينا الغلام والجارية حكم أبوالهما سواء بعدما يأكلان الطعام فالنظر على ذلك أن يكون أيضا سواء قبل أن يأكلا الطعام فإذا كان بول الجارية نجسا فبول الغلام أيضا نجس وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

قابوس بیان کرتے ہیں ام الفضل رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ جب حسین پیدا ہوئے تو میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ مجھے دیں یا میرے حوالہ کریں میں اس کی کفالت کروں گی یا اپنا دودھ پلاؤں گی آپ نے میرے سپرد کر دیا ایک دن ان کو لے کر آئی تو آپ نے اسے اپنے سینے پر رکھا تو اس نے پیشاب کر دیا جو آپ کے ازار کو پہنچا میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنا ازار عنایت فرمائیں تاکہ میں اسے دھو ڈالوں آپ نے فرمایا لڑکے کے پیشاب پر پانی بہا یا جاتا ہے اور بچی کے پیشاب کو مل کر دھویا جاتا ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ام الفضل رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے کہ لڑکے کے پیشاب پر پانی بہا یا جائے اور انہی سے فصل اول میں مذکورہ روایت میں ( ینضح) کا لفظ ہے کہ لڑکے کے پیشاب پر پانی بہایا جائے ۔ جب با ت اسی طرح ہے جو ہم نے عرض کر دی تو اس سے ثابت ہو گیا کہ حدیث اول میں ( نصح) کا معنی بہانا ہے جیسا کہ یہاں مذکور ہے تاکہ دونوں آثار کا تضاد ختم ہو اور یہ ابو لیلیٰ بھی ان موافق بات کہہ رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب پر پانی کو بہایا ۔ پس ان آثار سے ثابت ہوا کہ لڑکے کے پیشاب کا حکم بھی دھونا ہے مگر اس دھونے سے صرف اس پر پیشاب پر پانی کو بہا یا ۔ پس ان آثار سے ثابت ہوا کہ لڑکے کے پیشاب کا حکم بھی دھونا ہے مگراس دھونے سے صرف اس پر پانی بہانا کافی ہو جائے گا اور لڑکی کے پیشاب میں ( مل کر) دھونا ہو گا۔ ان دونوں الفاظ میں تو فرق ہے مگر معنی میں دونوں یکساں ہیں اور اسکی علت وہی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے ۔ ایک کا مخرج تنگ اور دوسرے کا وسیع ہے ۔آثار کے پیش نظر تو اس بات کا یہی حکم ہے ۔ اب غور و فکر کے انداز سے ملاحظہ ہو ۔ ہم نے لڑکے اور لڑکی کے معاملے میں غور کیا ان کے پیشاب کا حکم برابر ہے جبکہ یہ کھانا کھانے لگ جائیں ۔ پس نظر کا تقاضا یہی ہے کہ کھانا کھانے سے پہلے بھی حکم برابر ہونا چاہیے جب لڑکی کا پیشاب پلید ہے تو لڑکے کا پیشاب بھی پلید ہے اور یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے ۔

لما ولد الحسين قلت ← أُمِّ الْفَضْلِ ← قَابُوسَ، ← سِمَاكٍ، ← شَرِيکٍ ← أبو غسان، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 582

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 19 باب الرجل لا يجد إلا نبيذ التمر هل يتوضأ به أو يتيمم ) · حديث 583

571 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا بن لهيعة قال ثنا قيس بن الحجاج عن حنش الصنعاني عن بن عباس رضي الله عنه أن بن مسعود خرج مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة الجن فسأله رسول الله صلى الله عليه و سلم أمعك يا بن مسعود ماء قال معي نبيذ في إداوتي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أصبب علي فتوضأ به وقال شراب وطهور

حنش ضنعانی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیلۃ الجن میں گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سوال کیا کیا ابن مسعود تمہارے پاس پانی موجود ہے ؟ انہوں نے عرض کیا میرے مشکیزہ میں نبیذ موجود ہے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے ہاتھ پر انڈیلو چنانچہ اس سے آپ نے وضو کیا اور آپ نے فرمایا وہ مشروب اور آلہ وضؤ ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← حنش الصنعاني ← قَيْسُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← بن لهيعة ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 583

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 19 باب الرجل لا يجد إلا نبيذ التمر هل يتوضأ به أو يتيمم ) · حديث 584

572 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عمرو الحوضي قال ثنا حماد بن سلمة قال أخبرني علي بن زيد بن جدعان عن أبي رافع مولى عمر رضي الله عنه عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أنه كان مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة الجن وأن رسول الله صلى الله عليه و سلم احتاج إلى ماء يتوضأ به ولم يكن معه إلا النبيذ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم تمرة طيبة وماء طهور فتوضأ به رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن من لم يجد إلا نبيذ التمر في سفره توضأ به واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وممن ذهب إلى ذلك أبو حنيفة رضي الله عنه وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يتوضأ بنبيذ التمر ومن لم يجد غيره تيمم ولا يتوضأ به وممن ذهب إلى هذا القول أبو يوسف وكان من الحجة لأهل هذا القول على أهل القول الأول أن عبد الله بن مسعود إنما روى ما ذكرنا عنه في أول هذا الباب من الطرق التي وصفنا وليست هذه الطرق طرقا تقوم بها الحجة عند من يقبل خبر الواحد ولم يجيء أيضا المجيء الظاهر فيجب على من يستعمل الخبر إذا تواترت الروايات به فهذا مما لا يجب استعماله لما ذكرنا على مذهب الفريقين الذين ذكرنا ولقد روي عن أبي عبيدة بن عبد الله ما يدل على أن عبد الله لم يكن مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلتئذ

ابو رافع مولیٰ عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ عبداللہ لیلۃ الجن میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کی ضرورت پیش آئی اور ابن مسعود کے پاس نبیذ کے علاوہ کچھ نہ تھا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھجور پاکیزہ اور پانی پاک ہے پس اس سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا ۔امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں علماء کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ جس شخص کے پاس سفر میں ایسا پانی موجود ہو جس میں کھجوریں بھگوئی گئی ہوں اور اسکے علاوہ پانی نہ ہو تو وہ اس کے ساتھ وضو کرے انہوں نے ان آثار سے استدلال کیا ہے ۔ اس جواز کے قائلین میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا نام بھی آتا ہے ۔ مگر دیگر علماء نے اس کے برعکس کہا کہ بھگوئی ہوئی کھجور والے پانی سے وضو جائز نہیں ۔ جو اس کے سوا نہ پائے وہ تیمم کرے ۔ وہ اس سے بالکل وضو نہ کرے اس قول کو امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے اختیار کیا انہوں نے پہلے قول کو اختیار کرنے والوں کے خلاف یہ دلیل پیش کی کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی وہ روایت جس کو آپ استدلال میں پیش کرتے ہیں اور اس کے لیے جتنی اسناد پیش کی ہیں وہ ان لوگوں کے ہاں بھی جو خبر واحد کو حجت مانتے ہیں قابل حجت نہیں ہیں کیونکہ راوی کا بیان پوری وضاحت سے پایا نہیں جاتا تا کہ متواتر طرق سے آئی ہوئی روایت کو قبول کر لیا جاتا ۔ پس دونوں فریق کے ہاں اس روایت پر عمل درست نہ ہوا البتہ ابو عبیدہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کےبیان کردہ اثر میں ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ لیلۃ الجن میں موجود ہی نہ تھے ۔

أبي رافع مولى عمر ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أبو عمرو الحوضي ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 584

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 19 باب الرجل لا يجد إلا نبيذ التمر هل يتوضأ به أو يتيمم ) · حديث 585

573 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة قال قلت لأبي عبيدة أكان عبد الله بن مسعود مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة الجن فقال لا

عمروبن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو عبیدہ کو کہا کیا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیلۃ الجن میں موجود تھے تو انہوں نے جواب دیا نہیں ۔

عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 585

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 19 باب الرجل لا يجد إلا نبيذ التمر هل يتوضأ به أو يتيمم ) · حديث 586

574 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب عن شعبة فذكر مثله بإسناده فلما انتفى عند أبي عبيدة أن أباه كان مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلتذ وهذا أمر لا يخفي مثله على مثله بطل بذلك ما رواه غيره مما يخبر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم فعل ليلتئذ إذ كان معه فإن قال قائل الآثار الأول أولى من هذا لأنها متصلة وهذا منقطع لأن أبا عبيدة لم يسمع من أبيه شيئا قيل له ليس من هذه الجهة احتججنا بكلام أبي عبيدة إنما احتججنا به لأن مثله على تقدمه في العلم وموضعه من عبد الله وخلطته لخاصته من بعده لا يخفي عليه مثل هذا من أموره فجعلنا قوله ذلك حجة فيما ذكرناه لا من الطريق الذي وضعت وقد روينا عن عبد الله بن مسعود من كلامه بالإسناد المتصل ما قد وافق ما قال أبو عبيدة

وہب نے کہا شعبہ نے اپنی سند سے اسی طرح روایت بیان کی ہے جب ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے اپنے والد کے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہونے کی نفی کر دی تو یہ ایسی چیز ہے جو ان کے بیٹے پر مخفی نہیں رہ سکتی تو ان سے دوسروں کا یہ روایت کرنا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں تھے اور آپ نے نبیذ سے وضو کیا اگر کوئی شخص معترض ہو کہ پہلے آثار اس اثر کے مقابلے میں اولیٰ ہیں کیونکہ وہ متصل ہیں اور یہ منقطع ہے کیونکہ ابو عبیدہ نے اپنے والد سے کوئی روایت نہیں سنی۔ اس کے جواب میں ہم عرض کریں گے اس دلیل میں ہم نے ابو عبیدہ کے قول کو دلیل نہیں بنایا بلکہ ہم نے ان سے اس لیے استدلال کیا کہ ان جیسا علم میں فوقیت رکھنے والا شخص جس کو اپنے والد کے ہاں قرب کا درجہ میسر ہو اس سے یہ معاملہ کیونکر مخفی رہ سکتا ہے ۔ ہم نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان کا کلام متصل سند کے ساتھ بھی روایت کیا ہے جو ابو عبیدہ کے قول کی موافقت میں ہے چنانچہ ملاحظہ ہو ۔

شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 586

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 19 باب الرجل لا يجد إلا نبيذ التمر هل يتوضأ به أو يتيمم ) · حديث 587

575 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عمرو بن عون قال ثنا خالد بن عبد الله عن خالد الحذاء عن أبي معشر عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال لم أكن مع النبي صلى الله عليه و سلم ليلة الجن ولوددت أني كنت معه

علقمہ نے کہا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیلۃ الجن میں موجود نہ تھا اور میری چاہت تھی کہ میں آپ کے ساتھ ہوتا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 587

chevron_left Previous
1…484950…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter