Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 17 باب ذكر الجنب والحائض والذي ليس على وضوء وقراءتهم القرآن ) · حديث 564

552 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا محمد بن المنهال قال ثنا يزيد بن ذريع قال ثنا روح بن القاسم عن عمرو بن دينار فذكر مثله بإسناده

روح بن القاسم نے نقل کیا کہ عمرو بن دینار نے اپنی اسناد سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

عمرو بن دينار فذكر مثله بإسناده ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يزيد بن ذريع ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 564

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 17 باب ذكر الجنب والحائض والذي ليس على وضوء وقراءتهم القرآن ) · حديث 565

553 - حدثنا محمد بن الحجاج قال ثنا خالد بن عبد الرحمن قال ثنا حماد بن سلمة عن عمرو مثله بإسناده أفلا ترى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما قيل له ألا تتوضأ فقال لا أريد الصلاة فأتوضأ فأخبر أن الوضوء إنما يراد للصلاة لا للذكر فهذا معارض لما رويناه عن بن عباس رضي الله عنه في أول هذا الباب وهذا أولى لأن بن عباس رضي الله عنه عمل به بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم فدل عمله به على أنه هو الناسخ فإن عارض في ذلك معارض بما

خالد بن عبدالرحمان نے نقل کیا کہ حماد بن سلمہ نے عمرو سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ کیا تم نہیں دیکھتے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گے؟ آپ نے ارشاد فرمایا جب میں نماز کا ارادہ کرتا ہوں تو وضو کرتا ہوں ۔ پس آپ نے بتایا کہ وضو نماز کے لیے کیا جاتا ہے ذکر کے لیے ضرورت نہیں ۔ یہ روایت اس باب کی ابتداء میں آنے والی روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے خلاف ہے اور یہ اس سے اولیٰ ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عمل کیا پس ان کے عمل سے یہ واضح دلالت مل گئی کہ پہلے والی روایت منسوخ ہے ۔ اگر کوئی اس پر اعتراض میں یہ روایت پیش کرے۔

عمرو مثله بإسناده أفلا ترى ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 565

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 17 باب ذكر الجنب والحائض والذي ليس على وضوء وقراءتهم القرآن ) · حديث 566

554 - حدثنا فهد قال ثنا أحمد بن يونس قال أنا زهير قال ثنا جابر عن عبد الرحمن بن الأسود عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها قالت ما أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم الخلاء إلا توضأ حين يخرج منه وضوءه للصلاة قالوا فهذا يدل على فساد ما رويتموه عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يذكر الله على كل أحيانه قيل له ما في هذا دليل على ما ذكرت لأنه قد يجوز أن يكون كان يتوضأ إذا خرج من الخلاء ولا يتوضأ إذا بال فيكون ذلك الحين حين حدث قد كان يذكر الله فيه فيكون معنى قولها كان يذكر الله في كل أحيانه أي في حين طهارته وحدثه حتى لا يتضاد الآثار مع أنه قد خالف ذلك حديث بن عباس رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما قال لا أريد الصلاة فأتوضأ فدل ذلك على أنه لم يكن يتوضأ إلا وهو يريد الصلاة فقد يحتمل أن يكون ما حضرت منه عائشة رضي الله عنها من الوضوء عند خروجه إنما هو لإرادته الصلاة لا للخروج من الخلاء ويحتمل أيضا أن يكون ذلك إخبارا منها عما كان يفعل قبل نزول الآية وما في حديث خالد بن سلمة إخبارا منها بما كان يفعل بعد نزول الآية حتى يتفق ما روي عنها وما روي عن غيرها ولا يتضاد من ذلك شيء

عبدالرحمان بن الاسود نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ جب بھی آپ بھی آپ بیت الخلاء میں گئے اس سے فارغ ہو کر آپ نے نماز والا وضو فرمایا ۔ معتر ضین کا کہنا یہ ہے کہ یہ روایت تو اس روایت کے خلاف ہے جو تم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر وقت ذکر کرتے تھے ان سے عرض کیا جائے اس میں تمہارے مقصد کی کوئی دلیل نہیں عین ممکن ہے کہ آپ ہر حالت میں ذکر کرتے ہوں یعنی طہارت اور بے وضو گی دونوں ھالتوں میں ذکر کرتے ہوں ۔ تاکہ روایات کا تعارض جاتا رہے اور یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ والی روایت کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نماز کا جب ارادہ کرتا ہوں تو اس وقت وضو کرتا ہوں وہ اس روایت کی مخالفت ہے اس سے یہ دلیل مل گئی کہ آپ ارادہ نماز کے وقت وضو کرتے تھے اور ممکن ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جس وضؤ کا بیت الخلاء سے نکلنے کے بعد تذکرہ کیا ہے وہ نماز کے ارادہ سے ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس آیت کے اترنے سے پہلے حال کی خبر دی ہو اور وہ جو خالد بن سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں آپ کا جو عمل مذکور ہے وہ نزول آیت کے بعد والا عمل ہوتا کہ اس سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت اور دیگر روایات میں موافقت ہو جائے اور تضاد بالکل ختم ہو جائے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← جَابِرٍ ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 566

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 18 باب حكم بول الغلام والجارية قبل أن يأكلا الطعام ) · حديث 567

555 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا بكر بن خلف قال ثنا معاذ بن هشام قال أخبرني أبي عن قتادة عن أبي حرب بن أبي الأسود عن أبيه عن علي رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال في الرضيع يغسل بول الجارية وينضح بول الغلام

ابو الاسود نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیتے بچے کے متعلق فرمایا کہ لڑکی کے پیشاب کو خوب دھویا جائے گا اور لڑکے کے پیشاب پر معمولی پانی ڈالا جائے گا۔

في الرضيع يغسل بول الجارية وينضح بول الغلام ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 567

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 18 باب حكم بول الغلام والجارية قبل أن يأكلا الطعام ) · حديث 568

556 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو الوليد قال ثنا أبو الأحوص عن سماك بن حرب عن قابوس بن المخارق عن لبابة بنت الحارث أن الحسين بن علي رضي الله عنهما بال على النبي صلى الله عليه و سلم فقلت أعطني ثوبك أغسله فقال إنما يغسل من الأنثى وينضح من بول الذكر

قابو س بن المخارق نقل کرتے ہیں لبابہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حسین علی رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا تو میں نے کہا آپ اپنا کپڑا مجھے دیں تاکہ میں اسے دھو ڈالوں آپ نے فرمایا مونث کے پیشاب والا کپڑا خوب دھویا جاتا ہے اور مذکر بچے کے پیشاب پر پانی ڈال دیا جاتا ہے ۔(لبابہ یہ ام فضل زوجہ عبا س رضی اللہ عنہا کا نام ہے اور حضرت حسین کی رضا عی ماں ہیں)

لُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ← قَابُوسَ بْنِ الْمُخَارِقِ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 568

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 18 باب حكم بول الغلام والجارية قبل أن يأكلا الطعام ) · حديث 569

557 - حدثنا فهد قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا أبو الأحوص فذكر مثله بإسناده

ابو بکر بن ابی شیبہ نے ابو الاحوص پھر اس نے اپنی سند سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔

أبو الأحوص فذكر مثله بإسناده ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 569

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 18 باب حكم بول الغلام والجارية قبل أن يأكلا الطعام ) · حديث 570

558 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني مالك والليث وعمرو ويونس عن بن شهاب عن عبيد الله بن عتبة عن أم قيس بنت محصن أنها أتت بابن لها لم يأكل الطعام إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأجلسه رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجره فبال على ثوبه فدعا بماء فنضحه ولم يغسله

عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے نقل کیا کہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہ اپنے ایک دودھ پیتے بچے کو خدمت بنوت میں لے کر آئیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں اٹھا لیا اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور اس پر بہادیا اور مل کر نہ دھویا۔

عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ ← بن شِهَابٍ ← مالك والليث وعمرو ويونس ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 570

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 18 باب حكم بول الغلام والجارية قبل أن يأكلا الطعام ) · حديث 571

559 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن الزهري فذكر مثله بإسناده

سفیان نے کہا کہ زہری نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

الزهري فذكر مثله بإسناده ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 571

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 18 باب حكم بول الغلام والجارية قبل أن يأكلا الطعام ) · حديث 572

560 - حدثنا بن خزيمة قال ثنا عبد الله بن رجاء قال أنا زائدة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت أتي النبي صلى الله عليه و سلم بصبي يحنكه ويدعو له فبال عليه فدعا بماء فنضحه ولم يغسله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى التفريق بين حكم بول الغلام وبول الجارية قبل أن يأكلا الطعام فقالوا بول الغلام طاهر وبول الجارية نجس وخالفهم في ذلك آخرون فسووا بين بوليهما جميعا وجعلوهما نجسين وقالوا قد يحتمل قول النبي صلى الله عليه و سلم بول الغلام ينضح إنما أراد بالنضح صب الماء عليه فقد تسمي العرب ذلك نضحا ومنه قول النبي صلى الله عليه و سلم إني لأعرف مدينة ينضح البحر بجانبها فلم يعن بذلك النضح الرش ولكنه أراد يلزق بجانبها قالوا وإنما فرق بينهما لأن بول الغلام يكون في موضع واحد لضيق مخرجه وبول الجارية يتفرق لسعة مخرجه فأمر في بول الغلام بالنضح يريد صب الماء في موضع واحد وأراد بغسل بول الجارية أن يتتبع بالماء لأنه يقع في مواضع متفرقة وهذا محتمل لما ذكرناه وقد روي عن بعض المتقدمين ما يدل على ذلك فمن ذلك ما

عروہ نے بتلایا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بچہ تخنیک کے لیے اور دعا کے لیے لایا گیا اس نے آپ کے کپڑوں پر پیشاب کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پانی بہایا اس کو مل کر نہ دھویا۔ ( تخنیک : کوئی چیز چبا کر بچے کے منہ میں ڈالنا یہ مسنون ہے ) امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کچھ علماء کا خیال یہ ہے کہ لڑکے اور لڑکی کے پیشاب کا حکم مختلف ہے اور یہ فرق کھانا کھانے سے پہلے تک ہے ۔ چنانچہ ان کا قول یہ ہے کہ لڑکے کا پیشاب پاک ہے اور لڑکی کا پیشاب نجس ہے ۔ علمائے کرام کی دوسری جماعت اس کے خلاف ہے ۔ چنانچہ انہوں نے دونوں کو حکم میں برابر قرار دیا اور دونوں کو نجس قرار دیا اور پہلے قرار دیا اور پہلے قول والوں کے جواب میں یہ فرمایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ( بول الغلام ینضع) میں احتمال ہے نضح کا معنی بہانا ہے ۔ عرب کے ہاں اس کا استعمال پایا جاتا ہے ۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ( انی لا عرف مدینہ ینضح البحر بجاننھا) سے بہنا مراد ہے یہاں چھڑکنا معنی نہیں ہو سکتا ۔ البتہ اس لحاظ سے فرق ہے کہ لڑکے کا پیشاب ایک وہانے سے خارج ہوتا ہے کیونکہ نکلنے کا مقام چھوٹا ہوتا ہے ۔ اور لڑکی کا پیشاب وسیع مخرج سے نکلتا ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے کے پیشاب میں پانی کے فقط بہا دینے کا حکم فرمایااور لڑکی کے پیشاب کے سلسلہ میں پہ در پہ پانی ڈالنے کا حکم فرمایا کیونکہ وہ الگ الگ مقام پر پڑتا ہے اور ہمارا مذکورہ احتمال بعض تابعین رحمۃ اللہ عنہم سے منقول ہے ۔ جو اسی معنی کو ثابت کرتا ہے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← زَائِدَۃَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 572

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 18 باب حكم بول الغلام والجارية قبل أن يأكلا الطعام ) · حديث 573

561 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن قتادة عن سعيد بن المسيب أنه قال الرش بالرش والصب بالصب من الأبوال كلها

قتادہ کہتے ہیں کہ سعید بن المسیب رحمۃ اللہ عنہ نے فرمایا تمام ابو ال کے سلسلہ میں اگر معمولی چھینٹ پڑ جائے تو اس پر پانی کا چھیٹنا دیا جائے اور اگر پیشاب بہہ جائے تو اس پر پانی بہا یا جائے ۔

الرش بالرش والصب بالصب من الأبوال كلها ← سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ ← قَتَادَةَ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 573

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 18 باب حكم بول الغلام والجارية قبل أن يأكلا الطعام ) · حديث 574

562 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن حميد عن الحسن أنه قال بول الجارية يغسل غسلا وبول الغلام يتبع بالماء أفلا ترى أن سعيدا قد سوى بين حكم الأبوال كلها من الصبيان وغيرهم فجعل ما كان منه رشا يطهر بالرش وما كان منه صبا يطهر بالصب ليس أن بعضها عنده طاهر وبعضها غير طاهر ولكنها كلها عنده نجسة وفرق بين التطهر من نجاستها عنده بضيق مخرجها وسعته ثم أردنا بعد ذلك أن ننظر في الآثار المأثورة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم هل فيها ما يدل على شيء مما ذكرنا فنظرنا في ذلك

حسن فرمایا لڑکی کے پیشاب کو خوب مل کر دھویا جائے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی بہاد یا جائے ان دونوں آثار سے یہ بات ثابت ہوئی کہ پیشا بوں کا حکم برابر ہے خواہ بچہ ہو یا بچی البتہ معمولی چھینٹے پر پانی کے چھینٹے کافی ہیں اور پیشاب کے بہہ جانے پر پانی بہایا جائے گا اور پانی بہایا جائے گا اور لڑکی کے پیشاب کو دھونے میں مبالغہ کیا جائے گامعلوم ہوا کہ ان میں فرق تنگی مخرج ہے نہ کہ طہارت و نجاست ۔ کیا آپ غور نہیں کرتے کہ سعید رحمۃ اللہ علیہ نے تمام بچوں کے پیشاب کو برابر قرار دیا ۔ پھر انہوں نے جو چھینٹوں کی صورت میں گرتا ہے اس کے لیے پانی چھڑکنے کو کافی قرار دیا اور جوزور سے بہنے والے ہیں ان کو پانی بہا دینے سے پاک قرار دیا ۔ ایسا نہیں کہ بعض کو انہوں نے پاک کہا ہو اور دوسروں کو ناپاک قرار دیا ہو بلکہ ان کے ہاں تمام پلید اور گندگی ہیں، صرف ان کی نجاست کے ازالہ میں ان کے ہاں فرق ہے ۔ اس کا سبب مخرج کی تنگی اور وسعت ہے اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ منقولہ آثار پر نگاہ ڈالیں تاکہ ہمیں معلوم ہو جائے کہ آیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کوئی چیز ایسی منقول ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے ۔ پس تلاش پر یہ آثار سامنے آئے ۔

الْحَسَنِ أَنَّهُ ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 574

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 18 باب حكم بول الغلام والجارية قبل أن يأكلا الطعام ) · حديث 575

563 - فإذا محمد بن عمرو بن يونس قد حدثنا قال ثنا أبو معاوية عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يؤتى بالصبيان فيدعو لهم فأتي بصبي مرة فبال عليه فقال صبوا عليه الماء صبا

ہشام بن عروہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دعا کے لیے بچوں کو لایا جاتا آپ ان کے لیے دعا فرماتے ایک مرتبہ آپ کے پاس ایک بچہ لایا گیا جس نے آپ کے کپڑوں پر پیشاب کر دیا تو آپ نے فرمایا صبوا علیہ الماء صبا اس پر اچھی طرح پانی بہا دو۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← فإذا محمد بن عمرو بن يونس قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 575

chevron_left Previous
1…474849…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter