Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 420

414 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا يحيى بن صالح قال ثنا بن أبي الزناد عن هشام عن أبيه عن مروان عن بسرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قيل له إن هشام بن عروة أيضا لم يسمع هذا من أبيه وإنما أخذه من أبي بكر أيضا فدلس به عن أبيه

یحییٰ بن صالح نے ابن ابی الزناد سے اور انہوں نے ہشام سے اور ہشام نے اپنے والد سے اور عروہ نے مروان سے اور مروان نے بسرہ سے بسرہ نے جناب نبی اکر صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی روایت نقل کی ہے ۔

أَبِيهِ ← إنما أخذه من أبي بكر أيضا فدلس به ← بُسْرَةَ ← مَرْوَانَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← بن أبي الزناد ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 420

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 421

415 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا الخصيب قال ثنا همام عن هشام بن عروة قال حدثني أبو بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عروة أنه كان جالسا مع مروان ثم ذكر الحديث على ما ذكره بن أبي عمران وابن خزيمة فرجع الحديث إلى أبي بكر أيضا فإن قالوا فقد رواه عن عروة أيضا غير الزهري وغير هشام فذكروا في ذلك ما

ہشام کہتے ہیں مجھے ابو بکر بن محمد نے عروہ سے نقل کیا کہ عروہ مروان کے ساتھ بیٹھے تھے پھر ابن ابی عمران اور ابن خزیمہ کی طرح روایت نقل کی ہے تو ثابت ہو گیا کہ سند تو یہاں بھی لوٹ کر ابو بکر بن محمد پرآگئی ۔

أبو بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عروة ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← هَمَّامٌ، ← الخصيب ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 421

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 422

416 - حدثنا محمد بن الحجاج وربيع المؤذن قالا ثنا أسد قال ثنا بن لهيعة قال ثنا أبو الأسود أنه سمع عروة يذكر عن بسرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قيل لهم كيف تحتجون في هذا بابن لهيعة وأنتم لا تجعلونه حجة لخصمكم فيما يحتج به عليكم ولم أرد بشيء من ذلك الطعن على عبد الله بن أبي بكر ولا على بن لهيعة ولا على غيرهما ولكني أردت بيان ظلم الخصم فثبت وهاء حديث الزهري بالذي دخل بينه وبين عروة ووهاء حديث الزهري أيضا وهشام بالذي بين عروة وبسرة لأن عروة لم يقبل ذلك ولم يرفع به رأسا وقد سقط الحديث بأقل من هذا وإن احتجوا في ذلك بما

ابن لہیعہ نے ابو الاسود سے نقل کیا کہ انہوں نے عروہ سے یہ بات سنی کہ وہ بسرہ رضی اللہ عنہ سے اور بسرہ رضی اللہ علیہ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی : من مس ذکرہ فلیتو ضاء۔ ان سے کہا جائے گا کہ ابن لہیعہ کی روایت سے تم کس طرح دلیل بناتے ہو جبکہ تم اس کو اپنے مخالفین کے لیے دلیل نہیں مانتے ہو جب یہ ان روایتوں کو بیان کرے جو تمہارے خلاف ہوں میرا مقصود اس سے ذرہ بھر بھی عبداللہ بن ابی بکر اور ابن لہیعہ وغیرہ پر طعن کرنا نہیں بلکہ میرا مقصد مخالف کی زیادہ کو بیان کرنا ہے پس زہری کی حدیث کا کمزور ہونا اس شخص کی وجہ سے ہوا جو عروہ اورزہری کے درمیان داخل ہوا ۔ اسی طرح زہری کی روایت کی کمزوری اور ہشام کی کمزوری جو کہ عروہ اور بسرہ کے درمیان ہے کیونکہ حضرت عروہ نے اس کو قبول نہیں کیا اور نہ تو جہ دی اور حدیث تو اس سے کم درجہ کی تنقید سے ساقط ہوجاتی ہے ۔تو ان سے کہا جائے گا کہ یہ تمہاری طرف سے زیادتی کے لیے کافی ہے کہ تم اس جیسی روایت کو دلیل بناء۔

بُسْرَةَ ← عروة يذكر ← أَبُو الْأَسْوَدِ أَنَّهُ ← بن لهيعة ← أسد ← محمد بن الحجاج وربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 422

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 423

417 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا هشام عن يحيى بن أبي كثير أنه سمع رجلا يحدث في مسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم عن عروة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه و سلم بذلك قيل لهم كفى بكم ظلما أن تحتجوا بمثل هذا وإن احتجوا في ذلك بما

محمد بن مسلم بن عبیدہ اللہ بن عبداللہ بن شہاب سے اور انہوں نے عروہ عن ید بن خالد الجہنی نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔" من مس فرجۃ فلیتوضا"

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← في مسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم ← رَجُلًا ← يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّهُ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 423

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 424

418 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد قال ثنا أبي عن بن إسحاق قال حدثني محمد بن مسلم بن عبيد الله بن عبد الله بن شهاب عن عروة بن الزبير عن زيد بن خالد قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من مس فرجه فليتوضأ

عبدالا علی نے ابن اسحاق سے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ تو ان سے کہا جائے گا تم محمد بن اسحق کو کسی چیز میں دلیل نہیں بناتے ہو جبکہ اس کے خلاف ایسے لوگ ہوں جو اس حدیث میں ہیں اور نہ اس وقت جب وہ منفرد ہوں اور ذاتی لحاظ سے یہ روایت منکر ہے اور عین ممکن ہے غلط ہو کیونکہ عروہ سے جب مروان نے بسرہ کی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ذکر کیا تو عروہ نے اس کو جواب دیا کہ اس سے وضو نہیں پھر جب مروان نے بسرہ کی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ذکر کیا تو عروہ نے اس کا جواب دیا کہ میں نے اس کو نہیں سنا اور یہ واقعہ زید بن خالد کی موت کے عرصہ بعد کا ہے تو یہ کیسے جائز ہے کہ عروہ بسرہ کے سامنے اس روایت کا انکار کر دیں جس کو خود انہوں نے زید بن خالد کے واسطے سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو۔

مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← محمد بن مسلم بن عبيد الله بن عبد الله بن شهاب ← بن إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 424

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 425

419 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عياش الرقام قال ثنا عبد الأعلى عن بن إسحاق فذكر بإسناده مثله قيل له أنت لا تجعل محمد بن إسحاق حجة في شيء إذا خالفه فيه مثل من خالفه في هذا الحديث ولا إذا انفرد ونفس هذا الحديث منكر وأخلق به أن يكون غلطا لأن عروة حين سأله مروان عن مس الفرج فأجابه من رأيه أن لا وضوء فيه فلما قال له مروان عن بسرة عن النبي صلى الله عليه و سلم ما قال قال له عروة ما سمعت به وهذا بعد موت زيد بن خالد بكم ما شاء الله فكيف يجوز أن ينكر عروة على بسرة ما قد حدثه إياه زيد بن خالد عن النبي صلى الله عليه و سلم فإن احتج في ذلك بما

ابراہیم بن اسماعیل نے عروہ بن شریح سے اور انہوں نے ابن شہاب اور انہوں نے عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 425

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 426

420 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا إسماعيل بن أبي أويس قال ثنا إبراهيم بن إسماعيل بن أبي حبيبة الأشهلي عن عمرو بن شريح عن بن شهاب عن عروة عن عائشة رضي الله عنها عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك

ابن ابی داؤ د نے الفروی اسحاق بن محمد سے اور انہوں نے ابراہیم بن اسماعیل سے اپنی اسناد سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ ان سے عرض کیا جائے گا کہ تم فریق مخالف ہو عمر بن شریح جیسے راوی کی روایت سے استدلال کی اجازت نہیں دیتے تو خود اس کو ان کے خلاف دلیل میں کس طرح پیش کروگے؟ پھر ذاتی لحاظ سے یہ روایت منکر ہے کیونکہ عروہ کو جب مروان نے حضرت بسرہ والی روایت سنائی تو عروہ نے اس کو نہ جانا نہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اور نہ ہی کسی غیر سے ۔ پھر اگر وہ اس روایت سے ستدلال کریں ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← بن شِهَابٍ ← عمرو بن شريح ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ الْأَشْهَلِيُّ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 426

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 427

421 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الفروي إسحاق بن محمد قال ثنا إبراهيم فذكر مثله بإسناده قيل لهم أنتم لا تسرعون خصمكم أن يحتج عليكم بمثل عمر بن شريح فكيف تحتجون به أنتم عليه ثم ذلك أيضا في نفسه منكر لأن عروة لما أخبره مروان عن بسرة بما أخبره به من ذلك لم يكن عرفه قبل ذلك لا عن عائشة رضي الله عنها ولا عن غيرها فإن احتجوا في ذلك بما

یزید بن سنان نے دحیم بن التیم سے اور انہوں نے عمرو بن ابی سلمہ سے اور انہوں نے صدقہ بن عبداللہ سے اور اس نے ہشام بن زید سے اور اس نے نافع عن ابن عمر رضی اللہ علیہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت اسی طرح نقل کی ہے انکو جواب دیا جائے گا کہ یہ صدقہ بن عبداللہ تمہارے ہاں بھی ضعیف ہے ۔ اس کو ہمارے خلاف کیسے دلیل بناتے ہو اور ہشام بن زبیران علم والوں میں سے نہیں جن کی روایت سے اس قسم کی بات ثابت ہو سکے ۔ اگر وہ اس روایت کو پیش کریں ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 427

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 428

422 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا دحيم بن اليتيم قال ثنا عمرو بن أبي سلمة عن صدقة بن عبد الله عن هشام بن زيد عن نافع عن بن عمر رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك قيل لهم صدقة بن عبد الله هذا عندكم ضعيف فكيف تحتجون به وهشام بن زيد فليس من أهل العلم الذين يثبت بروايتهم مثل هذا وإن احتجوا في ذلك بما

عمرو بن خالد نے علاء بن سلیمان سے اور انہوں نے زہری سے اور اس نے سالم سے اور سالم نےعبداللہ بن عمر رضی اللہ علیہ سے جناب عبداللہ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا " من مس فرجۃ فلیتوضا" ان کو یہ ہجواب دیا جائے تم علاء کو کیسے دلیل میں پیش کرتے ہو؟ وہ تو تمہارے ہاں بھی ضعیف ہے ۔ اگروہ یہ ہروایت پیش کریں ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ← صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ← دُحَيْمُ بْنُ الْيَتِيمِ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 428

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 429

423 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا عمرو بن خالد قال ثنا العلاء بن سليمان عن الزهري عن سالم عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال من مس فرجه فليتوضأ قيل لهم كيف تحتجون بالعلاء هذا وهو عندكم ضعيف وإن احتجوا في ذلك أيضا بما

معن بن عیسی القزاز نے یزید بن عبدالملک سے اور اس نے المقبری سے اور مقبری نے حضرت ابو ہریرہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح روایت نقل کی ہے " من افضیٰ بیدہ الی ذکرہ لیس بینھما ستر ولا حجاب فلیتوضاء " جس نے اپنا ہاتھ اپنے ذکر تک ایسی حالت میں پہنچایا کہ ان کے درمیان پردہ حائل نہ تھا اسے وضو کرنا چاہیے۔ ان کو یہ کہا جائے گا یہ یزید تمہارے ہاں منکر الحدیث ہے ۔ اس کی روایت کسی کام کی نہی پھر اس سے کیسے حجت پکڑتے ہو؟ اگر وہ یہ روایت پیش کریں ۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْعَلاَءُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 429

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 430

424 - حدثنا يونس قال ثنا معن بن عيسى القزاز عن يزيد بن عبد الملك عن المقبري عن أبي هريرة أن رسول الله قال من أفضى بيده إلى ذكره ليس بينهما ستر ولا حجاب فليتوضأ قيل لهم يزيد هذا عندكم منكر الحديث لا يستوي حديثه شيئا فكيف تحتجون به وإن احتجوا في ذلك بما

عبداللہ بن نافع الصائع نے ابن ابی ذئب سے اور انہوں نے عقبہ بن عبدالرحمن سے اور انہوں نے محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان سے اور اس نے جابر بن النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مندرجہ روایت نقل کی ہے ۔ حفاظ حدیث جنہوں نے اس روایت کو ابن ابی ذئب سے نقل کیا انہوں نے موقوف نقل کیا ہے جیسا مندرجہ روایت ملاحظہ کرنے سے بخوبی علم ہو جائے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ← مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 430

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 431

425 - حدثنا يزيد قال ثنا دحيم قال ثنا عبد الله بن نافع الصائغ قال ثنا بن أبي ذئب عن عقبة بن عبد الرحمن عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه و سلم مثل حديث يونس عن معن قيل لهم هذا الحديث كل من رواه عن بن أبي ذئب من الحفاظ يقطعه ويوقفه على محمد بن عبد الرحمن فمن ذلك ما

ابو عامر نے کہا ہمیں ابن ابی ذئب نے عقبہ سے اور انہوں نے محمد بن عبدالرحمن عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ یہ حفاظ حدیث اس روایت کو محمد بن عبدالرحمن پر موقو ف قرار دیتے ہیں اور اس میں ابن نافع کی مخالفت کرتے ہیں اور وہ تو تمہارے ہاں بھی ابن عبدالرحمن کے خلاف حجت ہے ۔ ابن عبدالرحمن ان کے خلاف حجت نہیں پھر تم ایک منقطع روایت کیسے دلیل بناتے ہو حالانکہ تم منقطع روایت کو ثابت نہیں مانتے ۔اگر وہ اس روایت کو دلیل میں لائیں ۔

معن قيل لهم هذا الحديث كل من رواه ← النبي صلى الله عليه و سلم مثل حديث يونس ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ ← دُحَيْمٌ، ← يَزِيدُ:

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 431

chevron_left Previous
1…353637…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter