Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 408

400 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا بن أبي مريم أنا يحيى بن أيوب قال حدثني إسماعيل بن رافع ومحمد بن النيل عن عبد الرحمن بن زيد الأنصاري عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال أكلت أنا وأبو طلحة وأبو أيوب الأنصاري طعاما قد مسته النار فقمت لأن أتوضأ فقال لي أتتوضأ من الطيبات لقد جئت بها عراقية فهذا أبو طلحة وأبو أيوب قد صليا بعد أكلهما مما غيرت النار ولم يتوضئا وقد رويا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه أمر بالوضوء من ذلك فيما قد روينا عنهما في هذا الباب فهذا لا يكون عندنا إلا وقد ثبت نسخ ما قد رويا عن النبي صلى الله عليه و سلم من ذلك عندهما فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار [ ص 70 ] وأما وجهه من طريق النظر فإنا قد رأينا هذه الأشياء التي قد اختلف في أكلها أنه ينقص الوضوء أم لا إذا مستها النار وقد أجمع أن أكلها قبل مماسة النار إياها لا ينقض الوضوء فأردنا أن ننظر هل للنار حكم يجب في الأشياء إذا مستها فينتقل به حكمها إليها فرأينا الماء القراح طاهرا تؤدى به الفروض ثم رأيناه إذا سخن فصار مما قد مسته النار أن حكمه في طهارته على ما كان عليه قبل مماسته النار إياه وأن النار لم تحدث فيه حكما ينتقل به حكمه إلى غير ما كان عليه في البدء فلما كان ما وصفنا كذلك كان في النظر أن الطعام الطاهر الذي لا يكون أكله قبل أن تمسه النار حدثا إذا مسته النار لا تنقله عن حاله ولا تغير حكمه ويكون حكمه بعد مسيس النار إياه كحكمه قبل ذلك قياسا ونظرا على ما بينا وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمهم الله تعالى وقد فرق قوم بين لحوم الغنم ولحوم الإبل فأوجبوا في أكل لحوم الإبل الوضوء ولم يوجبوا ذلك في أكل لحوم الغنم واحتجوا في ذلك بما

عبد الرحمن بن زید الا انصاری نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں اور ابو طلحہ ، ابو ایوب انصاری نے کھانا کھایا جو آگ سے پکا ہوا تھا میں وضو کرنے کھڑا ہوا تو وہ دونوں مجھے کہنے لگے کیا تم پاکیزہ چیزوں نے آگ سے پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا اور ہم نے ان دو حضرات سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ آپ نے اس کے متعلق وضو کا حکم دیا اور ہمارے نزدیک یہ تضاد( عمل ) نہیں ہو سکتا ۔ سوائے اس صورت کہ جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے روایت کیا۔ اس کا منسوخ ہونا ثابت ہو چکا ۔ روایات کے لحاظ سے اس باب کی یہی صورت ہے ۔ غور و فکر کے لحاظ سے اب ملاحظہ فرمائیں کہ ہم بہت ساری چیزیں ایسی دیکھتے ہیں کہ جن کے بارے میں اختلاف ہے کہ آیا ان کے کھانے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں جبکہ وہ آگ سے پکی ہوں؟ اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ آگ پر پکانے سے پہلے ان کے کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا تھا ۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس بات پر غور کریں کہ کیا آگ کا کوئی ایسا حکم ہے کہ جب یہ چیزوں تک پہنچ جائے تو وہ حکم اس چیز کی طرف منتقل ہو جاتا ہے ۔ چنانچہ ہم نے خالص پانی کو دیکھا کہ وہ پاک ہے اور اس سے فرض ادا کیے جاتے ہیں ، پھر ہم نے دیکھا کہ جب اس کو گرم کر لیا جائے اور یہ ان چیزوں میں شامل ہو جائے جو آگ سے پکتی ہیں تو طہارت میں اس کا حکم وہی ہے جو آگ پر پکنے سے پہلے ہو اور آگ نے اس میں کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی کہ جس سے اس کا حکم بدل کر ابتدا والے حکم سے مختلف ہوجائے ۔ تو نظر کا تقاضا یہ ہے کہ وہ پاکیزہ کھانا جس کے کھانے سے آگ پر پکنے سے پہلے حدث لازم نہیں آتا تو جب اسے آگ نے چھو لیا توآگ اس کو اس کی اپنی حالت سے نہ بدلے گی اور نہ اس کا حکم اور ہو گا بلکہ آگ کے چھونے کے بعد اس کا حکم وہی رہے گا۔ قیاس و نظر یہی چاہتے ہیں جو ہم نے عرض کر دیا ۔ ہمارے امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہم کا یہی مسلک ہے ۔ بعض لوگوں نے بکری اور اونٹ کے گوشت میں فرق کیا اور اونٹ کا گوشت کھالینے سے وضو کو لازم کیا اور بکری کے گوشت سے لازم نہیں کیا۔

قد رأينا هذه الأشياء التي قد اختلف في أكلها ← أبو أيوب قد صليا بعد أكلهما مما غيرت النار ولم يتوضئا وقد رويا ← لي أتتوضأ من الطيبات لقد جئت بها عراقية فهذا أبو طلحة ← وأبو طلحة وأبو أيوب الأنصاري طعاما قد مسته النار فقمت لأن أتوضأ ← أكلت ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← إسماعيل بن رافع ومحمد بن النيل ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 408

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 409

401 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل بن إسماعيل قال ثنا سفيان قال ثنا سماك عن جعفر بن أبي ثور عن جابر بن سمرة قال سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم أنتوضأ من لحوم الإبل قال نعم قيل أفنتوضأ من لحوم الغنم قال لا

جعفر بن ابی ثور نے جابر بن سمرہ سے روایت نقل کی ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کیا اونٹوں کے گوشت سے وضو کیا کریں ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ دوسرا سوال یہ کیا گیا کہ بکری کے گوشت سے ؟ آپ نے فرمایا نہیں ۔

لَا۔ ← نعم قيل أفنتوضأ من لحوم الغنم ← سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم أنتوضأ من لحوم الإبل ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ← سِمَاكٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 409

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 410

402 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا معاوية بن عمرو قال ثنا زائدة عن سماك بن حرب عن جعفر بن أبي ثور عن جابر عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه

ابو ثور نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم نحوه ← جَابِرٍ ← جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 410

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 411

403 - حدثنا محمد بن خزيمة ثنا الحجاج ثنا حماد عن سماك بن حرب عن جعفر عن جده جابر بن سمرة أن رجلا قال يا رسول الله أتوضأ من لحوم الغنم قال إن شئت فعلت وإن شئت لم تفعل قال قال يا رسول الله أتوضأ من لحوم الإبل قال نعم

جعفر نے اپنے دادا جابر بن سمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ایک آدمی نےکہا یا رسول اللہ ! کیا ہم بکری کے گوشت سے وضو کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر چاہو تو کر لو اور نہ چاہو تو نہ کرو یعنی لازم نہیں ۔ عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اونٹ کے گوشت سے وضو کروں فرمایا جی ہاں۔

جده جابر بن سمرة أن رجلا ← جَعْفَرٌ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حَمَّادٌ، ← الْحَجَّاجِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 411

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 412

404 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا أبو عوانة عن عثمان بن عبد الله بن موهب عن جعفر بن أبي ثور عن جابر بن سمرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يجب الوضوء للصلاة بأكل شيء من ذلك وكان من الحجة لهم في ذلك أنه قد يجوز أن يكون الوضوء الذي أراده النبي صلى الله عليه و سلم هو غسل اليد وفرق قوم بين لحوم الإبل ولحوم الغنم في ذلك لما في لحوم الإبل من الغلظ ومن غلبة ودكها على يد آكلها فلم يرخص في تركه على اليد وأباح أن لا يتوضأ من لحوم الغنم لعدم ذلك منها وقد روينا في الباب الأول في حديث جابر أن آخر الأمرين من رسول الله صلى الله عليه و سلم ترك الوضوء مما غيرت النار [ ص 71 ] فإذا كان ما تقدم منه هو الوضوء مما مست النار وفي ذلك لحوم الإبل وغيرها كان في تركه ذلك ترك الوضوء من لحوم الإبل فهذا حكم هذا الباب من طريق الآثار وأما من طريق النظر فإنا قد رأينا الإبل والغنم سواء في حل بيعهما وشرب لبنهما وطهارة لحومهما وأنه لا تفترق أحكامهما في شيء من ذلك فالنظر على ذلك أنهما في أكل لحومهما سواء فكما كان لا وضوء في أكل لحوم الغنم فكذلك لا وضوء في أكل لحوم الإبل وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمهم الله تعالى

جعفر بن ابی ثور نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ اور جابر رضی اللہ عنہ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی روایت نقل کی ہے ۔ دوسرے حضرات نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ان چیزوں میں سے کسی کے کھا لینے سے نماز والا وضو لازم نہیں اور ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ بالکل ممکن ہے کہ وہ وضو جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس سے مراد ہاتھوں کا دھونا ہے اور بعض لوگوں نے اونٹ اور بکری کے گوشت میں فرق کیا ہے کہ اونٹ کے گوشت میں چکناہٹ زیادہ ہے اور چکناہٹ کے ہاتھ پر لگ جانے کی وجہ سے اس کے ہاتھ پر باقی رہنے کی رخصت نہیں دی اور بکری کا گوشت کھا لینے کے بعد وضو نہ کرنے کو درست قرار دیا کیونکہ اس میں چکناہٹ نہیں ۔ ہم پہلے سلسلہ میں جابر والی روایت نقل کرچکے کہ آپ کا آخری عمل آگ سے پکی ہوئی چیز کھالینے کے بعد وضو کو ترک کرنا تھا ۔ جب گزشتہ روایات والا وضو ہے جو آگ سے پکی ہوئی چیز کے بارے میں منقول ہے تو اس میں اونٹ وغیرہ کا گوشت بھی آ جاتا ہے اور اس وضو کے چھوڑنے میں اونٹ کے گوشت کے بعد وضو کا چھوڑنا بھی شامل ہے ، اس باب کا یہ حکم تو روایات کے اندر سے ہے ۔ باقی نظر و فکر کے لحاظ سے ہم عرض کرتے ہیں کہ ہم نے غور کیا کہ اونٹ اور بکری بیع کے حلال ہونے اور دودھ کے پینے اور گوشت کی طہارت میں برابر ہیں اور ان تینوں قسم کے احکام میں ان میں کوئی فرق نہیں پس نظر کا تقاضا یہی ہے کہ ان کے گوشت کھانے کا حکم بھی اسی طرح ہو ( برابر ہو) جس طرح بکری کا گوشت کھالینے سے وضو لازم نہیں اونٹ کے گوشت میں بھی اسی طرح وضو نہیں اور ہمارے امام ابو حنیفہ ، ابو یسف اور محمدبن حسن رحمۃ اللہ علیہم کا یہی قول ہے ۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ← عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 412

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 413

405 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا الحسين بن مهدي قال ثنا عبد الرزاق قال أنا معمر عن الزهري عن عروة أنه تذاكر هو ومروان الوضوء من مس الفرج فقال مروان حدثتني بسرة بنت صفوان أنها سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يأمر بالوضوء من مس الفرج فكان عروة لم يرفع بحديثها رأسا فأرسل مروان إليها شرطيا فرجع فأخبرهم أنها قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يأمر بالوضوء من مس الفرج فذهب قوم إلى هذا الأثر وأوجبوا الوضوء من مس الفرج وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا وضوء فيه واحتجوا في ذلك على أهل المقالة الأولى فقالوا في حديثكم هذا أن عروة لم يرفع بحديث بسرة رأسا فإن كان ذلك لأنها عنده في حال من لا يؤخذ ذلك عنها ففي تضعيف من هو أقل من عروة بسرة ما يسقط به حديثها وقد تابعه على ذلك غيره

زہری نے عروہ سے بیان کیا عروہ کہتے ہیں میں نے اور مروان نے باہمی مس ذکر سے وضو کے متعلق مذاکرہ کیا مروان نے کہا مجھے بسرہ بنت صفوان نے بیان کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شرمگاہ کے چھو لینے پر وضو کا حکم فرامتے سنا عروہ نے بات سن کر اس کی طرف بالکل توجہ نہ دی مروان نے اپنا ایک سپاہی بھیج کر بسرہ سے استفسار کرایا تو وہ سپاہی لوٹ کر بتلائے گا کہ بسرہ رضی اللہ عنہ نے ہی یہ کہا ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شرمگاہ چھولینے پر وضو کا حکم فرماتے سنا ہے ۔ بعض لوگ اس روایت کی بناء پر اس طرف گئے ہیں کہ انہوں نے شرمگاہ کو چھو لینے سے وضو کو لازم قرار دیا ۔ دوسروں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ اس میں وضو نہیں ہے اور انہوں نے پہلے قول والوں کے خلاف دلیل دیتے ہوے کہا کہ تمہاری روایت میں یہ موجود ہے کہ عروہ نے بسرہ کی روایت کی طرف توجہ دی ۔ اگریہ اسی طرح ہے تو گویا بسرہ کو ضعیف قرار دیدے تو تب بھی اسکی روایت ساقط ہو جاتی ہے ۔۔۔جائے کہ عروہ خود ہو اور عروہ کی متابعت اس سلسلہ میں اور لوگوں نے بھی کی ہے ۔

عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 413

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 414

406 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني زيد عن ربيعة أنه قال لو وضعت يدي في دم أو حيضة ما نقض وضوئي فمس الذكر أيسر أم الدم أم الحيضة قال وكان ربيعة يقول لهم ويحكم مثل هذا يأخذ به أحد ونعمل بحديث بسرة والله لو أن بسرة شهدت على هذه النعل لما أجزت شهادتها إنما قوام الدين الصلاة وإنما قوام الصلاة الطهور فلم يكن في صحابة رسول الله صلى الله عليه و سلم من يقيم هذا الدين إلا بسرة قال بن زيد على هذا أدركنا مشيختنا مامنهم واحد يرى في مس الذكر وضوءا وإن كان إنما ترك أن يرفع [ ص 72 ] بذلك رأسا لأن مروان عنده ليس في حال من يجب القبول عن مثله فإن خبر شرطي مروان عن بسرة دون خبره هو عنها فإن كان مروان خبره في نفسه عند عروة غير مقبول فخبر شرطيه إياه عنها كذلك أحرى أن لا يكون مقبولا وهذا الحديث أيضا لم يسمعه الزهري من عروة إنما دلس به وذلك أن يونس حدثنا قال ثنا شعيب بن الليث عن أبيه عن بن شهاب عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد عن عروة بن الزبير عن مروان بن الحكم قال الوضوء من مس الذكر قال مروان أخبرتنيه بسرة بنت صفوان فأرسل إلى بسرة فقالت ذكر رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يتوضأ منه فذكر مس الذكر قال أبو جعفر فصار هذا الأثر إنما هو عن الزهري عن عبد الله بن أبي بكر عن عروة فقد حط بذلك درجة لأن عبد الله بن أبي بكر ليس حديثه عن عروة كحديث الزهري عن عروة ولا عبد الله بن أبي بكر عندهم في حديثه بالمتقن

زید بن ر بیعہ نے بیان کیا کہ اگر میں اپنا ہاتھ کسی خون میں یا حیض کے خون میں رکھوں تو میرا وضو توٹے گا کیا عضو تناسل کو ہاتھ لگانا یا خون یا حیض والے خون کو لگانا برابر ہے ؟ وہ کہتے ہیں کہ ربیعہ فرمایا کرتے تھے کہ تم پر بہت زیادہ افسوس ہے ۔ کیا کوئی اس جیسی روایت کو لیتا ہے ۔ ہم بسرہ کی روایت کو جانتے ہیں ، اللہ کی قسم ! اگر بسرہ اس جوتے کے متعلق گواہی دے تو میں اس کی گواہی کو قبول نہ کرونگا ۔ نماز دین کا ستون ہے اور نماز کا ستون طہارت ہے ۔ کیا اس دین کو بسرہ کے سواور کوئی قائم کرنے والا نہیں ۔ ابن زید کہا کرتے تھے کہ ہم نے اپنے مشائخ کو اسی بات پر پایا کہ ان میں کوئی بھی عضو تناسل کو چھو لینے سے وضو کا قائل نہیں اور اگر اس بات کی طرف عروہ کا توجہ نہ کرنا اس بناء پر لیا جائے کہ مروان ان کے ہاں ان آدمیوں میں سے نہیں تھا اور اگر اس بات کی طرف عروہ کو گوجہ نہ کرنا اس بناء پر لیا جائے کہ مروان ان کے ہاں ان آدمیوں میں نہیں تھا جس کی روایت قبول کی جائے تو مروان کے سپاہی کی روایت بسرہ سے وہ تو اس سے بھی کم تر ہے ۔پس اگر مروان کی اطلاع ذاتی لحاظ سے عروہ کے ہاں ناقبقل ہے تو اس کے سپاہی کی خبر کا نا مقبول ہونا تو زیادہ مناسب ہے پھر اس روایت میں ایک بات یہ بھی ہے کہ زہری نے اس کو عروہ سے نہیں سنا بلکہ اس نے تدلیس کی ہے ۔ فریق ثانی کی طرف سے روایت پر اعتراضات نمبر 1: حضرت عروہ نے اس روایت کی طرف کوئی توجہ ہی نہ کی اس لیے کہ حضرت بسرہ رضی اللہ عنہ ان کے ہاں ان رواۃ سے ہیں جن سے روایت نہیں لی جاتی ۔ عروہ سے کم درجے کا آدمی بھی اگر ان کی تضعیف کر دے تب بھی انکی روایت قابل استدلال نہیں رہتی بلکہ ساقط ہو جاتی ہے ۔ ۔نمبر 2: عروہ کے علاوہ لوگوں نے اس کی تضعیف کی ہے چنانچہ ابن وہب کہتے ہیں کہ مجھے یزید نے بتلایا کہ ربیعہ فرمانے لگے اگر میں خون یا دم حیض میں انگلی رکھ دوں تو میرا وضو نہ ٹوٹے گا تو مس ذکر تو دم سے کم تر ہے ۔ ( اس سے کس طرح وضو ٹوٹ جائے گا ) ربیعہ کہا کرتے تھے تم اس قسم کی روایات سے استدلال کرتے ہو بسرہ کی روایت پر کیوں کر عمل ہو سکتاہے جبکہ اگر وہ بالمشافہ اس جوتے کے متعلق گواہی دے دے تو میں ان کی شہادت کو قبول نہ کروں گا دین کا رکن نماز ہے اور نماز کا دارو مدار طہارت پر ہے تو کیا صحابہ کرام میں اس دین کو قائم کرنے والا بسرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کوئی نہ تھا ؟ دراصل بسرہ کو ارشاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب سمجھ نہ آیا ۔ نمبر 3: ابن زید کہتے ہیں ہم تمام مشائخ کا اتفاق ہے کہ مس ذکر سے وضو واجب نہیں ۔ نمبر 4: عروہ کا روایت کی طرف توجہ نہ کرنا بسرہ رضی اللہ عنہ کی قلت صحبت رسول کی وجہ سے تھا اور دوسری وجہ یہ ہے کہ خود مروان ان کے ہاں مقبول روای نہیں اور پھر مجہول شرطی کا بیان تو اس کی تائید کی بجائے تضیف کو بڑھا رہا ہے ۔ نمبر 5: عروہ کے ہا ں مروان خود غیر مقبول روای ہے تو اس کا سپاہی اس سے کہیں بڑھ کر ناقابل قبول ہے پھر اس سے کچھ آگے بڑھ کر بات یہ ہے کہ زہری نے اس کو عروہ سے خود نہیں بلکہ تدلیس کی اور عبداللہ بن ابی بکر جو ان کے استاد ہیں ان کو حذف کر دیا ۔ نمبر 6: زہری کی بذات خود عروہ سے روایت جو درجہ رکھتی ہے وہ عبداللہ ابی بکر کے واسطے والی روایت وہ درجہ نہیں رکھتی کیونکہ وہ خود ناپختہ غیر متفن روای ہے خود امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان عینہ سے میں نے سنا کہ جب ہم کسی کو ایسے گروہ سے روایت نقل کرتے دیکھتے جو عبداللہ بن ابی بکر کے درجہ کا ہو تو ہم اس کا مذاق کرتے کیونکہ یہ لوگ حدیث کو جانتے بھی نہ تھے ۔ ابن عینینہ تو بڑے درجہ کے آدمی ہیں ان سے کم درجہ کے آدمی کا بیان بھی ان لوگوں کے ضعف کے لیے کافی ہے ۔ ایک اعتراض : یہاں تم نے عبداللہ بن ابی بکر کا ضعف بیان کیا یہ دوسری سند سے ثابت ہے کہ ابن شہاب نے خود ابو بکر بن محمد اور انہوں نے عروہ سے نقل کی ہے جو یہ ہے ۔ الجواب : امام زہری کے استاذ دراصل ابو بکر بن محمد ہیں اور ان کو چھپا کر تدلیس کی ہے اور مدلس کی روایت خود غیر مقبول ہے ۔ اعتراض نمبر 2: اس روایت کو ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے نقل کیا ہے اور ہشام تو ایسا راوی ہے جس میں کسی کو کلام نہیں روایت اسطرح ہے ۔ ابن شہاب نے عبداللہ بن ابی بکر بن محمد سے انہوں نے عروہ بن زبیر سے انہوں نے مروان بن الحکم سے اس نے کہا مس ذکر سے وضو لازم ہے ۔ مروان کہنے لگا مجھے بسرہ بنت صفوان نے اس کی اطلاع دی ہے ۔ تو اس نے اپنا ایک سپاہی بسرہ کے پاس بھیجا تو اس نے کہا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان چیزوں کا ذکر کیا کہ جن سے وضو کیا جاتا ہے تو اس میں مس ذکر کو بھی بیان فرمایا ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ اثر بھی زہری نے عبداللہ بن ابو بکر کے واسطے سے عروہ سے بیان کیا ہے ۔ اس سے اس کا ایک اور درجہ کم ہو گیا کیونکہ عبد اللہ بن ابی بکر کی روایت عروہ سے زہری کی عروہ سے روایت جیسی نہیں اور عبداللہ بن ابی محدثین کے ہاں حدیث میں پختہ راوی نہیں ۔

رَبِیعَۃَ، ← زيد1 ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 414

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 415

408 - حدثني يحيى بن عثمان قال ثنا بن وزير قال سمعت الشافعي رحمه الله يقول سمعت بن عيينة يقول كنا إذا رأينا الرجل يكتب الحديث عند واحد من نفر سماهم منهم عبد الله بن أبي بكر سخرنا منه لأنهم لم يكونوا يعرفون الحديث وأنتم فقد تضعفون ما هو مثل هذا بأقل من كلام مثل بن عيينة وقال آخرون إن الذي بين الزهري وبين عروة في هذا الحديث أبو بكر بن محمد

مجھے یحییٰ نے ابن وزیر سے بیان کیا کہ میں نے امام شافعی رحمت اللہ عیہ کو یہ کہتے سنا کہ ابن عینیہ کہا کرتے تھے کہ جب ہم کسی آدمی کو فلس جماعت کی حدیث لکھتا دیکھتے ہیں جن کے ابن عینہ نے نام گنوائے ان میں عبداللہ بن ابو بکر بھی شامل تھا تو ہم اس سے مذاق کرتے ہیں کیونکہ وہ لوگ حدیث کو نہیں جانتے اور تمہارا حال یہ ہے کہ پہلے قول والے لوگوں کو تم ایسے ہی لوگوں کے قول سے ضعیف قرار دیتے ہو جو مرتبہ میں ابن عینہ سے کم ہوتے ہیں ۔ دوسروں نے کہا کہ اس حدیث میں عروہ اور زہری کے درمیان ابو بکر بن محمد ہے ۔

بن عُيَيْنَةَ ← الشَّافِعِیُّ ← بن وزير ← يَحْيَی بْنُ عُثْمَانَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 415

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 416

409 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا بشر بن بكر قال حدثني الأوزاعي قال أخبرني بن شهاب قال حدثني أبو بكر بن محمد بن عمرو بن حزم قال حدثني عروة عن بسرة بنت صفوان أنها سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول يتوضأ الرجل من مس الذكر فإن قالوا فقد روى هذا الحديث أيضا هشام بن عروة عن أبيه وهشام فليس ممن يتكلم في روايته بشيء ثم ذكروا في ذلك ما حدثنا بن أبي عمران قال ثنا عبيد الله بن محمد التيمي قال أنا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه قال سألني مروان عن مس الذكر فقلت لا وضوء فيه فقال مروان فيه الوضوء ثم ذكر مثل حديث أبي بكر الذي في أول هذا الباب عن حسين بن مهدي

ابن شہاب نے ابو بکر بن محمد سے اس نے عروہ سے انہوں نے بسرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جس نے اپنی شرم گاہ کو چھو لیا وہ وضو کرے ۔ اعتراض نمبر 2: یہ روایت ہشام نے اپنے والد عروہ کے واسطہ سے بیان کیا کہ مجھ سے مروان نے شرمگاہ کو چھو لینے کا مسئلہ پوچھا تو میں نے کہا اس میں وضو نہیں تو مروان نے کہا اس میں وضو لازم ہے پھر ابو بکر کی سند والی روایت جو شروع باب میں حسین بن مہدی کے حوالہ سے گزری ذکر کی ۔

بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ ← عُرْوَةَ ← أبو بكر بن محمد بن عمرو بن حزم ← بن شِهَابٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 416

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 417

حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن هشام فذكر مثله بإسناده غير أنه قال فأنكر ذلك عروة

اسی طرح دوسری سند کے اس طرح نقل کی گئی ہے محمد بن خزیمہ نے حجاج سے اور انہوں نے حماد اور انہوں نے ہشام سے اس کے بعد بقیہ سند سابقہ ہی ہے البتہ اس روایت میں یہ الفاظ زاہد ہیں " فانکر ذلک عروۃ" عروہ نے اس بات کا انکاری کیا ۔

فأنكر ذلك عروة ← هشام فذكر مثله بإسناده غير أنه ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 417

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 418

412 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا علي بن مسهر عن هشام فذكر مثله بإسناده

حسین بن نصر نے یوسف بن عدی سے اور انہوں نے علی بن مسہر سے اور انہوں نے ہشام سے ان کی سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

هشام فذكر مثله بإسناده ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 418

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 15 باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا ) · حديث 419

413 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال حدثني سعيد بن عبد الرحمن الجمحي عن هشام بن عروة عن أبيه عن بسرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال إذا مس أحدكم ذكره فلا يصلين حتى يتوضأ

یونس نے ابن وہب سے اور انہوں نے سعید بن عبدالرحمن الحمیی سے اور انہوں نے ہشام بن عروہ اور ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے بسرہ اور بسرہ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ جب کوئی تم میں سے اپنے ذکر کو چھو لے تو وضو کیے بغیر نماز نہ پڑھے۔

إذا مس أحدكم ذكره فلا يصلين حتى يتوضأ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← بُسْرَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 419

chevron_left Previous
1…343536…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter