شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 408
400 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا بن أبي مريم أنا يحيى بن أيوب قال حدثني إسماعيل بن رافع ومحمد بن النيل عن عبد الرحمن بن زيد الأنصاري عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال أكلت أنا وأبو طلحة وأبو أيوب الأنصاري طعاما قد مسته النار فقمت لأن أتوضأ فقال لي أتتوضأ من الطيبات لقد جئت بها عراقية فهذا أبو طلحة وأبو أيوب قد صليا بعد أكلهما مما غيرت النار ولم يتوضئا وقد رويا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه أمر بالوضوء من ذلك فيما قد روينا عنهما في هذا الباب فهذا لا يكون عندنا إلا وقد ثبت نسخ ما قد رويا عن النبي صلى الله عليه و سلم من ذلك عندهما فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار [ ص 70 ] وأما وجهه من طريق النظر فإنا قد رأينا هذه الأشياء التي قد اختلف في أكلها أنه ينقص الوضوء أم لا إذا مستها النار وقد أجمع أن أكلها قبل مماسة النار إياها لا ينقض الوضوء فأردنا أن ننظر هل للنار حكم يجب في الأشياء إذا مستها فينتقل به حكمها إليها فرأينا الماء القراح طاهرا تؤدى به الفروض ثم رأيناه إذا سخن فصار مما قد مسته النار أن حكمه في طهارته على ما كان عليه قبل مماسته النار إياه وأن النار لم تحدث فيه حكما ينتقل به حكمه إلى غير ما كان عليه في البدء فلما كان ما وصفنا كذلك كان في النظر أن الطعام الطاهر الذي لا يكون أكله قبل أن تمسه النار حدثا إذا مسته النار لا تنقله عن حاله ولا تغير حكمه ويكون حكمه بعد مسيس النار إياه كحكمه قبل ذلك قياسا ونظرا على ما بينا وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمهم الله تعالى وقد فرق قوم بين لحوم الغنم ولحوم الإبل فأوجبوا في أكل لحوم الإبل الوضوء ولم يوجبوا ذلك في أكل لحوم الغنم واحتجوا في ذلك بما
عبد الرحمن بن زید الا انصاری نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں اور ابو طلحہ ، ابو ایوب انصاری نے کھانا کھایا جو آگ سے پکا ہوا تھا میں وضو کرنے کھڑا ہوا تو وہ دونوں مجھے کہنے لگے کیا تم پاکیزہ چیزوں نے آگ سے پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا اور ہم نے ان دو حضرات سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ آپ نے اس کے متعلق وضو کا حکم دیا اور ہمارے نزدیک یہ تضاد( عمل ) نہیں ہو سکتا ۔ سوائے اس صورت کہ جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے روایت کیا۔ اس کا منسوخ ہونا ثابت ہو چکا ۔ روایات کے لحاظ سے اس باب کی یہی صورت ہے ۔ غور و فکر کے لحاظ سے اب ملاحظہ فرمائیں کہ ہم بہت ساری چیزیں ایسی دیکھتے ہیں کہ جن کے بارے میں اختلاف ہے کہ آیا ان کے کھانے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں جبکہ وہ آگ سے پکی ہوں؟ اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ آگ پر پکانے سے پہلے ان کے کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا تھا ۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس بات پر غور کریں کہ کیا آگ کا کوئی ایسا حکم ہے کہ جب یہ چیزوں تک پہنچ جائے تو وہ حکم اس چیز کی طرف منتقل ہو جاتا ہے ۔ چنانچہ ہم نے خالص پانی کو دیکھا کہ وہ پاک ہے اور اس سے فرض ادا کیے جاتے ہیں ، پھر ہم نے دیکھا کہ جب اس کو گرم کر لیا جائے اور یہ ان چیزوں میں شامل ہو جائے جو آگ سے پکتی ہیں تو طہارت میں اس کا حکم وہی ہے جو آگ پر پکنے سے پہلے ہو اور آگ نے اس میں کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی کہ جس سے اس کا حکم بدل کر ابتدا والے حکم سے مختلف ہوجائے ۔ تو نظر کا تقاضا یہ ہے کہ وہ پاکیزہ کھانا جس کے کھانے سے آگ پر پکنے سے پہلے حدث لازم نہیں آتا تو جب اسے آگ نے چھو لیا توآگ اس کو اس کی اپنی حالت سے نہ بدلے گی اور نہ اس کا حکم اور ہو گا بلکہ آگ کے چھونے کے بعد اس کا حکم وہی رہے گا۔ قیاس و نظر یہی چاہتے ہیں جو ہم نے عرض کر دیا ۔ ہمارے امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہم کا یہی مسلک ہے ۔ بعض لوگوں نے بکری اور اونٹ کے گوشت میں فرق کیا اور اونٹ کا گوشت کھالینے سے وضو کو لازم کیا اور بکری کے گوشت سے لازم نہیں کیا۔
قد رأينا هذه الأشياء التي قد اختلف في أكلها ← أبو أيوب قد صليا بعد أكلهما مما غيرت النار ولم يتوضئا وقد رويا ← لي أتتوضأ من الطيبات لقد جئت بها عراقية فهذا أبو طلحة ← وأبو طلحة وأبو أيوب الأنصاري طعاما قد مسته النار فقمت لأن أتوضأ ← أكلت ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← إسماعيل بن رافع ومحمد بن النيل ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← بن أبي داود
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 408
