شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 384
381 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا عبد العزيز بن مسلم عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أكل ثور أقط فتوضأ ثم أكل بعده كتفا فصلى ولم يتوضأ فثبت بما ذكرنا أن آخر الأمرين من رسول الله صلى الله عليه و سلم هو ترك الوضوء مما غيرت النار وأن ما خالف ذلك فقد نسخ بالفعل الثاني هذا إن كان ما أمر به من الوضوء يريد به وضوء الصلاة وإن كان لا يريد به وضوء الصلاة فلم يثبت بالحديث الأول أن أكل ما غيرت النار حدث فثبت بما ذكرنا بتصحيح هذه الآثار أن أكل ما مست النار ليس بحدث وقد روى ذلك جماعة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا
ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ جناب رسول الہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پنیر کا ٹکڑا کھایا اور وضو کیا پھر اس کے بعد دستی کا گوشت کھایا اور نماز پڑھائی اور ( تازہ ) وضو نہ فرمایا ۔ ان مذکورہ روایات سے یہ ثابت ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل آگ سے پکی ہوئی چیز کھا لینے کے بعد وضو کرنا تھا اور جو اس کے خلاف روایات ہیں وہ اس دوسرے فعل سے منسوخ ہو گئیں یہ اس وقت ہے جبکہ وہ وضو جس کا حکم آپ نے دیا نماز والا وضو مراد لیا جائے اور اگر اس سے نماز والا وضو مراد نہ ہو جبکہ پہلی حدیث سے یہ بات ثابت نہیں کہ آگ سے پکی ہوی ناقص وضو ہے ، ہمارے ذکر کردہ آثار کی تصحیح یہی ثابت کرتی ہے کہ آگ سے پکی ہوئی چیز کا کھالینا حدث نہیں ہے اور اس کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بہت بڑی جماعت نے بیان کیا ہے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 384
