Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 336

334 - حدثنا أحمد قال ثنا مسدد قال ثنا حماد بن زيد عن عاصم عن زر عن علي رضي الله عنه مثله قال أبو جعفر فقد ثبت بهذه الآثار التي رويناها صحة قول من ذهب إلى وجوب الغسل بالتقاء الختانين فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار وأما وجهه من طريق النظر فإنا رأيناهم لم يختلفوا أن الجماع في الفرج الذي لا إنزال معه حدث فقال قوم هو أغلظ الأحداث فأوجبوا فيه أغلظ الطهارات وهو الغسل وقال قوم هو كأخف الأحداث فأوجبوا فيه أخف الطهارات وهو الوضوء [ ص 61 ] فأردنا أن ننظر إلى التقاء الختانين هل هو أغلظ الأشياء فنوجب فيه أغلظ ما يجب في ذلك فوجدنا أشياء يوجبها الجماع وهو فساد الصيام والحج فكان ذلك بالتقاء الختانين وإن لم يكن معه إنزال ويوجب ذلك في الحج الدم وقضاء الحج ويوجب في الصيام القضاء والكفارة في قول من يوجبها ولو كان جامع فيما دون الفرج وجب عليه في الحج دم فقط ولم يجب عليه في الصيام شيء إلا أن ينزل وكل ذلك محرم عليه في حجه وصيامه وكان من زنى بامرأة حد وإن لم ينزل ولو فعل ذلك على وجه شبهة فسقط بها الحد عنه وجب عليه المهر وكان لو جامعها فيما دون الفرج لم يجب عليه في ذلك حد ولا مهر ولكنه يعزر إذا لم تكن هناك شبهة وكان الرجل إذا تزوج المرأة فجامعها جماعا لا خلوة معه في الفرج ثم طلقها كان عليه المهر أنزل أو لم ينزل ووجبت عليها العدة وأحلها ذلك لزوجها الأول ولو جامعها فيما دون الفرج لم يجب في ذلك عليه شيء وكان عليه في الطلاق نصف المهر إن كان سمي لها مهرا أو المتعة إذا لم يكن سمي لها مهرا فكان يجب في هذه الأشياء التي وصفنا التي لا إنزال معها أغلظ ما يجب في الجماع الذي معه الإنزال من الحدود والمهور وغير ذلك فالنظر على ذلك أن يكون كذلك هو في حكم الأحداث أغلظ الأحداث ويجب فيه أغلظ ما يجب في الأحداث وهو الغسل وحجة أخرى في ذلك أنا رأينا هذه الأشياء التي وجبت بالتقاء الختانين فإذا كان بعدها الإنزال لم يجب بالإنزال حكم ثان وإنما الحكم لالتقاء الختانين ألا ترى أن رجلا لو جامع امرأة جماع زناء فالتقى ختاناهما وجب الحد عليهما بذلك ولو أقام عليهما حتى أنزل لم يجب بذلك عليه عقوبة غير الحد الذي وجب عليه بالتقاء الختانين ولو كان ذلك الجماع على وجه شبهة فوجب عليه المهر بالتقاء الختانين ثم أقام عليها حتى أنزل لم يجب عليه في ذلك الإنزال شيء بعد ما وجب بالتقاء الختانين وكان ما يحكم به في هذه الأشياء على من جامع فأنزل هو ما يحكم به عليه إذا جامع ولم ينزل وكان الحكم في ذلك هو لالتقاء الختانين لا للإنزال الذي يكون بعده فالنظر على ذلك أن يكون الغسل الذي يجب على من جامع وأنزل هو بالتقاء الختانين لا بالإنزال الذي يكون بعده فثبت بذلك قول الذين قالوا إن الجماع يوجب الغسل كان معه إنزال أو لم يكن وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد وعامة العلماء رحمهم الله تعالى وحجة أخرى في ذلك

زر نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت جو ہم نے ذکر کیں یہ ان لوگوں کے قول کو درست ثابت کرتی ہیں جو دو شرم گاہوں کے ملنے سے غسل کو واجب کہتے ہیں ۔ روایات کے لحاظ سے اس باب کی یہی صورت ہے ۔ نظر و فکر کے لحاظ سے جو صورت ہے وہ عرض کرتے ہیں ، ہم نے دیکھا کہ اس بارے میں کسی کا بھی اختلاف نہیں کہ شرمگاہ میں جماع جس میں انزال نہ ہو حدث شمار ہوتا ہےبعض لوگوں نے اس کو حدث غلیظہ قرار دیا اور بڑی طہارت کو لازم قرار دیا اور وہ وضؤ ہے ۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ ہم دو شرمگاہوں کے ملنے پر غور کریں کہ آیا وہ ان سخت اشیاء میں سے ہے کہ جس سے بڑی طہارت کو لازم کیا جا ئے۔ پس جب ہم نے ان چیزوں کو دیکھا جو جماع سے لازم ہوتی ہیں اور وہ روزے اور حج کا فاسد ہو جانا ہے اور اسکا سبب دو شرمگاہوں کا ملنا ہی ہےخواہ اس کے ساتھ انزال نہ ہو اورحج میں اس سے دم بھی لازم ہو جاتا ہے اور حج کی قضا بھی لازم ہوجاتی ہے اور روزے میں قضا اور کفارہ ان لوگوں کے قول میں جو اسکو لازم قرار دیتے ہیں اور اگر اس نے فرج کے علاوہ جماع کیا تو حج میں فقط اس پر دم لازم آتا ہےاور روزہ میں اس پر کویئ چیز لازم نہیں آتی سوائے اس صورت میں کہ اس کو انزال ہو جائے اور یہ دونوں ہی چیزیں حج اور روزے میں اس کے لیے حرام ہیں اور وہ شخص جس نے کسی عورت کے ساتھ زنا کیا اس پر حد لگے گی اگرچہ انزال نہ ہوا ہو اور اگر اس کے لیے حرام ہیں اور وہ شخص جس نے کسی عورت کے ساتھ زنا کیا اس پر حد لگے گی اگرچہ انزال نہ ہوا ہو ار اگر اس نے یہی فعل شبہ کے طور پر کیا تو اس سے حد ساقط ہو گی اور اس پر مہر لازم ہو گا ۔ اور اگر اس نے اس عورت کے ساتھ فرج کے علاوہ جماع کیا تو نہ اس پر حد لازم ہو گی اور نہ مہر اس کے ذمہ آئے گا بلکہ اس پر تعزیر آئے گی جبکہ وہ وطی شبہ والی نہ ہو اور اگر کسی شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا پھر اس سے بغیر خلوت کے شرمگاہ میں جما ع کیا ، پھر اسے طلا ق دے دی تو اس پر مہر لازم آئے گا خواہ انزال ہو یا نہ ہو اور عورت پر عدت واجب ہو گی اور پہلے خاوند کے لیے یہ عورت حلال ہو جائے گی اور اگر اس نے شرمگاہ کے علاوہ میں جماع کیا تو اپر کچھ بھی لازم نہ ہو گا اور طلاق کی صورت میں نصف مہر لازم آجائے گا اگر اس نے مہر مقرر کیا ہے اور فقط کپڑوں کا جوڑا لازم آئے گا جبکہ مہر مقرر نہ کیا ہو۔ یہ چیزیں جو ہم نے بیان کیں ان میں یہ حکم انزال کے بغیر واجب ہوتا ہے اور یہ شدید حکم ہے جو ایسے جماع کی صورت میں لازم ہوتا ہے جس کے ساتھ انزال ہو یعنی حدود و مہر وغیرہ ۔ پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ احداث کے سلسلے میں بھی اس کا یہی حکم ہو گا اور سخت ترین حدث لازم ہوگا اور ازالہ حدث کے لیے سخت ترین حکم یعنی غسل لازم ہو گا ۔۔دوسری دلیل ۔ ہم نے ان اشیاء پر غور کیا جو دو شرمگاہوں کے ملنے سے لازم آتی ہیں جبکہ اس کے بعد انزال ہو تو انزال سے اس پر کوئی نیا حکم لازم نہیں ہوتا، وہی حکم دو شرمگاہوں کے ملنے پر ہو گا۔ ذرا غور کرو ایک آدمی نے اگر ایک عورت سے زنا کیا اور انکی شرمگاہیں مل گئیں تو اس سے ان دونوں پر حد لازم ہو گئی ۔ اگر وہ اس وقت تک رکا یہاں تک کہ اس کو انزال ہو گیا تو اس پر حد کے علاوہ جو شرمگاہوں کے ملنے سے لازم ہو ی اور کویئ سذا لازم نہ ہوگی اور اگر یہ جماع وطی شبہ کے طور پر ہو تو شرمگاہوں کے ملنے سے اس پر مہر لازم ہو جائے گی ۔ پھر اگر وہ اتنی دیر رکا کہ اس کو انزال ہو گیا تو انزال کی وجہ سے اس چیز کے علاوہ جو شرمگاہوں کے ملنے سے اور کوئی چیز لازم نہ ہو گی اور اس پر وہی حکم لگے گا جو اس جماع پر لگتا ہے جس میں انزال ہوا ہو اور وہ ہی حکم ہے جو اس جماع کا ہے جو بغیر انزال کے ہو تو حکم کا دارو مداراس میں شرمگاہوں کا مل جانا ہوا نہ وہ انزال جو اس کے بعد ہوا ۔ پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ وہ غسل جو جماع بالا نزال سے ہوا لازم ہوا وہ شرمگاہوں کے ملنے کی وجہ سے ہے بعد والے انزال کی وجہ سے نہیں ۔پس اس سے ان لوگوں کی بات ثابت ہو گئی جو کہتے ہیں کہ جماع غسل کو لازم کرتا ہے ، خواہ اس کے ساتھ انزال ہو یا نہ ہو ۔ یہی قول امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد بن حسن رضی اللہ عنہم اور عام علماء کا ہے ۔

عَلِيٍّ مِثْلَهُ. ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُسَدَّدٌ ← أَحْمَدُ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 336

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 337

335 - أن فهدا حدثنا قال ثنا علي بن معبد قال ثنا عبيد الله عن زيد عن جابر هو بن يزيد عن أبي صالح قال سمعت عمر بن الخطاب رضي الله عنه يخطب فقال إن نساء الأنصار تفتين أن [ ص 62 ] الرجل إذا جامع فلم ينزل فإن على المرأة الغسل ولا غسل عليه وإنه ليس كما أفتين وإذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل قال أبو جعفر ففي هذا الأثر أن الأنصار كانوا يرون أن الماء من الماء إنما هو في الرجال المجامعين لا في النساء المجامعات وأن المخالطة توجب على النساء الغسل وإن لم يكن معها إنزال وقد رأينا الإنزال يستوي فيه حكم النساء والرجال في وجوب الغسل عليهم فالنظر على ذلك أن يكون حكم المخالطة التي لا إنزال معها يستوي فيها حكم الرجال والنساء في وجوب الغسل عليهم

ابو صالح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے سنا کہ وہ فرمارہے تھے کہ انصار کی عورتیں فتویٰ دیتی ہیں کہ مرد جب جماع کرے اور انزال نہ ہو تو عورت پر غسل لازم ہے اور مرد پر غسل نہیں حالانکہ بات اس طرح نہیں جیسا وہ کہتی ہیں بلکہ جب ختان ختان سے مل جائے تو غسل لازم ہو جاتا ہے ۔طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس اثر سے یہ بات معلوم ہوئی کہ انصار کا خیال تھا کہ الماء من الماء یعنی انزال سے غسل لازم ہوتا ہے اور یہ صرف مردوں کے سلسلہ میں کہتے تھے عورتوں کے سلسلہ میں فقط جماع کو غسل کی وجہ قرار دیتے تھے خؤاہ انزال ہو یا نہ ہو ۔ حالانکہ انزال کا حکم مردوں اور عورتوں کے سلسلہ میں یکساں ہے یکساں طور پر اس سے غسل لازم آتا ہے بنظر غائر اس جماع کا حکم جس میں انزال نہ ہو یکساں ہونا چاہیے کہ مرد و عورت دونوں پر غسل لازم ہو ۔ واللہ اعلم۔

عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← جابر هو بن يزيد ← زيد1 ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← أن فهدا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 337

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 338

336 - حدثنا بن أبي داود وأحمد بن داود قالا ثنا أبو عمر الحوضي قال ثنا همام عن مطر الوراق قال قلت عمن أخذ الحسن الوضوء مما غيرت النار قال أخذه الحسن عن أنس وأخذه أنس عن أبي طلحة وأخذه أبو طلحة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم

ہمام کہتے ہیں کہ میں مطر الوراق سے کہا کہ حسن نے آگ سے پکی چیز سے وضو کا ٹوٹنا کس سے لیا ہے تو وہ کہنے لگے حسن نے انس رضی اللہ عنہ اور انس نے ابو طلحہ سے اور ابو طلحہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي طَلْحَةَ، وَأَخَذَهُ أَبُو طَلْحَةَ, ← أَنَسٍ، وَأَخَذَهُ أَنَسٌ، ← أخذه الحسن ← قلت عمن أخذ الحسن الوضوء مما غيرت النار ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← هَمَّامٌ، ← أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← بن أبي داود وأحمد بن داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 338

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 339

337 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا عمرو بن خالد قال ثنا يعقوب بن عبد الرحمن الزهري قال حدثني أبي عن أبيه وهو محمد بن عبد الله وهو بن عبد الله القارىء عن أبي طلحة صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه أكل ثور أقط فتوضأ منه قال عمرو والثور القطعة

عبداللہ القاری نے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ آپ نے پنیر کا ٹکڑا کھایا پھر اس سے وضو کیا ۔

عمرو والثور القطعة ← أبي طلحة صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أبيه وهو محمد بن عبد الله وهو بن عبد الله القارىء ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 339

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 340

338 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عامر قال ثنا بن أبي ذئب عن الزهري عن عبد الملك بن أبي بكر عن خارجة بن زيد عن زيد بن ثابت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال توضؤوا مما غيرت النار

فرید بن ثابت نقل کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آگ سے پکا ہوا اس سے وضو کرو۔

توضؤوا مما غيرت النار ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو عَامِرٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 340

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 341

339 - حدثنا بن أبي داود وفهد قالا ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث بن سعد قال حدثني عبد الرحمن بن خالد بن مسافر عن بن شهاب فذكر بإسناده مثله

عبدالرحمان بن خالد نے ابن شہاب سے اور انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

بن شهاب فذكر بإسناده مثله ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بن أبي داود وفهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 341

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 342

340 - حدثنا نصر بن مرزوق وابن أبي داود قالا ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني عقيل عن بن شهاب فذكر مثله بإسناده

عقیل نے ابن شہاب سے اور انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

بن شهاب فذكر مثله بإسناده ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← نصر بن مرزوق وابن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 342

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 343

341 - حدثنا فهد وابن أبي داود قالا حدثنا عبد الله بن صالح قال أخبرني الليث قال حدثني عقيل عن بن شهاب قال أخبرني سعيد بن خالد بن عمرو بن عثمان أنه سأل عروة بن الزبير عن ذلك فقال عروة سمعت عائشة رضي الله عنها تقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر مثله

عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ وہ فرماتیں کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا پھر اسی طرح سے روایت نقل کی ۔

عَائِشَةَ تَقُولُ: ← ذلك فقال عروة ← سعيد بن خالد بن عمرو بن عثمان أنه سأل عروة بن الزبير ← بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فهد وابن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 343

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 344

342 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا حرب بن شداد عن يحيى بن أبي كثير قال حدثني أبو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف أن أبا سعيد بن أبي سفيان بن المغيرة أخبره أنه دخل على أم حبيبة زوج [ ص 63 ] النبي صلى الله عليه و سلم فدعت له بسويق فشرب ثم قالت يا بن أخي توض فقال إني لم أحدث شيئا فقالت إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال توضوا مما مست النار

ابو سعیدبن ابو سفیان ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گئے انہوں نے ان کے لیے ستو منگوائے ابو سعید نے پئے پھر فرمانے لگے اے بھتیجے وضو کرو ابو سفید کہنے لگے میں نے کوئی فعل حدث نہیں کیا تو وہ فرمانے لگیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چیز آگ سے پک جائے اس سے وضو کرو۔

أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 344

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 345

343 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا إسحاق بن بكر بن مضر قال ثنا أبي عن جعفر بن ربيعة عن بكر بن سوادة عن محمد بن مسلم بن شهاب عن أبي سلمة عن أبي سفيان بن سعيد بن الأخنس عن أم حبيبة رضي الله عنها مثله غير أنه قال يا بن أختي

ابو سفیان بن سعید نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے تمام روایت اسی طرح نقل کی ہے البتہ اتنے الفاظ کا فرق ہے یا بن اختی اے میرے بھانجے ! کے الفاظ ہیں ۔

يا بن أختي ← أم حبيبة مثله غير أنه ← أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْأَخْنَسِ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ ← بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← أَبِي ← إسحاق بن بكر بن مضر ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 345

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 346

344 - حدثنا بن أبي داود وفهد قالا ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني عبد الرحمن بن خالد عن بن شهاب فذكر مثله بإسناده

عبدالرحمن بن خالد کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے اپنی سند سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

بن شهاب فذكر مثله بإسناده ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بن أبي داود وفهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 346

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 14 باب أكل ما غيرت النار هل يوجب الوضوء أم لا ) · حديث 347

345 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا سعيد بن عامر قال ثنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم توضؤوا مما غيرت النار ولو من ثور أقط

ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرمایا آگ سے پکی چیز سے وضؤ کرو اگرچہ و پنیر کا ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 347

chevron_left Previous
1…282930…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter