شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 336
334 - حدثنا أحمد قال ثنا مسدد قال ثنا حماد بن زيد عن عاصم عن زر عن علي رضي الله عنه مثله قال أبو جعفر فقد ثبت بهذه الآثار التي رويناها صحة قول من ذهب إلى وجوب الغسل بالتقاء الختانين فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار وأما وجهه من طريق النظر فإنا رأيناهم لم يختلفوا أن الجماع في الفرج الذي لا إنزال معه حدث فقال قوم هو أغلظ الأحداث فأوجبوا فيه أغلظ الطهارات وهو الغسل وقال قوم هو كأخف الأحداث فأوجبوا فيه أخف الطهارات وهو الوضوء [ ص 61 ] فأردنا أن ننظر إلى التقاء الختانين هل هو أغلظ الأشياء فنوجب فيه أغلظ ما يجب في ذلك فوجدنا أشياء يوجبها الجماع وهو فساد الصيام والحج فكان ذلك بالتقاء الختانين وإن لم يكن معه إنزال ويوجب ذلك في الحج الدم وقضاء الحج ويوجب في الصيام القضاء والكفارة في قول من يوجبها ولو كان جامع فيما دون الفرج وجب عليه في الحج دم فقط ولم يجب عليه في الصيام شيء إلا أن ينزل وكل ذلك محرم عليه في حجه وصيامه وكان من زنى بامرأة حد وإن لم ينزل ولو فعل ذلك على وجه شبهة فسقط بها الحد عنه وجب عليه المهر وكان لو جامعها فيما دون الفرج لم يجب عليه في ذلك حد ولا مهر ولكنه يعزر إذا لم تكن هناك شبهة وكان الرجل إذا تزوج المرأة فجامعها جماعا لا خلوة معه في الفرج ثم طلقها كان عليه المهر أنزل أو لم ينزل ووجبت عليها العدة وأحلها ذلك لزوجها الأول ولو جامعها فيما دون الفرج لم يجب في ذلك عليه شيء وكان عليه في الطلاق نصف المهر إن كان سمي لها مهرا أو المتعة إذا لم يكن سمي لها مهرا فكان يجب في هذه الأشياء التي وصفنا التي لا إنزال معها أغلظ ما يجب في الجماع الذي معه الإنزال من الحدود والمهور وغير ذلك فالنظر على ذلك أن يكون كذلك هو في حكم الأحداث أغلظ الأحداث ويجب فيه أغلظ ما يجب في الأحداث وهو الغسل وحجة أخرى في ذلك أنا رأينا هذه الأشياء التي وجبت بالتقاء الختانين فإذا كان بعدها الإنزال لم يجب بالإنزال حكم ثان وإنما الحكم لالتقاء الختانين ألا ترى أن رجلا لو جامع امرأة جماع زناء فالتقى ختاناهما وجب الحد عليهما بذلك ولو أقام عليهما حتى أنزل لم يجب بذلك عليه عقوبة غير الحد الذي وجب عليه بالتقاء الختانين ولو كان ذلك الجماع على وجه شبهة فوجب عليه المهر بالتقاء الختانين ثم أقام عليها حتى أنزل لم يجب عليه في ذلك الإنزال شيء بعد ما وجب بالتقاء الختانين وكان ما يحكم به في هذه الأشياء على من جامع فأنزل هو ما يحكم به عليه إذا جامع ولم ينزل وكان الحكم في ذلك هو لالتقاء الختانين لا للإنزال الذي يكون بعده فالنظر على ذلك أن يكون الغسل الذي يجب على من جامع وأنزل هو بالتقاء الختانين لا بالإنزال الذي يكون بعده فثبت بذلك قول الذين قالوا إن الجماع يوجب الغسل كان معه إنزال أو لم يكن وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد وعامة العلماء رحمهم الله تعالى وحجة أخرى في ذلك
زر نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت جو ہم نے ذکر کیں یہ ان لوگوں کے قول کو درست ثابت کرتی ہیں جو دو شرم گاہوں کے ملنے سے غسل کو واجب کہتے ہیں ۔ روایات کے لحاظ سے اس باب کی یہی صورت ہے ۔ نظر و فکر کے لحاظ سے جو صورت ہے وہ عرض کرتے ہیں ، ہم نے دیکھا کہ اس بارے میں کسی کا بھی اختلاف نہیں کہ شرمگاہ میں جماع جس میں انزال نہ ہو حدث شمار ہوتا ہےبعض لوگوں نے اس کو حدث غلیظہ قرار دیا اور بڑی طہارت کو لازم قرار دیا اور وہ وضؤ ہے ۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ ہم دو شرمگاہوں کے ملنے پر غور کریں کہ آیا وہ ان سخت اشیاء میں سے ہے کہ جس سے بڑی طہارت کو لازم کیا جا ئے۔ پس جب ہم نے ان چیزوں کو دیکھا جو جماع سے لازم ہوتی ہیں اور وہ روزے اور حج کا فاسد ہو جانا ہے اور اسکا سبب دو شرمگاہوں کا ملنا ہی ہےخواہ اس کے ساتھ انزال نہ ہو اورحج میں اس سے دم بھی لازم ہو جاتا ہے اور حج کی قضا بھی لازم ہوجاتی ہے اور روزے میں قضا اور کفارہ ان لوگوں کے قول میں جو اسکو لازم قرار دیتے ہیں اور اگر اس نے فرج کے علاوہ جماع کیا تو حج میں فقط اس پر دم لازم آتا ہےاور روزہ میں اس پر کویئ چیز لازم نہیں آتی سوائے اس صورت میں کہ اس کو انزال ہو جائے اور یہ دونوں ہی چیزیں حج اور روزے میں اس کے لیے حرام ہیں اور وہ شخص جس نے کسی عورت کے ساتھ زنا کیا اس پر حد لگے گی اگرچہ انزال نہ ہوا ہو اور اگر اس کے لیے حرام ہیں اور وہ شخص جس نے کسی عورت کے ساتھ زنا کیا اس پر حد لگے گی اگرچہ انزال نہ ہوا ہو ار اگر اس نے یہی فعل شبہ کے طور پر کیا تو اس سے حد ساقط ہو گی اور اس پر مہر لازم ہو گا ۔ اور اگر اس نے اس عورت کے ساتھ فرج کے علاوہ جماع کیا تو نہ اس پر حد لازم ہو گی اور نہ مہر اس کے ذمہ آئے گا بلکہ اس پر تعزیر آئے گی جبکہ وہ وطی شبہ والی نہ ہو اور اگر کسی شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا پھر اس سے بغیر خلوت کے شرمگاہ میں جما ع کیا ، پھر اسے طلا ق دے دی تو اس پر مہر لازم آئے گا خواہ انزال ہو یا نہ ہو اور عورت پر عدت واجب ہو گی اور پہلے خاوند کے لیے یہ عورت حلال ہو جائے گی اور اگر اس نے شرمگاہ کے علاوہ میں جماع کیا تو اپر کچھ بھی لازم نہ ہو گا اور طلاق کی صورت میں نصف مہر لازم آجائے گا اگر اس نے مہر مقرر کیا ہے اور فقط کپڑوں کا جوڑا لازم آئے گا جبکہ مہر مقرر نہ کیا ہو۔ یہ چیزیں جو ہم نے بیان کیں ان میں یہ حکم انزال کے بغیر واجب ہوتا ہے اور یہ شدید حکم ہے جو ایسے جماع کی صورت میں لازم ہوتا ہے جس کے ساتھ انزال ہو یعنی حدود و مہر وغیرہ ۔ پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ احداث کے سلسلے میں بھی اس کا یہی حکم ہو گا اور سخت ترین حدث لازم ہوگا اور ازالہ حدث کے لیے سخت ترین حکم یعنی غسل لازم ہو گا ۔۔دوسری دلیل ۔ ہم نے ان اشیاء پر غور کیا جو دو شرمگاہوں کے ملنے سے لازم آتی ہیں جبکہ اس کے بعد انزال ہو تو انزال سے اس پر کوئی نیا حکم لازم نہیں ہوتا، وہی حکم دو شرمگاہوں کے ملنے پر ہو گا۔ ذرا غور کرو ایک آدمی نے اگر ایک عورت سے زنا کیا اور انکی شرمگاہیں مل گئیں تو اس سے ان دونوں پر حد لازم ہو گئی ۔ اگر وہ اس وقت تک رکا یہاں تک کہ اس کو انزال ہو گیا تو اس پر حد کے علاوہ جو شرمگاہوں کے ملنے سے لازم ہو ی اور کویئ سذا لازم نہ ہوگی اور اگر یہ جماع وطی شبہ کے طور پر ہو تو شرمگاہوں کے ملنے سے اس پر مہر لازم ہو جائے گی ۔ پھر اگر وہ اتنی دیر رکا کہ اس کو انزال ہو گیا تو انزال کی وجہ سے اس چیز کے علاوہ جو شرمگاہوں کے ملنے سے اور کوئی چیز لازم نہ ہو گی اور اس پر وہی حکم لگے گا جو اس جماع پر لگتا ہے جس میں انزال ہوا ہو اور وہ ہی حکم ہے جو اس جماع کا ہے جو بغیر انزال کے ہو تو حکم کا دارو مداراس میں شرمگاہوں کا مل جانا ہوا نہ وہ انزال جو اس کے بعد ہوا ۔ پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ وہ غسل جو جماع بالا نزال سے ہوا لازم ہوا وہ شرمگاہوں کے ملنے کی وجہ سے ہے بعد والے انزال کی وجہ سے نہیں ۔پس اس سے ان لوگوں کی بات ثابت ہو گئی جو کہتے ہیں کہ جماع غسل کو لازم کرتا ہے ، خواہ اس کے ساتھ انزال ہو یا نہ ہو ۔ یہی قول امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد بن حسن رضی اللہ عنہم اور عام علماء کا ہے ۔
عَلِيٍّ مِثْلَهُ. ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُسَدَّدٌ ← أَحْمَدُ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 336
