شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 324
323 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا أبو عبد الرحمن المقرئ قال ثنا بن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب عن معمر بن أبي حبيبة قال سمعت عبيد بن رفاعة الأنصاري يقول كنا في مجلس فيه زيد بن ثابت فتذاكرنا الغسل من الإنزال فقال زيد ما على أحدكم إذا جامع فلم ينزل إلا أن يغسل فرجه ويتوضأ وضوءه للصلاة فقام رجل من أهل المجلس فأتي عمر فأخبره بذلك فقال عمر للرجل اذهب أنت بنفسك فائتني به حتى يكون أنت الشاهد عليه فذهب فجاء به وعند عمر ناس من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فيهم علي بن أبي طالب ومعاذ بن جبل رضي الله عنه فقال عمر أنت عدو نفسك تفتي الناس بهذا فقال زيد أم والله ما ابتدعته ولكني سمعته من عماي رفاعة بن رافع ومن أبي أيوب الأنصاري فقال عمر لمن عنده من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ما تقولون فاختلفوا عليه فقال عمر ياعباد الله فمن أسأل بعدكم وأنتم أهل بدر الأخيار فقال له علي بن أبي طالب فأرسل إلى أزواج النبي صلى الله عليه و سلم فإنه إن كان شيء من ذلك ظهرت عليه فأرسل إلى حفصة فسألها فقالت لاعلم لي بذلك ثم أرسل إلى عائشة رضي الله عنها فقالت إذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل فقال عمر رضي الله عنه عند ذلك لا أعلم أحدا فعله ثم لم يغتسل إلا جعلته نكالا
عبیدبن رفاعہ انصاری کہتے ہیں کہ ہم حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے ہم نے انزال سے غسل کے سلسلہ میں باہمی مذاکرہ کیا تو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہنے لگے جب تم میں سے کوئی جماع کرے اور اسے انزال نہ ہو تو وہ اپنی شرمگاہ کو دھولے اور نماز کے لیے جس طرح وضؤ کیا جاتا ہے اسی طرح وضؤ کرے۔ اہل مجلس کا ایک شخص اٹھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو اس کی اطلاع دی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی آدمی کو کہا تم بذات خود جاؤ اور ان کو میرے پاس لے آؤ تاکہ بذات خود تو ان پر گواہ بن جائے وہ جا کر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو لے آیا اس وقت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حضر ت علی ابن ابی طالب اور معاذ جبل رضی اللہ عنہم بیٹھے تھے ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے تو اپنی جان کا دشمن ہے تو لوگوں کو یہ فتویٰ دیتا ہے ؟ زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے اللہ کی قسم میں نے اس کو خؤد نہیں گھڑا بلکہ اپنے دنوں چچار فاعبین رافع اور ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے قریب اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار فرمایا کہ تم کیا کہتے ہو انہوں نے اس سلسلہ میں اختلاف کیا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ اے اللہ کے بندو! تم ہی اہل بدر ہو میں تمہارے علاوہ اور کس سے سوال کروں ؟ تو اس پر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رائے کی امہات المومنین ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کریں اگر ان کے پاس اس سلسلہ میں کوئی چیز ہو گی تو آپ پر ظاہر ہو جائے گی حضڑت عمر نے حضر ت حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا انہوں نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا پھرحضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ہاں پیغام بھیجا تو انہوں نے کہا اذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل کہ ختان کے مل جانے سے غسل واجب ہوجاتا ہے اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اب میں جس کسی کے متعلق سنو گا کہ اس نے ایساکیا مگر غسل نہیں کیا تو اس کو سخت سزا دے کردوسروں کے لیے عبرت کا نمونہ بنا دوں گا۔
كنا في مجلس فيه زيد بن ثابت فتذاكرنا الغسل من الإنزال ← عبيد بن رفاعة الأنصاري ← مَعْمَرِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← بن لهيعة ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← صالح بن عبد الرحمن
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 324
