Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 12 باب حكم المني هل هو طاهر أم نجس ) · حديث 288

289 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن حبيب عن سعيد بن جبير عن بن عباس رضي الله عنه قال امسحوا بإذخر فهذا يدل على أنه قد كان يراه طاهرا

سعید بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں ( کہ وہ منی کے متعلق فرمانے لگے ) اس کو اذخر کے ساتھ پونچھ دو ۔ اس میں یہ دلالت ہے کہ وہ اس کو پاک قرار دیتے تھے ۔

امسحوا بإذخر فهذا يدل على أنه قد كان يراه طاهرا ← بْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَبِيبٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 288

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 12 باب حكم المني هل هو طاهر أم نجس ) · حديث 289

290 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن قال ثنا شعبة عن عمرو بن دينار عن عطاء عن بن عباس رضي الله عنه نحوه

عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح نقل کیاہے ۔

بن عباس نحوه ← عَطَاءٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 289

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 12 باب حكم المني هل هو طاهر أم نجس ) · حديث 290

291 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا إبراهيم بن بشار قال ثنا سفيان عن مسعر عن جبلة بن سحيم قال سألت بن عمر عن المني يصيب الثوب قال انضحه بالماء فقد يجوز أن يكون أراد بالنضح الغسل لأن النضح قد يسمى غسلا قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إني لأعرف مدينة ينضح البحر بجانبها يعني يضرب البحر بجانبها ويحتمل أن يكون بن عمر أراد غير ذلك

جبلہ بن سحیم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی منی کے متعلق سوال کیا جو کپڑے کو لگ جائے تو فرمایا اس کو پانی سے دھو ڈال۔ اس میں یہ بھی جائز ہے کہ نضح کو معنی غسل ( ڈھونا) ہو کیونکہ نضح کا غسل پر بھی اطلاق ہوتا ہے جیسا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( انی اعرف مدینہ لیضح البحر بجا نبھا) یعنی میں ایک ایسے شہر کو جانتا ہوں جس کے کنارے کو سمندر ٹکراتا ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے اور کچھ مراد لی ہو۔

المنِّى يصيب الثوب ← سألت بن عمر ← جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 290

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 12 باب حكم المني هل هو طاهر أم نجس ) · حديث 291

292 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو الوليد قال ثنا أبو عوانة عن عبد الملك بن عمير قال سئل جابر بن سمرة وأنا عنده عن الرجل يصلي في الثوب الذي يجامع فيه أهله قال صل فيه إلا أن ترى فيه شيئا فتغسله ولا تنضحه فإن النضح لا يزيده إلا شرا

عبدالمالک بن عمیر کہتے ہیں کہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے اس وقت سوال کیاگیا جبکہ میں ان کے پاس تھا کیا کوئی مرد اس کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے جس کپڑے میں لپٹ کر وہ اپنے گھروالوں سے جماع کر تاہے ۔ انہوں نے فرمایا اس میں اگر کوئی گندگی کا نشان نہ پائے تو نماز پڑھ لے اور اگر کوئی نشان پائے تو اسے دھو ڈالے اور اس پر پانی نہ چھڑکے کہ چھڑکنے سے گندگی میں اضافہ کرے ( یعنی پھیلاؤ ہو جائے ) گا۔

الرجل يصلي في الثوب الذي يجامع فيه أهله ← عِنْدَهُ ← سئل جابر بن سمرة ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 291

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 12 باب حكم المني هل هو طاهر أم نجس ) · حديث 292

293 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا الوليد قال ثنا السري بن يحيى عن عبد الكريم بن رشيد قال سئل أنس بن مالك عن قطيفة أصابتها جنابة لا يدري أين موضعها قال اغسلها قال أبو جعفر فلما اختلف فيه هذا الاختلاف ولم يكن فيما رويناه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم دليل على حكمه كيف هو اعتبرنا ذلك من طريق النظر فوجدنا خروج المني حدثا أغلظ الأحداث لأنه يوجب أكبر الطهارات فأردنا أن ننظر في الأشياء التي خروجها حدث كيف حكمها في نفسها فرأينا الغائط والبول خروجهما حدث وهما نجسان في أنفسهما وكذلك دم الحيض والإستحاضة هما حدث وهما نجسان في أنفسهما ودم العروق كذلك في النظر فلما ثبت بما ذكرنا أن كل ما كان خروجه حدثا فهو نجس في نفسه وقد ثبت أن خروج المني حدث ثبت أيضا أنه في نفسه نجس فهذا هو النظر فيه غير أنا اتبعنا في إباحة حكمه إذا كان يابسا ما روى في ذلك عن النبي صلى الله عليه و سلم وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

عبدالکریم بن رشید کہتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس چادر کے متعلق دریافت کیا گیا جو کو جنابت لگ جائے مگر گہ معلوم نہ ہو تو فرمایا اس چادر کو دھو ڈالے۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب اس مسئلہ میں یہ اختلاف ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی روایات میں کوئی دلیل بھی اس کے حکم کو ثابت نہیں کرتی کہ وہ کیا ہے ؟ تو اب ہم غور و فکر سے اس کو جانچا تو ہمیں یہ معلوم ہوا کہ منی کا نکلنا سخت قسم کے احداث میں سے ہے ۔ کیونکہ اس سے سب سے بڑی طہارت کا استعمال لازم ہوجاتا ہے ۔ اب ہمیں ان اشیاء کو دیکھنا چاہیے جن کا نکلنا باعث حدث ہے کہ ان کا حکم ذاتی لحاظ سے کیا ہے ۔ چنانچہ ہم نے پیشاب و پاخانہ کے نکلنے کو حدیث ہونا معلوم کر لیا اور یہ دونوں ذاتی لحاظ سے گندگی ہیں ، اسی طرح حیض و استحاضہ بھی حدث ہیں اور وہ ذاتی لحاظ سے پلید ہیں اور غور کرنے سے رگوں کا خون بھی یہی حکم رکھتا ہے ۔ پس جب یہ بات ثابت ہو چکی کہ جس چیز کا نکلنا حدث ہو وہ ذاتی لحاظ سے نجس ہے اور یہ بات تو ثابت ہو چکی کہ منی کا نکلنا حدث ہے تو اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ ذاتی طور پر نجس ہے غورو فکر کا یہی تقاضا ہے، البتہ ہم نے اس کے رگڑنے کو جب کہ وہ خشک وہ مباح قرار دیا اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے اتباع کے پیش نظر ہے ۔ یہی امام ابو حنیفہ ، امام ابو یوسف اور محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے ۔

أبو جعفر فلما اختلف فيه هذا الاختلاف ولم يكن فيما رويناه ← اغسلها ← قطيفة أصابتها جنابة لا يدري أين موضعها ← سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، ← عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ رَشِيدٍ ← السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی ← الْوَلِیْدُ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 292

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 293

294 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث قال ثنا أبي قال ثنا حسين المعلم عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن عطاء بن يسار عن زيد بن خالد الجهني أنه سأل عثمان بن عفان عن الرجل يجامع فلا ينزل قال ليس عليه إلا الطهور ثم قال سمعته من النبي [ ص 54 ] صلى الله عليه و سلم قال وسألت علي بن أبي طالب والزبير بن العوام وطلحة بن عبيد الله وأبي بن كعب فقالوا ذلك قال وأخبرني أبو سلمة قال حدثني عروة أنه سأل أبا أيوب فقال ذلك

حضرت زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے دریاف کیا کہ جو آدمی جماع کرے اور انزال نہ ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا اس ر وضو لازم ہے پھر کہنے لگے یہ بات میں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے زید کہتے ہیں کہ میں نے علی ابن ابی طالب اور زبیر بن العوام اور طلحہ بن عبیداللہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے سوال کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا ۔زید کہتے ہیں مجھے ابو سلمہ نے بتلایا کہ انہیں عروہ نے بیان کیا کہ میں نے ابو ایوب انصاری سے یہی سوال کیا تو انہوں نے اسی طرح جواب دیا ۔

ذَلِكَ ← عروة أنه سأل أبا أيوب ← أَبُو سَلَمَةَ ← ذَلِكَ ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللہِ ← الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، ← وسألت علي بن أبي طالب ← من النبي صلى الله عليه و سلم ← ليس عليه إلا الطهور ثم ← الرَّجُلِ يُجَامِعُ، فَلَا يُنْزِلُ، ← زيد بن خالدٍ الجُهَنِيِّ: أنه سأل عثمان بن عفان ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 293

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 294

295 - حدثنا يزيد قال ثنا موسى بن إسماعيل قال ثنا عبد الوارث فذكر بإسناده مثله غير أنه لم يذكر عليا ولا سؤال عروة أبا أيوب

موسیٰ کہتے ہیں کہ ہمیں عبدالوارث نے اپنی اسناد سے اسی طرح بیان کیا مگر انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے سوال کا ذکر نہیں کیا ۔

عَبْدُ الْوَارِثِ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← يَزِيدُ:

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 294

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 295

296 - حدثنا فهد قال ثنا الحماني قال ثنا عبد الوارث عن حسين المعلم عن يحيى عن أبي سلمة عن عطاء بن يسار عن زيد بن خالد قال سألت عثمان عن الرجل يجامع أهله ثم يكسل قال ليس عليه غسل فأتيت الزبير بن العوام وأبي بن كعب فقالا مثل ذلك عن النبي صلى الله عليه و سلم

عطاء بن یسار نے زید بن خالد سے زید کہتے ہیں میں نے حضڑت عثمان رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ جو شخص اپنے گھر والوں سے جماع کرے پھر انزال نہ ہو تو انہوں نے جواب دیا اس پر غسل نہیں پھر میں زبیر بن العوام اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اسی طرح فرمایا ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← مِثْلَ ذَلِکَ۔ ← ليس عليه غسل فأتيت الزبير بن العوام وأبي بن كعب ← الرجل يجامع أهله ثم يكسل ← سَأَلْتُ عُثْمَانَ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← الحماني ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 295

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 296

297 - حدثنا يزيد قال ثنا موسى بن إسماعيل قال ثنا حماد بن سلمة

موسیٰ کہتے ہیں کہ ہمیں حماد بن سلمہ نے اپنی اسناد سے اسی طرح بیان فرمایا ۔

حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← يَزِيدُ:

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 296

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 297

وحدثنا بن خزيمة قال ثنا الحجاج قال ثنا حماد عن هشام بن عروة عن أبيه عن أبي أيوب الأنصاري عن أبي بن كعب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ليس في الإكسال إلا الطهور

ہشام نے اپنے والد عروہ سے نقل کیا عروہ نے حضرت ابو ایوب انصاری اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا کہ جماع بلا انزال میں صرف وضو لازم ہے ۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادٌ، ← الْحَجَّاجِ، ← وحدثنا بن خزيمة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 297

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 298

298 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا نعيم قال أنا عبدة بن سليمان عن هشام بن عروة عن أبيه قال حدثني أبو أيوب الأنصاري عن أبي بن كعب قال سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الرجل يجامع فيكسل قال يغسل ما أصابه ويتوضأ وضوءه للصلاة

عروہ نے ابو ایوب انصاری اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے متعلق پوچھا جو بیوی سے جماع کرے مگر انزال نہ ہو تو آپ نے فرمایا وہ اس گندگی کو جو اسے پہنچی دھو ڈالے اور نماز کی طرح کا وضو کر لے ۔

يغسل ما أصابه ويتوضأ وضوءه للصلاة ← الرجل يجامع فيكسل ← سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← نُعَيْمٌ ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 298

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 13 باب الذي يجامع ولا ينزل ) · حديث 299

299 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا إبراهيم بن بشار قال ثنا سفيان قال ثنا عمرو بن دينار عن عروة بن عياض عن أبي سعيد الخدري قال قلت لإخواني من الأنصار أنزلوا الأمر كما تقولون الماء من الماء أرأيتم إن أغتسل فقالوا لا والله حتى لا يكون في نفسك حرج مما قضى الله ورسوله

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے اپنے انصاری بھائیوں کو کہا کہ معاملے کو اس کے مقام پراتارو جیسا تم کہتے ہو ( الماء من الماء ) یعنی منی سے غسل ہے تمہارا غسل کے متعلق کیا خیال ہے؟ انہوں نے جواب دیا نہیں ۔ اللہ کی قسم ! تاکہ تمہارے دل میں اللہ تعالیٰ ا اس کے رسول کے فیصلہ کے متعلق تنگی نہ رہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عروة بن عياض ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 299

chevron_left Previous
1…242526…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter