شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 11 باب الرجل يخرج من ذكره المذي كيف يفعل ) · حديث 252
253 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عامر قال ثنا سفيان عن زياد بن فياض عن سعيد بن جبير قال إذا أمذى الرجل غسل الحشفة وتوضأ وضوءه للصلاة قال أبو جعفر فهذا وجه هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار فقد ثبت به ما وصفنا وأما وجه ذلك من طريق النظر فإنا رأينا خروج المذي حدثا فأردنا أن ننظر في خروج الأحداث ما الذي يجب به فكان خروج الغائط يجب به غسل ما أصاب البدن منه ولا يجب غسل ماسوى ذلك إلا التطهر للصلاة وكذلك خروج الدم من أي موضع ما خرج في قول من جعل ذلك حدثا فالنظر على ذلك أن يكون كذلك خروج المذي الذي هو حدث لا يجب فيه غسل غير الموضع الذي أصابه من البدن غير التطهر للصلاة فثبت ذلك أيضا بما ذكرنا من طريق النظر وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمهم الله تعالى
زیاد بن فیاض نے سعید بن جبیر سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا جب آدمی کو مذی آجائے تو خشفہ کو دھوئے اور نماز والا وضو کرے ۔ امام طحاویرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس باب کے آثار کے معانی کی تصیح کا یہی طریقہ ہے جو ہم نے بیان کیا اور اس سے وہی بات ثابت ہوئی جو ہم نے بیان کی ۔ نظر و فکر کے لحاظ سے ہم عرض کرتے ہیں کہ ہم نے دیکھا کہ مذی کا نکلنا وضو کو توڑنے کا باعث ہے اب ہم یہ دیکھنا چاہیں گے کہ احداث کے نکلنے سے کیا چیز لازم ہوتی ہے تو پیشاب ، پاخانہ کے نکلنے سے بدن کے اسی حصے کو دھونا ضروری ہے جہاں نجاست پہنچتی ہے اس کے علاوہ بدن کا دھونا واجب نہیں مگر یہ کہ نماز کے لیے پوری طہارت کرنا چاہتا ہو۔اسی طرح جسم کے کسی مقام سے خون کا نکلنا ۔ یہ ان لوگوں کے نزدیک ہے جو خون کے نکلنے کو حدث قرار دیتے ہیں ۔ پس نظر تقاضا یہ ہے کہ منی کا نکلنا بھی حدث ہے اسی سے بھی اس جگہ کے علاوہ جہاں بدن میں لگے اور کسی مقام کا دھونا لازم نہیں۔ البتہ نماز کےلیے مکمل طہارت ضروری ہے پس بطور نظر کے بھی ہماری بات ثابت ہو گئی ۔ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف،اور محمد بن حسن رضی اللہ عنہم کا بھی یہی قول ہے ۔
سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ ← أَبُو بَکْرَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 252
