شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 228
231 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا الفريابي قال ثنا بن عيينة عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة يرفعه مثله فثبت بقوله صلى الله عليه و سلم لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم بالسواك عند كل صلاة أنه لم يأمرهم بذلك وأن ذلك ليس عليهم وأن في ارتفاع ذلك عنهم وهو المجعول بدلا من الوضوء لكل صلاة دليل على أن الوضوء لكل صلاة لم يكن عليهم ولا أمروا به وأن المأمور به النبي صلى الله عليه و سلم دونهم وأن حكمه كان في ذلك غير حكمهم فهذا وجه هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار وقد ثبت بذلك ارتفاع وجوب الوضوء لكل صلاة وأما وجه ذلك من طريق النظر فإنا رأينا الوضوء طهارة من حدث فأردنا أن ننظر في الطهارات من الأحداث كيف حكمها وما الذي ينقضها فوجدنا الطهارات التي توجبها الأحداث على ضربين فمنها الغسل ومنها الوضوء فكان من جامع أو أجنب وجب عليه الغسل وكان من بال أو تغوط وجب عليه الوضوء فكان الغسل الواجب بما ذكرنا لا ينقضه مرور الأوقات ولا ينقضه إلا الأحداث فلما ثبت أن حكم الطهارة من الجماع والإحتلام كما ذكرنا كان في النظر أيضا أن يكون حكم الطهارات من سائر الأحداث كذلك وأنه لا ينقض ذلك مرور وقت كما لا ينقض الغسل مرور وقت وحجة أخرى أنا رأيناهم أجمعوا أن المسافر يصلي الصلوات كلها بوضوء واحد ما لم يحدث وإنما اختلفوا في الحاضر فوجدنا الأحداث من الجماع والإحتلام والغائط والبول وكل ما إذا كان من الحاضر كان حدثا يوجب به عليه طهارة فإنه إذا كان من المسافر كان كذلك أيضا وجب عليه من الطهارة ما يجب عليه لو كان حاضرا ورأينا طهارة أخرى ينقضها خروج وقت وهي المسح على الخفين فكان الحاضر والمسافر في ذلك سواء ينقض طهارتهما خروج وقت ما وإن كان ذلك الوقت في نفسه مختلفا في الحضر والسفر فلما ثبت أن ما ذكرنا كذلك وإنما ينقض طهارة الحاضر من ذلك ينقض طهارة المسافر وكان خروج الوقت عن المسافر لا ينقض طهارة كان خروجه عن المقيم أيضا كذلك قياسا ونظرا على ما بينا من ذلك وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد قال بذلك جماعة بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت نقل کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا ۔ پس اس قول(( لولا ان اشق علی امتی)) یعنی اگر میری امت پر گرانی نہ ہوتی تو میں ہر نماز کے لیے ان کو مسواک کا حکم دیتا حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم نہیں دیا اور ان پر لازم بھی نہیں اور اس کے ختم کردینے میں جبکہ یہ ہر نماز کےلیے وضو کا بدل ہے تو اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو ان پر لازم نہیں تھااور نہ اس کاحکم ملا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف حکم تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ان سے مختلف تھا اس باب کی روایات کہ معنی کی تصحیح اسی طریق سے ہے اور اس سے ہر نماز کے لیے وضؤ لازم ہونے کے حکم کا اٹھ جانا بھی ثابت ہو گیا ۔ بطور نظر و فکر کے اسکی وضاحت اس طرح ہے کہ وضو حدث سے طہارت کو توڑنے والی ہے تو ہم نے ایسی طہارتیں پائیں جو حدث سے لازم ہوتی ہیں ، ان کو دو قسم پر پایا۔ ایک ان میں سے غسل اور دوسرا وضؤ ہے پس جس شخص نے جماع کیا یا اسے احتلام ہو تو اس پر غسل لازم ہے اور جس نے پیشاب یا پا خانہ کیا تو اس پر وضو واجب ہے اور اس غسل واجب کو جس کاہم نے ابھی تذکرہ کیا اوقات کا گزر نا نہیں توڑنا اس کو توڑنے والی چیز صرف حدث ہے ۔ پاس جب یہ چیز ثابت شدہ ہے کہ تمام طہارتوں کا حکم تمام احداث سے اسی طرح ہو کہ ان طہارتوں کو غسل کی طرح وقت کا گزرنا توڑے ایک اور دلیل یہ ہے کہ ہم نے علماء کرام کو اس بات پر متفق پایا کہ مسافر ایک وضو سے تمام نمازیں پڑھے جب تک حدث لاحق نہ ہو ۔ مقیم کے بارے میں ان کو مختلف الرائے پایا ۔ ہم نے غور کیا کہ احداث یہ چیزیں ہیں ۔ جماع ، احتلام ، پیشاب و پاخانہ ۔ ان میں سے جو چیز مقیم کو پیش آئے گی اس پر طہارت کو لازم کر دے گی اس لیے کہ جب وہ مسافر تھا تو اس پر اسی طرح ہی لازم تھا اور اسی پر وہی طہارت لازم تھی جو مقیم ہونے کی حالت میں اس پر لازم ہوتی ، ہمیں ایک اور ایسی طہارت ملی جسے وقت کا نکلنا توڑ دیتا ہے اور اس میں مقیم و مسافر دونوں اس بات میں برابر ہیں کہ وقت کا نکلنا ان کو طہارت کو باطل کر دے۔ اگرچہ فی نفسہ وقت مقیم و مسافر کا الگ الگ ہو ۔ پس جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ جو ہم نے ذکر کیا وہ اسی طرح ہی ہے اور جو چیز مقیم کی طہارت کو توڑنے والی ہے وہی مسافر کی طہارت کو توڑنے والی ہے اور وقت کا نکل جانا جیسے مسافر کی طہارت کو نہیں توڑتا اسی طرح مقیم کی طہارت کو بھی نہیں توڑتا ۔ قیاس و نظر تو ہمارے بیان کی تصدیق کرتے ہیں اور یہی امام ابو حنیفہ ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کا مسلک ہے اور یہی بات جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمۃ اللہ علیہ کی جماعت نے کہی ۔
أبي هريرة يرفعه مثله فثبت بقوله صلى الله عليه و سلم لولا ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← بن عُيَيْنَةَ ← الْفِرْيَابِيُّ، ← حسين بن نصر
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 228
