Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 228

231 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا الفريابي قال ثنا بن عيينة عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة يرفعه مثله فثبت بقوله صلى الله عليه و سلم لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم بالسواك عند كل صلاة أنه لم يأمرهم بذلك وأن ذلك ليس عليهم وأن في ارتفاع ذلك عنهم وهو المجعول بدلا من الوضوء لكل صلاة دليل على أن الوضوء لكل صلاة لم يكن عليهم ولا أمروا به وأن المأمور به النبي صلى الله عليه و سلم دونهم وأن حكمه كان في ذلك غير حكمهم فهذا وجه هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار وقد ثبت بذلك ارتفاع وجوب الوضوء لكل صلاة وأما وجه ذلك من طريق النظر فإنا رأينا الوضوء طهارة من حدث فأردنا أن ننظر في الطهارات من الأحداث كيف حكمها وما الذي ينقضها فوجدنا الطهارات التي توجبها الأحداث على ضربين فمنها الغسل ومنها الوضوء فكان من جامع أو أجنب وجب عليه الغسل وكان من بال أو تغوط وجب عليه الوضوء فكان الغسل الواجب بما ذكرنا لا ينقضه مرور الأوقات ولا ينقضه إلا الأحداث فلما ثبت أن حكم الطهارة من الجماع والإحتلام كما ذكرنا كان في النظر أيضا أن يكون حكم الطهارات من سائر الأحداث كذلك وأنه لا ينقض ذلك مرور وقت كما لا ينقض الغسل مرور وقت وحجة أخرى أنا رأيناهم أجمعوا أن المسافر يصلي الصلوات كلها بوضوء واحد ما لم يحدث وإنما اختلفوا في الحاضر فوجدنا الأحداث من الجماع والإحتلام والغائط والبول وكل ما إذا كان من الحاضر كان حدثا يوجب به عليه طهارة فإنه إذا كان من المسافر كان كذلك أيضا وجب عليه من الطهارة ما يجب عليه لو كان حاضرا ورأينا طهارة أخرى ينقضها خروج وقت وهي المسح على الخفين فكان الحاضر والمسافر في ذلك سواء ينقض طهارتهما خروج وقت ما وإن كان ذلك الوقت في نفسه مختلفا في الحضر والسفر فلما ثبت أن ما ذكرنا كذلك وإنما ينقض طهارة الحاضر من ذلك ينقض طهارة المسافر وكان خروج الوقت عن المسافر لا ينقض طهارة كان خروجه عن المقيم أيضا كذلك قياسا ونظرا على ما بينا من ذلك وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد قال بذلك جماعة بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم

اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت نقل کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا ۔ پس اس قول(( لولا ان اشق علی امتی)) یعنی اگر میری امت پر گرانی نہ ہوتی تو میں ہر نماز کے لیے ان کو مسواک کا حکم دیتا حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم نہیں دیا اور ان پر لازم بھی نہیں اور اس کے ختم کردینے میں جبکہ یہ ہر نماز کےلیے وضو کا بدل ہے تو اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو ان پر لازم نہیں تھااور نہ اس کاحکم ملا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف حکم تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ان سے مختلف تھا اس باب کی روایات کہ معنی کی تصحیح اسی طریق سے ہے اور اس سے ہر نماز کے لیے وضؤ لازم ہونے کے حکم کا اٹھ جانا بھی ثابت ہو گیا ۔ بطور نظر و فکر کے اسکی وضاحت اس طرح ہے کہ وضو حدث سے طہارت کو توڑنے والی ہے تو ہم نے ایسی طہارتیں پائیں جو حدث سے لازم ہوتی ہیں ، ان کو دو قسم پر پایا۔ ایک ان میں سے غسل اور دوسرا وضؤ ہے پس جس شخص نے جماع کیا یا اسے احتلام ہو تو اس پر غسل لازم ہے اور جس نے پیشاب یا پا خانہ کیا تو اس پر وضو واجب ہے اور اس غسل واجب کو جس کاہم نے ابھی تذکرہ کیا اوقات کا گزر نا نہیں توڑنا اس کو توڑنے والی چیز صرف حدث ہے ۔ پاس جب یہ چیز ثابت شدہ ہے کہ تمام طہارتوں کا حکم تمام احداث سے اسی طرح ہو کہ ان طہارتوں کو غسل کی طرح وقت کا گزرنا توڑے ایک اور دلیل یہ ہے کہ ہم نے علماء کرام کو اس بات پر متفق پایا کہ مسافر ایک وضو سے تمام نمازیں پڑھے جب تک حدث لاحق نہ ہو ۔ مقیم کے بارے میں ان کو مختلف الرائے پایا ۔ ہم نے غور کیا کہ احداث یہ چیزیں ہیں ۔ جماع ، احتلام ، پیشاب و پاخانہ ۔ ان میں سے جو چیز مقیم کو پیش آئے گی اس پر طہارت کو لازم کر دے گی اس لیے کہ جب وہ مسافر تھا تو اس پر اسی طرح ہی لازم تھا اور اسی پر وہی طہارت لازم تھی جو مقیم ہونے کی حالت میں اس پر لازم ہوتی ، ہمیں ایک اور ایسی طہارت ملی جسے وقت کا نکلنا توڑ دیتا ہے اور اس میں مقیم و مسافر دونوں اس بات میں برابر ہیں کہ وقت کا نکلنا ان کو طہارت کو باطل کر دے۔ اگرچہ فی نفسہ وقت مقیم و مسافر کا الگ الگ ہو ۔ پس جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ جو ہم نے ذکر کیا وہ اسی طرح ہی ہے اور جو چیز مقیم کی طہارت کو توڑنے والی ہے وہی مسافر کی طہارت کو توڑنے والی ہے اور وقت کا نکل جانا جیسے مسافر کی طہارت کو نہیں توڑتا اسی طرح مقیم کی طہارت کو بھی نہیں توڑتا ۔ قیاس و نظر تو ہمارے بیان کی تصدیق کرتے ہیں اور یہی امام ابو حنیفہ ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کا مسلک ہے اور یہی بات جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمۃ اللہ علیہ کی جماعت نے کہی ۔

أبي هريرة يرفعه مثله فثبت بقوله صلى الله عليه و سلم لولا ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← بن عُيَيْنَةَ ← الْفِرْيَابِيُّ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 228

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 229

232 - حدثنا بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن أبي عمران الجوني عن أنس بن مالك أن أصحاب أبي موسى الأشعري توضؤوا وصلوا الظهر فلما حضرت العصر قاموا ليتوضأوا فقال لهم مالكم أحدثتم فقالوا لا فقال الوضوء من غير حدث ليوشك أن يقتل الرجل أباه وأخاه وعمه وابن عمه وهو يتوضأ من غير حدث

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے وضؤ کیا اور ظہر کی نماز پڑھی جب عصر کا وقت آیا تو وہ وضو کے لیے اٹھنے لگے تو ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرمانے لگے تمہیں کیا ہوا ؟ کیا تمہارا وضو ٹوٹ گیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں تو کہنے لگے بغیر حدث کے وضو کرنے میں اس قدر اہتمام کرنا اسی طرح کی محرومی ہے کہ جیسا وارث اپنے مورث کو قتل کر کے وارثت سے اپنے کو محروم کرے۔ مثلا بیٹا باپ کو یا اپنے بھائی یا چچا یا ابن عم کو قتل کر دے وغیرہ ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 229

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 230

233 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا شعبة عن عمرو بن عامر قال سمعت أنسا يقول كنا نصلي الصلوات كلها بوضوء واحد ما لم نحدث

عمرو بن عامر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے ہم تو نماز یں اس وقت تک ایک وضو سے پڑھ لیا کرتے تھے جب تکہ ہمیں حدث پیش نہ آتی تھی ۔

كنا نصلي الصلوات كلها بوضوء واحد ما لم نحدث ← أَنَسًا ← عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 230

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 231

234 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا شعبة قال أخبرني مسعود بن علي عن عكرمة أن سعدا كان يصلي الصلوات كلها بوضوء واحد ما لم يحدث

عکرمہ کہتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ تمام نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کرتے جب تک کہ ان کو حدث پیش نہ آتی ۔

عكرمة أن سعدا كان يصلي الصلوات كلها بوضوء واحد ما لم ← مَسْعُودِ بْنِ عَلِيٍّ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 231

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 232

235 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث قال ثنا شعبة فذكر بإسناده مثله غير أنه لم يذكر عكرمة وزاد وكان علي بن أبي طالب رضي الله عنه يتوضأ لكل صلاة ويتلو إذا قمتم إلى الصلاة فاغسلوا وجوهكم وأيديكم قال أبو جعفر وليس في هذه الآية عندنا دليل على وجوب الوضوء لكل صلاة لأنه قد يجوز أن يكون قوله ذلك على القيام وهم محدثون ألا ترى أنهم قد أجمعوا أن حكم المسافر هو هذا أو أن الوضوء لا يجب عليه حتى يحدث فلما ثبت أن هذا حكم المسافر في هذه الآية وقد خوطب بها كما خوطب الحاضر ثبت أن حكم الحاضر فيها كذلك أيضا وقد قال بن الفغواء إنهم كانوا إذا أحدثوا لم يتكلموا حتى يتوضأوا فنزلت هذه الآية إذا قمتم إلى الصلاة فأخبر أن ذلك إنما هو القيام إلى الصلاة بعد حدث

عبدالصمد کہتے ہیں کہ ہمیں شعبہ نے اپنی اسناد سے اسی طرح ذکر کیا البتہ انہوں نے سند میں عکرمہ کا ذکر نہیں کیا اور یہ اضافہ روایت میں فرمایا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہر نماز کے لیے وضو کرتے اور یہ آیت تلاوت فرماتے تھے " اذا قمتہم الی الصلوۃ فاغسلو وضوھکم ایدیکم( المائدۃ) امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک تو اس آیت میں ہر نماز کے وضو کے واجب ہونے کی کوئی دلیل نہیں پائی جاتی کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ یہ ارشاد نماز کی تیاری کے لیے اس حالت میں ہو جبکہ وہ بے وضو ہو ۔ کیا اس بات پر تم سب فقہاء کو متفق نہیں پاتے کہ مسافر کے لیے یہی حکم ہے اور حدث کے بغیر اس پر وضو لازم نہیں پس جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ مسافر کا یہ حکم اس آیت سے ثابت ہے تو جس طرح اس سے مسافر کو خطاب کیا گیا اس طرح مقیم کو بھی خطاب کیا گیا تو اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ مقیم کا حکم بھی مسافر کی طرح ہے ابن فغواء نے نقل کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب بے وضو ہو جاتے تو بغیر وضو کے کلام نہ کرتے ۔ بس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری( اذا قمتم الی الصلوۃ فاغسلو وجو ھکم و ایدیکم( لمائدہ) کہ یہ بتلا دیا کہ یہ حدث کے بعد نماز کی طرف جانے کے وقت ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 232

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 233

236 - حدثنا بن مرزوق مرة أخرى قال ثنا عبد الصمد وبشر بن عمر قالا ثنا شعبة عن مسعود بن علي بذلك ولم يذكر عكرمة

شعبہ نے مسعود بن علی سے اوپر والی روایت بیان کی مگر عکرمہ کا تذکرہ نہیں کیا۔

مسعود بن علي بذلك ولم يذكر عكرمة ← شُعْبَةُ، ← عبد الصمد وبشر بن عمر، ← بن مرزوق مرة أخرى

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 233

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 234

237 - حدثنا بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن أيوب عن محمد أن شريحا كان يصلي الصلوات كلها بوضوء واحد

محمد کہتے ہیں کہ شریح رحمۃ اللہ علیہ تمام نمازیں ایک وضو سے ادا کرتے تھے ۔

محمد أن شريحا كان يصلي الصلوات كلها بوضوء واحد ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 234

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 235

238 - حدثنا بن خزيمة قال ثنا الحجاج عن يزيد بن إبراهيم عن الحسن انه كان لا يرى بذلك بأسا والله أعلم

یزید بن ابراہیم نے بیان کیا کہ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ تمام نمازیں ایک وضو سے ادا کریں ۔ واللہ اعلم۔

الحسن انه كان لا يرى بذلك بأسا والله أعلم ← يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← الْحَجَّاجِ، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 235

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 11 باب الرجل يخرج من ذكره المذي كيف يفعل ) · حديث 236

239 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا أمية بن بسطام قال ثنا يزيد بن زريع قال ثنا روح بن القاسم عن بن أبي نجيح عن عطاء عن إياس بن خليفة عن رافع بن خديج أن عليا أمر عمارا أن يسأل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن المذي فقال يغسل مذاكيره ويتوضأ [ ص 46 ] قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن غسل المذاكير واجب على الرجل إذا أمذى وإذا بال واحتجوا في ذلك بهذا الأثر وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لم يكن ذلك من رسول الله صلى الله عليه و سلم على إيجاب غسل المذاكير ولكنه ليتقلص المذي فلا يخرج قالوا ومن ذلك ما أمر به المسلمون في الهدي إذا كان له لبن أن ينضح ضرعه بالماء ليتقلص ذلك فيه فلا يخرج وقد جاءت الآثار متواترة بما يدل على ماقالوا فمن ذلك

رافع بن خدیج نقل کرتے ہیں علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے عمار کو کہا کہ وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کا حکم دریافت کرلے ۔ چنانچہ دریافت کرنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے مزا کیر کو دھو ڈالے اور وضو کرلے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب کسی آدمی کو مذی آجائے یا پیشاب کی حالت ہو تو اسے اعضاء تناسل کا دھو لینا ضروری ہے ۔ انہوں نے مذکورہ بلا روایت سے استدلال کیا ہے ۔ علماء کی دوسری جماعت نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے اعضاء تناسل کے دھونے سے وجوب ثابت نہیں ہوتا ۔ بلکہ منی کو نکلنے سے روکنے کا طریقہ ذکر کیا گیا ہے ۔ اس کی نظیر وہ حکم ہے جس کا مسلمانوں کو ہدی کے سلسلے میں جبکہ وہ دودھ والا جانور ہو حکم دیا گیا کہ اس کے تھنوں پر ٹھنڈا پانی چھڑکا جائے تا کہ دودھ نکلنے سے رک جائے اور ہماری اس بات کے ثبوت میں مندرجہ ذیل آثار شاہد ہیں ۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← إِيَاسِ بْنِ خَلِيفَةَ ← عَطَاءٍ، ← بن أَبِي نَجِيحٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 236

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 11 باب الرجل يخرج من ذكره المذي كيف يفعل ) · حديث 237

240 - حدثنا بن أبي داود وابن أبي عمران قالا ثنا عمرو بن محمد الناقد قال ثنا عبيدة بن حميد عن الأعمش عن حبيب بن أبي ثابت عن سعيد بن جبير عن بن عباس قال قال علي رضي الله عنه كنت رجلا مذاء فأمرت رجلا يسأل النبي صلى الله عليه و سلم فقال فيه الوضوء

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں بہت مذی والا تھا میں نے ایک آدمی کو کہا کہ وہ اس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرے (انہوں نے دریافت کیا ) تو آپ نے فرمایا اس میں فقط وضو ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← الْاَعْمَشِ ← عبيدة بن حميد ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ← بن أبي داود وابن أبي عمران

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 237

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 11 باب الرجل يخرج من ذكره المذي كيف يفعل ) · حديث 238

241 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال أنا هشيم قال أنا الأعمش عن منذر أبي يعلي الثوري عن محمد بن الحنفية قال سمعته يحدث عن أبيه قال كنت أجد مذيا فأمرت المقداد أن يسأل النبي صلى الله عليه و سلم عن ذلك واستحييت أن أسأله لأن ابنته عندي فسأله فقال إن كل فحل يمذي فإذا كان المني ففيه الغسل وإذا كان المذي ففيه الوضوء

محمد بن حنیفہ اپنے والد حضرت ( علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ) سے بیان کرتے ہیں کہ مجھے مذی آتی تھی تو میں نے مقدار کو کہا کہ وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کریں اور مجھے پوچھنے سے حیاء مانع ہوا کیونکہ آپ کی بیٹی میرے گھر تھی مقداد نے آپ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا ہر مذکر کو مذی آتی ہے جب مذی آئے تو اس میں وضو ہے اور جب منی ہو تو اس میں غسل ہے ۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ ← مُنْذِرٍ أَبِي يَعْلَى الثَّوْرِيِّ، ← الْاَعْمَشِ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 238

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 11 باب الرجل يخرج من ذكره المذي كيف يفعل ) · حديث 239

242 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عبد الله بن رجاء قال ثنا زائدة بن قدامة عن أبي حصين عن أبي عبد الرحمن عن علي رضي الله عنه قال كنت رجلا مذاء وكانت عندي بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأرسلت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال توضأ واغسله

ابو عبدا لرحمن نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ مجھے مذی بہت آتی تھی اور آپ کی بیٹی میرے نکاح میں تھی پس میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیغام بھیج کر ( مسئلہ دریافت ) کیا تو ارشاد فرمایا وضو کر لو اور سے دھو ڈالو۔

عَلِيٍّ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبِي حَصِينٍ، ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 239

chevron_left Previous
1…192021…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter