شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 216
219 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني عبد الرحمن بن زياد بن أنعم عن أبي غطيف الهذلي قال صليت مع عبد الله بن عمر بن الخطاب الظهر فانصرف في مجلس في داره فانصرفت معه حتى إذا نودي بالعصر دعا بوضوء فتوضأ ثم خرج وخرجت معه فصلى العصر ثم رجع إلى مجلسه ورجعت معه حتى إذا نودي بالمغرب دعا بوضوء فتوضأ فقلت له أي شيء هذا يا أبا عبد الرحمن الوضوء عند كل صلاة فقال وقد فطنت لهذا مني ليست بسنة إن كان لكاف وضوئي لصلاة الصبح صلواتي كلها ما لم أحدث ولكني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من توضأ على طهر كتب الله له بذلك عشر حسنات ففي ذلك رغبت يا بن أخي فقد يجوز أن يكون رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما فعل ما روى عنه بن بريدة لإصابة هذا الفضل لا لأن ذلك كله واجبا عليه وقد روى أنس بن مالك أيضا ما يدل على ما ذكرنا
ابو غطیف ھذلی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز ظہرادا کی پھر وہ گھر میں اپنے بیٹھنے کی جگہ آگئے میں بھی ان کے ساتھ آیا یہاں تک کہ جب مغرب کی اذان ہوئی تو انہوں نے پانی منگوا کر وضو کیامیں نے کہا اے ابو عبدالرحمن یہ کیا ہے ؟ ہر نماز کے لیے وضو؟ تو فرمانے لگے کیا تو میری یہ بات سمجھ گیا ؟ یہ سنت نہیں ہے اگرچہ میرا صبح کی نماز والا وضو تمام نمازوں کے لیے کافی ہے جب تک کہ میں حدث میں مبتلا نہ ہوں ۔ لیکن میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جس نے طہارت ( وضو ہوتے ہوئے) وضو کیا اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے بدلے دس نیکیاں لکھ دیتے ہیں ۔ اے میرے بھتیجے اسی وجہ سے میں نے اس کی طرف رغبت و شوق کا اظہار کیا۔
أَبِي غُطَيْفٍ الْهُذَلِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 216
