Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 9 باب فرض الرجلين في وضوء الصلاة ) · حديث 204

207 - ما حدثنا حسين بن نصر قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن الزبير بن عدي عن إبراهيم قال قلت للأسود أكان عمر يغسل قدميه فقال نعم كان يغسلهما غسلا

ابراہیم کہتے ہیں میں نے اسود سے دریافت کیا کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ پاؤں کو دھویا کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں ! وہ ان کو خوب مل کر دھوتے تھے ۔

قلت للأسود أكان عمر يغسل قدميه فقال نعم كان يغسلهما غسلا ← إِبْرَاهِيمَ، ← الزبير بن عدي ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← حسين بن نصر ← مَا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 204

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 9 باب فرض الرجلين في وضوء الصلاة ) · حديث 205

208 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم قال توضأ عمر فغسل قدميه

مغیرہ نے ابراہیم سے نقل کیا کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے وضؤ کیا اور اپنے دونون پاؤں کو دھویا۔

توضأ عمر فغسل قدميه ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 205

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 9 باب فرض الرجلين في وضوء الصلاة ) · حديث 206

209 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا أبو ربيعة قال ثنا أبو عوانة عن أبي حمزة قال رأيت بن عباس يغسل رجليه ثلاثا ثلاثا

ابو حمزہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے پاؤں کو( وضو میں) تین تین مرتبہ دھوتے تھے ۔

رأيت بن عباس يغسل رجليه ثلاثا ثلاثا ← أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو رَبِيعَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 206

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 9 باب فرض الرجلين في وضوء الصلاة ) · حديث 207

210 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أبو الأسود قال أنا بن لهيعة عن عمارة بن غزية عن بن المجمر قال رأيت أبا هريرة يتوضأ مرة وكان إذا غسل ذراعيه كان أن يبلغ نصف العضد ورجليه إلى نصف الساق فقلت له في ذلك فقال أريد أن أطيل غرتي إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول إن أمتي يأتون يوم القيامة غرا محجلين من الوضوء ولا يأتي أحد من الأمم كذلك

ابن المجمر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ دھوتے ہیں جب وہ اپنے بازودھوتے تو قریب نصف عضو تک دھوتے اور اسی طرح دونوں پاؤں دھوتے تو نصف پنڈلی تک دھوتے میں نے ان سے اس سلسلہ میں عرض کیا تو فرمانتے لگے کہ میری امت قیامت کے دن وضو کی وجہ سے روشن اعضاء والی ہو گی ( جیسا ابلق گھوڑوں میں پنج کلیان گھوڑا پہنچانا جاتا ہے ، امت ان اعضاء وضو کے روشن ہونے سے پہنچانی جائے گی ) اور کوئی امت بھی اس طرح نہ آئے گی ۔

بن المجمر ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← بن لهيعة ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 207

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 9 باب فرض الرجلين في وضوء الصلاة ) · حديث 208

211 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا يعقوب قال ثنا أبو عوانة عن أبي بشر عن مجاهد أنه ذكر له المسح على القدمين فقال كان بن عمر يغسل رجليه غسلا وأنا أسكب عليه الماء سكبا

ابو عوانہ نے ابو بشر سے بیان کیا اور ابو بشر نے مجاہد سے نقل کیا کہ میں نے ان کے سامنے پاؤں پر مسح کا ذکر کیا تو مجاہد فرمانےلگے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنے پاؤں کو خؤب دھورہے تھے اور میں ان پر پانی بہاتا جا رہا تھا ۔

أسكب عليه الماء سكبا ← كان بن عمر يغسل رجليه غسلا ← له المسح على القدمين ← مُجَاهِدٍ أَنَّهُ ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَعْقُوبُ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 208

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 9 باب فرض الرجلين في وضوء الصلاة ) · حديث 209

212 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عبد الصمد قال ثنا شعبة عن أبي بشر عن مجاهد عن بن عمر مثله

ابو بشر نے مجاہد سے اور مجاہد نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

بن عمر مثله ← مُجَاهِدٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 209

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 9 باب فرض الرجلين في وضوء الصلاة ) · حديث 210

213 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر قال ثنا عبد العزيز بن عبد الله الماجشون عن عبد الله بن دينار عن بن عمر أنه كان يغسل رجليه إذا توضأ

عبد اللہ بن دینار نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جب وہ وضؤ کرتے تو اپنے پاؤں کو دھوتے ۔

بن عمر أنه كان يغسل رجليه إذا توضأ ← عبد الله بن دينار ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمَاجِشُونِ ← أَبُو عَامِرٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 210

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 9 باب فرض الرجلين في وضوء الصلاة ) · حديث 211

214 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال ثنا عبد السلام عن عبد الملك قال قلت لعطاء أبلغك عن أحد من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه مسح القدمين قال لا وقد زعم زاعم أن النظر يوجب مسح القدمين في وضوء الصلاة قال لأني رأيت حكمهما بحكم الرأس أشبه لأني رأيت الرجل إذا عدم الماء فصار فرضه التيمم ييمم وجهه ويديه ولا ييمم رأسه ولا رجليه فلما كان عدم الماء يسقط فرض غسل الوجه واليدين إلى فرض آخر وهو التيمم ويسقط فرض الرأس والرجلين لا إلى فرض ثبت بذلك أن حكم الرجلين في حال وجود الماء كحكم الرأس لا كحكم الوجه واليدين فكان من الحجة عليه في ذلك أنا رأينا أشياء يكون فرضها الغسل في حال وجود الماء ثم يسقط ذلك الفرض في حال عدم الماء لا إلى فرض من ذلك الجنب عليه أن يغسل سائر بدنه بالماء في حال وجوده وإن عدم الماء وجب عليه التيمم في وجهه ويديه فأسقط فرض حكم سائر بدنه بعد الوجه واليدين لا إلى بدل فلم يكن ذلك بدليل أن ما سقط فرضه من ذلك لا إلى بدل كان فرضه في حال وجود الماء هو المسح فكذلك أيضا لا يكون سقوط فرض الرجلين في حال عدم الماء لا إلى بدل بدليل أن حكمهما كان في حال وجود الماء هو المسح فبطلت بذلك علة المخالف إذا كان قد لزمه في قوله مثل ما ألزم خصمه

عبدالمالک سے روایت ہے کہ میں نے عطاء سے سوال کیا کہ کیا تمہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی کے متعلق روایت ملی ہے کہ انہوں نے اپنے پاؤں پر مسح کیا ہو تو عطاء کہنے لگے کوئی روایت نہیں پہنچی۔ کسی شخص کو یہ گمان گزر سکتا ہے کہ نظر و فکر تو نمازکےوضو میں پاؤں کے مسح کو لازم کرتی ہے اس لیے کہ ان کا حکم سر کے حکم سے مشابہت رکھتا ہے کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ جب کسی کے پاس پانی نہ ہو تو اس پر تیمم لازم ہو جاتا ہے ۔ وہ اپنے چہرے اور ہاتھوں پر تو تیمم کرے گا مگر سر پر تیمم نہ کرے گا اور نہ ہی پاؤں پر ۔ پس جب پانی کا نہ ملنا چہرے اور ہاتھوں سے دھونے کی فرضیت کو ساقط کر کے دوسرا فرض تیمم مقرر کرتا ہے اور پاؤں اور سر کے فرض کو بالکل ساقط کر دیتاہے اور کوئی دوسرا فرض اس کی جگہ مقرر نہیں کرتا ۔پس اس سے ثابت ہو گیا کہ دو پاؤں کا حکم پانی کے ملنے کی صورت میں سر کے حکم کی طرح ہے چہرے اور دنوں ہاتھوں کے حکم کی طرح نہیں ہے ۔ ان کے جواب میں ہماری دلیل یہ ہے کہ ہم دیکھ پاتے ہیں کہ پانی کے ملنے کی صورت میں بعض اشیاء کا دھونا فرض ہوتا ہے پھر پانی نہ پانے کی صورت میں وہ فرض کسی دوسرے فرض کی طرف ساقط نہیں ہوتا ۔ چنانچہ ہم جنابت والے شخص کو دیکھتے ہیں کہ اس پر لازم ہے کہ پانی کے ملنے کی صورت میں تمام بدن کو دھوئے اور جب پانی میسر نہ ہو تو اس وقت اس کے لیے چہرے اور بازوؤں کا تیمم اس پر لازم ہے تو چہرے اور بازوکے علاوہ باقی تمام جسم کے دھونے کی فرضیت بغیر کسی بدل کے ساقط ہو گئی۔ پس یہ اس بات کی دلیل نہ بن سکی کہ جس کی فرضیت کسی بدل کی طرف ساقط نہ ہو تو پانی کے ملنے کی صورت میں اس کا مسح فرض ہو جاتا ہے ۔ بالکل اسی طرح پانی نہ ملنے کی صورت میں پاؤں کی فرضیت کا بلا دل ساقط ہونا ہے ۔ اس دلیل کی بنیاد پر نہیں کہ ان کا حکم پانی کے ملنے کی صورت میں مسح تھا ۔ پس اس کے نتیجہ میں فریق مخالف کی وہ علت ہی باطل ٹھہری اس لیے کہ اس نے اپنے مخالف پر اپنی بات سے جو کچھ لازم کیا تھا وہ خود اس پر لازم آگیا ۔

قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَبَلَغَك ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← عَبْدُ السَّلامِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 211

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 212

215 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا سفيان عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن أبيه أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يتوضأ لكل صلاة فلما كان الفتح صلى الصلوات بوضوء واحد

بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے جس دن مکہ فتح ہوا اس دن آپ نے پانچوں نمازیں ایک ہی وضو سے ادا فرمائیں ۔ پس یہ درست ہو گیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن بریدہ رضی اللہ عنہ والی روایت میں مذکورہ عمل وفضیلت کے حصول کے لیے فرمایا اس بناء پر نہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب و لازم تھا اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت بھی مذکورہ قول پر دلالت کرتی ہے۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 212

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 213

216 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم وأبو حذيفة قالا ثنا سفيان عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن أبيه قال صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم فتح مكة خمس صلوات بوضوء واحد ومسح على خفيه فقال له عمر صنعت شيئا يا رسول الله لم تكن تصنعه فقال عمدا فعلته يا عمر

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن پانچوں نمازیں ایک ہی وضو سے ادا فرمائیں اور موزوں پر مسح فرمایا اس پرعمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے آج ایسا عمل کیا جو پہلے نہ کرتے تھے آپ نے فرمایا میں نے اے عمر رضی اللہ عنہ قصدا ایسا کیا ہے ۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← أبو عاصم وأبو حذيفة ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 213

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 214

217 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو حذيفة قال ثنا سفيان قال ثنا علقمة عن سليمان عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان يتوضأ لكل صلاة فذهب قوم إلى أن الحاضرين يجب عليهم أن يتوضئوا لكل صلاة واحتجوا في ذلك بهذا الحديث فخالفهم في ذلك أكثر العلماء فقالوا لا يجب الوضوء إلا من حدث [ ص 42 ] وكان مما روي عن النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك ما يوافق ما ذهبوا إليه في ذلك ما

حضرت بدیرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضؤ فرماتے تھے علماء کی ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ مقیم افراد پر واجب ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو کریں اور انہوں نے اس روایت کو دلیل بنایا ۔ علماء کی اکثریت نے ان کی مخالفت کی ہے ۔ پس انہوں نے کہا کہ وضو تو اسی پر واجب ہے جو بے وضو ہو اور ان کے مسلک کی تائید جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ روایت ہے ۔

أَبِيهِ ← سُلَیْمَانَ ← عَلْقَمَةَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 214

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 10 باب الوضوء هل يجب لكل صلاة أم لا ) · حديث 215

218 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني أسامة بن زيد وابن جريج وابن سمعان عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال ذهب رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى امرأة من الأنصار ومعه أصحابه فقربت لهم شاة مصلية فأكل وأكلنا ثم حانت الظهر فتوضأ وصلى ثم رجع إلى فضل طعامه فأكل ثم حانت العصر فصلى ولم يتوضأ قال أبو جعفر ففي هذا الحديث أنه صلى الظهر والعصر بوضوئه الذي كان في وقت الظهر وقد يجوز أن يكون وضوؤه لكل صلاة على ما روى بن بريدة كان ذلك على التماس الفضل لا على الوجوب فإن قال قائل فهل في هذا من فضل فليلتمس قيل له نعم قد

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصار یہ کے ہاں اپنے بعض صحابہ رضی اللہ عنہ سمیت تشریف لے گئے اس انصاریہ رضی اللہ عنہا نے آپ کی خدمت میں بکری کا بھنا ہوا گوشت پیش کیا جس میں سے آپ نے کھایا اور ہم نے بھی کھایا پھر ظہر کا وقت ہو گیا تو آپ نے وضو کیا اور نماز پڑھائی اور دوبارہ وضو نہیں کیا ۔ امام ابو جعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ روایت بتلا رہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر کی نماز ظہر والے وضو سے ادا فرمائی اور یہ بھی ممکن ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو کرنا حصول فضیلت کے لیے ہو ، وجودب ولزوم کے طور پر نہ ہو ۔ جیسا کہ ابن بریدہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں موجود ہے ۔ اگر کوئی معترض یہ کہنے لگے کہ اس میں کیا فضیلت ہے کہ جس کو تلاش کیا جائے؟ تو ہم عرض کریں گے جی ہاں ! اس میں فضیلت ملاحظہ ہو ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← أسامة بن زيد وابن جريج وابن سمعان ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 215

chevron_left Previous
1…171819…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter