شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 9 باب فرض الرجلين في وضوء الصلاة ) · حديث 192
195 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا أبو عوانة فذكر مثله قال أبو جعفر فذكر عبد الله بن عمرو أنهم كانوا يمسحون حتى أمرهم رسول الله صلى الله عليه و سلم بإسباغ الوضوء وخوفهم فقال ويل للأعقاب من النار فدل ذلك أن حكم المسح الذي كانوا يفعلونه قد نسخه ما تأخر عنه مما ذكرنا فهذا حكم هذا الباب من طريق الآثار وأما وجهه من طريق النظر فإنا قد ذكرنا فيما تقدم من هذا الباب عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما لمن غسل رجليه في وضوئه من الثواب فثبت بذلك أنهما مما يغسل وأنهما ليستا كالرأس الذي يمسح وغاسله لا ثواب له في غسله وهذا الذي ثبت بهذه الآثار قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله وقد اختلف الناس في قوله تعالى وأرجلكم فأضافة قوم إلى قوله تعالى وامسحوا برءوسكم قصرا على معنى وامسحوا برءوسكم وأرجلكم وأضافه قوم إلى قوله فاغسلوا وجوهكم وأيديكم إلى المرافق فقرأوا وأرجلكم نسقا على قوله فاغسلوا وجوهكم واغسلوا أيديكم واغسلوا أرجلكم على الإضمار والنسق وقد اختلف في ذلك أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ومن دونهم فما روي عنهم في ذلك ما
ابو داؤ د کہتے ہیں کہ ہمیں ابو عوانہ نے بیان کیا پھر اسی جیسی روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان فرمائی کہ صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم پاؤں کا مسح کرتے تھے یہاں تک کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کامل طور پر وضو کرنے کا حکم فرمایا اور ان کو یہ فرما کر ڈرایا کہ ایسی ایڑیوں کے لیے جہنم کی خرابی ہے ۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ وہ مسح کا حکم جس کو وہ کیا کرتے تھے اس کو بعد والے مذکورہ حکم نے منسوخ کر دیا اس باب کا یہ حکم تو روایا ت کو سامنے رکھ کر ہے باقی نظر و فکر کی راہ سے یہ ہے کہ ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پاؤں دھونے والے کے ثواب کی روایات ذکر کی ہیں ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ان اعضاء میں سے ہیں جن کو دھویا جاتا ہے ۔ یہ سر کی طرح نہیں ہیں کہ جس پر مسح کیا جاتا ہے اور اسکے دھونے والے کو کچھ ثواب نہیں ہے اور یہ جوان آثار سے ثابت ہو رہا ہے ۔ یہی مسلک امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ،محمد رحمۃ اللہ علیہم کا ہے ۔ علماء نے آیت ( وارجلکم) کی تفسیر میں اختلاف کیا ہے ۔ ایک جماعت کا کہنا یہ ہے کہ اس کا تعلق وامسحوا بروسکم سے ہے اور امسحوا بروسکم وارجلکم کا ایک ہی معنی ہے ۔ جبکہ دوسری جماعت نے اس کی نسبت فاغسلواوجو ھکم واید کم الی المرافق کی طرف کر کے اس کو منصوب پڑھا ہے ۔ ای اغسلوا ارجلکم کہ تم اپنے پاؤں کو دھوؤ اس سلسلہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین کا اختاف ہے جو مندرجہ ذیل روایات سے واضح ہو جائ گا۔
أبو جعفر ← مِثْلَہُ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 192
