Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 5 باب تسمية على الوضوء ) · حديث 108

111 - حدثنا بذلك أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان عن عبد الملك بن أبي بشير عن عبد الله بن المساور أو بن أبي المساور قال سمعت بن عباس يعاتب بن الزبير في البخل ويقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ليس المؤمن الذي يبيت شبعان وجاره إلى جنبه جائع فلم يرد بذلك أنه ليس بمؤمن إيمانا خرج بتركه إياه إلى الكفر ولكنه أراد به أنه ليس في أعلى مراتب الإيمان وأشباه هذا كثيرة يطول الكتاب بذكرها فكذلك قوله لا وضوء لمن لم يسم لم يرد بذلك أنه ليس بمتوضيء وضوءا لم يخرج به من الحدث ولكنه أراد أنه ليس بمتوضيء وضوءا كاملا في أسباب الوضوء الذي يوجب الثواب فلما احتمل هذا الحديث من المعاني ما وصفنا ولم يكن هناك دلالة يقطع بها لأحد التأويلين على الآخر وجب أن يجعل معناه موافقا لمعاني حديث المهاجر حتى لا يتضادا فثبت بذلك أن الوضوء بلا تسمية يخرج به المتوضىء من الحدث إلى الطهارة وأما وجه ذلك من طريق النظر فإنا رأينا أشياء لا يدخل فيها إلا بكلام منها العقود التي يعقدها بعض الناس لبعض من البياعات والإجارات والمناكحات والخلع وما أشبه ذلك فكانت تلك الأشياء لا تجب إلا بأقوال وكانت الأقوال منها إيجاب لأنه يقول قد بعتك قد زوجتك قد خلعتك فتلك أقوال فيها ذكر العقود وأشياء تدخل فيها بأقوال وهي الصلاة والحج فتدخل في الصلاة بالتكبير وفي الحج بالتلبية فكان التكبير في الصلاة والتلبية في الحج ركنا من أركانها ثم رجعنا إلى التسمية في الوضوء هل تشبه شيئا من ذلك فرأيناها غير مذكور فيها إيجاب شيء كما كان في النكاح والبيوع فخرجت التسمية لذلك من حكم ما وضعنا ولم تكن التسمية أيضا ركنا من أركان الوضوء كما كان التكبير ركنا من أركان الصلاة وكما كانت التلبية ركنا من أركان الحج فخرج أيضا بذلك حكمها من حكم التكبير والتلبية فبطل بذلك قول من قال إنه لا بد منها في الوضوء كما لا بد من تلك الأشياء فيما يعمل فيه فإن قال قائل فإنا قد رأينا الذبيحة لا بد من التسمية عندها ومن ترك ذلك متعمدا لم تؤكل ذبيحته فالتسمية أيضا على الوضوء كذلك قيل له ما ثبت في حكم النظر أن من ترك التسمية على الذبيحة متعمدا أنها لا تؤكل لقد تنازع الناس في ذلك فقال بعضهم تؤكل وقال بعضهم لا تؤكل فأما من قال تؤكل فقد كفينا البيان لقوله وأما من قال لا تؤكل فإنه يقول إن تركها ناسيا تؤكل سواء عنده كان الذابح مسلما أو كافرا بعد أن يكون كتابيا فجعلت التسمية هاهنا في قول من أوجبها إنما هي لبيان الملة [ ص 29 ] فإذا سمى الذابح صارت ذبيحته من ذبائح الملة المأكولة ذبيحتها وإذا لم يسم جعلت من ذبائح الملل التي لا تؤكل ذبائحها والتسمية على الوضوء ليس للملة إنما هي مجعولة لذكر على سبب من أسباب الصلاة فرأينا من أسباب الصلاة الوضوء وستر العورة فكان من ستر عورته لابتسمية لم يضره ذلك فالنظر على ذلك أن يكون من تطهر أيضا لابتسمية لم يضره ذلك وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمهم الله تعالى

ابن ابی المساور یا عبداللہ بن المساور کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کوسنا کہ وہ ابن الزبیر کو بخل کے متعلق عتاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کامل مومن نہیں جو خؤد پیٹ بھر کر رات گزارے جبکہ اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا ہو۔ پاس اس سے یہ مراد نہیں کہ وہ اس کو چھوڑ دینے کی وجہ سے کفر کی طرف نکل گیا ہے بلکہ اس کی مراد یہ ہے کہ وہ ایمان کے اعلیٰ درجات میں نہیں ہے اسکی امثلہ بہت ہیں جن کا تذکرہ کریں تو کتاب طویل ہو جائے گی ۔ پس اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد :( لا وضو لمن لم یسم ) کہ جس نے ﷽ نہ پڑھی اس کا وضو کامل نہیں ۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ وہ ایسا وضؤ کرنے والا نہیں جس سے وہ حدث سے نہ نکلا ہو بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ ایسا کامل وضو کرنے والا نہیں جو اسباب وضو میں ثواب کو لازم کرتا ہے ۔ پس جب یہ روویت ان معانی کا احتمال رکھتی ہے جو ہم نے بیان یے ہیں تو پھر کسی ایک تاویل کے لیے قطعی دلالت نہ ملی تو اب لازم ہو گیا کہ اس حدیث کے ایسے معانی لیے جائیں جو حدیث مہاجر کے موافق ہوں تاکہ دونوں میں تضاد نہ رہے ۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ﷽ کے بغیر کیا جانے والا وضو ایسا ہے جس سے وضو کرنے والا حدث سے طہارت کی طرف نکل جاتا ہے ۔ باقی غور فکر کے لحاظ سے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم کئی عقد ایسے جانتے ہیں جن میں آدمی اس وقت تک داخل نہیں ہوتا جب تک ایسا کلام نہ کرے جس کو لوگ ایک دوسرے سے بیع و اجارہ ، نکاح ، خلع وغیرہ میں استعمال کرتے ہیں یہ اشیاء اس وقت لازم ہوتی ہیں جب گفتگو کی جائے کیونکہ کہتے ہیں کہ میں نے تجھے یہ چیز فروخت کی میں نے تجھ سے نکاح کیا ، میں نے تجھ سے خلع کیا یہ وہ اقوال ہیں جن میں عقود کا تذکرہ ہے اور ایسی اشیاء ہیں جن میں کلام سے داخل ہوتا ہے اور وہ نماز و حج ہیں نماز میں تکبیر اور حج میں تلبیہ کے ذریعہ داخل ہو تا ہے ۔بلکہ تکبیر نماز میں اور حج میں تلبیہ ارکان ہیں ۔ ہم دوبارہ وضو میں تسمیہ کے مسئلہ کی طرف لوٹے ہیں کہ یہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ کسی گونہ مشابہ ہے ۔پس ہم نے دیکھا کہ اس میں کسی شئی کا واجب کرنا تو مذکور نہیں جیسا کہ نکاح اور بیوع وغیرہ میں تھا ۔ پس ﷽ جن کو ہم نے بیان کیا ان کے حکم سے نکل گئی اور غور سے معلوم ہوا کہ ﷽ وضو کے ارکان میں بھی نہیں جیسا کہ تکبیر نماز میں اور تلبیہ حج میں رکن ہے ۔ پس تسمیہ کا حکم تکبیر و تلبیہ کے حکم سےبھی خارج ہو گیا ۔ پاس اس سے اس شخص کا قول غلط ثابت ہو گیا جو اس بات کا مدعی ہے کہ یہ وضو میں اسی طرح لازم ہے جس طرح ان متعلقہ اشیاء میں وہ چیز یں لازم ہیں اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ذبیحہ میں تو ﷽ لازم ہے اور جو شخص بوقت ذبح اسے جان بوجھ کر ترک کرے دے تو وہ اسکا ذبیحہ نہ کھایا جائے گا پس وضؤ میں بھی تسمیہ کا یہی حکم ہے ۔ اسکے جواب میں ہم عرض کریں گے کہ نظر و فکر سے یہ بات ثابت ہے کہ جس شخص نے جان بوجھ کر تسمیہ کو چھوڑ دیا اس کے نہ کھانے کے متعلق لوگوں کا باہمی اختلاف ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ اسے کھایا جائے جبکہ دوسرے کہتے ہیں کہ اسے نہ کھایا جائے جو لوگ کہتے ہیں کہ کھایا جائے تو ان کے قول کے لیے ہمارا بیان کافی ہے اور و شخص نہ کھانے کا قائل ہے وہ یہ تفصیل کرتا ہے کہ اگر بھول کر چھوڑ دیا جائے تو کھا لیا جائے اور اس کے نزدیک یہ بات برابر ہے کہ ذبح کر نے والا کافر ہو یا مسلمان مگر اس کافر کے لیے کتابی ہونا ضروری ہے ۔پس ﷽ کو یہاں اس شخص کے قول کے مطابق جو اسے ذبح کے وقت واجب قرار دیتا ہے تو ذبیحہ بیان قلت کے لیے ہے جب ذبح کرنے والاذبح کے وقت تسمیہ ادا کرے تو یہ ان لوگوں کے ذبیحہ میں شامل ہو گا جن کا ذبیحہ کھایا جاتا ہے اور جب ﷽ نہ پڑھی گئی تو یہ ذبیحہ ان لوگوں کے ذبیحہ سے ہوگا جن کا ذبیحہ کھایا نہیں جاتا اور وضو میں ﷽ کسی ملت کے اظہار کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کو ایسا ذکر قرار دیا جائے گا جو اسباب نماز میں سے ایک اسباب پر اختیار کیا جائے ۔ چنانچہ ہم نے نماز کے اسباب میں سے وضو اور ستر عورت کو پایا ۔ پس جس شخص نے اپنے ستر کو بسم اللہ پڑھے بغیر ڈھانپ کیا تو اسے ترک تسمیہ سے کچھ بھی نقصان نہ ہوگا پھر مزید غور کیا تو یہ بات پائی کہ جس شخص نے طہارت حاصل کی مگر اس نے ﷽ نہ پڑھی تو اس کو کچھ بھی نقصان نہ ہوا۔یہ امام ابو حنیفہ ،ابو یوسف اورمحمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہ کا مختار قول ہے۔

بن عباس يعاتب بن الزبير في البخل ويقول ← عبد الله بن المساور أو بن أبي المساور ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← بذلك أبو بكرة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 108

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 6 باب الوضوء للصلاة مرة مرة وثلاثا ثلاثا ) · حديث 109

112 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا الفريابي قال ثنا زائدة بن قدامة قال ثنا علقمة بن خالد أو خالد بن علقمة عن عبد خير عن علي رضي الله عنه أنه توضأ ثلاثا ثم قال هذا طهور رسول الله صلى الله عليه و سلم

عبدخیر حضرت علی کے متعلق نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے تین تین مرتبہ وضو کیا اور پھر فرمایا یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔

هذا طهور رسول الله صلى الله عليه و سلم ← علي أنه توضأ ثلاثا ثم ← عبد خير ← علقمة بن خالد أو خالد بن علقمة ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ← الْفِرْيَابِيُّ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 109

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 6 باب الوضوء للصلاة مرة مرة وثلاثا ثلاثا ) · حديث 110

113 - حدثنا حسين قال ثنا الفريابي قال ثنا إسرائيل قال ثنا أبو إسحاق عن أبي حية الوازعي عن علي رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

ابو حیہ وادعی نے حضرت علی مرتضی سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو اسی طرح تھا۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← عَلِيٍّ، ← أبي حية الوازعي ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← اِسْرَائِیْلُ ← الْفِرْيَابِيُّ، ← حُسَيْنٌ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 110

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 6 باب الوضوء للصلاة مرة مرة وثلاثا ثلاثا ) · حديث 111

114 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا علي بن الجعد قال أنا بن ثوبان عن عبدة بن أبي لبابة عن شقيق قال رأيت عليا وعثمان توضأ ثلاثا ثلاثا وقالا هكذا كان يتوضأ رسول الله صلى الله عليه و سلم

شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی و عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے تین مرتبہ اعضاء دھوکر وضو کیا اور دونوں نے فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو کرتے تھے ۔

رأيت عليا وعثمان توضأ ثلاثا ثلاثا ← شَقِيقٍ، ← عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ← بن ثَوْبَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 111

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 6 باب الوضوء للصلاة مرة مرة وثلاثا ثلاثا ) · حديث 112

115 - حدثنا أحمد بن يحيى الصوري قال ثنا الهيثم بن جميل قال ثنا بن ثوبان فذكر بإسناده مثله

ھیشم بن جمیل کہتے ہیں کہ ہمیں ابن ثوبان نے بیان کیا اور انہوں نے اپنی اسناد سے اس کی مثل ذکر کیا ۔

بن ثوبان فذكر بإسناده مثله ← الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، ← أحمد بن يحيى الصوري

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 112

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 6 باب الوضوء للصلاة مرة مرة وثلاثا ثلاثا ) · حديث 113

116 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عبيد الله بن عبد المجيد الحنفي قال ثنا إسحاق بن يحيي عن معاوية بن عبد الله عن عبد الله بن جعفر عن عثمان بن عفان أنه توضأ ثلاثا ثلاثا وقال رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم توضأ هكذا

عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے تین تین مرتبہ اعضا کو دھویا اور فرمایا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ۔

عثمان بن عفان أنه توضأ ثلاثا ثلاثا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ ← اسحاق بن يحيى ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الحنفي ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 113

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 6 باب الوضوء للصلاة مرة مرة وثلاثا ثلاثا ) · حديث 114

117 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو الوليد قال ثنا حماد بن سلمة عن عمرو بن دينار عن سبيع عن أبي أمامة أن النبي صلى الله عليه و سلم توضأ ثلاثا ثلاثا ففي هذه الآثار أن رسول الله صلى الله عليه و سلم توضأ ثلاثا ثلاثا وقد روي عنه أنه توضأ مرة مرة

حضرت ابو امامہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین مرتبہ وضو کیا ان آثار سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین مرتبہ وضو کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک مرتبہ وضو کیا ۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← سُبَيْعٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 114

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 6 باب الوضوء للصلاة مرة مرة وثلاثا ثلاثا ) · حديث 115

118 - حدثنا الربيع بن سليمان المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا بن لهيعة قال ثنا الضحاك بن شرحبيل عن زيد بن أسلم عن أبيه عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم توضأ مرة مرة

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایک مرتبہ وضو کرتے دیکھا۔

رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم توضأ مرة مرة ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← الضَّحَّاکِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ← بن لهيعة ← أسد ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 115

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 6 باب الوضوء للصلاة مرة مرة وثلاثا ثلاثا ) · حديث 116

119 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن سفيان عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن بن عباس قال ألا أنبئكم بوضوء رسول الله صلى الله عليه و سلم مرة مرة أو قال توضأ مرة مرة

عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کیا میں تمہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو نہ بتلا دوں ( انہوں نے کہا کیوں نہیں تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو) ایک ایک مرتبہ تھا یا اس طرح فرمایا آپ نے ایک ایک مرتبہ وضو کیا یعنی اعضائے وضو کو دھویا ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 116

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 6 باب الوضوء للصلاة مرة مرة وثلاثا ثلاثا ) · حديث 117

120 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا يحيى بن صالح الوحاظي قال ثنا عبيد الله بن عمرو عن بن أبي نجيح عن مجاهد عن عبد الله بن عمر قال توضأ رسول الله صلى الله عليه و سلم مرة مرة

مجاہد کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک مرتبہ وضو کیا ۔

توضأ رسول الله صلى الله عليه و سلم مرة مرة ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← بن أَبِي نَجِيحٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 117

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 6 باب الوضوء للصلاة مرة مرة وثلاثا ثلاثا ) · حديث 118

121 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا علي بن معبد قال ثنا عبيد الله عن الحسن بن عمارة عن بن أبي نجيح ثم ذكر بإسناده مثله

ابن ابی نجیح نے اپنی سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

بإسناده مثله ← بن أبي نجيح ثم ← الحسن بن عمارة ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 118

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 6 باب الوضوء للصلاة مرة مرة وثلاثا ثلاثا ) · حديث 119

122 - حدثنا محمد بن خزيمة وابن أبي داود قالا ثنا سعيد بن سليمان الواسطي قال ثنا عبد العزيز بن محمد عن عمرو بن أبي عمرو عن عبد الله بن عبيد الله بن أبي رافع عن أبيه عن جده قال رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم توضأ ثلاثا ثلاثا ورأيته غسل مرة مرة فثبت بما ذكرنا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه توضأ مرة مرة فثبت بذلك أن ما كان منه من وضوئه ثلاثا ثلاثا إنما هو لإصابة الفضل لا الفرض

ابو رافع منقول ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین تین مرتبہ وضو کرتے اور آپ کو ایک ایک مرتبہ اعضاء دھوتے دیکھا ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان مروی روایات سے یہ ثابت ہوا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک مرتبہ وضو کیا ۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو وضو تین تین مرتبہ ہے وہ فضیلت کے حصول کے لیے ہے فرض کی ادائیگی کے لیے نہیں ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← محمد بن خزيمة وابن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 119

chevron_left Previous
1…91011…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter