شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 5 باب تسمية على الوضوء ) · حديث 108
111 - حدثنا بذلك أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان عن عبد الملك بن أبي بشير عن عبد الله بن المساور أو بن أبي المساور قال سمعت بن عباس يعاتب بن الزبير في البخل ويقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ليس المؤمن الذي يبيت شبعان وجاره إلى جنبه جائع فلم يرد بذلك أنه ليس بمؤمن إيمانا خرج بتركه إياه إلى الكفر ولكنه أراد به أنه ليس في أعلى مراتب الإيمان وأشباه هذا كثيرة يطول الكتاب بذكرها فكذلك قوله لا وضوء لمن لم يسم لم يرد بذلك أنه ليس بمتوضيء وضوءا لم يخرج به من الحدث ولكنه أراد أنه ليس بمتوضيء وضوءا كاملا في أسباب الوضوء الذي يوجب الثواب فلما احتمل هذا الحديث من المعاني ما وصفنا ولم يكن هناك دلالة يقطع بها لأحد التأويلين على الآخر وجب أن يجعل معناه موافقا لمعاني حديث المهاجر حتى لا يتضادا فثبت بذلك أن الوضوء بلا تسمية يخرج به المتوضىء من الحدث إلى الطهارة وأما وجه ذلك من طريق النظر فإنا رأينا أشياء لا يدخل فيها إلا بكلام منها العقود التي يعقدها بعض الناس لبعض من البياعات والإجارات والمناكحات والخلع وما أشبه ذلك فكانت تلك الأشياء لا تجب إلا بأقوال وكانت الأقوال منها إيجاب لأنه يقول قد بعتك قد زوجتك قد خلعتك فتلك أقوال فيها ذكر العقود وأشياء تدخل فيها بأقوال وهي الصلاة والحج فتدخل في الصلاة بالتكبير وفي الحج بالتلبية فكان التكبير في الصلاة والتلبية في الحج ركنا من أركانها ثم رجعنا إلى التسمية في الوضوء هل تشبه شيئا من ذلك فرأيناها غير مذكور فيها إيجاب شيء كما كان في النكاح والبيوع فخرجت التسمية لذلك من حكم ما وضعنا ولم تكن التسمية أيضا ركنا من أركان الوضوء كما كان التكبير ركنا من أركان الصلاة وكما كانت التلبية ركنا من أركان الحج فخرج أيضا بذلك حكمها من حكم التكبير والتلبية فبطل بذلك قول من قال إنه لا بد منها في الوضوء كما لا بد من تلك الأشياء فيما يعمل فيه فإن قال قائل فإنا قد رأينا الذبيحة لا بد من التسمية عندها ومن ترك ذلك متعمدا لم تؤكل ذبيحته فالتسمية أيضا على الوضوء كذلك قيل له ما ثبت في حكم النظر أن من ترك التسمية على الذبيحة متعمدا أنها لا تؤكل لقد تنازع الناس في ذلك فقال بعضهم تؤكل وقال بعضهم لا تؤكل فأما من قال تؤكل فقد كفينا البيان لقوله وأما من قال لا تؤكل فإنه يقول إن تركها ناسيا تؤكل سواء عنده كان الذابح مسلما أو كافرا بعد أن يكون كتابيا فجعلت التسمية هاهنا في قول من أوجبها إنما هي لبيان الملة [ ص 29 ] فإذا سمى الذابح صارت ذبيحته من ذبائح الملة المأكولة ذبيحتها وإذا لم يسم جعلت من ذبائح الملل التي لا تؤكل ذبائحها والتسمية على الوضوء ليس للملة إنما هي مجعولة لذكر على سبب من أسباب الصلاة فرأينا من أسباب الصلاة الوضوء وستر العورة فكان من ستر عورته لابتسمية لم يضره ذلك فالنظر على ذلك أن يكون من تطهر أيضا لابتسمية لم يضره ذلك وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمهم الله تعالى
ابن ابی المساور یا عبداللہ بن المساور کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کوسنا کہ وہ ابن الزبیر کو بخل کے متعلق عتاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کامل مومن نہیں جو خؤد پیٹ بھر کر رات گزارے جبکہ اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا ہو۔ پاس اس سے یہ مراد نہیں کہ وہ اس کو چھوڑ دینے کی وجہ سے کفر کی طرف نکل گیا ہے بلکہ اس کی مراد یہ ہے کہ وہ ایمان کے اعلیٰ درجات میں نہیں ہے اسکی امثلہ بہت ہیں جن کا تذکرہ کریں تو کتاب طویل ہو جائے گی ۔ پس اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد :( لا وضو لمن لم یسم ) کہ جس نے ﷽ نہ پڑھی اس کا وضو کامل نہیں ۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ وہ ایسا وضؤ کرنے والا نہیں جس سے وہ حدث سے نہ نکلا ہو بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ ایسا کامل وضو کرنے والا نہیں جو اسباب وضو میں ثواب کو لازم کرتا ہے ۔ پس جب یہ روویت ان معانی کا احتمال رکھتی ہے جو ہم نے بیان یے ہیں تو پھر کسی ایک تاویل کے لیے قطعی دلالت نہ ملی تو اب لازم ہو گیا کہ اس حدیث کے ایسے معانی لیے جائیں جو حدیث مہاجر کے موافق ہوں تاکہ دونوں میں تضاد نہ رہے ۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ﷽ کے بغیر کیا جانے والا وضو ایسا ہے جس سے وضو کرنے والا حدث سے طہارت کی طرف نکل جاتا ہے ۔ باقی غور فکر کے لحاظ سے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم کئی عقد ایسے جانتے ہیں جن میں آدمی اس وقت تک داخل نہیں ہوتا جب تک ایسا کلام نہ کرے جس کو لوگ ایک دوسرے سے بیع و اجارہ ، نکاح ، خلع وغیرہ میں استعمال کرتے ہیں یہ اشیاء اس وقت لازم ہوتی ہیں جب گفتگو کی جائے کیونکہ کہتے ہیں کہ میں نے تجھے یہ چیز فروخت کی میں نے تجھ سے نکاح کیا ، میں نے تجھ سے خلع کیا یہ وہ اقوال ہیں جن میں عقود کا تذکرہ ہے اور ایسی اشیاء ہیں جن میں کلام سے داخل ہوتا ہے اور وہ نماز و حج ہیں نماز میں تکبیر اور حج میں تلبیہ کے ذریعہ داخل ہو تا ہے ۔بلکہ تکبیر نماز میں اور حج میں تلبیہ ارکان ہیں ۔ ہم دوبارہ وضو میں تسمیہ کے مسئلہ کی طرف لوٹے ہیں کہ یہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ کسی گونہ مشابہ ہے ۔پس ہم نے دیکھا کہ اس میں کسی شئی کا واجب کرنا تو مذکور نہیں جیسا کہ نکاح اور بیوع وغیرہ میں تھا ۔ پس ﷽ جن کو ہم نے بیان کیا ان کے حکم سے نکل گئی اور غور سے معلوم ہوا کہ ﷽ وضو کے ارکان میں بھی نہیں جیسا کہ تکبیر نماز میں اور تلبیہ حج میں رکن ہے ۔ پس تسمیہ کا حکم تکبیر و تلبیہ کے حکم سےبھی خارج ہو گیا ۔ پاس اس سے اس شخص کا قول غلط ثابت ہو گیا جو اس بات کا مدعی ہے کہ یہ وضو میں اسی طرح لازم ہے جس طرح ان متعلقہ اشیاء میں وہ چیز یں لازم ہیں اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ذبیحہ میں تو ﷽ لازم ہے اور جو شخص بوقت ذبح اسے جان بوجھ کر ترک کرے دے تو وہ اسکا ذبیحہ نہ کھایا جائے گا پس وضؤ میں بھی تسمیہ کا یہی حکم ہے ۔ اسکے جواب میں ہم عرض کریں گے کہ نظر و فکر سے یہ بات ثابت ہے کہ جس شخص نے جان بوجھ کر تسمیہ کو چھوڑ دیا اس کے نہ کھانے کے متعلق لوگوں کا باہمی اختلاف ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ اسے کھایا جائے جبکہ دوسرے کہتے ہیں کہ اسے نہ کھایا جائے جو لوگ کہتے ہیں کہ کھایا جائے تو ان کے قول کے لیے ہمارا بیان کافی ہے اور و شخص نہ کھانے کا قائل ہے وہ یہ تفصیل کرتا ہے کہ اگر بھول کر چھوڑ دیا جائے تو کھا لیا جائے اور اس کے نزدیک یہ بات برابر ہے کہ ذبح کر نے والا کافر ہو یا مسلمان مگر اس کافر کے لیے کتابی ہونا ضروری ہے ۔پس ﷽ کو یہاں اس شخص کے قول کے مطابق جو اسے ذبح کے وقت واجب قرار دیتا ہے تو ذبیحہ بیان قلت کے لیے ہے جب ذبح کرنے والاذبح کے وقت تسمیہ ادا کرے تو یہ ان لوگوں کے ذبیحہ میں شامل ہو گا جن کا ذبیحہ کھایا جاتا ہے اور جب ﷽ نہ پڑھی گئی تو یہ ذبیحہ ان لوگوں کے ذبیحہ سے ہوگا جن کا ذبیحہ کھایا نہیں جاتا اور وضو میں ﷽ کسی ملت کے اظہار کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کو ایسا ذکر قرار دیا جائے گا جو اسباب نماز میں سے ایک اسباب پر اختیار کیا جائے ۔ چنانچہ ہم نے نماز کے اسباب میں سے وضو اور ستر عورت کو پایا ۔ پس جس شخص نے اپنے ستر کو بسم اللہ پڑھے بغیر ڈھانپ کیا تو اسے ترک تسمیہ سے کچھ بھی نقصان نہ ہوگا پھر مزید غور کیا تو یہ بات پائی کہ جس شخص نے طہارت حاصل کی مگر اس نے ﷽ نہ پڑھی تو اس کو کچھ بھی نقصان نہ ہوا۔یہ امام ابو حنیفہ ،ابو یوسف اورمحمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہ کا مختار قول ہے۔
بن عباس يعاتب بن الزبير في البخل ويقول ← عبد الله بن المساور أو بن أبي المساور ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← بذلك أبو بكرة
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 108
