Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 4 باب الرجل يمر بالحائط أله أن يأكل منه أم لا ) · حديث 6496

6151 - حدثنا بكار قال ثنا أبو داود قال ثنا شعبة فذكر بإسناده مثله

ابو داؤد نے شعبہ سے روایت کی پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح ذکر کی ۔

شعبة فذكر بإسناده مثله ← أَبُو دَاوُدَ، ← بَكَّارٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6496

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 4 باب الرجل يمر بالحائط أله أن يأكل منه أم لا ) · حديث 6497

6152 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا الخصيب قال ثنا وهيب عن منصور فذكر بإسناده مثله

حصیب نے وہیب سے انہوں نے منصور سے پھر اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

منصور فذكر بإسناده مثله ← وُهَيْبٌ، ← الخصيب ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6497

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 4 باب الرجل يمر بالحائط أله أن يأكل منه أم لا ) · حديث 6498

6153 - حدثنا فهد قال ثنا عبد الله بن صالح قال ثنا معاوية بن صالح أن أبا طلحة حدثه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال أيما ضيف نزل بقوم فأصبح الضيف محروما فله أن يأخذ بقدر قراه ولا حرج عليه

ابو طلحہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے جس کسی کے پاس کوئی مہمان جائے اور صبح تک مہمان محروم رہے تو مہمانی کی مقدار چیز لے لینے میں کوئی حرج نہیں ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحِ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6498

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 4 باب الرجل يمر بالحائط أله أن يأكل منه أم لا ) · حديث 6499

6154 - حدثنا أحمد بن عبد الرحمن قال ثنا عمي قال ثنا معاوية بن صالح عن نعيم بن زياد عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

نعیم بن زیاد نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← نُعيمِ بنِ زيادٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6499

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 4 باب الرجل يمر بالحائط أله أن يأكل منه أم لا ) · حديث 6500

6155 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو مسهر قال ثنا يحيى بن حمزة عن الزبيدي عن مروان بن روية أنه حدثه عن عبد الرحمن بن أبي عوف الجرشي عن المقدام بن معدي كرب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أيما رجل ضاف بقوم فلم يقروه كان له أن يعقبهم بمثل قراه

عبدالرحمن بن ابی عوف جرشی نے حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی کسی کے ہاں مہمان بنا اور انہوں نے اس کی مہمانی نہیں کی تو اس کو حق حاصل ہے کہ وہ مہمانی کی مقدار ان سے اپنا حق وصول کرے۔

الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ الْجُرَشِيِّ ← مروان بن روية أنه ← الزُّبَيْدِيِّ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← اَبُوْ مُسْھِرٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6500

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 4 باب الرجل يمر بالحائط أله أن يأكل منه أم لا ) · حديث 6501

6156 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا شعيب بن الليث قال ثنا الليث عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي الخير عن عقبة بن عامر قال قلنا يا رسول الله إنك تبعثنا فنمر بقوم قال إن نزلتم بقوم فأمروا لكم بما ينبغي للضيف فاقبلوا فإن لم يفعلوا فخذوا منهم حق الضيف الذي ينبغي فأوجب صلى الله عليه و سلم الضيافة في هذه الآثار وجعلها دينا وجعل للذي وجبت له أخذها كما يأخذ الدين ثم نسخ ذلك فمما روى في نسخه ما

ابو الخیر نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ہم نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ ہمیں بھیجتے ہیں اور ہمارا کسی قوم کے پاس سے گزر ہوتا ہے ، آپ نے فرمایا اگر تم کسی قوم کے پاس اترو ، اگر وہ اس بات کا حکم دے دیں جو مہمان کے لئے مناسب ہے تو اسے قبول کر لو اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان سے اپنا مناسب حق وصول کرو ۔ ان آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ ضیافت واجب ہے اور اس کو قرض کی طرح قرار دیا اور جس کے لئے واجب ہوئی ہے وہ اسے قرض کی طرح لے سکتا ہے پھر یہ حکم منسوخ کر دیا گیا ( روایات نسخ یہ ہیں۔ )

قُلْنَا ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6501

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 4 باب الرجل يمر بالحائط أله أن يأكل منه أم لا ) · حديث 6502

6157 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا سليمان بن المغيرة قال ثنا ثابت عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال ثنا المقداد بن الأسود قال جئت أنا وصاحب لي قد كادت أن تذهب أسماعنا وأبصارنا من الجوع فجعلنا نتعرض للناس فلم يضفنا أحد فأتينا النبي صلى الله عليه و سلم فقلنا يا رسول الله أصابنا جوع شديد فتعرضنا للناس فلم يضفنا أحد فأتيناك فذهب بنا إلى منزله وعنده أربعة أعنز فقال يا مقداد أحلبهن وجزء اللبن لكل أثنين جزءا وذكر حديث طويلا

عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ۔ میں اور میرا ایک دوست آئے قریب تھا کہ بھوک کی وجہ سے ہماری شنوائی اور آنکھیں جاتی رہیں ہم نے اپنے آپ کو لوگوں پر پیش کیا مگر ہماری کسی نے مہمانی نہ کی ۔ پھر ہم جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہمیں سخت بھوک نے آ لیا۔ ہم نے اپنے اپ کو لوگوں پر پیش کیا مگر کسی نے ہماری مہمانی نہ کی پس ہم آپ کی خدمت میں آئے ہیں آپ ہمیں اپنے مکان پر لے گئے اس وقت اپ کے پاس چار بکریاں تھیں آپ نے فرمایا اے مقدار ان کو دوہ اور ہر دودھ کو دو حصوں میں بانٹنے جاؤ اور طویل روایت بیان کی ۔

جِئْت ← الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6502

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 4 باب الرجل يمر بالحائط أله أن يأكل منه أم لا ) · حديث 6503

6158 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن ثابت عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن المقداد بن عمرو قال قدمت المدينة أنا وصاحب لي ثم ذكر مثله أفلا ترى أن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يضيفوهم وقد بلغت بهم الحاجة إلى ما ذكر في هذا الحديث ثم لم يعنفهم رسول الله صلى الله عليه و سلم على ذلك فدل ما ذكرنا على نسخ ما كان أوجب على الناس من الضيافة وقد ذكرنا فيما تقدم من كتابنا هذا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مال المسلم على المسلم كحرمة دمه وقد

عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں اور میرا ایک ساتھی مدینہ منورہ آئے پھر اسی طرح روایت نقل کی ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اصحاب رسول اللہ ﷺنے ان کی مہمانی نہیں کی ۔ حالانکہ ضرورت نے ان کو انتہاء تک پہنچا دیا تھا جیسا کہ روایت میں مذکور ہے ۔ پھر جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی ان پر سختی نہ کی ۔ پس جو ہم نے بیان کیا ہے اس سے ضیافت کا منسوخ ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ ہم پہلے یہ روایت ذکر کر آئے کہ " مال المسلم علی المسلم حرام "۔

وصاحب لي ثم ← قدمت المدينة ← الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6503

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 4 باب الرجل يمر بالحائط أله أن يأكل منه أم لا ) · حديث 6504

6159 - حدثنا ربيع قال ثنا أسد قال بن أبي ذئب عن عبد الله بن السائب عن أبيه عن جده أنه سمع النبي صلى الله عليه و سلم يقول لا يأخذ أحدكم متاع صاحبه لاعبا ولا جادا وإذا أخذ أحدكم عصا أخيه فليردها إليه وقد عمل أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم في الضيافة بما

عبداللہ بن سائب نے اپنے والد اپنے دادا سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا تم میں سے کوئی شخص دوسرے کا سامان بطور مذاق اور نہ ہی سنجیدگی سے لے ۔ جب تم میں سے کوئی دوسرے ساتھی کی لاٹھی لے تو پھر وہ اس کو واپس کر دے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← جَدِّهِ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← أسد ← رَبِيعٌ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6504

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 4 باب الرجل يمر بالحائط أله أن يأكل منه أم لا ) · حديث 6505

6160 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا أبان بن يزيد العطار قال ثنا يحيى بن أبي كثير قال ثنا عبد الرحمن مولى سعد بن أبي وقاص قال كنت مع سعد بن أبي وقاص في سفر فآوانا الليل إلى قرية دهقان وإذا الإبل عليها أحمالها فقال لي سعد إن كنت تريد أن تكون مسلما حقا فلا تأكل منها شيئا فبتنا جائعين فهذا سعد يقول إن سرك أن تكون مسلما حقا فلا تأكل منها شيئا فلا يكون ذلك إلا وقد ثبت عنده حقيقة علمه به إذ كان عنده من أمور الإسلام ولم يأخذ أهل القرية بحق الضيافة فذلك دليل أنه لم تكن حينئذ الضيافة واجبة والله سبحانه وتعالى أعلم

سعد بن ابی وقاص کے مولیٰ عبدالرحمن بیا ن کرتے ہیں کہ میں سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر میں تھا ۔ ہم نے رات کو دہقان بستی میں قیام کیا۔ اچانک ہم نے اونٹ دیکھے کہ جن پر ان کے بوجھ لا دے تھے ۔ تو مجھے حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تو سچا مسلمان ہے تو ان چیزوں میں سے کوئی چیز مت کھانا چنانچہ ہم نے بھوک کی حالت میں رات گزاری ۔ یہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ جو اپنے غلام کو فرما رہے ہیں کہ اگر تو سچا مسلمان ہے تو ان کی کوئی چیز بلا اجازت مت کھانا۔ یہ بات یقینی ہے کہ ان کو اپنے امور اسلام پر وسیع علم کی وجہ سے حق ضیافت کے متعلق معلوم تھا کہ وہ لازم نہیں ۔ زبردستی حاصل نہیں کی جا سکتی ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ واجب نہ رہی تھی ۔ واللہ اعلم ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ نے فریق ثانی کے مسلک کو ترجیح دی ہے کہ ضیافت کا وجوب منسوخ ہو چکا ۔ اب کھلائے تو تبرع اور نیکی ہے ۔

عبد الرحمن مولى سعد بن أبي وقاص ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6505

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6506

6161 - حدثنا فهد قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث بن سعد عن بن أبي مليكة عن المسور بن مخرمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قدمت عليه أقبية فبلغ ذلك أبي مخرمة فقال يا بني إنه قد بلغني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قدمت عليه أقبية فهو يقسمها فاذهب بنا إليه قال فذهبنا فوجدنا رسول الله صلى الله عليه و سلم في منزله فقال لي أبي يا بني أدع لي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال المسور فأعظمت ذلك وقلت أدعو لك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا بني إنه ليس بجبار فدعوت رسول الله صلى الله عليه و سلم فخرج وعليه قباء من ديباج مزر بذهب فقال يا مخرمة هذا خبأته لك فأعطاه إياه قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا فقالوا لا بأس بلبس الحرير للرجال والنساء واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فكرهوا لبس الحرير للرجال واحتجوا في ذلك بالآثار المتواترة المروية في النهي عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم فمنها ما

ابن ابی ملیکہ نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ہاں جبے آئے یہ بات ابو مخرمہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا اے بیٹے مجھے یہ معلوم ہو اکہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ہاں کچھ حیے آئے ہیں اور آپ ان کو تقسیم فرما رہے ہیں تو تم ہمیں وہاں لے جاؤ ۔ مسور کہتے ہیں کہ ہم وہاں گئے ہم نے جناب رسول اللہ ﷺ کو اپنے مکان میں پایا ۔ میرے والد نے کہا میرے بیٹے جناب رسول اللہ ﷺ کو میرے لئے بلاؤ۔ مسور کہتے ہیں میں نے اس بات کو بڑا سمجھا اور میں نے کہا کیا میں تمہارے لئے جناب رسول اللہ ﷺ کو بلاؤں ؟ انہوں نے کہا وہ سخت خو نہیں ہیں ۔ پس میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو آواز دی تو آپ باہر تشریف لائے اور ایک ریشمی جبہ پہن رکھا تھا اس میں سونے کا کڑھاؤ تھا اور فرمایا اے مخرمہ یہ جبہ میں نے تمہارے لئے چھپا کر رکھا تھا۔ وہ جبہ آپ نے مخرمہ کو دیا۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ریشمی لباس میں کوئی حرج نہیں خواہ مرد پہنیں یا عورتیں اور انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے ۔ دوسروں نے کہا انہوں نے ریشم کا پہننا مردوں کے لئے مکروہ قرار دیا اور آثار متواترہ سے جو نبی اکرم ﷺ سے وارد ہوئے ہیں استدلال کیا۔

الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← بن أبي مليكة ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6506

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6507

6162 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا معاذ بن هشام قال ثنا أبي عن قتادة عن عامر الشعبي عن سويد بن غفلة أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه خطب بالجابية فقال نهى نبي الله صلى الله عليه و سلم عن لبس الحرير إلا موضع أصبعين أو ثلاث أو أربع

سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جابیہ میں خطبہ دیا اور فرمایا کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے ریشم پہننے سے منع فرمایا مگر دو انگلیوں یا تین انگلیوں یا چار انگلیوں کی مقدار ۔

نهى نبي الله صلى الله عليه و سلم ← سويد بن غفلة أن عمر بن الخطاب خطب بالجابية ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6507

chevron_left Previous
1…789…59
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter