شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 3 باب أكل الثوم والبصل والكراث ) · حديث 6484
6139 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث عن بكر بن سوادة أن سفيان بن عبد الله حدثه عن أبي أيوب الأنصاري عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بنحوه إلا أنه قال بصل أو كراث وزاد في آخره وليس بمحرم فقد أباح رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذه الآثار للناس أكل البصل والكراث وأن ذلك غير محرم فإن قال قائل هذا الذي ذكرت إنما هو على ما كان منهما قد طبخ فأما ما كان غير مطبوخ فهو داخل في النهي الذي في الآثار الأول قيل له قد قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما ذكرنا عنه في هذه الآثار إنما كرهه لريحه وقد أباح أصحابه أكله فما كانت ريحه فيه قائمة بعد الطبخ كان على حكمه قبل الطبخ إذ كان إنما كره أكله فيهما جميعا من أجل ريحه فدل إباحته أكله لهم بعد الطبخ وريحه موجودة على أن أكلهم إياه قبل الطبخ مباح لهم أيضا وقد
سفیان بن عبداللہ نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ البتہ انہوں نے بصل یا کراث کا نام بھی ذکر کیا اور اخر میں " لیس بمحرم " کے لفظ بھی فرمائے ہیں ۔ ان آثار میں جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو لوگوں کے لئے مباح قرار دیا اور یہ حرام نہیں ہے ۔ ان روایات میں جو اباحت کے لئے پیش کی گئیں ان میں تو پکے ہوئے پیاز وغیرہ کا ذکر ہے جو پکا ہوا نہ ہو وہ تو آثار اول کی نہی میں اسی طرح شامل ہے ۔ ان آثار میں تو یہ مذکور ہے کہ اس کی کراہت بدبو کی وجہ سے ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے لئے اس کا کھانا مباح تھا جس میں بو ابھی پکانے کے باوجود باقی ہو وہ کچے کے حکم میں ہے ۔ اس لئے کہ اس کا دونوں صورتوں میں مکروہ ہونا بو کی وجہ سے ہے ۔ اس سے دلالت مل گئی کہ اس کے پکانے کے بعد اس کے کھانے کی اباحت ہے جبکہ اس میں مہک باقی ہے تو اس کا پکانے سے پہلے کھانا بھی ان کے لئے مباح ہے ۔
اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← بكر بن سوادة أن سفيان بن عبد الله ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6484
