Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 3 باب أكل الثوم والبصل والكراث ) · حديث 6484

6139 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث عن بكر بن سوادة أن سفيان بن عبد الله حدثه عن أبي أيوب الأنصاري عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بنحوه إلا أنه قال بصل أو كراث وزاد في آخره وليس بمحرم فقد أباح رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذه الآثار للناس أكل البصل والكراث وأن ذلك غير محرم فإن قال قائل هذا الذي ذكرت إنما هو على ما كان منهما قد طبخ فأما ما كان غير مطبوخ فهو داخل في النهي الذي في الآثار الأول قيل له قد قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما ذكرنا عنه في هذه الآثار إنما كرهه لريحه وقد أباح أصحابه أكله فما كانت ريحه فيه قائمة بعد الطبخ كان على حكمه قبل الطبخ إذ كان إنما كره أكله فيهما جميعا من أجل ريحه فدل إباحته أكله لهم بعد الطبخ وريحه موجودة على أن أكلهم إياه قبل الطبخ مباح لهم أيضا وقد

سفیان بن عبداللہ نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ البتہ انہوں نے بصل یا کراث کا نام بھی ذکر کیا اور اخر میں " لیس بمحرم " کے لفظ بھی فرمائے ہیں ۔ ان آثار میں جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو لوگوں کے لئے مباح قرار دیا اور یہ حرام نہیں ہے ۔ ان روایات میں جو اباحت کے لئے پیش کی گئیں ان میں تو پکے ہوئے پیاز وغیرہ کا ذکر ہے جو پکا ہوا نہ ہو وہ تو آثار اول کی نہی میں اسی طرح شامل ہے ۔ ان آثار میں تو یہ مذکور ہے کہ اس کی کراہت بدبو کی وجہ سے ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے لئے اس کا کھانا مباح تھا جس میں بو ابھی پکانے کے باوجود باقی ہو وہ کچے کے حکم میں ہے ۔ اس لئے کہ اس کا دونوں صورتوں میں مکروہ ہونا بو کی وجہ سے ہے ۔ اس سے دلالت مل گئی کہ اس کے پکانے کے بعد اس کے کھانے کی اباحت ہے جبکہ اس میں مہک باقی ہے تو اس کا پکانے سے پہلے کھانا بھی ان کے لئے مباح ہے ۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← بكر بن سوادة أن سفيان بن عبد الله ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6484

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 3 باب أكل الثوم والبصل والكراث ) · حديث 6485

6140 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب قال حدثني عطاء بن أبي رباح أن جابر بن عبد الله قال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من أكل ثوما أو بصلا فليعتزلنا أو يعتزل مسجدنا فيقعد في بيته وأنه أتى بقدر أو ببدر فيه خضراوات من بقول فوجد لها ريحا فسأل عنها فأخبر بما فيها من البقول فقال قربوها إلى بعض أصحابه كان معه فلما رآه كره أكله قال كل فإني أناجي من لا تناجي

عطاء بن ابی رباح نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے لہسن یا پیاز استعمال کیا ۔ وہ ہم سے الگ رہے یا فرمایا وہ ہماری مسجد سے الگ رہے وہ اپنے گھر میں بیٹھے آپ کے پاس ایک تھال یا ہنڈیا لائی گئی جس میں سبزیات تھیں آپ نے اس میں بو پائی آپ نے ان سبزیات کے متعلق پوچھا جو اس میں موجود تھیں ۔ تو راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے آپ کے ساتھ والوں کے سامنے رکھ دیا جب انہوں نے دیکھا کہ آپ نے ان کو استعمال نہیں کیا تو انہوں نے بھی کھانا پسند نہ کیا تو فرمایا ۔ تم کھاؤ مجھے اس سے بات کرنا ہوتی ہے جس سے تمہیں سرگوشی کی ضرورت نہیں ۔ یعنی ( فرشتہ )

عطاء بن أبي رباح أن جابر بن عبد الله ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6485

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 3 باب أكل الثوم والبصل والكراث ) · حديث 6486

6141 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال ثنا بن جريج عن أبي الزبير عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من أكل من الكراث فلا يغشنا في مساجدنا حتى يذهب ريحها فإن الملائكة تتأذى مما يتأذى منه الإنسان

ابو الزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو پیاز کھائے وہ مساجد میں ہمارے پاس نہ آئے جب تک کہ اس کی بو نہ دور ہو۔ فرشتوں کو بھی ان چیزوں سے ایذا ہوتی ہے جن سے انسانوں کو پہنچتی ہے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن جُرَيْجٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6486

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 3 باب أكل الثوم والبصل والكراث ) · حديث 6487

6142 - حدثنا عبد العزيز بن معاوية العتابي قال ثنا عبد الله بن صالح ح وحدثنا حسين بن نصر قال ثنا سباب بابة بن سوار قال ثنا إسرائيل عن مسلم الأعور عن حبة عن علي قال أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن نأكل الثوم وقال لولا أن الملك ينزل علي لأكلته فقد دل ما ذكرنا على إباحة أكلها مطبوخا كان أو غير مطبوخ لمن قعد في بيته وكراهة حضور المسجد وريحه موجود لئلا يؤذي بذلك من يحضره من الملائكة وبني آدم فبهذا نأخذ وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

حبہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ تم لہسن استعمال کرو اور فرمایا اگر فرشتہ مجھ پر نازل نہ ہوتا تو میں اسے ضرور کھاتا۔ ان روایات سے کھانے کی اباحت ثابت ہو گئی خواہ پکا یا کچا ہو مگر اسے جس نے گھر میں بیٹھنا ہو تاکہ مسجد کی حاضری سے دوسروں ک اس کی بو سے تکلیف نہ ہو۔ وہاں فرشتے اور انسان دونوں موجود ہوتے ہیں اسی کو ہم اختیار کرتے ہیں یہی ہمارے امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔

أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن نأكل الثوم ← عَلِيٍّ، ← حبة ← مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ، ← اِسْرَائِیْلُ ← سباب بابة بن سوار ← حسين بن نصر ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْعَتَّابِيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6487

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 4 باب الرجل يمر بالحائط أله أن يأكل منه أم لا ) · حديث 6488

6143 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا علي بن عاصم قال ثنا الجريري عن أبي نضرة عن أبي سعيد الخدري قال أحسبه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال إذا أتى أحدكم علي حائط فليناد صاحبه ثلاث مرات فإن أجابه وإلا فليأكل من غير أن يفسد وإذا أتى على غنم فليناد صاحبه ثلاث مرات فإن أجابه وإلا فليشرب من غير أن يفسد قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا فجعلوا لمن مر بالحائط أن ينادي صاحبه ثلاثا فإن أجابه وإلا فأكل وكذلك في الغنم وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا ينبغي أن يأكل من غير ضرورة فإن كانت ضرورة فالأكل له من ذلك والشرب له مباح قالوا وقد روى عن أبي سعيد الخدري في غير هذا الحديث ما يدل على أن الإباحة المذكورة في هذا الحديث هي على الضرورة فذكروا ما

ابو نضرہ نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ۔ ابو نضرہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ وہ جناب نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا گزر باغ کے پاس سے ہو تو اس کے مالک کو تین مرتبہ آواز دے اگر وہ جواب دے تو مناسب ہے ورنہ خرابی پیدا کرنے کے بغیر پی لے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : بعض لوگ اس طرف گئے ہیں انہوں نے اس روایت کو اس آدمی سے متعلق قرار دیا جس کا گزر کسی باغ سے ہو تو وہ اسے تین مرتبہ آواز دے پھر اگر وہ جواب دے تو ٹھیک ورنہ اس سے پھل استعمال کرے اور بکریوں میں بھی اسی طرح۔ دوسروں نے کہا بلا ضرورت استعمال کرنا جائز نہیں اگر ضرورت پیش آ جائے تو اسے کھانا اور پینا دونوں مباح ہیں ۔ اس روایت کے علاوہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت دلالت کرتی ہے کہ اس روایت میں اباحت مذکورہ کا تعلق ضرورت سے ہے ۔

أَحْسِبُهُ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6488

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 4 باب الرجل يمر بالحائط أله أن يأكل منه أم لا ) · حديث 6489

6144 - حدثنا فهد قال ثنا مخول بن إبراهيم قال ثنا إسرائيل عن عبد الله بن عصمة قال سمعت أبا سعيد الخدري يقول إذا أرمل القوم فصبحوا الإبل فلينادوا الراعي ثلاثا فإن لم يجدوا الراعي ووجدوا الإبل فليتصبحوا لبن الراوية إن كان في الإبل راوية ولا حق لهم في بقيتها فإن جاء الراعي فليمسكه رجلان ولا يقاتلوه ويشربوا فإن كان معهم دراهم فهو حرام عليهم إلا بإذن أهلها ففي هذا الحديث دليل على أن ما أبيح من ذلك في هذا الحديث الأول إنما هو على الضرورة وقد جاء عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في غير هذا الحديث ما يدل على هذا المعنى أيضا

عبداللہ بن عصمہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ جس وقت لوگوں کے پاس زاد راہ ختم ہو جائے اور ان کا گزر اونٹوں والوں کے پاس سے ہو تو انہیں چاہئے کہ چرواہے کو تین مرتبہ آواز دیں اگر چرواہا نہ ملے اور اونٹ مل جائے تو پانی لینے والی اونٹنی کا دودھ دوھ لیں اگر اونٹوں میں پانی لانے والی اونٹنی ہو بقیہ اونٹوں کا ان پر کوئی حق نہیں اگر اس دوران میں چرواہا آ جائے تو اس کو دو آدمی روک لیں اور اس سے لڑائی نہ کریں اور دودھ پی لیں اگر ان کے پاس درہم موجود ہوں تو مالکوں کی اجازت کے بغیر وہ دودھ ان پر حرام ہے ۔ اس روایت میں دلیل ہے کہ حدیث اول میں جو چیز ان کے لئے مباح کی گئی وہ ضرورت کی بنیاد پر ہے اور یہی معنی جناب رسول اللہ ﷺ سے دیگر احادیث میں مروی ہے روایت یہ ہے ۔

إذا أرمل القوم فصبحوا الإبل فلينادوا الراعي ثلاثا فإن لم يجدوا الراعي ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ، ← اِسْرَائِیْلُ ← مِخْوَلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6489

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 4 باب الرجل يمر بالحائط أله أن يأكل منه أم لا ) · حديث 6490

6145 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا إسحاق بن بكر بن مضر قال ثنا أبي عن يزيد بن الهاد عن مالك بن أنس عن نافع عن بن عمر أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لا يحتلبن أحدكم ماشية أخيه بغير إذنه أيحب أحدكم أن يؤتى معا مشربته فيكسر خزانته فيحمل طعامه فإنما تخزن لهم ضروع مواشيهم أطعمتهم فلا يحتلبن أحدكم ماشية أمرئ إلا بإذنه

یزید بن ہاد نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ تم میں کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کے چوپایوں کو بلا اجازت نہ دوہے کیا تم میں کوئی پسند کرتا ہے کہ وہ اس کے پینے کے گھاٹ پر آئے اور اس کی الماری کو توڑے اور اس کا غلہ اٹھا کر لے جائے ان کے چوپاؤں کے تھن ان کے لئے خزانہ ہیں جو وہ کھاتے ہیں تم میں سے کوئی بھی کسی آدمی کے چو پاؤں کا دودھ بلا اجازت ہر گز نہ دوہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← بن عمر أنه ← نَافِعٍ ← مالک بن أنس ← یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ ← أَبِي ← إسحاق بن بكر بن مضر ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6490

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 4 باب الرجل يمر بالحائط أله أن يأكل منه أم لا ) · حديث 6491

6146 - حدثنا بكار قال ثنا موسى بن إسماعيل قال ثنا الثوري عن إسماعيل بن أمية عن نافع عن بن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← الثَّوْرِيُّ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← بَكَّارٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6491

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 4 باب الرجل يمر بالحائط أله أن يأكل منه أم لا ) · حديث 6492

6147 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا محمد بن الصباح قال ثنا شريك بن عبيد الله عن عبد الله بن عصيم قال سمعت أبا سعيد الخدري رفعه قال لا يحل لأحد نخل صوار ناقة إلا بإذن أهلها فإنه خاتمهم عليها

عبداللہ بن عصم کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید رضی اللہ عنہ کو مرفوع روایت بیان کرتے سنا کسی شخص کے لئے حلال نہیں کہ وہ انٹنیوں کے غلے سے ان کے مالکوں کی اجازت کے بغیر کوئی چیز لیں ان کی ان پر وہی مہر ہے ۔

لا يحل لأحد نخل صوار ناقة إلا بإذن أهلها فإنه خاتمهم عليها ← أبا سعيد الخدري رفعه ← عبد الله بن عصيم ← شريك بن عبيد الله ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6492

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 4 باب الرجل يمر بالحائط أله أن يأكل منه أم لا ) · حديث 6493

6148 - حدثنا بن مرزوق قال حدثنا أبو عامر العقدي قال ثنا سليمان بن بلال عن سهيل عن عبد الرحمن بن سعيد عن أبي حميد الساعدي أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا يحل لامرئ أن يأخذ عصا أخيه بغير طيب نفس منه قال وذلك لشدة ما حرم الله على المسلمين من مال المسلم

حضرت عبدالرحمن بن سعید نے حضرت ابو حمید ساعدی سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ کسی آدمی کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کی لاٹھی کو اس کی اجازت کے بغیر لے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا مال مسلمانوں پر اللہ نے بہت سخت طور پر حرام کیا ہے ۔

أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← عبد الرحمن بن سعيد ← سُهَيْلٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6493

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 4 باب الرجل يمر بالحائط أله أن يأكل منه أم لا ) · حديث 6494

6149 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا إصبغ بن الفرج قال ثنا حاتم بن إسماعيل قال ثنا عبد الملك بن الحسن عن عبد الرحمن بن أبي سعيد عن عمارة بن حارثة عن عمرو يثربي قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لا يحل لامرئ من مال أخيه شيء إلا بطيب نفس منه قال قلت يا رسول الله إن لقيت غنم بن عمي آخذ منها شيئا فقال إن لقيتها يحمل شفره وزنا والجنب الخميس كذا في النسخ المنقول عنها فلا تهجها فهذه الآثار التي ذكرنا تمنع ما توهم من ذهب في تأويل الحديث الأول إلى ما ذكرناه ولو ثبت ما ذهب إليه من ذلك لاحتمل أن يكون ذلك الحديث كان في حال وجوب الضيافة حين أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بها وأوجبها للمسافرين على من حلوا به فإنه

عمارہ بن حارثہ نے عمرو یثربی سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کی لاٹھی اس کی خوش طبعی کے بغیر لے ، میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اگر میں اپنے چچا زاد بھائی کی بکریاں پاؤں کیا س میں سے کوئی چیز لے سکتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو ان بکریوں کو اس حال میں پالے کہ وہ چھری اور چقماق اٹھائے ہوئے ہو اور بے آب و گیاہ زمین میں ہو تب بھی اس کو پریشان نہ کر۔ پہلی حدیث کی جو تاویل فریق اول نے کی اس سے جو وہم پیدا ہوتا تھا یہ تمام آثار اس کی تردید کرتے ہیں اگر بالفرض پہلی روایت کی وہ تاویل مان بھی لی جائے تب بھی یہ احتمال ہے کہ اس روایت کا تعلق اس موقع سے ہے جب ضیافت لازم ہو جاتی ہے جناب رسول اللہ ﷺ نے مسافرین کے لئے جہاں وہ اتریں اس کو لازم قرار دیا اس روایت کا تعلق اس موقع سے ہے ( جیسا کہ ان روایات سے ثابت ہے )

قُلْتُ ← لا يحل لامرئ من مال أخيه شيء إلا بطيب نفس منه ← خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عمرو يثربي ← عِمَارَةَ بْنَ حَارِثَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← عبد الملك بن الحسن ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6494

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 4 باب الرجل يمر بالحائط أله أن يأكل منه أم لا ) · حديث 6495

6150 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمر ووهب بن جرير قالا ثنا شعبة عن منصور عن الشعبي عن المقدام أبي كريمة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة الضيف حق واجب على كل مسلم فإن أصبح بفنائه فإنه دين إن شاء اقتضاه وإن شاء تركه

شعبی نے مقدام ابو کریمہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر مسلمان پر مہمان کی رات کی ضیافت واجب ہے اور اگر وہ اس کے صحن میں صبح کرے تو وہ قرض ہے خواہ اسے پورا کرے یا چھوڑ دے ۔

الْمِقْدَامِ أَبِي کَرِيمَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← بشر بن عمر ووهب بن جرير ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6495

chevron_left Previous
1…678…59
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter