Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 29 باب التكني بأبي القاسم هل يصح أم لا ) · حديث 7096

6722 - حدثنا عبد الغني بن أبي عقيل وحسين بن نصرة قالا ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن حميد الطويل قال سمعت أنس بن مالك يقول كان رسول الله صلى الله عليه و سلم في السوق فقال له رجل يا أبا القاسم فالتفت إليه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يعني الرجل إنما أدعو ذاك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم تسموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي

حمید طویل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ آپ بازار میں تھے ایک آدمی نے آواز دی اے ابو القاسم آپ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے تو آدمی نے کہا میں نے اس آدمی کو آواز دی ہے تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میرا نام تو رکھو مگر میری کنیت اختیار مت کرو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← عبد الغني بن أبي عقيل وحسين بن نصرة

Hadith 7096

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 29 باب التكني بأبي القاسم هل يصح أم لا ) · حديث 7097

6723 - حدثنا حسين بن نصر قال سمعت يزيد بن هارون قال ثنا حميد عن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← حسين بن نصر

Hadith 7097

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 29 باب التكني بأبي القاسم هل يصح أم لا ) · حديث 7098

6724 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا محمد بن عبد الله الأنصاري قال ثنا حميد عن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله فهذا يدل أيضا على أن نهي رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما هو عن التكني بكنيته خاصة دون الجمع بينها وبين اسمه وقد ذهب إلى هذا المذهب إبراهيم النخعي ومحمد بن سيرين

حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔ یہ روایت دلالت کرتی ہے کہ آپ نے فقط کنیت سے ممانعت فرمائی دونوں کو جمع کرنے کی ممانعت نہیں فرمائی ۔ یہ ابراہیم نخعی اور ابن سیرین رحمہم اللہ کا قول ہے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← بين اسمه وقد ذهب إلى هذا المذهب إبراهيم النخعي ← التكني بكنيته خاصة دون الجمع بينها ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 7098

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 29 باب التكني بأبي القاسم هل يصح أم لا ) · حديث 7099

6725 - حدثنا أحمد بن الحسن الكوفي قال ثنا وكيع بن الجراح عن محل قال قلت لإبراهيم كانوا يكرهون أن يكنى الرجل بأبي القاسم إن لم يكن أسمه محمدا قال نعم فهذا إبراهيم يحكى هذا أيضا عمن كان قبله يريد بذلك أصحاب عبد الله أو من فوقهم وقد

محل کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے کہا لوگ ابو القاسم کنیت اختیار کرنا مکروہ قرار دیتے تھے خواہ اس کا نام محمد ہو یا نہ ہو ۔ انہوں نے کہا جی ہاں ۔ یہ ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ اپنے سے پہلے لوگوں سے بیان کر رہے ہیں خواہ وہ اصحاب عبداللہ ہوں یا ان سے اوپر ہوں۔

مُحِلٍّ ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْكُوفِيُّ،

Hadith 7099

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 29 باب التكني بأبي القاسم هل يصح أم لا ) · حديث 7100

6726 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا الخصيب قال ثنا يزيد بن إبراهيم عن محمد بن سيرين أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال تسموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي قال ورأيت محمد بن سيرين يكره أن يكتنى الرجل أبا القاسم كان اسمه محمدا أو لم يكن وكان من حجة من ذهب إلى أن النهي في ذلك أيضا هو الجمع بين الكنية والإسم جميعا ما

محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرا نام رکھو مگر میری کنیت مت اختیار کرو۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابن سیرین کو دیکھا وہ ابو القاسم کنیت اختیار کرنے کو مکروہ قرار دیتے تھے خواہ اس کا نام محمد ہو یا نہ ہو۔

مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← الخصيب ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Hadith 7100

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 29 باب التكني بأبي القاسم هل يصح أم لا ) · حديث 7101

6727 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا عبد العزيز بن الخطاب الكوفي قال ثنا قيس عن أبي ليلى عن حفصة بنت عبيد عن عمها البراء بن عازب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى أن يجمع بين اسمه وكنيته

حفصہ بنت عبید نے اپنے چچا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنے نام اور کنیت دونوں کو جمع کرنے کی ممانعت فرمائی ہے ۔

عمها البراء بن عازب ← حفصة بنت عبيد ← أَبِي لَيْلَى ← قَيْسٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ الْكُوفِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Hadith 7101

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 29 باب التكني بأبي القاسم هل يصح أم لا ) · حديث 7102

6728 - حدثنا فهد قال ثنا بن أبي مريم قال ثنا يحيى بن أيوب قال حدثني محمد بن عجلان عن أبيه عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

عجلان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← فهد

Hadith 7102

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 29 باب التكني بأبي القاسم هل يصح أم لا ) · حديث 7103

6729 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا مسلم بن إبراهيم الأزدي قال ثنا هشام بن أبي عبد الله قال ثنا أبو الزبير عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من تسمى باسمي فلا يكتنى بكنيتي ومن اكتنى بكنيتي فلا يتسم باسمي قالوا فثبت بهذه الآثار أن ما نهي عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم من ذلك هو الجمع بين كنيته مع اسمه وفي حديث جابر إباحة التكني بكنيته إذا لم يتسم معها باسمه فكان من الحجة عليهم لأهل المقالة الأخرى أنه يحتمل أن يكون رسول الله صلى الله عليه و سلم قصد بنهيه ذلك المذكور في حديث البراء وأبي هريرة وجابر إلى الجمع بين الكنية والاسم وأباح أفراد كل واحد منهما ثم نهى بعد ذلك عن التكني بكنيته فكان ذلك زيادة فيما كان تقدم من نهيه في ذلك فإن قال قائل فما جعل ما قلت أولى من أن يكون نهى عن التكني بكنيته ثم نهى عن الجمع بين اسمه وكنيته وكان ذلك إباحة لبعض ما كان وقع عليه نهيه قبل ذلك قيل له لأن نهيه عن التكني بكنيته في حديث أبي هريرة فيما ذكرنا معه من الآثار لا يخلو من أحد وجهين إما أن يكون متقدما للمقصود فيه إلى الجمع بين الاسم والكنية أو متأخرا عن ذلك فإن كان متأخرا عنه فهو زائد عليه غير ناسخ له وإن كان متقدما له فقد كان ثابتا ثم روى هذا بعده فنسخه فلما احتمل ما قصد فيه إلى النهي عن الكنية أن يكون منسوخا بعد علمنا بثبوته كان عندنا على أصله المتقدم وعلى أنه غير منسوخ حتى نعلم يقينا أنه منسوخ فهذا وجه هذا الباب من طريق معاني الآثار وأما وجهه من طريق النظر فقد رأينا الملائكة لا بأس أن يتسموا بأسمائهم وكذلك سائر أنبياء الله عليهم السلام غير نبينا صلى الله عليه و سلم فلا بأس أن يتسمى بأسمائهم ويكنى بكناهم ويجمع بين اسم كل واحد منهم وكنيته فهذا نبينا صلى الله عليه و سلم لا بأس أن يتسمى باسمه فالنظر على ذلك أن لا بأس أن يتكنى بكنيته وأن لا بأس أن يجمع بين اسمه وكنيته فهذا هو النظر في هذا الباب غير أن اتباع ما قد ثبت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أولى فقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك أيضا

ابوالز بیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو میرے نام پر نام رکھے وہ میری کنیت نہ اختیار کرے اور جو میری کنیت کو اختیار کرے وہ میرا نام نہ رکھے۔ ان آثار سے یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے کنیت اور نام دونوں کو جمع کرنے کی ممانعت فرمائی اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں جب نام نہ رکھا ہو تو کنیت کا جواز ثابت ہوتا ہے فریق ثانی نے جن روایات سے استدلال کیا ہے جیسا کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایات ہیں تو ان میں عین ممکن ہے کہ کنیت اور نام کو جمع کرنے کی ممانعت ہو اور ہر ایک کا الگ الگ رکھنا مباح قرار دیا ہو پھر اس سے بھی روک دیا تو گویا کہ سابقہ نہی پر اضافہ ہوا۔ جو بات آپ نے کی ہے اس سے بہتر یہ ہے کہ پہلے کنیت کی ممانعت ہو اور پھر نام اور کنیت دونوں کو جمع کرنے کی ممانعت کر دی ہو تو اس سے وہ بعض چیز تو مباح ہو جائے گی جس پر اس سے پہلے نہی وارد ہوئی تھی۔ حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں جو کنیت کی ممانعت وارد ہے وہ دو حال سے خالی نہیں 1۔ یا تو وہ نام اور کنیت کو جمع کے مقصود ہونے پہلے ہوگی۔ 2۔ یا اس کے بعد اگر و ممانعت موخر ہے تو وہ اضافہ بنے گا اس کے لئے ناسخ نہ بنے گی اور اگر اس سے مقدم ہے تو وہ پہلے ثابت تھی اب اس کے بعد یہ روایت آئی تو اس نے اس کو منسوخ کردیا جب کنیت سے ممانعت کے مقصود میں احتمال پیدا ہوگیا اس کے بعد کہ ہم نے اس کے ثبوت کو جان لیا تو ہمارے نزدیک یہ اپنے مقدم اصل پر باقی رہے گی منسوخ نہ ہوگی جب تک یقین کے ساتھ اس کا نسخ معلوم نہ ہو اس باب کے معانی کو سامنے رکھتے ہوئے اس باب کا یہی مطلب ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ فرشتوں کے اسماء سے کنیت رکھنا جائز ہے اس طرح دیگر تمام انبیا علیہم السلام سوائے ہمارے پیغمبر ﷺ کے ان کے نام پر نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں اور اسی طرح ان کی کنیت بھی اسی طرح ہر ایک کا اسم گرامی اور اس کی کنیت کو جمع کیا جاسکتا ہے یہ ہمارے پیغمبر ﷺ ہیں کہ آپ کے نام پر نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں نظر کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کی کنیت رکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں اور نام اور کنیت دونوں کو جمع کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں البتہ رسول اللہ ﷺ کے حکم کی اتباع اولیٰ ہے جناب رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں روایت وارد ہے۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← مسلم بن إبراهيم الأزدي ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 7103

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 29 باب التكني بأبي القاسم هل يصح أم لا ) · حديث 7104

ما حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن بن المنكدر سمع جابر بن عبد الله يقول ولد لرجل منا غلام فسماه القاسم فقلت لا نكنيك أبا القاسم ولا ننعمك عينا فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فذكر ذلك له فقال سم ابنك عبد الرحمن فهذه الأنصار قد أنكرت على هذا الرجل أن يسمى ابنه القاسم لئلا يكتنى به وقصدوا بالكراهة في ذلك إلى الكنية خاصة ثم لم ينكر ذلك عليهم رسول الله صلى الله عليه و سلم لما بلغه فدل ذلك أن نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن التكني بكنيته يتسمى مع ذلك باسمه ولم يتسم به فإن قال قائل ففي هذا الحديث ما يدل على كراهة التسمي بالقاسم قيل له قد يجوز أن يكون ذلك مكروها كما ذكرت لقول رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما أنا قاسم بينكم وقد يجوز أن يكون كره ذلك لأنهم كانوا يكنون الآباء بأسماء الأبناء وقد كان أكثرهم لا يكتنى حتى يولد له فيكتنى باسم ابنه والدليل على ذلك ما

ابن منکدر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہمارے ایک انصاری کے ہاں لڑ کا ہوا تو اس نے اس کا نام قاسم رکھا میں نے اس سے کہا ہم تمہیں ابوالقاسم کنیت نہ رکھنے دیں گے اور وہ نہ آنکھوں دیکھے تمہیں فوقیت دیں گے وہ شخص جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات ذکر کی تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمن رکھو۔ ملاحظہ فرمائیں کہ انصار نے اس آدمی کے قاسم نام رکھنے پر اعتراض کیا تا کہ اس کی کنیت ابوالقاسم نہ ہواور ان کا مقصودبھی یہی تھا کہ آپ کی کنیت وہ اختیار نہ کرنے پھر جناب رسول اللہ ﷺ کو جب بات پہنچی تو آپ نے ان کی اس بات پر اعتراض نہ کیا اس سے یہ دلالت مل گئی کہ آپ کی طرف سے ممانعت کنیت کے ساتھ خاص تھی خواہ وہ آپ کے نام پر نام رکھا ہو یا نہ رکھا ہو۔ یہ روایت تو قاسم نام رکھنے کی کراہت کو ظاہر کر رہی ہے ( آپ کا مدعا ثابت نہیں کرتی) ۔ 1۔ یہ ممکن ہے کہ نام رکھنا بھی اسی طرح مکروہ ہو جیسا کہ تم نے ذکر کیا کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں قاسم ہوں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں اور بھی ممکن ہے کہ ناپسند کرنے کی وجہ یہی ہو کہ وہ لوگ بیٹوں کے نام پرکنیت اختیار کرتے تھے اور ان میں سے اکثریت بچے کے پیدا ہونے تک کنیت کو اختیار نہ کرتے جب وہ پیدا ہو جاتا تو پھر بیٹے کے نام کی مناسبت سے کنیت رکھتے تھے۔ اس کی دلیل یہ حمزہ بن صہیب والی روایت ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← بن المنكدر ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ ← مَا

Hadith 7104

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 29 باب التكني بأبي القاسم هل يصح أم لا ) · حديث 7105

6730 - حدثنا يونس قال ثنا علي بن معبد قال ثنا عبيد الله بن عمرو عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن حمزة بن صهيب عن أبيه صهيب قال قال لي عمر نعم الرجل أنت يا صهيب لولا خصال فيك ثلاث قلت وما هي يا أمير المؤمنين قال تكنيت ولم يولد لك وفيك سرف في الطعام وانتميت إلى العرب ولست منهم قلت أما قولك تكنيت ولم يولد لك فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم كناني أبا يحيى وأما قولك انتميت إلى العرب ولست منهم فإني رجل من بني النمر بن قاسط سبتنا الروم من الطائف بعد ما عقلت أهلي ونسبي وأما قولك فيك سرف في الطعام فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال خياركم من أطعم الطعام فهذا عمر قد أنكر على صهيب أن يتكنى قبل أن يولد له فدل ذلك أنهم أو أكثرهم كانوا لا يتكنون حتى يولد لهم فيكتنون بأبنائهم فلما ولد لذلك الأنصاري بن فسمى القاسم أنكرت الأنصار ذلك عليه لأنه إنما سمى به ليكنى به فأبوا ذلك وأنكروه عليه فأثنى عليه فأثنى عليهم رسول الله صلى الله عليه و سلم لذلك وقد دل على ذلك أيضا ما

حمزہ بن صہیب نے اپنے والد صہیب سے روایت کی ہے کہ مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے۔ اے صہیب تو آدمی تو خوب ہے اگر مجھ میں یہ تین باتیں نہ ہوتیں میں نے کہا۔ اے امیر المومنین وہ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا 1۔ آپ نے ولادت ولد سے پہلے اپنی کنیت رکھ لی۔ 2۔ تم کھانے میں اسراف کرتے ہو۔ 3۔ تم اپنی نسبت عرب کی طرف کرتے ہو حالانکہ تم عرب نہیں ہو۔ حضرت صہیب کہتے ہیں میں نے کہا آپ کا یہ قول کہ لڑکا پیدا ہونے کے بغیر کنیت رکھ لی تو اس کا جواب یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے میری کنیت ابو یحییٰ رکھی۔ رہی دوسری بات کہ میں نے اپنی نسبت عرب کی طرف کی ہے حالانکہ میں ان میں سے نہیں ہوں تو اس کا جواب یہ ہے کہ میں بنی نمر بن قاسط کا فرد ہوں میں اس وقت اپنے خاندان ونسب کی پہچان کرنے لگا تھا کہ طائف سے رومیوں نے ہمیں قیدی بنالیا۔4۔ رہی تمہاری تیسری بات کہ تم کھانے میں اسراف کرتے ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے تم میں سے بہتر وہ ہیں جو دوسروں کو کھانا کھلائیں۔ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں جو صہیب رضی اللہ عنہ کے متعلق اس بات کا انکار کر رہے ہیں کہ وہ بیٹا پیدا ہونے سے پہلے اپنی کنیت اختیار کریں اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ وہ تمام یا ان کی اکثریت اس وقت تک کنیت اختیار نہ کرتی جب تک کہ ان کے ہاں اولاد نہ ہوتی پھر وہ اپنے بیٹوں سے کنیت اختیار کرتے۔ پھر جب اس انصاری کے بیٹا پیدا ہوا اور اس نے اس کا نام قاسم رکھا تو انصار نے ان کی اس بات کو ناپسند کیا کیونکہ اس کے نام رکھنے کا مقصود کنیت اختیار کرنا تھا اس لئے انہوں نے اس پر اعتراض کیا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کے اس عمل کی تعریف فرمائی اور روایت اس پردلالت کرتی ہے۔

أَبِيهِ، صُهَيْبٍ ← حَمْزَةَ بْنِ صُهَيْبٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← يُونُسَ

Hadith 7105

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 29 باب التكني بأبي القاسم هل يصح أم لا ) · حديث 7106

6731 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عمرو بن خالد رضي الله عنه قال ثنا بن لهيعة عن أسامة بن زيد أن أبا الزبير المكي أخبره عن جابر بن عبد الله قال ولد لرجل منا غلام فسماه القاسم وتكنى به فأبت الأنصار أن تكنيه بذلك فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أحسنت الأنصار تسموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي ففي هذا الحديث ما قد دل على أن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما حول اسم ذلك الصبي لأن أباه تكنى به فحوله إلى اسم يجوز لأبيه التكني به وفيه ما يدل على أن النهي إنما يقصد به إلى الكنية خاصة لا إلى الجمع بينها وبين الاسم والله تعالى أعلم

ابوالز بیر مکی نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ہمارے انصار میں ایک آدی کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اس نے اس کا نام قاسم رکھا تو انصار رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار کیا کہ وہ اس نام سے کنیت اپنائے اور یہ بات جناب رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا انصار نے خوب کیا ہے پس تم میرے نام پر نام تو رکھ سکتے ہو مگر میری کنیت اختیارمت کرو۔ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے اس بچے کا نام اس لئے بدل دیا کیونکہ اس کے باپ نے اس کے ساتھ کنیت اختیار کرناتھی (جو کہ ناجائز میں داخل ہو جاتی تھی) پس آپ نے اس کا ایسا نام رکھ دیا کہ اس کے والد کوکنیت رکھنا درست و جائز ہو جائے اس میں اس بات کی دلالت بھی ملتی ہے کہ آپ کی ممانعت میں صرف کنیت کا قصد تھا کنیت اور نام کو جمع کرنے کا قصدنہ تھا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أسامة بن زيد أن أبا الزبير المكي ← بن لهيعة ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ← بن أبي داود

Hadith 7106

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 30 باب السلام على أهل الكفر ) · حديث 7107

6732 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا محمد بن عمرو بن رومي قال ثنا محمد بن ثور قال ثنا معمر عن الزهري عن عروة عن أسامة بن زيد أن النبي صلى الله عليه و سلم مر بمجلس فيه أخلاط من المسلمين واليهود والمشركين من عبدة الأوثان فسلم عليهم قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أنه لا بأس أن يبتدأ أهل الكفر بالسلام واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فكرهوا أن يبتدؤا بالسلام وقالوا لا بأس بأن يرد عليهم إذا سلموا واحتجوا في ذلك بما

عروہ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ کا گزر ایسی مجلس کے پاس سے ہوا جہاں یہودی ، مسلمان اور مشرک ملے جلے بیٹھے تھے تو آپ نے ان کو السلام علیکم کہا۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : اس طرف بعض لوگ گئے ہیں کہ اہل کفر کو ابتداء سلام میں کوئی حرج نہیں ۔ اور انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے ۔ فریق ثانی کا موقف : ابتداء سلام مکروہ ہے البتہ سلام کا جواب دینے میں حرج نہیں ۔ ان کی دلیل یہ روایات ہیں ۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ ← محمد بن عمرو بن رومي ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 7107

chevron_left Previous
1…56575859
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter