Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 27 باب الحديث بعد العشاء الآخرة ) · حديث 7060

6688 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد بن سلمة عن سيار فذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى كراهة الحديث بعد العشاء الآخرة واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا أما الكلام الذي ليس بقربة إلى الله عز و جل وإن كان ليس بمعصية فهو مكروه حينئذ لأنه مستحب للرجل أن ينام على قربة وخير وفضل يختم به عمله فأفضل الأشياء له أن ينام على الصلاة فتكون هي آخر عمله واحتجوا في إباحة الحديث بعد العشاء بما

حماد بن سلمہ نے سیار سے اور پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ نماز عشاء کے بعد گفتگو درست نہیں بلکہ مکروہ ہے انہوں نے اس روایت کو دلیل بنایا۔ جو کلام قرب الہی کا ذریعہ نہ ہو اگرچہ وہ معصیت بھی نہ ہو وہ مکروہ ہے کیونکہ آدمی کے لئے مستحب یہ ہے کہ عبادت یا نیکی کر کے سو جائے اور اپنا عمل کسی بھلائی پر ختم کرے پس اس کے لئے سب سے بہتر یہی ہے کہ وہ نماز پڑھ کر سو جائے تاکہ اس کا یہ آخری عمل ہو انہوں نے مندرجہ ذیل روایات کو دلیل بنایا ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7060

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 27 باب الحديث بعد العشاء الآخرة ) · حديث 7061

6689 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا مسلم بن إبراهيم قال ثنا وهيب عن عطاء بن السائب عن أبي وائل قال قال ثنا عبد الله ح

ابو وائل کہتے ہیں ہمیں عبداللہ نے بیان کیا ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← وُهَيْبٌ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7061

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 27 باب الحديث بعد العشاء الآخرة ) · حديث 7062

وحدثنا يزيد بن سنان قال ثنا هدبة بن خالد قال ثنا حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن أبي وائل قال ثنا عبد الله قال حدب إلينا رسول الله صلى الله عليه و سلم السمر بعد صلاة العتمة وقال مسلم بعد صلاة العشاء ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم حدب لهم السمر بعد العشاء الآخرة وفي الحديث الأول أنه كان يكره ذلك فوجههما عندنا والله أعلم أنه كره لهم من السمر ما ليس بقربة وحدب لهم ما هو قربة على المعنى الذي ذكرناه عن أهل المقالة الثانية المذكورة في هذا الباب وقد

ابو وائل کہتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ نے بیان کیا کہ جناب نبی اکرم ﷺ نماز عشاء کے بعد گفتگو کے لئے ہماری طرف متوجہ ہوئے مسلم کی روایت میں صلاۃ العتمہ کی بجائے صلوۃ العشاء کا لفظ ہے ۔ اس روایت میں یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نماز کے بعد گفتگو کے لئے ہماری طرف متوجہ ہوئے اور پہلی روایت میں گفتگو کے کراہت ذکر کی گئی ہے دونوں میں تطبیق کی شکل ہمارے ہاں یہی ہے کہ ایسی گفتگو مکروہ ہے جو باعث قربت نہ ہو اور دوسری روایت آپ کا گفتگو کے لئے متوجہ ہونا اس کا تعلق ایسی گفتگو سے ہے جو نیکی کا باعث ہو۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7062

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 27 باب الحديث بعد العشاء الآخرة ) · حديث 7063

6690 - حدثنا إبراهيم بن محمد الصيرفي قال أبو الوليد قال ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال ربما سمر رسول الله صلى الله عليه و سلم في بيت أبي بكر ذات ليلة في الأمر يكون من أمر المسلمين فبين هذا الحديث سمر رسول الله صلى الله عليه و سلم الذي كان يسمره وأنه من أمور المسلمين فذلك من أعظم الطاعات فدل ذلك أن السمر المنهي عنه خلاف هذا وقد روى في ذلك أيضا عن عمر رضي الله عنه ما

علقمہ نے عبداللہ سے روایت کی ہے کہ بسا اوقات رسول اللہ ﷺ ابو بکر صدیق کے ساتھ ایک رات مسلمانوں کے معاملے میں نماز عشاء کے بعد بات چیت کر رہے تھے اس روایت نے بتلا دیا کہ رات کے وقت آپ مسلمانوں کے معاملات میں گفتگو فرماتے تھے اور یہ عظیم نیکی ہے معلوم ہوتا ہے جو گفتگو ممنوع ہے وہ اس کے علاوہ ہے اور یہ مفہوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← إبراهيم بن محمد الصيرفي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7063

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 27 باب الحديث بعد العشاء الآخرة ) · حديث 7064

6691 - حدثنا محمد بن خزيمة ثال ثنا حجاج قال ثنا حماد بن سلمة عن عاصم عن أبي وائل عن عبد الله قال حدب إلينا عمر السمر بعد العشاء الآخرة ففي هذا الحديث أن عمر حدب إليهم السمر بعد العشاء الآخرة ولم يبين لنا في هذا الحديث أي سمر ذلك فنظرنا في ذلك

ابو وائل نے عبداللہ سے بیان کیا کہتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نماز عشاء کے بعد گفتگو کے لئے متوجہ ہوئے ۔ اس روایت میں یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نماز عشاء کے بعد ان کی طرف گفتگو کے لئے متوجہ ہوئے مگر گفتگو کی وضاحت موجود نہیں تلاش کرنے پر یہ روایت مل گئی ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حجاج، ← محمد بن خزيمة ثال

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7064

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 27 باب الحديث بعد العشاء الآخرة ) · حديث 7065

6692 - فإذا سليمان بن شعيب قد حدثنا قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن الجريري قال سمعت أبا نضرة يحدث عن أبي سعيد مولى الأنصار قال كان عمر لا يدع سامرا بعد العشاء يقول ارجعوا لعل الله يرزقكم صلاة أو تهجدا فانتهى إلينا وأنا قاعد مع بن مسعود وأبي بن كعب وأبي ذر فقال ما يقعدكم قلنا أردنا أن نذكر الله فقعد معهم فهذا عمر قد كان ينهاهم عن السمر بعد العشاء ليرجعوا إلى بيوتهم ليصلوا أو ليناموا نوما ثم يقومون لصلاة يكونون بذلك متهجدين فلما سألهم ما الذي أقعدهم فأخبروه أنه ذكر الله لم ينكر ذلك عليهم وقعد معهم لأن ما كان يقيمهم له هو الذي هم قعود له فثبت بذلك أن السمر الذي في حديث أبي وائل عن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وعمر حدباه إليهم وهو الذي فيه قربة إلى الله عز و جل والنهي عنه في حديث أبي برزة هو ما لا قربة فيه ليستوي معاني هذه الآثار لتتفق ولا تتضاد وقد روينا عن عبد الله بن عباس والمسور بن مخرمة أنهما سمرا إلى طلوع الثريا فذلك عندنا على السمر الذي هو قربة إلى الله عز و جل وقد ذكرنا ذلك الحديث بإسناده فيما تقدم من كتابنا هذا وقد روى عن عائشة رضي الله عنها أيضا من طريق ليس مثله يثبت أنها قالت لا سمر إلا لمصل أو مسافر فذلك عندنا إن ثبت عنها غير مخالف لما روينا وذلك أن المسافر يحتاج إلى ما يدفع النوم عنه ليسير فأبيح بذلك السمر وإن كان ليس بقربة ما لم تكن معصية لاحتياجه إلى ذلك فهذا معنى قولها لا سمر إلا لمسافر وأما قولها أو مصل فمعناه عندنا على المصلي بعد ما يسمر فيكون نومه إذا نام بعد ذلك على الصلاة لا على السمر فقد عاد هذا المعنى إلى المعنى الذي صرفنا إليه معاني الآثار الأول والله أعلم

ابو نضرہ ، ابو سعید جو انصار کے مولیٰ تھے ان سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عشاء کے بعد کسی گفتگو کرنے والے کو نہ چھوڑتے بلکہ فرماتے لوٹ جاؤ شاید کہ اللہ تعالیٰ تمہیں نماز یا تہجد کا لفظ فرمایا نصیب فرما دے چنانچہ آپ ہم تک پہنچے میں اس وقت ابن مسعود ، ابی ، اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا پ نے فرمایا کیوں بیٹھے ہو ہم نے کہا ہم اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے بیٹھے ہیں تو آپ ہمارے ساتھ بیٹھ گئے ۔ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں جو عشاء کے بعد گفتگو سے منع فرماتے ہیں تاکہ وہ اپنے گھروں میں لوٹ جائیں اور وہاں نماز پڑھیں یا سو جائیں اور پھر نماز کے لئے اٹھیں تاکہ اس سے وہ تہجد گزار بن جائیں پھرجب وہ پوچھتے ہیں کہ وہ کس لئے بیٹھے ہیں اور وہ بتلاتے ہیں کہ وہ اللہ کو یاد کرنے کے لئے بیٹھے ہیں تو آپ ان کی بات کا انکار نہیں کرتے بلکہ ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں کیونکہ جس بات کے لئے آپ ان کا اٹھانا چاہتے ہیں وہ اسی کے لئے بیٹھے ہیں اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ وہ گفتگو جا کا ذکر حضرت عبداللہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں آیا جس کے لئے آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے یہ گفتگو قرب الہی کا ذریعہ ہے اور ابو برزہ کی روایت میں جس سے ممانعت کی گئی وہ وہی گفتگو ہے جو قرب الہی کا ذریعہ نہ ہو یہ تاویل اس لئے کی گئی تاکہ روایات کے معانی متفق ہو جائیں اور ان میں تضاد نہ رہے ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہ اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ نقل کیا کہ ثریا ستاروں کے طلوع تک وہ گفتگو کرتے رہے تو ہمارے نزدیک اس سے مراد ایسی گفتگو ہے جو اللہ کے قرب کا باعث ہو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے ایسی سند سے روایت ثابت ہے جو درست نہیں کہ انہوں نے فرمایا " لا سمر الا مصل او مسافر " اول تو یہ روایت ثابت نہیں اور اگر ثابت ہو تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ مسافر کو سفر پر روانہ ہونے کے لئے جاگنے کی ضرورت ہے اس لئے گفتگو اس کے لئے مباح کی گئی اگرچہ یہ گفتگو عباد نہ ہو لیکن ضرورت کی وجہ سے جائز ہو گی جب تک کہ معصیت کی گفتگو نہ ہو اسی طرح اومصل کا معنی بھی ہمارے نزدیک یہ ہے کہ وہ نمازی جو کہ گفتگو کے بعد نماز پڑھے تو ا س کی نیند نماز پر ہو گفتگو پر نہ ہو اب ان روایات کا معنی بھی اسی تاویل کے مطابق ہو گیا جو ہم نے شروع باب کی روایات کا ذکر کیا ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7065

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 28 باب نظر العبد إلى شعور الحرائر ) · حديث 7066

6693 - حدثنا المزني قال ثنا الشافعي قال ثنا سفيان عن الزهري عن نبهان مولى أم سلمة عن أم سلمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إذا كان لإحداكن مكاتب وكان عنده ما يؤدي فلتحتجب منه قال سفيان سمعته من الزهري وثبتنيه معمر قال أبو جعفر فذهب قوم من أهل المدينة إلى أن العبد لا بأس أن ينظر إلى شعور مولاته ووجهها وإلى ما ينظر إليه ذو محرمها منها واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وقالوا في قول النبي صلى الله عليه و سلم لأم سلمة فلتحتجب منه دليل على أنها قد كانت قبل ذلك غير محتجبة منه وقالوا قد روى ذلك عن بن عباس وعمل به أزواج النبي صلى الله عليه و سلم من بعده فذكروا في ذلك ما

نیہان مولیٰ اسم سلمہ نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کا مکاتب ہو اور وہ ادائیگی کے لئے مال رکھتا ہو مالکہ کو اس سے پردہ کرنا چاہیے ۔ سفیان کہتے ہیں کہ میں نے یہ روایت زہری سے سنی ہے اور معمر نے اس کی تصدیق فرمائی ۔ امام جعفر طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں اہل مدینہ میں سے ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ غلام کے لئے کوئی حرج نہیں کہ وہ اپنی مالکہ کے بال چہرہ اور جن اعضاء کو محرم دیکھ سکتا ہے ان کے دیکھنے میں بھی حرج نہیں انہوں نے اس روایت کو دلیل بنایا کہ اس میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت امام سلمہ کو فرمایا فلتحتجب منہ کہ ا ب اسے پردہ کرنا چاہیے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پہلے اسے پردے کی ضرورت نہ تھی اور اس سلسلے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت اور ازواج مطہرات کا عمل بھی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ روایت یہ ہے ۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← نَبْهَانَ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الشَّافِعِیُّ ← الْمُزَنِيُّ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7066

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 28 باب نظر العبد إلى شعور الحرائر ) · حديث 7067

6694 - حدثنا فهد قال ثنا بن الأصبهاني قال ثنا شريك عن السدي عن أبي مالك عن بن عباس قال لا بأس أن ينظر العبد إلى شعور مولاته

ابو مالک نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ اس میں کچھ حرج نہیں کہ غلام اپنی مالکہ کے بالوں کے دیکھے ۔

لا بأس أن ينظر العبد إلى شعور مولاته ← بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِي مَالِکٍ ← السُّدِّيِّ ← شَرِيکٍ ← بن الأصبهاني ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7067

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 28 باب نظر العبد إلى شعور الحرائر ) · حديث 7068

6695 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال ثنا بن وهب قال أخبرني ميمون بن يحيى عن آل الأشج عن مخرمة بن بكير عن أبيه عن عمرو بن شعيب رضي الله عنه ويزيد بن عبد الله وعمرة بنت عبد الرحمن أنهم قالوا لو أن أمرأة جلست عند عبد زوجها بغير خمار لم يكن بذلك بأسا قال بكير وأخبرني عبد الرحمن بن القاسم أن أسماء بنت عبد الرحمن كانت تجلس عند عبد لقاسم وهو زوجها بغير خمار قال بكير عن عمرة بنت عبد الرحمن قالت كانت عائشة رضي الله عنها يراها العبيد لغيرها قال بكر قالت أم علقمة مولاة عائشة رضي الله عنها تدخل عليها عبيد المسلمين وإن كان عبيد الناس ليرون عائشة رضي الله عنها بعد أن يحتلم أحدهم وإنها لتمتشط قال بكير عن عبد الله بن رافع لم تكن أم سلمة تحتجب من عبيد الناس وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا ينظر العبد من الحرة إلا إلى ما ينظر إليه منها الحر الذي لا محرم بينه وبينها وكان من الحجة لهم في ذلك أن قول النبي صلى الله عليه و سلم الذي ذكروا في حديث أم سلمة لا يدل على ما قال أهل تلك المقالة لأنه قد يجوز أن يكون أراد بذلك حجاب أمهات المؤمنين فإنهن قد كن حجبن عن الناس جميعا إلا من كان منهم ذو رحم محرم فكان لا يجوز لأحد أن يراهن أصلا إلا من كان بينهن وبينه رحم محرم وغيرهن من النساء لسن كذلك لأنه لا بأس أن ينظر الرجل من المرأة التي لا رحم بينه وبينها وليست عليه بمحرمة إلى وجهها وكفيها وقد قال الله عز و جل ولا يبدين زينتهن إلا ما ظهر منها فقد قيل في ذلك ما

عمرو بن شعیب ، یزید بن عبداللہ اور عمرہ بنت عبدالرحمن سب کا قول یہ ہے کہ اگر کوئی عورت اپنے غلام کے سامنے بغیر دوپٹے کے بیٹھے تو اس میں کچھ حرج نہیں ۔ بکیر راوی کہتے ہیں : کہ مجھے عبدالرحمن بن قاسم نے بتلایا کہ اسماء بنت عبدالرحمن قاسم کے غلام کے پاس اپنے خاوند کے ساتھ بغیر دوپٹے کے بیٹھی تھیں بکیر نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے نقل کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو دوسروں کے غلام بھی دیکھتے تھے بکر نے ام علقمہ سے جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی لونڈی ہیں ان سے بیان کیا کہ مسلمانوں کے غلام آپ کی زیارت کے لئے آپ کے ہاں داخل ہوتے اگرچہ وہ بالغ ہوتے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کنگھی کر رہی ہوتی تھیں بکیر نے عبداللہ بن رافع سے بیان کیا کہ حضرت ام سلمہ لوگوں کے غلاموں سے پردہ نہ کرتی تھیں ۔ دوسرے فریق نے یہ کہا کہ کوئی غلام کسی آزاد عورت کو نہیں دیکھ سکتا سوائے اس حصے کے جس کو آزاد غیر محرم دیکھ سکتا ہو۔ روایت ام مسلمہ رضی اللہ عنہ میں پیغمبر ﷺ کا ارشاد اس بات پر ہر گز دلالت نہیں کرتا جو فریق اول نے مراد لیا ہے کیونکہ عین ممکن ہے اس سے مقصود امہات المومنین کا پردہ کرنا ہو وہ اپنے محرموں کے علاوہ سب سے پردہ کرتی تھیں کسی کو انہیں دیکھنا جائز نہیں سوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ ان کا رحم کا رشتہ تھا اور دیگر عورتیں ان کا حکم اس طرح نہیں کیونکہ کسی عورت کے چہرے اوہتھیلیوں کی طرف دیکھنے میں حرج نہیں اگرچہ وہ اس کا محرم نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے " ولا یبدین زینتھن " ( نور : 31) وہ عورتیں اپنی زینت کو ہر گز ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو اس میں سے ظاہر ہو اس سلسلے میں اس طرح کہا گیا ہے جیسا کہ اس روایت میں ہے ۔

عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← أَبِيهِ ← مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← آل الأشج ← مَيْمُونُ بْنُ يَحْيَي، ← بن وَهْبٍ ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7068

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 28 باب نظر العبد إلى شعور الحرائر ) · حديث 7069

6696 - حدثنا سليمان قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا زهير بن معاوية عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد الله ولا يبدين زينتهن إلا ما ظهر منها قال الزينة القرط والقلادة والسوار والخلخال والدملح ما ظهر منها الثياب والجلباب

ابو الاحوص نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آیت " ولا یبدین زینتھن " میں زینت سے مراد بالی، ہار ، کنگن ، پازیب اور بازو بند ہے ، اور ماظہر سے مراد کپڑے اور چادر ہے ۔

الزينة القرط والقلادة والسوار والخلخال والدملح ما ظهر منها الثياب والجلباب ← عَبْدِ اللهِ {وَلاَ يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إلاَّ مَا ظَهَرَ مِنْهَا} ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَیْمَانَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7069

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 28 باب نظر العبد إلى شعور الحرائر ) · حديث 7070

6697 - حدثنا محمد بن حميد قال ثنا علي بن معبد قال ثنا موسى بن أعين عن مسلم عن سعيد بن جبير عن بن عباس ولا يبدين زينتهن إلا ما ظهر منها الكحل والخاتم

سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ماظہر سے مراد سرمہ اور انگوٹھی ہے ۔

بن عباس ولا يبدين زينتهن إلا ما ظهر منها الكحل والخاتم ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُّسْلِمٍ ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7070

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 28 باب نظر العبد إلى شعور الحرائر ) · حديث 7071

6698 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عاصم قال ثنا سفيان الثوري عن منصور عن إبراهيم ولا يبدين زينتهن إلا ما ظهر منها قال هو ما فوق الدرع فأبيح للناس أن ينظروا إلى ما ليس بمحرم عليهم من النساء إلى وجوههن وأكفهن وحرم ذلك عليهم من أزواج النبي صلى الله عليه و سلم لما نزلت آية الحجاب ففضلن بذلك على سائر الناس

منصور نے ابراہیم سے روایت کی کہ ماظہر سے چادر سے اوپر کی اشیاء ہیں پس لوگوں کے لئے یہ مباح ہے کہ ان چیزوں کو دیکھیں جو ان پر عورتوں میں سے حرام نہیں یعنی ان کے چہرے اور ان کی ہتھیلیاں لیکن ، ازواج مطہرات کے سلسلے میں ان کا دیکھنا بھی حرام ہے جب حجاب کی آیت اتری تو اسی بات کے ساتھ ان کو دوسرے لوگوں پر فضیلت دی گئی ۔

إبراهيم ولا يبدين زينتهن إلا ما ظهر منها ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7071

chevron_left Previous
1…545556…59
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter