شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 27 باب الحديث بعد العشاء الآخرة ) · حديث 7060
6688 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد بن سلمة عن سيار فذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى كراهة الحديث بعد العشاء الآخرة واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا أما الكلام الذي ليس بقربة إلى الله عز و جل وإن كان ليس بمعصية فهو مكروه حينئذ لأنه مستحب للرجل أن ينام على قربة وخير وفضل يختم به عمله فأفضل الأشياء له أن ينام على الصلاة فتكون هي آخر عمله واحتجوا في إباحة الحديث بعد العشاء بما
حماد بن سلمہ نے سیار سے اور پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ نماز عشاء کے بعد گفتگو درست نہیں بلکہ مکروہ ہے انہوں نے اس روایت کو دلیل بنایا۔ جو کلام قرب الہی کا ذریعہ نہ ہو اگرچہ وہ معصیت بھی نہ ہو وہ مکروہ ہے کیونکہ آدمی کے لئے مستحب یہ ہے کہ عبادت یا نیکی کر کے سو جائے اور اپنا عمل کسی بھلائی پر ختم کرے پس اس کے لئے سب سے بہتر یہی ہے کہ وہ نماز پڑھ کر سو جائے تاکہ اس کا یہ آخری عمل ہو انہوں نے مندرجہ ذیل روایات کو دلیل بنایا ہے ۔
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7060
