شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7048
6676 - حدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا يحيى بن معين قال ثنا عبد الرزاق بن إبراهيم عن بن جريج عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لأسماء بنت عميس مالي أرى أجسام بني أخي نحيفة صارعة أتصيبهم الحاجة قالت لا ولكن العين تسرع إليهم فأرقيهم قال بماذا فعرضت عليه كلاما لا بأس به فقال أرقيهم
ابو الزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ کو فرمایا مجھے اپنے بھتیجوں کے جسم کمزور و نحیف نظر آتے ہیں ؟ کیا ان کی کوئی حاجت ہے جو پوری نہیں ہوتی ؟ میں نے کہا نہیں ۔ لیکن ان کو نظر لگ جاتی ہے پھر میں ان کو دم کرتی ہوں آپ نے فرمایا کیا دم کرتی ہو؟ تو میں نے وہ کلام آپ کو سنایا آپ نے فرمایا اس سے دم میں حرج نہیں ۔ اس سے دم کرتی رہو۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن جُرَيْجٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← علي بن عبد الرحمن
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7048
