Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7024

6652 - حدثنا شعيب بن إسحاق بن يحيى قال ثنا أبو عبد الرحمن المقرئ قال ثنا أبو حنيفة عن نافع أن بن عمر رضي الله عنه اكتوى من اللقوة ورقى من العقرب

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کو لقوہ کی وجہ سے داغ لگایا گیا اور بچھو کے ڈسنے کی وجہ سے دم کیا گیا۔

نافع أن بن عمر اكتوى من اللقوة ورقى من العقرب ← أبو حنيفة ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← شعيب بن إسحاق بن يحيى

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7024

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7025

6653 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني مالك عن نافع عن بن عمر رضي الله عنه مثله

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

بن عمر مثله ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7025

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7026

6654 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن أبي إسحاق عن حارثة بن مضرب قال دخلت على خباب وقد اكتوى

حارثہ بن مضرب کہتے ہیں کہ میں حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا جبکہ ان کو داغ لگایا گیا تھا۔

دخلت على خباب وقد اكتوى ← حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7026

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7027

6655 - حدثنا محمد بن حميد قال ثنا علي بن معبد قال ثنا موسى بن أعين عن إسماعيل عن قيس بن أبي حازم عن خباب أنه أتاه يعوده وقد اكتوى سبعا في بطنه

قیس بن حازم نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں ان کی خدمت میں تیمار داری کے لئے حاضر ہوا اس وقت ان کے پیٹ کو سات جگہ سے داغا گیا تھا۔

خباب أنه أتاه يعوده وقد اكتوى سبعا في بطنه ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلُ ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7027

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7028

6656 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب عن أبيه قال سمعت حميدا قال بن مرزوق أظنه عن مطرف قال قال لي عمران بن حصين أشعرت أنه كان يسلم علي فلما اكتويت انقطع عني التسليم فهؤلاء أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قد اكتووا وكوو غيرهم وفيهم بن عمر وقد روينا عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ما أحب أن أكتوي فدل فعله ذلك على ثبوت نسخ ما كان النبي صلى الله عليه و سلم كرهه من ذلك وفيهم عمران بن حصين وهو الذي روى عن النبي صلى الله عليه و سلم مدحه للذين لا يكتوون فدل ذلك أيضا على علمه بإباحة رسول الله صلى الله عليه و سلم لذلك فإن قال قائل فكيف يكون ذلك وقد روى عن عمران بن حصين فذكر ما

ابن مرزوق کہتے ہیں کہ میرے خیال میں مطرف سے روایت ہے کہ مجھے عمرنا بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم نے محسوس کیا کہ مجھے سلام کیا جاتا تھا ( فرشتے سلام کرتے تھے ) جب سے داغ لگایا گیا تو وہ سلام مجھ سے منقطع ہو گیا۔ یہ اصحاب رسول اللہ ﷺ ہیں انہوں نے خود داغا اور ان کو داغ لگوائے گئے ۔ ان میں ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں جنہوں نے یہ روایت نقل کی ہے " ما احب ان اقتوی " ان کا فعل اس روایت کے خلاف اس بات کا ثبوت ہے کہ کراہت کا حکم منسوخ ہو چکا ۔ ان میں حضرت عمران بن حصین بھی ہیں جنہوں نے داغ نہ لگوانے والے لوگوں کی تعریف میں روایت نقل کی ہے ان کا عمل اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان کو رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اباحت کا علم ہوا تبھی انہوں نے داغ لگایا۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ حضرت عمران کی روایت سے نسخ ثابت نہیں ہوتا اس لئے کہ خود ان کی یہ دوسری روایت موجود ہے ۔

مُطَرِّفٍ ← بن مرزوق أظنه ← حُمَيْدًا، ← أَبِيهِ ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7028

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7029

6657 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا أبو جابر قال ثنا عمران بن جرير عن أبي مخلد قال كان عمران بن حصين ينهي عن الكي فابتلي فكان يعقد ويقول لقد اكتويت كية بنار فما أبرأتني من إثم ولا شفتني من سقم قيل له قد يجوز أن يكون الكي الذي كان عمران ينهى عنه هو الكي يراد به لا العلاج من البلاء الذي قد حل ولكن لما يفعل قبل حلول البلاء مما كانوا يرون أنه يدفع البلاء فلما ابتلى به اكتوى على أن ذلك كان علاجا لما به من البلاء فلما لم يبرأ بذلك علم أن كيه لم يوافق بلاء ولم يكن علاجا له فأشفق أن يكون بها إثما فقال ما شفتني من سقم ولا أبرأتني من إثم أي لم أعلم أني برئ من الإثم مع أنه لم يحقق أنه صار آثما بها لأنه إنما كان أراد بها الدواء لا غير ذلك والدواء مباح للناس جميعا وهم مأمورون به وقد جاءت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم آثار تنهي عن التمائم فمما روى في ذلك ما

ابو مخلد نے حضرت عمران بن حصین سے روایت کی ہے کہ وہ داغنے سے منع کرتے تھے پھر وہ ابتلاء میں آ گئے چنانچہ وہ جب بیٹھتے تو یوں کہتے کہ میں نے آگ سے داغ بھی لگوائے لیکن اس داغنے نے نہ تو مجھے گناہ سے بری الذمہ کیا اور نہ بیماری سے صحت ہوئی۔ ممکن ہے کہ حضرت عمران جس داغنے سے منع کرتے تھے اس سے وہ جاہلیت والا داغنا مراد تھا علاج مرض مقصود نہیں تھا اس لئے کہ وہ تکلیف کے آنے سے پہلے کیا جاتا تھا اس کے متعلق لوگوں کا خیال یہ تھا کہ اس سے تکلیف دور ہو جاتی ہے جب وہ تکلیف میں مبتلا ہوئے تو اس وقت انہوں نے بطور علاج کے داغ لگوائے مگر جب اس سے بھی درست نہ ہوئے تو ان کو اس سے یہ پتہ چل گیا کہ یہ علاج ان کی مرض کے مطابق نہیں ہے پس اس لئے ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا شاید کہیں یہ گناہ نہ ہو کہ اس کی وجہ سے میری بیماری بھی ٹھیک نہیں ہوئی اور نہ اس کے کر لینے کی وجہ سے میں گناہ سے بری الذمہ رہا مطلب یہ ہوا کہ مجھے یقینی طور پر یہ معلوم نہیں کہ گناہ سے بری الذمہ ہوں اس کے ساتھ ساتھ کہ یہ کوئی قطعی بات نہیں تھی کہ وہ اس سے گناہ گار ہو گئے ہیں کیونکہ اس سے مقصود ان کا علاج تھا نہ کہ کچھ اور۔ اور علاج کرنا سب لوگوں کے لئے جائز اور مباح ہے بلکہ اس کا حکم ہے ۔ جناب رسول اللہ ﷺ سے ایسے آثار وارد ہیں جو تعویذ کی ممانعت کرتے ہیں اس سلسلے میں مندرجہ ذیل روایات ہیں ۔

الكي فابتلي فكان يعقد ← كَانَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ يَنْهَى ← أَبِي مَخْلَدٍ ← عمران بن جرير ← أَبُو جَابِرٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7029

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7030

6658 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن أم قيس بنت محصن قالت دخلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم بابن لي وقد علقت عليه من العذرة فقال على ما تذر عن أولادكن بهذا العلاق عليكن بهذا العود الهندي فإن فيه سبعة أشفية منها ذات الجنب يسعط من العذرة ويلد ذات الجنب فقد يحتمل أن يكون ذلك العلاق كان مكروها في نفسه لأنه كتب فيه ما لا يحل كتابته فكرهه رسول الله صلى الله عليه و سلم لذلك لا لغيره وقد روى في ذلك أيضا ما

ام قیس بنت محصن کہتی ہیں ۔ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اپنے ایک بیٹے کو لے کر گئی جس کو میں نے تعویذ باندھا ہوا تھا آپ نے فرمایا تم اپنی اولاد سے ان تعویذوں کے سبب کیوں غفلت اختیار کرتی ہو تم عود ہندی استعمال کرو اس میں سات چیزوں کا علاج ہے پسلی کا درد اور حلق کے درد میں اس کو ناک میں ٹپکایا جائے اور پسلی کے درد میں منہ کے کنارے سے پلایا جائے ۔ اس میں یہ احتمال ہے کہ تعویذ کا لٹکانا ذاتی اعتبار سے بھی بر ہو کیونکہ اس زمانے میں ایسی چیزیں اس میں لکھی جاتی تھیں جنا کا لکھنا جائز نہیں اس لئے آپ نے اس کا ناپسند کیا اور کوئی وجہ نہ تھی جناب رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلے میں یہ روایت بھی وارد ہے ۔

أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7030

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7031

6659 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني يحيى بن أيوب عن عبيد الله بن زحر عن بكر بن سوادة عن رجل من صدا قال أتينا النبي صلى الله عليه و سلم اثنا عشر رجلا فبايعناه وترك رجلا منا لم يبايعه فقلنا بايعه يا نبي الله فقال لن أبايعه حتى ينزع الذي عليه إنه من كان منا مثل الذي عليه كان مشركا ما كانت عليه فنظرنا فإذا في عضده سير من لحى شجرة أو شيء من الشجرة

بکر بن سوادہ نے بنو صداء کے ایک آدمی سے نقل کیا کہ ہم جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے ۔ ہم بارہ آدمی تھے ۔ ہم نے بیعت کی آپ نے ایک آدمی کو چھوڑ دیا اس سے بیعت نہیں لی ۔ ہم نے گزارش کی کہ اسے بیعت فرما لیں یا رسول اللہ ﷺ آپ نے فرمایا اس کو میں اس وقت بیعت نہ کروں گا یہاں تک کہ یہ اس چیز کا اتار دے جو اس نے پہن رکھی ہے جو ہم میں سے اس طرح کی چیز پہنے وہ اس وقت مشرک خیال کیا جاتا ہے جب تک وہ چیز اس پر رہے پس ہم نے جب پڑتال کی تو اس آدمی کے بازو پر درخت میں سے یا درخت کی چھال کا تسمہ تھا۔

رَجُلٍ مِنْ صُدًا، ← بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زَحْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7031

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7032

6660 - حدثنا إبراهيم بن منقذ قال ثنا المقرئ عن حيوة قال أخبرني خالد بن عبيد قال سمعت مشرح بن هاعان يقول سمعت عقبة بن عامر الجهني يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من تعلق تميمة فلا أتم الله له ومن تعلق ودعة فلا أودع الله له

مشرح بن ہاعان کہتے ہیں کہ میں نے عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کرتے تھے کہ جس نے تعویذ لٹکایا اللہ تعالیٰ اس کے کام کو مکمل نہ کرے جس نے گھونکا لٹکایا اللہ تعالیٰ اس کو اس کا مقصود عنایت نہ فرمائے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ ← خالد بن عبيد ← حَيْوَةُ، ← الْمُقْرِئُ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7032

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7033

6661 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا أخبره عن عبد الله بن أبي بكر عن عباد بن تميم أن أبا بشر الأنصاري أخبره أنه كان مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في بعض أسفاره قال عبد الله بن أبي بكر حسبت أنه قال والناس في مبيتهم فأرسل رسول الله صلى الله عليه و سلم مناديا ألا لا يبقين في عنق بعير قلادة ولا وتر إلا قطعت قال مالك أرى ذلك من العين فكان ذلك عندنا والله أعلم ما علق قبل نزول البلاء ليدفع وذلك مالا يستطيعه غير الله عز و جل فنهى عن ذلك لأنه شرك فأما ما كان بعد نزول البلاء فلا بأس لأنه علاج وقد روى هذا الكلام بعينه عن عائشة رضي الله عنها

عباد بن تمیم کہتے ہیں کہ ابو بشر انصاری رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ میں جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میرے خیال میں انہوں نے یہ لفظ کہے " والناس فی بیتہم " جبکہ لوگ اپنی خواب گاہوں میں تھے تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک منادی کو بھیج کر یہ اعلان کرایا کسی اونٹ کے گلے میں ہار یا تانت ہو اس کو کاٹ ڈالا جائے ۔ امام مالک کہتے ہیں میرے خیال میں یہ نظر سے بچانے کی خاطر کیا گیا ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں ہمارے نزدیک اس سے مراد وہ قلائد ہیں جو مصائب کے اترنے سے پہلے ڈالے جاتے ہیں تاکہ وہ مصائب سے دور رہیں اور یہ بات غیر اللہ کے اختیار میں نہیں پس اس سے روکا گیا کیونکہ یہ شرک ہے باقی وہ تعویذات جو تکالیف کے اترنے کے لئے ڈالے جاتے ہیں ان میں کچھ حرج نہیں کیونکہ وہ علاج ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے بعینہ یہ بات روایت میں وارد ہے ۔ ( ملاحظہ ہو۔ )

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7033

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7034

6662 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث رضي الله عنه وابن لهيعة عن بكير بن الأشج عن القاسم بن محمد أن عائشة رضي الله عنها زوج النبي صلى الله عليه و سلم قالت ليست بتميمة ما علق بعد أن يقع البلاء

قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں وہ تمیمہ میں شامل نہیں جو مصیبت و تکلیف کے واقع ہونے کے بعد گلے میں ڈالے جائیں ۔

ليست بتميمة ما علق بعد أن يقع البلاء ← القاسم بن محمد أن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَابْنُ لَهِيعَةَ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7034

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7035

6663 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو الوليد عن عبد الله بن المبارك عن طلحة بن أبي سعيد أو سعد عن بكير فذكر بإسناده مثله فقد يحتمل أيضا أن يكون الكي نهيه عنه إذا فعل قبل نزول البلاء وأبيح إذا فعل بعد نزول البلاء لأن ما فعل بعد نزول البلاء فإنما هو علاج وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في العلاج ما قد ذكرناه في هذا الباب وروى عنه أيضا ما

طلحہ بن ابی سعد یا طلحہ بن ابی سعید نے بکیر سے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت بیان کی ہے ۔ عین ممکن ہے کہ اس سے ممنوعہ داغ دینا مراد ہو جبکہ مصیبت اترنے سے پہلے س کو کیا جائے اور مصائب کے اترنے پر اس کا کرنا مباح ہے کیونکہ یہ علاج میں شامل ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7035

chevron_left Previous
1…515253…59
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter