Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7012

6640 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عمرو بن مرزوق قال ثنا عمران عن قتادة عن أنس قال كواني أبو طلحة ورسول الله صلى الله عليه و سلم بين أظهرنا فما نهيت عنه

قتادہ نے حضرت نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ مجھے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے داغ دیا جبکہ جناب رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان موجود تھے مگر ہمیں داغ سے منع نہ کیا گیا۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7012

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7013

6641 - حدثنا فهد قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا زهير قال ثنا أبو الزبير عن عمرو بن شعيب عن بعض أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم قال كوى رسول الله صلى الله عليه و سلم سعدا أو أسعد بن زرارة من الذبحة في حلقه ففي هذه الأخبار إباحة الكي للداء المذكور فيها وفي الآثار الأول النهي عن الكي فاحتمل أن يكون المعنى الذي كانت له الإباحة في هذه الآثار غير المعنى الذي كان له النهي في الآثار الأول وذلك أن قوما كانوا يكتوون قبل نزول البلاء بهم يرون أن ذلك يمنع البلاء أن ينزل بهم كما تفعل الأعاجم فهذا مكروه لأنه ليس على طريق العلاج وهو شرك لأنهم يفعلونه ليدفع قدر الله عنهم فأما ما كان بعد نزول البلاء إنما يراد به الصلاح والعلاج مباح مأمور وقد بين ذلك جابر بن عبد الله في حديث رواه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم

عمرو بن شعیب نے کسی صحابی رسول سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے سعد یا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہما کو گلے میں سوراخ کی وجہ سے داغا۔ ان روایات سے داغ کو مندرجہ بالا امراض کے لئے داغنا ثابت ہوتا ہے جبکہ شروع باب کی روایات میں ممانعت کی طرف مشیر ہیں اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ ممکن ہے جن چیزوں کے سلسلہ میں اباحت ہو اور دوسری چیزوں کے لئے ممانعت ہو جیسا کہ آثار اول میں وارد ہے اور وہ یہ ہے کہ تکلیف کے آنے سے پہلے پیشگی داغنا تاکہ وہ تکلیف نہ آئے جیسا کہ عجم میں رواج ہے یہ مکروہ و ممنوع ہے کیونکہ یہ علاج کے لئے نہیں بلکہ یہ تو شرک کی ایک قسم ہے ۔ تاکہ تقدیر الہی کو ٹالا جائے ( جو کہ ٹالنا ممکن نہیں ) باقی تکلیف اترنے پر درستگی کے لئے مباح ہے کیونکہ علاج مباح ہے جس کا حکم دیا گیا ہے ۔ا ور اس کا ثبوت اس روایت سے ملتا ہے ۔

بعض أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7013

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7014

6642 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عامر العقدي وابن مرزوق قالا ثنا عبد الرحمن بن سليمان عن عاصم بن عمر عن جابر بن عبد الله أن النبي صلى الله عليه و سلم قال إن يكن في شيء من أدويتكم هذه خير ففي شرطة محجم أو شربة عسل أو لذعة نار توافق داء وما أحب أن أكتوي فإذا كان في هذا الحديث أن لذعة النار التي توافق الداء مباحة والكي مكروه وكانت اللذعة بالنار كية ثبت أن الكي الذي وافق الداء مباح وأن الكي الذي لا يوافق الداء مكروه ويحتمل أن يكون الكي منهيا عنه على ما في الآثار الأول ثم أبيح بعد ذلك على ما في هذه الآثار الأخر وذلك

عاصم بن عمر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اگر تمہاری ان چیزوں میں سے کسی میں شفا ہے تو وہ سینگی کے پچھنے ، شہد کا گھونٹ، آگ کا داغنا جو اس بیماری کے مناسب ہو۔ اور میں داغنے کو پسند نہیں کرتا۔ اس روایت میں گرم لوہے کے کنارے سے داغنے کو جب کہ مرض کے موافق ہو درست قرار دیا گیا اور داغ کو نا پسند کیا گیا حالانکہ لذعۃ بالنار بھی داغ ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ جو داغ بیماری کے مناسب ہو وہ مباح ہے اور جو بیماری کے موافق نہ ہو وہ مکروہ ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ جس داغ کی آثار اول میں ممانعت ہے وہ شروع میں ہو اور بعد میں اس کو مباح کر دیا گیا ہو جیسا کہ دوسرے آثار میں داغنے کا ثبوت موجود ہے ۔ جیسا روایت ابن ابی داؤد میں ہے ( ملاحظہ ہو )

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← أبو عامر العقدي وابن مرزوق ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7014

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7015

6643 - أن بن أبي داود حدثنا قال ثنا خطاب بن عثمان قال ثنا إسماعيل بن عياش عن سليمان بن سليم عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم يستأذن في الكي فقال لا تكتو فقال يا رسول الله بلغ بي الجهد ولا أجد بدا من أن أكتوي قال ما شئت أما إنه ليس من جرح إلا وهو آتي الله يوم القيامة يدمي يشكو الألم الذي كان سببه وأن جرح الكي يأتي يوم القيامة يذكر أن سببه كان من كراهة لقاء الله ثم أمره أن يكتوي ففي هذا الحديث نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الكي وإباحته إياه بعد ذلك فاحتمل أن يكون ما في الآثار الأول كان من رسول الله صلى الله عليه و سلم في حال النهي المذكور في هذا الحديث وما كان من الإباحة في الآثار الأخر كان بعد ما كانت منه الإباحة المذكورة في هذا الحديث فتكون الإباحة ناسخة للنهي وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كوى سارقا بعدما قطعه

عمرو بن شعیب نے اپنے والد اپنے دادا سے روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا وہ داغنے کی اجازت طلب کر رہا تھا آپ نے فرمایا مت داغ دو۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں بہت مجبور ہوں اور داغ کے علاوہ میں اس بیماری کا علاج بھی نہیں پاتا۔ تو آپ نے فرمایا جو تمہاری مرضی ہو۔ پھر فرمایا سنو ہر داغ والا زخم قیامت کے دن اپنے سبب کا اظہار کر ے گا کہ میرے داغ کا سبب اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے ناپسندیدگی تھی۔ پھر آپ نے اسے داغنے کی اجازت دی ۔ اس روایت میں ممانعت کے بعد اباحت کا ثبوت ملتا ہے ۔ پس یہ احتمال ثابت ہوا کہ آثار اول میں جو ممانعت ہے وہ اسی دور کی ہے جو اس روایت میں بتلائی گئی اور دوسرے آثار جو اس کے اباحت کو ثابت کرنے والے ہیں وہ وہی جواز ہے جو اس روایت میں ظاہر ہو رہا ہے پس وہ نہی کا ناسخ ہے ۔ اور روایات میں ہاتھ کاٹنے کے بعد چور کے اس زخم کو داغنا ثابت ہے ۔ ( ملاحظہ ہو )

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7015

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7016

6644 - حدثنا بن خزيمة قال ثنا مسلم بن إبراهيم قال ثنا أبو بكر بن علي قال ثنا الحجاج بن أرطأة عن مكحول عن بن محيريز قال قلت لفضالة بن عبد أمن السنة أن يقطع السارق ويعلق في عنقه فقال نعم إن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتى بسارق فأمر به فقطعت يده ثم حسمه ثم علقها في عنقه

ابن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے حضرت فضالہ بن عبداللہ سے دریافت کیا کہ کیا یہ سنت ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکا دیا جائے ؟ تو انہوں نے کہا جی ہاں ! جناب رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا پس آپ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا وہ کاٹ دیا گیا پھر اس کو داغا گیا اور کٹے ہوئے ہاتھ کو اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا۔

نَعَمْ ← قلت لفضالة بن عبد أمن السنة أن يقطع السارق ويعلق في عنقه ← بن محيريز ← مَكْحُولٌ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← أَبُو بَکْرِ بْنُ عَلِيٍّ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7016

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7017

6645 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن يزيد بن خصيفة عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان قال أتى النبي صلى الله عليه و سلم برجل سرق شملة فقال أسرقت ما إخال سرقت اذهبوا به فاقطعوه ثم أحسموه ثم قال تب إلى الله ففي هذه أيضا دليل على إباحة الكي الذي يراد به العلاج لأنه دواء وقد سأل الأعراب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا ألا نتداوى فكان جوابه لهم في ذلك ما

یزید بن خصیفہ نے محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے ایک چادر چوری کی تھی آپ نے فرمایا کیا تم نے چوری کی ہے ؟ میرا خیال تو نہ تھا کہ تم چوری کرو گے ۔ پھر فرمایا اس کو لے جا کر اس کا ہاتھ کاٹ دو۔ پھر اس کو داغ دو۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو۔ اس روایت میں بھی اس داغ کا تذکرہ ہے جس سے علاج مقصود ہے کیونکہ وہ اس وقت دواء ہے دیہاتیوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا ہم علاج معالجہ نہ کریں ۔ آپ ﷺ نے یہ جواب عنایت فرمایا۔

أتى النبي صلى الله عليه و سلم برجل سرق شملة ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7017

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7018

6646 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا إبراهيم بن بشار قال ثنا سفيان قال ثنا زياد بن علاقة قال سمعت أسامة بن شريك يقول شهدت النبي صلى الله عليه و سلم والأعراب يسألونه فقالوا هل علينا جناح أن نتداوى فقال تداووا عباد الله فإن الله عز و جل لم يضع داء إلا وضع له دواء إلا الهرم

زیاد بن علاقہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ میں اس وقت موجود تھا جبکہ دیہاتی سوال کر رہے تھے کہ کیا ہمیں علاج میں گناہ ہے ؟ تو آپ نے فرمایا اے اللہ کے بندو ! علاج کرو ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری بنائی ہے اس کا علاج بھی بنایا ہے سوائے بڑھاپے کے ( اس کا علاج نہیں )

هل علينا جناح أن نتداوى ← شهدت النبي صلى الله عليه و سلم والأعراب يسألونه ← أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7018

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7019

6647 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال حدثني طلحة بن عمرو عن عطاء عن بن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال يا أيها الناس تداووا فإن الله عز و جل لم يخلق داء إلا خلق له شفاء إلا السام والسام الموت

عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اے لوگو ! علاج کرو ۔ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری پیدا فرمائی اس کا علاج بھی پیدا فرمایا ۔ سوائے سام کے اور وہ موت کا نام ہے ۔ (یعنی موت کا علاج نہیں ہے ۔ )

بْنِ عَبَّاسٍ ← عَطَاءٍ، ← طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7019

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7020

6648 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث عن عبد ربه بن سعد عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لكل داء دواء فإذا أصيب دواء الداء برأ بإذن الله فأباح لهم رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يتداووا والكي مما كانوا يتداوون به وقد اكتوى أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم من بعده فممن روي عنه في ذلك ما

ابو الزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے کہ ہر بیماری کا علاج ہے پس جب دواء بیمار کو پہنچا دی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے شفا پا جاتا ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عبد ربه بن سعد ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7020

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7021

6649 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل بن إسماعيل قال ثنا سفيان قال ثنا بن الحر عن أبي حمزة عن قيس بن أبي حازم عن جرير قال أقسم علي عمر لأكتوين

جریر کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قسم دے کر کہا کہ میں ضرور داغ لگواؤں ۔

أَقْسَمَ عَلَيَّ عُمَرُ لأَكْتَوِيَنَّ. ← جَرِيرٌ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← أَبِي حَمْزَةَ، ← بن الحر ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7021

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7022

6650 - حدثنا فهد قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا زهير قال ثنا أبو الزبير قال رأيت عبد الله بن عمر اكتوى من اللقوة في أصل أذنيه

ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ و دیکھا کہ لقوہ کی وجہ سے ان کے کانوں کی جڑ میں داغ لگایا گیا۔

رأيت عبد الله بن عمر اكتوى من اللقوة في أصل أذنيه ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7022

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 26 باب الكي هل هو مكروه أم لا ) · حديث 7023

6651 - حدثنا فهد قال ثنا أحمد قال زهير قال ثنا موسى بن عقبة عن نافع أن بن عمر رضي الله عنه اكتوى من اللقوة

نافع سے مروی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کو لقوہ کی وجہ سے داغ لگایا گیا۔

نافع أن بن عمر اكتوى من اللقوة ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7023

chevron_left Previous
1…505152…59
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter